30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)…اعمال کادار ومدار نیتو ں پر ہے اور ہرایک کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی…الخ، الحدیث۱، ص۱، دارالسلام للنشر والتوزیع الریاض)
(۲)… انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتیں چھوڑ دے ۔ (جامع الترمذی، ابواب الزہد، باب من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ، الحدیث۲۳۱۷، ص۱۸۸۵، دار السلام للنشر والتوزیع الریاض)
(۳)…تممیں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی چیزپسندنہ کرے جو اپنے لئے کرتاہے ۔ (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ مایحب لنفسہ، الحدیث۱۳، ص۳)
(۴)…بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کے متعلق بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔ جو مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنی عزت اور اپنا دین بچا لیا اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں مبتلا ہوا۔ وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو چراگاہ کے قریب اپنا ریوڑ چراتا ہے ، اس کے چراگاہ میں چلے جانے کا اندیشہ ہے ۔سن لو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں ۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑاہے ، جب وہ سنورجائے توسارا جسم سنورجاتاہے اورجب وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور وہ (لوتھڑا) دل ہے ۔‘‘(صحیح البخا ری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینہ، الحدیث۵۲، ص۶)
(۵)…مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ (صحیح البخا ری، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، الحدیث۱۰، ص۳)
{20}…تندرستی کی حالت میں خوف و امیدکے درمیان رہنا اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر حسنِ ظن رکھتے ہوئے مرنا، اور قلبِ سلیم کے ساتھ اُمید ِمغفرت کاغلبہ ہو، بے شک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بہت بخشنے والا مہربان ہے ۔
(۴)… نوح بن ابی مریم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو نصیحتیں
حضرتِ سیِّدُنانوح بن ابی مریم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’میں حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے احادیث کے معانی پوچھا کرتا تھاتوآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اچھی طرح ان کی وضاحت فرما دیتے تھے ۔اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پیچیدہ مسائل بھی دریافت کیا کرتا تھا اور میرے سوالا ت عام طورپر قضا اور احکام کے متعلق ہوتے تھے ۔ ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’اے نوح! تم قضاء کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے ۔‘‘ چنانچہ، اپنے شہر ’’مَرْو‘‘ لوٹنے کے چنددن بعد قضاء کی ذمہ داری میرے کندھوں پرڈال دی گئی۔ اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حیات تھے ۔ میں نے خط کے ذریعے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس بات سے آگاہ کیا او ر (مجبوراًعہدہ قبول کرنے کا) عذر بھی لکھا جس کے جواب میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھے خط لکھا، اس میں فرمایا:
امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کامکتوب
ابو حنیفہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کی طرف سے ابو عصمہ(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) کے نام:
{1}…تمہارا خط مجھے موصول ہوا اور اس میں درج تمام باتوں سے آگاہی ہوئی۔ (یاد رکھو!) تمہیں ایک بہت بھاری ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کو پورا کرنے سے بڑے بڑے لوگ عا جزآجاتے ہیں ۔اس وقت تمہاری حالت ایک ڈوبتے شخص کی مانند ہے ، لہٰذا اپنے نفس کے لئے نکلنے کا راستہ تلاش کرو اور تقویٰ کواپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ تمام امور کو درست رکھتا اور آخرت میں نجات پانے اور ہر مصیبت سے چھٹکارا پانے کا وسیلہ ہے اور اس کے ذریعے تم اچھے انجام کو پا لوگے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا فرمائے اورہمیں اپنی رضاوالے کاموں کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین) بلاشبہ وہ سننے والا، قریب ہے ۔
{2}…اے ابوعصمہ! یادرکھو! فیصلوں کے ابواب بہت بڑا عالم ہی جان سکتا ہے جو علم کے اصول یعنی قرآن وحدیث اور فرامینِ صحابہ علیہم الرضوان پر اچھی نظررکھتاہو اور صاحب ِبصیر ت(یعنی صحیح رائے والا) ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی احکام نافذ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ جب تمہیں کسی مسئلہ میں اشکال پیدا ہو تو قرآن وسنت اور اجماع کی طر ف رجوع کرنا اگراس کا حل ان اصول(یعنی کتاب وسنت اور اجماع) میں واضح طور پر مل جائے تو اس پر عمل کرنا اور اگر صراحۃً نہ ملے تو اس کی نظائرتلاش کرکے ان پر اصول سے استدلال کرنا۔ پھراس رائے پر عمل کرنا جو اصول کے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مشابہ ہو۔اور اس کے متعلق اہلِ علم اور صاحبِ بصیرت لوگوں سے مشورہ بھی کرتے رہنا۔اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو فقہ میں ایسی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں گے جو تم نہیں رکھتے ۔
{3}…اے ابوعصمہ! جب دونوں مخالف فریق(یعنی مُدَّعِی او رمُدَّعا علیہ) فیصلہ کرانے تمہاری عدالت میں حاضر ہوں تو کمزور اور طاقت ور ، شریف او ر ذلیل کو اپنی مجلس میں بٹھانے ، ان کی بات سننے اوران سے بات چیت کرنے میں یکساں سلوک کرنا اور تمہاری طر ف سے کوئی ایسی بات نہ ظاہرہوکہ شریف آدمی ناحق ہونے کے باوجوداپنی شرافت کے بَل بَوتے پر تم سے اُمید لگا بیٹھے اور ذلیل اپنے گھٹیاپَن کی وجہ سے حق پرہونے کے باوجود حق کے معاملے میں تم سے مایوس ہو جائے ۔
{4}…اے ابوعصمہ ! جب دونوں فریق بیٹھ جائیں توانہیں اطمینان و سکون سے بیٹھنے دیناتاکہ ان سے خوف اور (عدالت میں آنے کی) شرمندگی دور ہو جائے ۔ پھران کے ساتھ نرمی وہمدردی کے لہجے میں بات چیت کرتے ہوئے انہیں اپنی بات سمجھانا اور ان میں سے ہرایک کی بات پوری توجہ سے سننا۔ جوکچھ وہ کہنا چاہتے ہوں کہنے دینا اور جب تک وہ اپنا اپنا مؤقف نہ بیان کر لیں اس وقت تک فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ فضول بحث میں پڑیں تو انہیں اس سے روک دینا اور انہیں سمجھا دینا (کہ اس بات کا اصل معاملے سے کوئی تعلق نہیں ) اور بیزاری، غصہ یارنج وغم کی حالت میں اور پیشاب اور بھوک کی شدت کے و قت بھی کوئی فیصلہ نہ کرنا۔
{5}…اس وقت فیصلہ نہ کرنا جب تمہارا دل کسی اور چیز میں مشغول ہوبلکہ ایسے وقت فیصلہ کرنا جب تمہارا دل دیگر فکروں سے خالی ہو۔
{6}… رشتہ دارو ں میں جدائی کا فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا بلکہ انہیں باربار اکٹھے بٹھانا (اوران کے معاملے کوسلجھانا) شاید! وہ آپس میں صلح کر لیں ۔ پھر اگر وہ صلح کر لیتے ہیں تو ٹھیک ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع