30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موجود تھیں ۔ حضرتِ عکرمہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) بولے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں ۔ اور سب حاضرین کو اپنے مسلمان ہونے پر گواہ بنا لیا ۔ اس کے بعد سرکارِ مدینۃ المنورہ سلطان مکۃ المکرمہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سابقہ کوتاہیوں کی معافی طلب کی ۔ ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس واقعے میں آپ نے حضرتِ سیِّدَتُنا امِّ حکیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کی صورت میں بحیثیتِ زوجہ ایک عورت کا کردار ملاحظہ فرمایا کہ انہوں نے اسلام آوری کے بعد انفرادی کوشش کے ذریعے اپنے شوہر کوبھی کفر کے ریگستان سے نکال کر اسلام کے شجرِ سایہ دار تلے لاکھڑا کیا([2]) اسلامی بہنوں کو چاہئے کہ ان کے واقعے سے درس حاصل کریں اور حکمتِ عَمَلی اختیار کرتے ہوئے اپنے بچوں کے ابو کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے میں کسی صورت غفلت سے کام نہ لیں ۔
حضرت سیدنااسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ رات کے وقت مدینہ منورہ کا دورہ فرماتے (تا کہ اگر کسی کو کوئی حاجت ہو تو اسے پورا کریں) ایک رات میں بھی ا ن کے ساتھ تھا ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ چلتے چلتے اچانک ایک گھر کے پاس رک گئے ، اندرسے ایک عورت کی آواز آرہی تھی : بیٹی دودھ میں تھوڑا ساپانی ملادو ۔ لڑکی یہ سن کر بولی : امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمربن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے یہ اعلان کروایا ہے کہ کوئی بھی دودھ میں پانی نہ ملائے ۔ ماں کہنے لگی : بیٹی! حضرت سَیِّدُنا عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اس وقت تمہیں دیکھ تھوڑی رہے ہیں جاؤ اور دودھ میں پانی ملادو ۔ لڑکی نے کہا : خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں ہر گز ایسا نہیں کرسکتی کہ ان کی موجودگی میں تو ان کا حکم بجا لاؤں اور ان کی غیر موجودگی میں حکم عدولی کروں ۔
حضرت سَیِّدُنا عمرفاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ماں بیٹی کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو سن لی تھی ۔ جب صبح ہوئی تو مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا : اے اسلم (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) ! اس گھر کی طرف جاؤ اور معلوم کرو کہ یہاں کون کون رہتا ہے ؟ اوریہ بھی معلوم کرو کہ وہ لڑکی شادی شدہ ہے یا کنواری؟
حضرت سَیِّدُنا اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : میں اس گھر کی طر ف گیا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ اس گھر میں ایک بیوہ عورت اور اس کی بیٹی رہتی ہے ، اور اس کی بیٹی کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عمرفاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس لڑکی کو اپنے بیٹے سے شادی کے لئے پیغام بھیجا جو اس نے بخوشی قبول کرلیا ۔ اس طرح حضرت عاصم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شادی اس لڑکی سے ہوگئی اور پھر ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی ولادت ہوئی ۔ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے بیٹی کی حیثیت میں ایک عورت کا کردار ملاحظہ فرمایا کہ ماں کے اصرار کے باوجود وہ لڑکی نہ صرف خود ملاوٹ اور دھوکہ دہی جیسے قبیح فعل سے باز رہی بلکہ نہایت احسن انداز میں انفرادی کوشش کرتے ہوئے اپنی والدہ کو بھی خوفِ خدا اور اطاعتِ امیر کا ذہن دیا ۔ ہمیں بھی چاہئے کہ اگر والدین کسی خلافِ شرع کام کا حکم دیں تو ان کی اطاعت کرنے کے بجائے نرم انداز میں خوش اسلوبی سے انہیں حکمِ شریعت سے آگاہ کرتے ہوئے اس کام کے بجا لانے سے معذرت کرلیں کیونکہ نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ۔ ([4])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اسلام آوری سے قبل امیرُ المؤمنین حضرتِ سیّدُنا عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو جب عبداﷲ بن نُعَیْم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی زبانی معلوم ہوا کہ میرے بہن بہنوئی دونوں مسلمان ہوگئے ہیں ۔ ان کوغیظ(یعنی سخت غصہ) آیا سیدھے بہن کے مکان پر گئے دروازہ بند پایا اندر سے پڑھنے کی آواز آرہی تھی ان کی بہن کو حضرت خباب رضی اللّٰہ تعالٰی عنه ’’ سورہِ طٰہٰ شریف‘‘ سکھا رہے تھے ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انہیں آواز دی ۔ بہن نے صَحِیْفَہ کو کسی گوشہ میں چھپا دیا ۔ اور حضرت خباب (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) ایک کوٹھری میں چھپ گئے ۔ دروازہ کھولا گیا آتے ہی بہن سے پوچھا : تو دین سے پھر گئی ؟ صاف کہہ دیا میں نے سَچَّا دِین اسلام قبول کیا ۔ انہوں نے تلوار سے تو نہیں مارا مگر ہاتھ سے مارنا شروع کیا یہاں تک کہ خون بہنے لگا ۔ جب آپ کی بہن نے دیکھا کہ چھوڑتے ہی نہیں تو کہا : اے عمر! تم مارہی ڈالو مگر دینِ اِسلام ہم سے نہ چھوٹے گا ۔ جب انہوں نے خون بہتا ہوا دیکھا غُصَّہ فَرو(یعنی کم) ہوا اپنی بہن کو چھوڑ دیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد کہا کہ میں نے نئے کلام کی آواز سنی تھی وہ مجھے دکھاؤ ۔ آپ کی بہن نے کہا : تم مشْرک ہو اس کوچُھو نہیں سکتے ۔ انہوں نے زبردستی کرکے مانگ لیا، دو تین آیتیں پڑھیں فوراً ان کے مُنہ سے نکلا : ’’وَاللّٰه مَا هٰذَا کَلاَمُ الْبَشر‘‘ (خدا کی قسم یہ کلام بشر کا نہیں) یہ سن کر حضرت خباب (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) فوراً کوٹھری سے نکل آئے اور کہا : اے عمر! تمہیں خوش خبری ہو کل ہی حُضُوْر اَقْدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی : اَللّٰھُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلاَمَ بِاَبِیْ جَھْلِ بْنِ هِشَامٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (الٰہی اِسلام کو ابو جہل یا عمر کے ذریعہ سے عزت دے )
[1] کتاب التوابین، ص۱۲۳، ملتقطاً
[2] کافِرہ اگر اسلام لائے اور شوہر والی ہو تو کیا کرے ؟اس بارے میں سَیِّدی اعلیٰ حضرت رَحِمَۃُاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں : تین حیض تک انتظار کرے اگر اس کے اَندر شوہر اِسلام لے آیا، یہ اُس کے نکاح میں ہے ورنہ دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے ۔ (ملفوظات، ص : ۴۱۷)
[3] عیون الحکایات ، الحکاية الثانية عشرة ، ص ۲۸ مفہوماً
[4] مسند احمد، ۱/ ۲۷۸ حدیث : ۱۰۹۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع