30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پردے کے معاملے میں انتہائی محتاط لڑکی ہی نکاح کے قابل سمجھی جائے ۔ اسی طرح لڑکی کے والدین بھی ایسا لڑکا تلاش کریں جو سنتوں کا پیکر اور باعمل عاشقِ رسول ہو ۔ جب میاں بیوی اس قدر نیک و پارسا اوردین کا عِلْم رکھنے والے ہونگے تو نہ صرف خود دُنیوی ، اُخروی ، مُعاشرتی اور اَزْدَواجی پریشانیوں سے محفوظ رہیں گے بلکہ ان کی اولاد بھی نیک و پرہیز گار ہوگی اور یوں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے معاشرے میں ہر طرف سنتوں کی بہار آجائے گی ۔ مگر افسوس!صد افسوس! آج کے اس پُرفتَن دور میں دانستہ و نادانستہ طور پر مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، عصری علوم کے نام پر دنیاوی تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی اور دینی تعلیمی اداروں کی حوصلہ شکنی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس قدر حوصلہ شکنی ومخالفت اور علم دین سیکھنے سکھانے کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باوجود دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں کا علمِ دین کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے ، یہ سلسلہ پہلے کبھی رُکا ہے نہ ہی آیَندہ کبھی رُکے گا ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ملک وبیرونِ ملک سینکڑوں جامعات المدینہ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی علم دوستی اور اشاعتِ علمِ دین کی تڑپ کے نتیجے میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام جامعۃُ المدینہ کی سب سے پہلی شاخ 1995ء میں نیوکراچی کے علاقے مدرسۃ المدینہ گودھرا کالونی بابُ المدینہ(کراچی) کی دوسری منزل میں کھولی گئی ۔ جہاں تین اساتذۂ کرام نے اسلامی بھائیوں کو عالم کورس (درسِ نظامی) پڑھانا شروع کیا ۔ اس جامعہ کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ جامعہ کی عمارت علم کے پیاسے اسلامی بھائیوں کی کثرت کی وجہ سے ناکافی ہو گئی ۔ چنانچہ اس جامعۃُ المدینہ کو 1998ء میں گلستان جوہر جامع مسجد فیضانِ عثمان غنی (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کے پڑوس میں وسیع عمارت میں منتقل کر دیا گیا ۔ اسی دوران سبز مارکیٹ (شومارکیٹ) باب المدینہ کراچی میں بھی شام کے اوقات میں جامعۃُ المدینہ کا آغاز ہو چکا تھا ۔ شیخ طریقت، امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور مُبَلِّغِیْنِ دعوتِ اسلامی کی جانب سے حصولِ علمِ دین کی بھرپور ترغیب کے نتیجے میں جہاں لاکھوں عاشقانِ رسول، راہِ خدا میں سفر کرنے والے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں کے مسافر بنے وہیں کثیر تعداد نے مَدَنی قافلوں میں سفر کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ علمِ دین کے حصول کے لئے جامعۃُ المدینہ کا بھی رُخ کیا ۔ یوں دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں جامعۃُ المدینہ کی مزید شاخیں کھلتی چلی گئیں ۔ تادمِ تحریر اسلامی بہنوں کے لئے بھی جامعۃ المدینہ کی سینکڑوں شاخیں قائم ہو چکی ہیں ۔ یقیناً موجودہ دور میں ان جامعات المدینہ کا قیام کسی نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں کہ جن میں ہزاہا اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں عالم وعالمہ کورس کررہے ہیں ۔ صرف پاکستان میں تقریباً 252 جامعات قائم ہیں جن میں کم و بیش 15 ہزار طلبہ وطالبات درسِ نظامی(عالم کورس) کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اورسینکڑوں اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جواہر علم سے اپنی جھولیاں بھر کر سندِ فراغت بھی پاچکے ہیں ۔
دستار بندی اوررِدا پوشی کیا ہے ؟
علم انبیاء کی میراث ہے اور بلا شبہ اس نعمت سے سرفراز شخص سے زیادہ خوش قسمت کوئی نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ جب دینی اداروں سے علمی موتی حاصل کر کے ان خوش بخت اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے عملی میدان میں قدم رکھنے کا وقت آتا ہے تو انکی شان اجاگر کرنے کے لیے ایک مخصوص تقریب بنام تقریب دستار بندی /رداپوشی کااہتمام کیا جاتا ہے جس میں ان کے سروں پر عزت و وقار کے تاج سجائے جاتے ہیں یعنی اسلامی بھائیوں کو عمامہ شریف اور اسلامی بہنوں کو رِدا (چادر) عطا کی جاتی ہے ۔ عموماً اس خصوصی شرف سے نوازنے کیلئے کسی ذی مرتبہ بُزرگ ہستی کا انتخاب کیا جاتا ہے جیسا کہ تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت جامعات المدینہ سے فارغ التحصیل ہونے والے مدنی اسلامی بھائیوں کے سروں پر شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے مبارک ہاتھوں سے عمامہ شریف سجاتے ہیں ۔
دستار بندی(یعنی عمامہ باندھنا) کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تو انبیائے کرام عَلَیْہِمُالسَّلَام کی سنت ہے اور ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور دیگر بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین سے بھی ثابت ہے کہ وہ کسی کو اہم کام کی انجام دہی کے لیے روانہ کرتے تو اس کے سر پر تاج سجاتے ۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُناعبد الله بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بحروبَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو جہاد کی تیاری کرنے کا حکم دیا تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عمامہ شریف پہن کر بارگاہِ ناز میں حاضر ہو گئے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جہادپر روانہ کرنے سے پہلے نصیحتوں کے کچھ مدنی پھول عطا فرمانے کے بعدآپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کواپنے پاس بلایا اور اپنے سامنے بٹھاکر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا عمامہ کھولا، پھر خود اپنے دستِ اقدس سے سیاہ عمامہ باندھا ۔ ([1])
حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ تعالٰی عنه سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس کرم نوازی کو اکثر یاد کرتے اور تحدیثِ نعمت کے طور پر اس کا ذکر بھی فرمایا کرتے ۔ چنانچہآپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ”حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دستِ اقدس سے میرے سر پر عمامہ کا تاج سجایا اور (باندھتے ہوئے ) اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے لٹکا دیا ۔ ‘‘([2])
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْامَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : آج کل فارغُ التحصیل طلبہ کے سروں پر علماء عمامے لپیٹتے ہیں جسے رسمِ دستار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع