دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ilm e Tafseer Asan Lafzon Mein | علم تفسیر آسان لفظوں میں

book_icon
علم تفسیر آسان لفظوں میں
            

ائمۂ عَشَرَہ:

ائمۂ سبعہ کے ساتھ مزید تین ائمہ کی قراءتیں بھی متواتر ہیں ان دس قراءتوں کو ”قراءاتِ عشرہ“ اور ان کے ائمہ کو ”ائمۂ عشرہ“ یا ”قراء عشرہ“ کہتے ہیں۔ (1) ان تین ائمہ کی قراءتیں بھی اسی طرح آگے بڑھیں جس طرح ائمۂ سبعہ کی منقول ہوتی آئیں یعنی ان کے بھی دو دو خاص شاگرد ہیں جو ان کی قراءتوں کے راوی ہیں؛ ذیل میں ان ائمہ اور ان کے راویوں کے مبارک نام ذکر کیے جارہے ہیں ملاحظہ کیجیے: ائمۂ قراءت ----راوی امام ابوجعفر یزید بن قعقاع مدنی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام ابنِ وَرْدان رحمۃُ اللہ علیہ امام ابنِ جماز رحمۃُ اللہ علیہ امام ابویعقوب بن اسحاق حَضْرَمِیْ کوفی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام رُوَیس رحمۃُ اللہ علیہ امام رَوْح رحمۃُ اللہ علیہ امام خَلَف بَزَّار کوفی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام اسحاق وَرَاق رحمۃُ اللہ علیہ امام ادریس بن عبدالکریم رحمۃُ اللہ علیہ

مجمعِ عام میں تلاوت کا حکم:

جس مُلک میں جو قراء َت رائج ہے عوام کے سامنے وہی پڑھی جائے، جیسے برِ عظیم پاک و ہند وغیرہ میں قِرا ء َتِ عاصم بروایتِ حَفص رائج ہے کہ یہاں کے مدارس میں اسی قراءت میں قرآن پڑھایا جاتا ہے، مکتبوں سے اسی قراءت میں قرآن شائع ہوتا ہے اور عوام بھی اسی قراءت میں تلاوتِ قرآن پاک کرتی ہے لہٰذا یہاں پر یہی قراءت پڑھی جائے اس کے علاوہ کوئی اور قراءت عوام کے سامنے نہ پڑھی جائے کہ لوگ علم نہ ہونے کی وجہ سے اِنکار کریں گے اور کسی ایک متواتر قراءت کے انکار سے ایمان بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔(2)

مشق

سُوال: قراءاتِ قرآن کا معنیٰ بیان کیجیے۔ سُوال: قرآن کی سات لغات کے نام اور ان میں اختلاف کی نوعیت واضح کیجیے؟ سُوال: مختلف لغات میں قرآن پڑھنے کی کیا حکمت تھی؟ یہ اجازت منسوخ کیوں ہوگئی؟ سُوال: قرآن لغتِ قریش پر جمع ہوچکا تھا تو مختلف قراءتیں کیسے وجود میں آئیں؟ سُوال: قراءاتِ قرآن ائمہ کے ساتھ مخصوص کیوں ہوگئیں؟ سُوال: ائمۂ سبعہ ، ان کے راویوں اور ان کے استاذ صحابہ کے اسمائے گرامی بصورت نقشہ لکھیے۔ سُوال: ائمہ ٔعشرہ اور ان کے راویوں کے نام بیان کیجیے۔

سبق 12 مکی مدنی سورتوں کا تعارف

‫مکی سورت کی تعریف:

وہ سورت جو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہجرت کرنے سے پہلے نازل ہوئی ہو۔

مدنی سورت کی تعریف:

وہ سورت جو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہجرت کرنے کے بعد نازل ہوئی ہو۔ وضاحت: جو سورتیں ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں وہ مکی ہیں اور جو سورتیں ہجرت کے بعد اگرچہ مکہ یا اس کے گرد و نواح میں نازل ہوئیں وہ مدنی ہیں۔ (3) مثلاً سورۂ مائدہ آیت نمبر تین:( اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- )(4) ترجمہ: ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ “ مدنی ہے، حالانکہ یہ عَرَفات کے مقام پر حجۃ الوداع میں جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ (5)

مکی و مدنی سورتوں کی تعداد:

درج ذیل 29 سورتیں مدنی ہیں: (1) بَقَرَہ--------(4)مائدہ--------(7)رَعْد--------(10)احزاب ----(13)حجرٰت (2)اٰلِ عمران----(5)انفال--------(8)حج--------(11)محمد--------(14)حدید (3)نساء--------(6)توبہ--------(9)نور--------(12)فَتْح--------(15)مُجَادَلَہ (16)حَشْر---- ----(19)جُمُعہ--------(22)طلاق--------(25)زَلْزَلَہ-------- (28)فَلَق (17)ممتحنہ--------(20)منافقون----(23)تحریم--------(26)قَدْر--------(29)ناس (18)صف--------(21)تَغَابُن---- (24)قِیامہ--------(27)نَصْر ان سورتوں کے علاوہ باقی 85 سورتیں مکی ہیں۔(6)

مکمل سورت کو مکی یا مدنی کہنے کی وجہ:

29 سورتوں کو مدنی اور اس کے علاوہ باقی سورتوں کو مکی کہا جاتا ہے، حالانکہ مدنی سورتوں میں کچھ آیات مکی ہوتی ہیں اور مکی سورتوں میں کچھ آیات مدنی ہوتی ہیں! اس کی وجہ یہ ہے کہ سورتوں کو مکی یا مدنی کہنے میں ان کے آغاز کا اعتبار ہوتا ہے؛اگر سورت کا آغاز مکی ہو تو اسے مکی کہا جائے گا اور اگر آغاز مدنی ہو تو مدنی کہا جائے گا۔ (7)

سورتوں کی پہچان کے دو طریقے:

مکی و مدنی سورتوں کی پہچان کے دو طریقے ہیں: 1-سماعی: صحابۂ کرام کی تصریح کے ذریعے پتا چلے۔ 2- قیاسی: علامات و خصوصیات کے ذریعےپتا چلے۔ (8)

صحابہ کے ذریعہ مکی و مدنی سورتوں کی پہچان:

صحابۂ کرام کے بیان سے آیت کا مکی یا مدنی ہونا معلوم ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآنِ پاک ان کے سامنے نازل ہوا؛ یہ حضرات نزولِ قرآن کا مشاہدہ کرتے تھے اور قرآنِ پاک کے نزول کی جگہ ، وقتِ نزول اور سببِ نزول سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! کتابُ اللہ کی کوئی سورت ایسی نہیں جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو کہ وہ کہاں نازل ہوئی، نہ کوئی ایسی آیت ہے جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو کہ وہ کس سلسلے میں نازل ہوئی۔ (9)اسی طرح امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اس آیتِ مبارکہ( اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- ) (10)کے بارے میں فرمایا: ہم اس دن اور اس جگہ کو بھی جانتے ہیں جس میں نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی؛ یہ آیت جُمُعہ کے دن میدانِ عَرَفات میں نازل ہوئی۔(11)

علامات کے ذریعے مکی و مدنی کی پہچان:

مکی و مدنی سورتوں کی پہچان کے کچھ ضابطے اور علامات ہیں۔ البتہ! یہ علامات عمومی اور اکثری ہیں کچھ مقامات پر ان کا خلاف پایا جانا بھی ممکن ہے۔

مکی سورتوں کی علامات و مضامین:

(1) سورت کی ابتدا میں حروفِ مقطعات ہوں، سوائے بَقَرَہ و اٰلِ عمران کے؛ کیونکہ یہ دونوں سورتیں بالاتفاق مدنی ہیں۔ (2) اس سورت میں سابقہ امتوں کے واقعات اور خبریں ہوں۔ (3) حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ ہو ؛سوائے بَقَرَہ کے۔ (4) جس میں لفظ ”کَلاَّ“ ہو۔(12) (5) جس میں آیتِ سجدہ ہو۔(13) (6) شرک اور بت پرستی کی بہت زیادہ مَذَمَّت کی گئی ہو اور مشرکین کے شبہات کا عقلی و حسی دلائل اور فصیح و بلیغ مثالوں سے رد کیا گیا ہو ۔ (7) اسلام کے بنیادی عقائد مثلاً توحید، نبوت و رِسالت، ملائکہ پر ایمان، عقیدۂ آخرت، سزا و جزا وغیرہ کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہو۔ (8) مشرکین کی بری عادتوں کا ذکر کیا گیا ہو، مثلاً قتل و غارت گری، لوٹ مار، بیٹیوں سے نفرت اور انہیں زندہ درگور کرنا وغیرہ۔ (9) بنیادی اخلاقیات اور معاشرتی حقوق ایسے خوبصورت انداز میں بیان کیے گئے ہوں جس سے کفر و فسق، جہالت، غرور و تکبر، باطنی گندگی اور فحش کلامی وغیرہ امور سے نفرت ہوجائے اور ایمان، علم، اخلاص، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، پڑوسیوں کی عزت، دوسروں کا احترام، صلۂ رحمی، نیکی اور دل و زبان کی پاکیزگی وغیرہ سے محبت ہوجائے۔ (10 ) مختصر آیات، فصیح و بلیغ ہم وزن کلمات پر مشتمل تراکیب، حقائقِ معنویہ سے بھرپور تشبیہات اور بہترین مثالوں کے ذریعے ایسی منظر کشی کی گئی ہو کہ سننے والا اس بات کو اپنی نظروں کے سامنے ہوتا محسوس کرے۔ (14)

مدنی سورتوں کی علامات و مضامین:

(1) حدود و فرائض کا بیان ہو ۔ (2) منافقین کا ذکر ہو ۔ (15) (3) جہاد کی اجازت اور جہاد کے احکام کا بیان ہو ۔ (16) (4) عبادات و معاملات سے متعلق تفصیلی احکام اور جزئیات مذکور ہوں، مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، نکاح، طلاق، رضاعت، خرید و فروخت وغیرہ۔ (5) حکومتی و معاشرتی قوانین مذکور ہوں، مثلاً حدود و قصاص اور میراث وغیرہ۔ (6) اہلِ کتاب کے باطل نظریات کا رد کرکے انہیں دعوتِ اسلام دی گئی ہو اور اہلِ حق کے ساتھ ان کے رَوَیّوں اور کتبِ الٰہیہ میں ان کی تحریفات کا ذکر کیا گیا ہو۔ (7) اہلِ مدینہ چونکہ اہلِ مکہ کی طرح بہت زیادہ ذہین و فطین اور فصیح و بلیغ نہیں تھے اس لیے ان سورتوں میں اندازِ بیان سادہ ہوتاہے اور احکام کو وضاحت کے ساتھ بڑی بڑی آیات میں بیان کیا جاتا ہے۔ (17)

مکی و مدنی سورتوں کی پہچان کے تین فوائد:

1- ناسخ و منسوخ کا علم:مکی و مدنی سورت کی پہچان کے ذریعے ناسخ و منسوخ کے درمیان امتیاز ہوتا ہے؛ کیونکہ جب ایک مضمون کی دو آیتوں کے درمیان اختلاف ہو اور معلوم ہوجائے کہ ان میں سے ایک مکی اور دوسری مدنی ہے تو لازماً مدنی ناسخ اور مکی منسوخ ہوگی۔(18) 2- تفسیرِ قرآن کے لیے مفید: فہمِ قرآن اور تفسیر ِ قرآن کا وقتِ نزول کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے؛ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو اسے تفسیرِ قرآن کی اجازت نہیں۔ (19) 3- تاریخِ تشریع کی معرفت: مکی و مدنی سورت کی پہچان کے ذریعے دینِ اسلام کے تشریعی مراحل اور اللہ پاک کے حکیمانہ انداز کا علم ہوتا ہےکہ اس نے شروع شروع میں اصولی باتیں بیان فرمائیں پھر فروعی مسائل بیان کیے یعنی پہلے ذہنوں میں دینِ اسلام کی حقانیت کو پختہ فرمایا پھر احکام بیان فرمائےجس کے نتیجے میں لوگوں نے دعوتِ دین کو قبول بھی کیا اور دینی احکام پر عمل پیرا بھی ہوئے۔ (20)

مشق

سُوال: مکہ و مدینہ کے اطراف میں نازل شدہ آیات کو کیا کہا جاتا ہے؟ سُوال: مکی و مدنی سورتوں کی تعداد بیان کیجیے اور بتائیے کسی سورت کو مکی یا مدنی کس اعتبار سے کہا جاتا ہے؟ سُوال: مکی و مدنی سورتوں کی پانچ علامات و مضامین تحریر کیجیے۔ سُوال: مکی و مدنی سورتوں کی پہچان کا کیا فائدہ ہے؟

سبق 13 مُحکم و مُتشابہ

مُحکم کا معنیٰ:

قرآن ِمجید کی بعض آیات محکم ہیں یعنی ان کا معنیٰ و مفہوم بالکل واضح ہے اور ہم ان کے تمام پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔(21) ان ہی آیات میں عقائد و اعمال، احکام و فرائض، اِنذار و تبشیر اور قصص و اَمثال وغیرہ بیان کی جاتی ہیں۔

آیاتِ محکمات کا حکم:

قرآنِ پاک کا اکثر حصہ آیاتِ محکمات پر مشتمل ہے جو ہماری زندگی کے بنیادی مسائل سے متعلق ہے لہٰذا ہم اس میں غور و فکر کرسکتے ہیں اور منطق و اِستدلال کی تمام کسوٹیوں کو بروئے کار لاکر اطمینانِ قلب کی نعمت پاسکتے ہیں۔

مُتشابہ کا معنیٰ:

قرآنِ مجید کی بعض آیات مُتشابہ ہیں یعنی اُن کے معنیٰ میں اشکال ہے؛ یا تو ظاہری الفاظ سے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا جیسے حروف مقطعات یا جو سمجھ آتا ہے وہ مراد لینا اسلام کے خلاف ہوتا ہے، لہٰذا ان آیات کا حقیقی معنیٰ اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سِوا کوئی نہیں جانتا یا وہ جنہیں اللہ اور اس کے رسول بتائیں۔(22)

آیات مُتشابہات کا حکم:

قرآن کی بعض مکمل آیات یا آیات کے کچھ حصے مُتشابہ ہیں اگرچہ وہ عقل و استدلال کی نہایت پختہ بنیادوں پر مشتمل ہیں، ان کی اصل محکم آیات ہی ہیں اس لیے ان پر ایمان لانے میں ذرا بھی الجھن نہیں ہوتی لیکن چونکہ ان کا تعلق اس عالَمِ مَحسوسات کی زندگی سے نہیں ہے تو وہ ہم جیسے کمزور انسانوں کے دائرۂ عقل سے باہر ہوتی ہیں۔ ہمارے لیے بس اتنا ضروری ہے کہ ہم بغیر کسی تاویل میں پڑے ان پر ایمان لائیں کیونکہ یہ ہمارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہیں۔

آیاتِ مُتشابہات کی قسمیں:

تمام آیاتِ مُتشابہات میں غور و فکر منع نہیں بلکہ ان آیات میں غور و فکر منع ہے جن کا معنیٰ سرے سے سمجھ ہی نہیں آسکتا! اس لحاظ سے آیاتِ مُتشابہات کی دو قسمیں ہیں:

(1)جن کاسمجھنا ممکن ہے:

وہ آیات مُتشابہات جن کو مُحکم آیات کی روشنی میں سمجھنا ممکن ہے لیکن ان کے مرادی معنیٰ کو معین نہیں کیا جاسکتا کہ ان سے اللہ پاک کی مراد وہی ہے جو غور وفکر کرنے والے نے سمجھی! لہٰذا جب معنیٰ کی تعیین ممکن نہیں لیکن غور و فکر ممکن ہے تو اس میں غور وفکر کرنے یا نہ کرنے کے معاملہ میں دو مسلک ہیں: 1-مسلکِ تفویض و تسلیم: جو معنیٰ ظاہری آیت سے سمجھ آرہا ہے اس کے بارے میں یقین ہے کہ یہ معنیٰ ہرگز مقصود نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اصلِ اسلام ہی کے خلاف ہے تو سمجھے جانے والے معنیٰ میں تاویل کی ضرورت ہوگی، حالانکہ یہ بات بھی معین ہے کہ جو مطلب تاویل کے ذریعے حاصل ہوگا اس کے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہا جاسکے گا کہ یہی وہ مطلب ہے جو اللہ پاک کی مراد ہے تو اس میں غور و فکر سے کیا حاصل ہوگا؟ اسی لیے بہتر ہے کہ اس کا عِلم اللہ پاکپر چھوڑدیا جائے کہ ہمارے رب کی جو بھی مراد ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ جمہور ائمۂ سلف کا مسلک ہے، یہی مناسب ہے اور اسی میں سلامتی ہے۔ 2- مسلکِ تاویل: جب اللہ پاک نے مُحکم اور مُتشابہ دو قسمیں فرماکر محکمات کو ( هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ ) (23) ترجمہ: ”وہ کتاب کی اصل ہیں۔“ فرمایا؛ ظاہر ہے ہر فرع اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے تو آیۂ کریمہ نے تاویلِ مُتشابہات کا راستہ خود بتادیا اور ان کا درست طریقہ واضح کردیا کہ آیاتِ مُتشابہات میں وہ درست اور پاکیز ہ اِحتِمالات پیدا کرو جن سے یہ اپنی اصل یعنی محکمات کے مطابق آجائیں۔ اگرچہ اپنے نکالے ہوئے معنیٰ پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ پاک کی یہی مراد ہوگی؛ مگر جب معنیٰ میں کسی قسم کی اسلام مخالف بات نہیں اور وہ آیاتِ محکمات کی مخالفت بھی نہیں کررہا نیز مُحاوَراتِ عرب کے لحاظ سے بھی درست ہےتو ایسے معنیٰ اِحتِمالی طور پر بیان کرنے میں حرج نہیں۔ یہ مسلک کثیر علمائے کرام کا ہے۔ (24)

آیاتِ مُتشابہات:

ذیل میں چند آیاتِ مُتشابہات ذکر کی جارہی ہیں، ملاحظہ کیجیے: (1) ( اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى(۵) ) (25) ترجمہ:وہ بڑی مِہر(رحمت) والا اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ (2) ( كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ- )(26) ترجمہ: ہر چیز فانی ہے سوا اُس کی ذات کے۔ (3)( یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- ) (27) ترجمہ: ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ (4) ( وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ) (28) ترجمہ: اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات۔ (5) ( وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖؕ- ) (29) ترجمہ: اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دئیے جائیں گے۔

(2) جن کا سمجھنا ممکن نہیں:

وہ آیاتِ مُتشابہات جن کو کسی طرح سے سمجھنا ممکن نہیں؛ نہ ان کے لفظی معنیٰ کا علم ہوسکتا ہے نہ ہی ان کی مراد جانی جاسکتی ہے۔ یہ بعض سورتوں کے شروع میں آنے والے حروفِ مقطعات ہیں جن کے راز اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(30) * * * *

مشق

سُوال: مُحکم و مُتشابہ کا معنیٰ بیان کیجیے۔ سُوال: آیاتِ محکمات و مُتشابہات میں غور و فکر کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور کیوں ہے؟ سُوال: آیاتِ مُتشابہات کے سمجھ آنے اور سمجھ نہ آنے کا کیا مطلب ہے؟ سُوال: آیاتِ مُتشابہات میں غور و فکر کے حوالے سے مسالک کا خلاصہ لکھیے۔ سُوال: سمجھ آنے والی آیاتِ مُتشابہات میں سے کوئی ایک آیت سبق کے علاوہ تلاش کیجیے ۔ سُوال: تمام حروفِ مقطعات کو اپنی کاپی پر خوش خط لکھیے ۔
1……تدوین قرآن، ص 177 بتصرف۔ 2 ……مناہل العرفان، ص 308- فتاویٰ رضویہ، 12/315۔ 3……الاتقان فی علوم القرآن، 1/26 تا 27۔ 4 ……پ 6، المائدۃ:3۔ 5 ……البرہان فی علوم القرآن، 1/252 - بخاری، 1/28، حدیث:45۔ 6……زبدۃ الاتقان، ص 29۔ 7 ……علوم القرآن الکریم، ص 57۔ 8 ……البرہان فی علوم القرآن، 1/242 ۔ 9……بخاری، 3/403، حدیث:5002۔ 10 ……پ 6، المائدۃ:3۔ 11 …… بخاری، 1/28، حدیث:45۔ 12 ……جمال القراء و کمال الاقراء، ص 591 - الایضاح لناسخ القرآن و منسوخہ، ص 114 تا 115۔ 13 …… الکامل فی القراءات العشر، ص 116۔ 14……علوم القرآن الکریم، ص 60 تا 67 ملتقطاً - مناہل العرفان، ص 147 تا 149۔ 15…… الایضاح لناسخ القرآن و منسوخہ، ص 114 تا 115۔ 16 …… مناہل العرفان، ص 144۔ 17……علوم القرآن الکریم، ص65 تا 68 ، ملتقطاً - مناہل العرفان، ص 149۔ 18…… الاتقان فی علوم القرآن، 1/25۔ 19 …… البرہان فی علوم القرآن، 2/34۔ 20……علوم القرآن الکریم، ص 58 -من روائع القرآن، ص 107۔ 21……فتاویٰ رضویہ، 29/122 ماخوذاً۔ 22 ……فتاویٰ رضویہ، 29/122 ماخوذاً۔ 23……پ3، اٰل عمران:7۔ 24 ……فتاویٰ رضویہ، 29/122تا 124، ملتقطاً۔ 25 ……پ16،طہ:5۔ 26 ……پ20، القصص:88۔ 27 ……پ26، الفتح: 10۔ 28 ……پ27، الرحمن: 27۔ 29 ……پ24، الزمر: 67۔ 30……فتاویٰ رضویہ، 29/122 ماخوذاً۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن