دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ilm o Ulama ki Shan | عِلم و عُلما کی شَان

book_icon
عِلم و عُلما کی شَان

نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے  مُتَعَلّق پوچھا جائے گا ۔ بادشاہ نگران ہے ،  اس سے اس کی رعایا کے مُتَعَلّق پوچھا جائے گا ۔ آدمی اپنے اہل وعَیال کا نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولادکی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ([1])

غرض اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے میں اسلامی بہنوں کا بھی وافر حصہ شامل ہے ، ایسے بے شمار ایمان افروز واقعات اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں جو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں عورت کے کردار کی کلیدی حیثیت کو اُجاگر کرتے ہیں، آئیے ان میں سے چند واقعات پر نظر ڈالتے ہیں ۔

بحیثیتِ ماں عورت کاکردار

اُسْدُالْغَابَة جلد7 صفحہ 100 پر ہے : جنگ قادسیہ (جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  کے دور خلافت میں لڑی گئی تھی) میں حضرت سیِّدتُنا خَنْسَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا چاروں شہزادوں سمیت شریک ہوئی تھیں ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے جنگ سے ایک روز قبل اپنے چاروں شہزادوں کو اس طرح نصیحت فرمائی : میرے پیارے بیٹو! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے اور اپنی ہی خوشی سے تم نے ہجرت کی،  اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو، میں نے تمہارے نسب کو خراب نہیں کیا، تمہیں معلوم ہے کہ اللہ غفّار عَزَّ  وَجَلَّ  نے کفّار سے مقابلہ کرنے میں مجاہدین کے لئے عظیم الشّان ثواب رکھا ہے ۔ یاد رکھو! آخرت کی باقی رہنے والی زندگی دنیا کی فنا ہونے والی زندگی سے بدرجہا بہتر ہے ۔ سنو! سنو! قراٰن پاک میں ارشاد ہوتاہے :

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اصْبِرُوْا  وَ  صَابِرُوْا  وَ  رَابِطُوْا-  وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) (پ۴، ال عمران : ۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اس امید پر کہ کامیاب ہو ۔

صبح کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ جنگ میں شرکت کرو اور دشمنوں کے مقابلے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مدد طلب کرتے ہوئے آگے بڑھو اور جب تم دیکھو کہ لڑائی زور پر آگئی اور اس کے شعلے بھڑکنے لگے ہیں تو اس شعلہ زن آگ میں کود جانا، کافروں کے سردار کا مقابلہ کرنا، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عزّت و اکرام کے ساتھ جنّت میں رہو گے ۔ جنگ میں حضرت سیِّدتُنا خَنْسَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے چاروں شہزادوں نے بڑھ چڑھ کرکفّار کا مقابلہ کیا اور یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کرگئے ۔ جب ان کی والدۂ محترمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کو ان کی شہادت کی خبر پہنچی تو انہوں نے بجائے واویلا مچانے  کے کہا : اس پیارے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا شکر ہے جس نے مجھے چار شہید بیٹوں کی ماں بننے کا شرف عطا فرمایا ۔ مجھے اللہ ربّ العزّت کی رحمت سے امید ہے کہ میں بھی ان چاروں شہیدوں کے ساتھ جنت میں رہوں گی ۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے ماں کی حیثیت میں عورت کا کردار ملاحظہ فرمایا کہ حضرتِ خنساء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے راہِ خدامیں بھیجنے سے پہلے اپنے بیٹوں کی کتنی پیاری تربیت کی نیز جب آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے چاروں شہزادے مرتبۂ شہادت پر فائز ہوگئے تو واویلا مچاتے ہوئے آسمان سر پر اُٹھانے کے بجائے نہ صرف صبر و شکیبائی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا بلکہ شہید بیٹوں کی ماں ہونے پر شکرِ الٰہی بجا لائیں اے کاش ہماری اسلامی بہنیں ان کے اس طرزِ عمل کو اپنے لئے نمونہ بنائیں ۔

بحیثیتِ زوجہ عورت کا کردار

فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے تو ابوجہل کے بیٹے عکرمہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ) نے کہا کہ میں ایسی سرزمین میں نہیں رہوں گا جہاں مجھے اپنے باپ کے قاتلوں کو دیکھنا پڑے ۔

 چنانچہ اپنے سسرال پہنچے اور بیوی امِّ حکیم کو رختِ سفر باندھنے کی ہدایت کی ۔ اس نے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ، اے قریش کے نوجوانوں کے سردار! تم کہاں جارہے ہو ، تم ایسی جگہ جارہے ہو جہاں تمہاری کوئی پہچان نہیں ۔ لیکن حضرتِ عکرمہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا امِّ حکیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا  نے قبولِ اسلام کے بعد سرور عالم ، نور ِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی، یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! عکرمہ آپ سے بھاگ کر یمن جارہا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں آپ اسے قتل نہ کر ڈالیں ، آپ اسے امان دے دیجئے ۔ یہ سن کر رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امان عطا فرمادی ۔ پھر حضرتِ سیِّدَتُنا ام حکیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اپنے شوہر کی تلاش میں نکلیں اورانہیں تہامہ کے ساحل پر جالیا اور انہیں سمجھانے لگیں، اے چچا کے بیٹے ! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے سب سے افضل ، نیک اور بہترین ہستی (یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی طرف سے آئی ہوں ، تم خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تمہارے لئے امان طلب کرلی ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عکرمہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) نے پوچھا، کیا تم نے واقعی ایسا کیا ہے ؟ حضرتِ امِّ حکیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے جواب دیا، ہاں ! میں نے ان سے عرض کی تو انہوں نے امان دے دی ۔ یہ سن کر حضرتِ عکرمہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) حضرتِ امِّ حکیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے ساتھ لوٹ آئے ۔ جب حضرتِ عکرمہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) سرورِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے تو آپ کو دیکھ کر رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت خوش ہوئے ۔ آپ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کھڑے ہوگئے اور ساتھ ہی حضرتِ امِّ حکیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا بھی نقاب ڈالے



[1]    بخاری، کتاب العتق

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن