دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Imam e Azam ki Wasiyatain | امام اعظم رضی اللہ عنہ کی وصیتیں

book_icon
امام اعظم رضی اللہ عنہ کی وصیتیں

رہنا۔

{2}…جس چیز کے جاننے کی تمہیں   ضرورت ہواس کے جاننے سے جاہل نہ رہنا۔

{3}…اپنی کسی دینی یادنیوی حاجت کے بغیر کسی سے تعلقات قائم نہ کرنا۔

{4}…اپنی ذات سے دوسروں   کو انصاف دلانااور بغیر مجبوری کے کسی سے اپنی ذات کے لئے انصاف کامطالبہ نہ کرنا۔    {5}…کسی مسلمان یا ذمی([1]) سے دشمنی نہ کرنا ۔

{6}…اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی عطا کردہ مال وعزت پر قناعت اختیار کرنا۔

{7}…اپنے پاس موجود مال میں   حسنِ تدبیر(یعنی کفایت شعاری)سے کام لینا اور لوگوں   سے بے نیاز ہوجانا۔

{8}…اپنے اوپر لوگوں   کی نظر کو کم تر خیال نہ کرنا۔

{9}…فضول فکروں   سے اپنے آپ کو بچانا۔

{10}… لوگو ں   سے ملاقات کرتے وقت سلام میں   پہل کرنا، خوش اخلاقی سے گفتگو کرنا، اچھے لوگوں  سے اظہارِ محبت کرتے ہوئے ملاقات کرنا اور بُروں  سے بھی نرمی کا برتاؤ کرنا۔

{11}…ذکراللہعَزَّوَجَلَّاوردرودوسلام کی کثر ت کرنا۔

دعائے سیِّدُالاستغفاراوراس کی فضیلت:

{12}…دعائے سیِّدالاستغفار میں   مشغول رہنا اوروہ یہ ہے :

            ’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْ ءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَّی وَاَبُوْ ءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔‘‘

                یعنی اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!توہی میرارب ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ، تونے مجھے پیدا فرمایااورمیں   تیرابندہ ہوں   اور جہاں   تک ہوسکا تیرے عہد وپیمان پر قائم ہوں  ، اپنے گناہوں   کے شرسے تیری پناہ مانگتاہوں  ، تیری عطا کردہ نعمتوں   کا اقرار کرتا ہوں   اور اپنی خطاؤں   کا اعتراف کرتا ہوں  ۔ میری مغفر ت فرما، گناہوں   کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں  ۔

            اس کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت پڑھے پھر اسی رات مر جائے تو جنت میں   جائے گا اور صبح کو پڑھے پھراسی دن مر جائے توجنت میں   داخل ہو گا۔ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب مایقول اذا اصبح، الحدیث ۶۳۲۳، ص۵۳۲)

مصیبت سے بچنے کا وظیفہ:

            حضرتِ سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا گیا: ’’ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا گھر جل گیاہے ۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’اُن کلمات کی برکت سے نہیں   جل سکتا جو میں   نے نبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سُنے ہیں  ۔ چنانچہ، (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشا د فرمایا:) جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے گاتو شام تک اسے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی اور جو شام کے وقت پڑھے گا تو صبح تک اسے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی اور وہ کلمات یہ ہیں  :

                 ’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، مَا شَآءَاللّٰہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَآءُ لَمْ یَکُنْ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، وَاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ  ذِیْ شَرٍّ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَابَۃٍ، اَنْتَ اٰخِذٌ م بِنَاصِیَتِھَا، اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔‘‘

                ترجمہ:اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! توہی میرا رب ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ، میں   نے تجھی پربھروسا کیا اور تو ہی عرشِ عظیم کا مالک ہے ، جواللّٰہعَزَّوَجَلَّنے چاہا وہ ہوا اورجونہ چاہاوہ نہ ہوا، نیکی کی قوت اورگناہ سے بچنے کی قدرت اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی توفیق سے ہی ہے جو بلند رتبہ وعظمت والا ہے ۔ میں   جانتاہوں   کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّسب کچھ کر سکتا ہے اور اس کا علم ہرشے کومحیط ہے ۔ اے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ! میں  اپنے نفس کے شر سے ، ہر شریر کے شر سے اور ہر اس چوپائے کے شر سے تیری پناہ مانگتاہوں   جس کی پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں   ہے ۔ بے شک اللّٰہعَزَّوَجَلَّہی سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے ۔ (عمل الیوم واللیلۃ لابن السُّنِّی، مایقول اذا اصبح، الحدیث۵۷، ص۲۷، دار الکتاب العربی بیروت)

{13}… روزانہ پابندی کے ساتھ قرآنِ مجید، فرقانِ حمید کی تلاوت کرنااور اس کا ثواب حضورنبی ٔکریم، رء ُوف رحیم  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، اپنے والدین، اساتذۂ کرام اور تمام مسلمانوں   کو پہنچانا۔

{14}…اپنے دشمنوں   سے زیادہ دوستو ں   کے شرسے بچنا اس لئے کہ لوگوں   کی عادات میں   بکثرت خرابیاں   واقع ہوگئی ہیں  ، اب تمہارے دشمن تمہارے دوستو ں   کے ذریعے سے ہی تمہیں   نقصان پہنچاسکتے ہیں  ۔

{15}…اپنا راز، مال ودولت، (اختلافِ رائے کی صورت میں  ) اپنا مؤقف اور آنے جانے کے اوقات کو لوگوں   سے پوشیدہ رکھنا۔

{16}…اپنے پڑوسیوں   کے ساتھ بھلائی کرنااور ان کی تکالیف پر صبر کرنا۔

{17}…مذہب ِ مہذَّب اہلسنّت وجماعت پرمضبوطی سے کاربند رہنا، جاہلوں  ا ور بدمذہبوں   کی صحبت سے اجتناب کرنا۔

{18}…اپنے تمام معاملات میں   نیت اچھی رکھنا ا ور ہر حال میں   رزقِ حلال کے لئے کوشاں   رہنا۔

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن