30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بنیادی عقائد کا سیکھنا فرض ہے ، اس کے بعدنَماز کے فرائض و شرائط و مفسدات ، پھر رَمضانُ المبارَک کی تشریف آوری پر فرض ہونے کی صورت میں روزوں کے ضَروری مسائل ، جس پر زکوٰۃ فرض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مسائل، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے ، نکاح کرنا چاہے تو اس کے ، تاجر کو خرید و فروخت کے ، نوکری کرنے والے کو نوکری کے ، نوکر رکھنے والے کو اجارے کے ، و علٰی ھٰذا الْقیاس(یعنی اوراسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہر مسلمان عاقِل و بالِغ مردو عورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عَین ہے ۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے ۔ نیز مسائلِ قلب (باطِنی فرائض) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ(باطِنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اوران کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر، ریاکاری، حَسَد وغیرہا اوران کا علاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے ۔ ([1])
مُہلکات یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں جیسا کہ جھوٹ ، غیبت ، چغلی، بہتان وغیرہ کے بارے میں ضَروری معلومات حاصل کرنابھی فرض ہے تاکہ ان گنا ہوں سے بچا جاسکے ۔
پیارے اسلامی بھائیو!آج کے دورِ جدید میں عصری علوم سے آراستہ لاتعداد لوگوں کی خواہش ہے کہ اُنہیں اور ان کی اولاد کو کسی طرح دین کے معاملے میں جہالت کی تاریکیوں سے نجات ملے اور علمِ دین کی روشنی نصیب ہو جائے ، ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اہلِ علم اسلامی بھائی اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آگے بڑھ کرلوگوں کی خیر خواہی کی ذمہ داری قبول کریں اور علم کی جو دولت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں عطا فرمائی ہے اس کے ذریعے قرآن و سنت کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرکے اپنے منصب کے پیشِ نظر حسبِ استطاعت علمِ دین کے پیاسوں کی پیاس بجھائیں ۔ حضراتِ صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو علمِ دین کا اس قدر شغف ہوا کرتا تھا کہ وہ نفوسِ قُدسیہ اپنی زندگی کے آخری لمحات بھی حصولِ علم اور اشاعتِ علم میں گزارنے کے خواہشمند ہوا کرتے تھے اس بات کا اندازہ درجِ ذیل روایت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔
حضرتِ سَیّدُنا ابو ذَرّ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنی گدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اگر تم اس پر تلوار رکھ دوپھر مجھے اس بات کا ذرا بھی گمان ہو کہ اپنی گردن ماری جانے سے پہلے پہلے میں نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سناہوا کوئی ایک کلمہ بھی بیان کرسکتا ہوں تو میں ضرور بیان کروں گا ۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو علمِ دین پھیلانے اور حدیث بیان کرنے کا کس قدر شوق و جذبہ تھا، یقیناً یہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تربیت ہی کا نتیجہ تھا جو ان حضرات نے علمِ دین سیکھنے سکھانے کو مقصدِ حیات بنا رکھا تھا، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حصولِ علمِ دین کے مُتَعَلّق صحابہ کرام کی کس قدر عظیمُ الشان تربیت فرمائی تھی اس کی ایک جھلک درج ذیل روایت میں ملاحظہ فرمائیے ۔
حضرتِ سیدناامام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی اپنی مایہ ناز تفسیر ”تفسیر کبیر“ میں زیرِ آیت وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّھَا ترجمہ کنزالایمان : اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء نام سکھائے ۔ (پ۱، البقرۃ : ۳۱) نقل فرماتے ہیں : سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک صحابیرضی اللّٰہتعالٰی عنہ سے محوِ گفتگو تھے کہ آپ پر وحی آئی کہ اس صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی زندگی کی ایک ساعت (یعنی گھنٹہ بھر) باقی رہ گئی ہے ۔ یہ وقت عصر کا تھا ۔ رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ بات اس صحابی کو بتائی تو انہوں نے مضطرب ہوکر التجاء کی : یا رسولَ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو ۔ تو آپ نے فرمایا : علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہوجاؤ ۔ چنانچہ وہ صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر علم سے افضل کوئی شے ہوتی تو رسولِ مقبول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس وقت اسی کا حکم ارشاد فرماتے ۔ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اے کاش!ہمیں بھی یہ جذبہ حاصل ہو جائے کہ ہم دینی مسائل اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیث کو سیکھنے اور خوب خوب یاد کرکے اُسے دوسروں تک پہنچانے والے بن جائیں ۔ جو خوش نصیب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیث یاد کرنے اور اُنہیں پھیلانے والے ہوں اُنہیں مبارک ہوکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُنہیں اپنی دُعا سے نواز رہے ہیں ۔
سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فرحت نشان ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے حدیث سنی اور اس کو یاد کیاحتی کہ اسے دوسروں تک پہنچایا ۔ ([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم میں سے جو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقبول بندوں کی دُعاؤں کا آرزو مند ہے اُسے جھوم جانا چاہئے کہ مذکورہ حدیثِ پاک میں مقبولوں کے مقبول اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حدیثِ پاک سُن کر یاد کرنے اور اُسے دوسروں تک پہنچانے والے کو دعا دے رہے ہیں کہ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے شخص کو ترو تازہ رکھے “یقیناً ایک اُمّتی کے لئے یہ بڑی سعادت وخوش بختی کی بات ہے کہ خود سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے دُعاؤں سے نواز یں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع