30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علمی گفتگوکرنے کے لئے افراد کاانتخاب:
{90}… بے وقوفوں سے بات نہ کرنا، مناظرہ کے طریقہ اور دلیل کے سلیقہ سے ناواقف اہلِ علم سے بھی کلام نہ کرنا اور عزّت وشہرت کے لئے مسائلِ شرعیہ میں بحث کرنے والوں سے بھی گفتگونہ کرنا کیونکہ ان کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ تمہیں ذلیل ورُسوا کریں اوروہ تمہاری کوئی پرواہ نہ کریں گے اگرچہ جانتے ہوں کہ تم حق پر ہو۔
{91}…بزرگوں کے پاس جاؤتو اس وقت تک برتری نہ چاہنا جب تک کہ وہ خود تمہیں برتری نہ دیں تاکہ تمہیں ان سے کوئی پریشانی نہ پہنچے ۔
{92}… جب تم کچھ لوگوں کے ساتھ ہو تو جب تک وہ تمہیں بطورِ تعظیم آگے نہ کریں اس وقت تک ان کی امامت نہ کرانا۔
{93}…حمام جاناہوتو دوپہریا صبح کے وقت میں جانااور سیرو تفریح کے مقامات کی طرف نہ جانا۔
{94}…بادشاہوں کے ظلم کی جگہوں پر ان کے پاس اس وقت تک جانے سے گُریزکرنا جب تک تمہیں یقین نہ ہوجائے کہ تمہاری حق بات مان کر وہ لوگوں پر ظلم وستم سے باز آ جائیں گے اس لئے کہ اگرتمہاری موجودگی میں بادشاہوں نے کسی ناجائزوحرام کام کاارتکاب کیااور تم طاقت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس ناجائزفعل سے نہ روک سکے تولوگ تمہاری خاموشی کی وجہ سے اس فعلِ ناحق کو حق سمجھ لیں گے ۔
{95}…علمی محفل میں غصہ کرنے سے بچنا۔
{96}…لوگوں کے سامنے قصے کہا نیاں بیان نہ کرناکیونکہ قصہ گوضرور جھوٹ بولتا ہے ۔
علمی محافل کے آداب واحتیاطیں :
{97}…جب تم کسی صاحب ِ علم کی محفل میں شرکت کا ارادہ کرو تودیکھ لو اگر وہ فقہ کی محفل ہو تو اس میں شرکت کر لو اورجو علم حاصل کرو وہ لوگوں کے سامنے بیان کردو اور اگر وہ عام واعظ ہو تواس کی محفل میں شرکت نہ کرو تاکہ تمہاری وجہ سے لو گ دھو کے میں نہ پڑیں اور اس شخص کے متعلق یہ نہ سمجھیں کہ یہ علم کے اعلیٰ درجہ پرفائزہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہو گا اور اگر وہ فتویٰ دینے کی صلاحیت رکھتاہو تو لوگو ں کو اس کے متعلق بتاؤ اور اگر اس کی صلاحیت نہ رکھتاہو تواس کی محفل میں نہ بیٹھنا کہ وہ تمہارے سامنے درس دے بلکہ وہاں اپنے کسی قابلِ اعتماددوست کوبھیج دیناجو اس کے کلام کی کیفیت اور علمی مقام کے متعلق تمہیں خبر دے سکے ۔
{98}…ایسوں کی محفل وعظ وذکر میں نہ جانا جو تمہارے جاہ ومرتبہ اور تزکیہ کے ذریعے اپنی شہرت چاہتے ہوں بلکہ اپنے محلہ کے کسی بااعتماد عام آدمی کو اپنے کسی شاگرد کے ساتھ بھیج دینا۔
{99}…خطبۂ نکاح، نمازِجنازہ وعیدین پڑھانے کی ذمہ داری اپنے علاقے کے کسی خطیب کے سپر د کردینا، مجھے اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھنا اور میری یہ نصیحتیں قبول کرلینا، بلاشبہ یہ تمہاری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ہیں ۔ (الأشباہ والنظائر، وصیۃ الامام اعظم لأبی یوسف رحمہما اللّٰہ تعالٰی، ص۳۶۷ تا ۳۷۲، دار الکتب العلمیۃ بیروت۔مناقب الامام الاعظم للموفق، الجزء الثانی، وصیۃ الامام اعظم لأبی یوسف رحمہما اللّٰہ تعالٰی، ص۱۱۳تا۱۱۹، مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ)
(۲)…حضرتِ یوسف بن خالد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو نصیحتیں
حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن خالد سمتی بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے تکمیلِ علم کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اپنے شہربصرہ جانے کی اجازت طلب کی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’کچھ دن ٹھہروتاکہ میں تمہیں ان ضروری امورکے متعلق وصیت کرو ں کہ لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے ، اہلِ علم کے مراتب پہچاننے ، نفس کی اصلاح اور لوگو ں کی نگہبانی کر نے ، عوام وخواص کو دوست رکھنے اور عام لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے جن کی ضرورت پڑتی ہے یہاں تک کہ جب تم علم حاصل کرکے جاؤ تو وہ وصیت تمہارے ساتھ ایسے آلہ کی طرح ہوجس کی علم کو ضرورت ہوتی ہے اور وہ علم کو مزین کرے اور اسے عیب دار ہو نے سے بچائے ۔‘‘
{1}…یادرکھو!اگر تم لوگو ں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اگرچہ تمہارے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں ۔
{2}…جب تم لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤکروگے تو وہ تمہارے ماں باپ کی طرح ہو جائیں گے اگرچہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ نہ ہو۔
(حضرتِ سیِّدُنایوسف بن خالدبصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :)’’پھرحضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھ سے فرمایا: ’’کچھ دن صبر کرو یہاں تک کہ میں تمہارے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکالوں اوراپنی توجہ کو تمہاری طرف مبذول کر لوں اور تمہیں ایسے عمدہ کاموں کی پہچان کرا دو ں جس کی وجہ سے تم دِلی طورپرمیرے شکر گزار رہو اورنیکی کرنے کی توفیق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی کی طرف سے ہے ۔‘‘ جب وعدے کی مدت پوری ہوگئی تو حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظمرضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا اور ارشاد فرمایا:
{4}…آج میں تمہارے سامنے ان حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا جنہیں بیان کرنے کا میں نے قصد کیا تھا گویا میں دیکھ رہا ہوں جب تم بصرہ میں داخل ہو کر ہمارے مخالفین کا رُخ کرو گے ، ان پر اپنی بر تر ی جتا ؤ گے ، اپنے علم کے سبب ان کے سامنے غروروتکبر کروگے ، اُن سے ملنا جلنا ، اٹھنابیٹھنا تر ک کردو گے ۔ تم ان کی مخالفت کروگے اوروہ تمہاری مخالفت کریں گے ، تم انہیں چھوڑ دو گے اور وہ تمہیں چھوڑ دیں گے ، تم انہیں برا بھلا کہوگے اور وہ تمہیں کہیں گے ، تم انہیں گمراہ کہو گے اوروہ تمہیں کہیں گے اوراس سے میری اورتمہاری رُسوائی ہوگی۔ پس تم اُن سے دوری اختیار کرنے اور بھاگنے پر مجبور ہوجاؤ گے ۔ مگر یہ درست رائے نہیں کیونکہ وہ عقل مند نہیں جو ان لوگوں سے تعلقات قائم نہ کر سکے جن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ضروری ہو یہاں تک کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کے لئے کوئی راہ نکال دے ۔
{5}…جب تم بصرہ میں داخل ہوگے تو لوگ تمہارے استقبال اور تمہاری زیارت کو آئیں گے ، تمہارا حق پہچانیں گے توتم ہر شخص کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے عزت دینا، شُرَفاء کی عزت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع