30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام نے اس حدیثِ پاک کے تحت محدثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کے ایسے واقعات بھی ذکر کئے ہیں کہ برسوں کے بعدجب ضرورۃان کی قبروں کو کھولا گیا تواُن کے جسم ایسے ترو تازہ تھے گویا آج ہی تدفین کی گئی ہو ۔
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے سید نا اما م احمد بن حنبلرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی وفات شریف کے 230 سال کے بعد آپ کی قبر ِ انور کے پہلو میں جب سید ابو جعفر بن ابو موسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کیلئے قبر کھودی گئی تو اتفاق سے آپ کی قبر کھل گئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ230 برس گزر جانے کے باوجود امام احمد بن حنبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا کفن صحیح وسالم اور بدن تروتازہ تھا ۔ ([1])
لہٰذا ہم میں سے جو بھی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس دُعا وفضیلت کے حُصول کا خواہشمند ہو اُسے چاہیے کہ سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی احادیث سیکھنے سکھانے کا شوق اپنے اندر پیدا کرے یقین جانئے اس میں دونوں جہان کی کامیابی ہے ، اَور کچھ نہیں تو کم ازکم یہی حدیث یاد کر کے اپنے دُوسرے اسلامی بھائیوں کو سُنا دیجئے کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص کوترو تازہ رکھے جس نے ہم سے حدیث سنی اور اس کو یاد کیاحتی کہ اسے دوسروں تک پہنچایا“ ۔ اگر ہماری زبانی یہ حدیثِ مبارک سُن کر کسی کا دل چوٹ کھا گیا اور وہ صلوۃ و سنت کی راہ پر گامزن ہوگیا اور علم دین سیکھنے سِکھانے والا بن گیا تویقیناًیہ ہمارے لئے ثوابِ جاریہ ہوجائے گا اور یوں صرف ایک حدیثِ پاک دوسروں تک پہنچانے کی وجہ سے ہم ڈھیروں فضائل سے مالا مال ہوجائیں گے ، علمِ دین حاصل کرکے دوسروں تک پہنچانے کے بارے میں 3 فرامینِ مصطفی مُلاحظہ ہوں ۔
1. پہنچادو میری طرف سے اگرچہ ایک ہی آیت ہو ۔ ([2])
2. میری حدیث بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ([3])
3. حجۃ الوداع کے موقع پرسرکارِ مدینہ منورہ، سردارِ مکہ مکرمہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو آخری خُطبہ ارشاد فرمایا اس سے بھی علمِ دین اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین عام کرنے کی اہمیّت اُجاگر ہوتی ہے چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دین کے احکامات بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : جو لوگ موجود ہیں وہ (یہ احکامات) اُن لوگوں تک پہنچادیں جو موجود نہیں ۔ ([4])
پیارے اسلامی بھائیو!جب صحابہ کر ام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے پیارے آقا، مدینے والے مصطفے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یہ ارشادات سنے تو انہوں نے تبلیغِ دینِ اسلام کی خاطرمختلف مقامات کے سفر اختیار کئے اور سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشادات کودنیا بھر میں پھیلا دیا ۔ اس کے بعد تابعین کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام بھی اسی مقصد کولے کر آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے بعد والوں تک دین ِ اسلام کی تبلیغ اور سُنّتوں کا پرچار کیا ۔
یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ امام بخاری، امام مسلم، امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک بن انس ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی، امام اوزاعی ، سفیان ثوری اور ان کے علاوہ دیگر بڑے بڑے محدثین و فقہائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی علیہم نے تبلیغِ اسلام ہی کے عظیم مقصد کے پیشِ نظر تفسیر وحدیث اور فقہ کیلئے خوب عرق ریزی سے کام کیا ۔ چنانچہ ان نُفُوسِ قدسیہ میں سے کسی نے علمِ تفسیر میں مہارت حاصل کی تو کسی نے فنِ حدیث میں کمال حاصل کیا اور کوئی تو فقہ میں اپنا مثل نہیں رکھتانیزاسی طرح ان کے شاگردوں کی سیرت کا مُطَالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی اپنے اساتذہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زبانی ، قلمی اور عملی ہر لحاظ سے تبلیغِ دین میں مصروف رہے ۔ انہیں حضرات میں ایک عظیم محدِّث حضرت سیّدُنا سُفۡیَان بن عُیَیۡنَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ بھی ہیں جنہوں نے احادیثِ مُبارَکہ کی خُوب خُوب خدمت کی اور تاحیات علمی سرگرمیوں میں مگن رہے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی کامیاب زندگی میں آپ کے والد صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی نصیحت کا بڑا عمل دخل تھا ۔ چنانچہ
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں : جب میں اپنی عمر کے پندرھویں سال کو پہنچا تو میرے والد نے مجھے بلایا اور (نصیحت کے مدنی پھول لُٹاتے ہوئے ) کچھ یوں وصیّت فرمائی :
1. اے سُفۡیَان! بلا شبہ کم سنی کے قوانین و ضوابط تم سے منقطع ہوگئے ۔ لہٰذا بھلائی کے امورمحفوظ کرلو، تمہارا شمار اہلِ خیر میں ہونے لگے گا ۔
2. اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں جو تمہیں دھوکے میں مبتلا کرنا چاہے اس سے دھوکا نہ کھانا کہ وہ تمہاری مدح و ستائش (تعریف) اس بات کے خلاف کرے جو تمہارے بارے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے کیونکہ باہمی رضا مندی کے وقت تو ہر کوئی تعریفیں کرتا مگر جب کوئی ناراضی ہوتو وہی آدمی برائیاں کرنے پر اُتر آتا ہے ۔
3. بری صحبتوں کے بجائے خَلوت پسندی (اکیلے رہنے ) کی عادت ڈالو ۔
4. تمہارے بارے میں میرا جو حسنِ ظن ہے ا سے بدگمانی میں تبدیل نہ ہونے دینا ۔
5. اہلِ علم کی صحبت میں وہی شخص سعادت مند ہے جو ان کی اطاعت و فرماں برداری کرے ۔ ([5])
[1] مرقاة ، ترجمة الامام احمد بن حنبل، ج١/٦٧
[2] بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، ۲/ ۴۶۲، حدیث : ۳۴۶۱
[3] مسند ابی یعلی، مسند ابی سعید الخدری، ۱/۵۰۹، حدیث : ۱۲۰۴
[4] بخاری، کتاب المغازی، باب حجة الوداع، ۳/ ۱۴۱، حدیث : ۴۴۰۶
[5] صفةالصفوة، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع