30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{50}…عورتوں کے ساتھ زیادہ بات چیت کرنے اور ان کی ہم نشینی اختیار کرنے سے بچنا کہ یہ بھی دل کے مردہ ہونے کاسبب ہے ۔
{51}…ہمیشہ وقار او ر سکون کے ساتھ چلنا اوراپنے کاموں میں جلدبازی نہ کرنا۔
{52}… جوتجھے پیچھے سے پکارے اسے جواب نہ دینا کہ جانوروں کو پیچھے سے آواز دی جاتی ہے ۔
{53}…دورانِ گفتگواس بات کا خیال رکھنا کہ نہ تیری آواز ضرورت سے زیادہ بلندہو اورنہ گفتگومیں چیخ وپکار ہو۔
{54}… اطمینان وسکون کو اختیار کر نا کہ لوگو ں پر تیری عظمت ثابت ہو۔
ذکراللہ عَزَّوَجَلَّ کی کثرت:
{55}…جب تو لوگوں کے درمیان بیٹھے تو ذکر ِالٰہیعَزَّوَجَلَّ کی کثرت کر تاکہ اُن کی بھی یہ عادت بنے ۔
{56}…نمازوں کے بعد اپنے اوراد ووظائف کے لئے مخصوص اوقات مقر ر کر لو جس میں تم قرآنِ حکیم کی تلاوت اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیا کرو اور اس کی عطا کردہ نعمتوں بالخصوص صبر کی توفیق پراس کاشکر اداکیا کرو۔
{57}…ہرمہینے میں چند دن مخصوص کرکے ان میں روزے رکھا کرو تاکہ دوسرے لوگ بھی اس میں تمہاری پیروی کریں اور اپنے لئے اتنی عبادت پر راضی نہ ہونا جتنی پر عام لوگ راضی ہو جاتے ہیں ۔
{58}… اپنے نفس کی نگرانی کرو اور دوسروں کی بھی نگرانی کرو تاکہ وہ تمہاری دُنیا وآخرت اور تمہارے علم سے نفع حاصل کریں ۔
{59}… بذات ِ خود خرید وفروخت نہ کرو بلکہ کسی خیرخواہ کو مقر ر کرلو جو تمہارے سارے کام انجام دے اور تم اپنے معاملات میں اس پر اعتماد کرو۔
{60}… اپنی دنیوی زندگی اورموجودہ اعمال سے مطمئن نہ ہونا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ تم سے ان تمام اعمال کے متعلق پُوچھ گَچھ فرمائے گا۔
{61}…اَمْرَد خُدَّام(جنہیں دیکھ کر شہوت آئے ) مت خریدنا۔
{62}…لوگوں پر ظاہر نہ کرو کہ میں بادشاہ کا قریبی ہوں اگرچہ تمہیں اس کاقرب حاصل ہوکیونکہ ایسا کرنے سے وہ تمہارے پاس اپنی حاجات لائیں گے تا کہ تم بادشاہ کے دربار میں ان کی سفارش کروپھر اگر تم ان کی حاجات بادشاہ کے پاس لے گئے تو بادشاہ تمہاری بے عزتی کرے گا اور اگر نہ لے گئے تو تمہارا دعویٔ قرب تمہیں لوگوں کی نگاہ میں عیب دار بنادے گا۔
{63}…اپنا شمار عام لوگو ں میں کرنا لیکن اپنے علمی مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھنا۔
{64}… برے کاموں میں ہرگزلوگوں کے پیچھے نہ چلنا بلکہ اچھے کاموں میں ان کی پیروی کرنا۔
{65}…جب تو کسی کی برائی پر آگاہ ہو تو اس کی برائی کا ذکر دوسروں کے سامنے نہ کرنابلکہ اس کے اندرخیرکا پہلو تلاش کرنا اور اس کا ذکر اسی خیر کے ساتھ کرنا۔ مگر دینی معاملات میں لوگوں کے سامنے اس کی برائی بیان کرنا تا کہ لوگ اس کی پیروی نہ کریں اور اس سے بچیں کیونکہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، بِاذ ْنِ پروَردْگاردو عالَم کے مالک و مختارعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’فاجر کی برائیوں کا ذکر کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث۱۰۱۰، ج۱۹، ص۴۱۸، دار احیاء التراث العربی بیروت)
{66}… جب تم کسی عزَّت ووجاہت والے شخص میں دینی خرابی دیکھو تو اس کے جاہ ومرتبہ کالحاظ کئے بغیر اس کی اصلاح کرو، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ضرور تمہارا اور اپنے دین کا مددگار ہو گا اور جب تم نے ایک بار بھی ایسا کر دیا تولوگ تجھ سے ڈریں گے اور پھر کوئی بھی تمہارے سامنے اور تمہارے شہر میں بد عت ظاہر کرنے کی جرأت نہ کرے گا اور ایسے شخص پرعوام کو مسلَّط کر دو تاکہ لوگ دینی جد وجہد میں تمہاری اتباع کریں ۔
{67}… جب تم بادشاہ کے اندر کوئی خلافِ شرع بات دیکھو تو اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے سامنے اس برائی کا ذکر کر دوکیونکہ اس کی طاقت وقوت تم سے زیادہ ہے ، اس سے یوں کہو کہ جن باتوں میں آپ کو مجھ پر اقتدار واختیار حاصل ہے میں ان میں آپ کا فرمانبردار ہوں لیکن آپ کے کردار میں کچھ ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو شریعت کے موافق نہیں ۔ اوریہ یاد رہے کہ ایک مرتبہ نصیحت کردینا ہی کافی ہے ، بار باربادشاہ کو نصیحت کروگے تو اس کے درباری تمہارا اثر ورسوخ ختم کر دیں گے جس کی وجہ سے دین کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایک یا دومرتبہ نصیحت کردو تاکہ لوگ تمہاری دینی جدوجہداو ر نیکی کی دعوت کے جذبے کوجان لیں ۔ اس کے بعداگر بادشاہ دوبارہ کسی برائی کا ارتکاب کرے تواس کے گھر میں تنہائی میں اسے اسلامی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع