30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا سُفۡیَان بِنۡ عُیَیۡنَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں : میں نے والد محترم کی اس نصیحت کو اپنی تَوَجُّہ کا مرکز بنالیا ، میرا رُجحان اسی کی طرف رہتاہے میں اس سے رُوگردانی نہیں کرتا ۔ ([1])
حضرتِ حُسَیۡن بِنۡ زِیَاد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کہتے ہیں کہ حضرتِ سَیّدُنا سُفۡیَان بن عُیَیۡنَه رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کے مُتَعَلّق پوچھا گیا : وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو ۔ تو جواب میں ارشاد فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ توخود نیکی کرے ، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دے ، اس معاملہ میں دوسروں کی مدد کرے اور ان کی راہنمائی کرے ۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح حضرت سیدنا سُفۡیَان بِنۡ عُیَیۡنَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اپنی زندگی علمِ دین حاصل کرنے اور اسے پھیلانے کے لئے وقف کر رکھی تھی اسی طرح ہمیں بھی علمِ دین عام کرتے رہنا چاہئے بلا شبہ یہ وہ عمل ہے جونہ صرف زندگی میں بلکہ مرنے کے بعد بھی فائدہ دیتا ہے ۔
مرنے کے بعد فائدہ دینے والے اعمال
حدیث پاک میں ہے : جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین کے ، صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے ، نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے ۔ ([3])
بعض اہلِ علم کا قول ہے کہ یہ تینوں صفات صرف ایسے عالم میں جمع ہوسکتی ہیں جو اپنا علم خرچ کرنے والا اور پھیلانے والا ہو ۔ ([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ صدقہ جاریہ، نیک اولاد اور اشاعتِ علمِ دین ایسے اعمال ہیں کہ مرنے کے بعد بھی اس کے کرنے والے کو اس کا ثواب پہنچتا رہتا ہے ۔ لہٰذا علمِ دین پھیلانے کے معاملے میں حریص ہوجائیے اور علم کے ذریعے اپنے گردو پیش میں ہونے والی برائیوں کو دَم بدَم ختم کرنے کے لئے کوشاں رہئے ۔ یقیناً فی زمانہ برائیوں میں سب سے بڑی برائی جَہالت ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے ناسوروں میں سرفہرست ہے گھر بار کا معاملہ ہویا کاروبار کا، دوست احباب کا معاملہ ہویا رشتے دار کا ، نکاح کا معاملہ ہو یا اولاد کی تربیت کا، انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر غرض کیا حقوقُ اللہ اور کیا حقوقُ العباد، زندگی کے ہر شعبے میں جہاں بھی جس انداز سے بھی خرابیاں پائی جارہی ہیں اگر آپ سنجیدگی سے اس کے بارے میں غور کریں تو یہ بات آپ پر آشکار ہوجائے گی کہ اس کا بنیادی اور سب سے نمایاں سبب علم دین سے دوری ہے ۔ علم ِ دین کے فقدان اور درست راہنمائی سے محرومی کے باعث نہ صرف معاملات و اخلاقیات میں بلکہ عقائدو عبادات تک میں طرح طرح کی برائیاں اور خرابیاں نہایت تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہیں جن کے سدِّ باب کے لئے محض علمِ دین حاصل کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ اپنے علم پر عمل کرنا اور اس کے ذریعے دوسروں کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے ۔ پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امیراہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے مریدین ، محبین اور مُتَعَلّقین کواپنی اور دوسروں کی اصلاح میں مگن رہنے کا ذہن دیتے ہوئے اُنہیں یہ مَدَنی مقصد عطا کیا ہے : مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی اہمیت کو پیشِ نظر رکھنا نہایت ضروری ہے اس کی تفصیلی معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 616 صَفحات پر مشتمل کتاب ’’نیکی کی دعوت ‘‘ کا مطالعہ نہایت مُفید ہے آئیے اس کے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئے :
کَلمِۂ طیِّبہ نَفع دے گا جب تک...
حضرتِ سَیّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، رسولوں کے سالار، نبیوں کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ حقیقت بنیاد ہے : لَااِلٰه اِلّا اللّٰهُ (مُحَمّدٌ رَّ سُوْلُ اللّٰه) ہمیشہ اپنے کہنے والوں کو نَفع پہنچاتا رہے گا اور ان سے عذاب کو دُور کرتا رہے گا جب تک اس کا حق ہلکا نہ جانیں ۔ صَحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کلمہ طیِّبہ کے حق کوہلکا جاننا کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : یَظْهَرُ الْعَمَلُ بِمَعَاصِی اللّٰهِ فَلَا یُنْکَرُ وَلَا یُغَیَّرُ یعنی (لَااِلٰه اِلّا اللّٰه ُ کے حق کو ہلکاجاننا یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والا کام ہوتا دیکھ کر نہ اُسے روکا جائے اور نہ ہی
اُسے تبدیل کیا جائے ۔ ([5])
حضرتِ سیِّدُنا حُذیفہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اسلام کے آٹھ حصّے ہیں : (۱) اسلام (۲) نَماز(۳) زکوٰۃ(۴) رمضان کا روزہ(۵) حجِ بَیتُ اللہ(۶) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں
[1] صفة الصفوة، ذكر المصطفين من طبقات أهل مكة ....الخ، ومن الطبقة الخامسة، الجزء الثانی ۱/ ۱۵۵
[2] حلیة الاولیاء، سفیان بن عیینة، ۷/ ۳۳۴
[3] مسلم، کتاب الوصیة، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاته، ص ۸۸۶، حدیث : ۱۶۳۱
[4] حلیة طالب العلم، الفصل السادس التحلی بالعمل، زکاة العلم، ۱/ ۳۶ المکتبة الشاملة
[5] اَلتَّرغِیب وَالتَّرھِیب، کتاب الحدود وغیرھا، الترغیب فی الامر بالمعروف...الخ ، ۳ /۱۸۳، حدیث : ۳۵۳۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع