دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ilm e Tafseer Asan Lafzon Mein | علم تفسیر آسان لفظوں میں

book_icon
علم تفسیر آسان لفظوں میں
            

سبق 10 تقسیمِ قرآن

‫تقسیمِ قرآن کا معنیٰ:

تلاوتِ قرآن اور فہمِ قرآن وغیرہ مقاصد کے پیشِ نظر قرآن کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنا۔

قرآن کی تقسیم:

قرآنِ پاک کی آٹھ اعتبار سے تقسیم کی گئی ہے جن میں سے بعض دورِ رسالت میں ہوگئیں تھیں اور کچھ صحابہ اور بعد کے علما و قراء کی جانب سے کی گئیں اور اب تک مشہور ہیں: (1)سورتوں کے اعتبار سے----(5)رُبْع کے اعتبار سے (2)آیات کے اعتبار سے---- (6)منزل کے اعتبار سے (3)پاروں کے اعتبار سے---- (7)خمس،عُشْر یا جزء کے اعتبار سے (4)رکوع کے اعتبار سے---- (8) مقدار و مضمون کے اعتبار سے

(1)سورتوں کے اعتبار سے تقسیم:

نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قرآنِ پاک کو 114 سورتوں میں تقسیم فرمایا، قرآنی سورتوں کی ترتیب بھی بیان فرمائی اور ہر سورت کا ایک خاص نام بھی بیان فرمایا۔

سورتوں میں تقسیم کرنے کی حکمتیں:

قرآنِ پاک کو سورتوں میں تقسیم کرنے کی چند ممکنہ حکمتیں ملاحظہ کیجیے: * پڑھنے اور حفظ کرنے میں آسانی ہو۔ * پڑھنے والے کی دلچسپی برقرار رہے۔ * قرآن کے باہمی مناسبت والے مضامین کو ایک جگہ جمع کردیاجائے۔ * واضح ہوجائے کہ قرآن کی مختصر سورت بھی طویل سورت کی طرح معجزہ ہے۔ (1)

(2) آیات کے اعتبار سے تقسیم:

قرآنِ پاک کی چھ ہزار سے زائد آیات ہیں؛ (2) یہ تقسیم نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود فرمادی تھی، آپ ہر آیت پر وقف فرماتے اور آیات کے مقام کی تعیین بھی فرماتے تھے کہ کس آیت کو کہاں رکھنا ہے۔ (3)

(3)پاروں کے اعتبار سے تقسیم:

نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلم کی یہ حدیث ” وَ اقْرَءِ الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ یعنی ہر مہینے قرآن ختم کرو “۔ (4) قرآنِ پاک کے 30 پاروں کی تقسیم کی اصل ہے، اسی کی بنا پر قرآن پاک 30 پاروں میں تقسیم کیا گیا۔(5) تاکہ روزانہ تلاوت کرنے والے آسانی سے ہر مہینے ایک قرآن ختم کرلیں۔ (6) البتہ! اس تقسیم میں تسلسلِ کلام اور معنوی تعلق کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ہر پارے کا ابتدائی کلمہ لے کر اس پارے کا نام مقرر کردیا گیا جس سے ہر پارے کا آغاز و اختتام معلوم ہوجاتا ہے۔ (7)ذیل میں 30 پاروں کے نام پہلے کلمہ کے لحاظ سے ذکر کیے جارہے ہیں: (1) الٓمّٓ ----(11) یَعْتَذِرُوْنَ ----(21) اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ (2) سَیَقُوْلُ---- ----(12) وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ ----(22) وَ مَنْ یَّقْنُتْ (3) تِلْكَ الرُّسُلُ ----(13) وَ مَاۤ اُبَرِّئُ ----(23) وَ مَا لِیَ (4) لَنْ تَنَالُوا ----(14) رُبَمَا---- ----(24) فَمَنْ اَظْلَمُ (5) وَّ الْمُحْصَنٰتُ ----(15) سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ ----(25) اِلَیْهِ یُرَدُّ (6) لَا یُحِبُّ اللّٰهُ ----(16) قَالَ اَلَمْ ----(26) حٰمٓ (7) وَ اِذَا سَمِعُوْا ----(17) اِقْتَرَبَ ----(27) قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ (8) وَ لَوْ اَنَّنَا ----(18) قَدْ اَفْلَحَ ----(28) قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ (9) قَالَ الْمَلَاُ---- ----(19) وَ قَالَ الَّذِیْنَ ----(29) تَبٰرَكَ الَّذِیْ (10) وَ اعْلَمُوْۤا---- ----(20) اَمَّنْ خَلَقَ ----(30) عَمَّ

(4)رکوع کے اعتبار سے تقسیم:

یہ تقسیم دورِ رسالت میں نہیں تھی، بلکہ خلافتِ عثمانیہ میں کی گئی؛ امیر المؤمنین حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ تراویح کی 20 رکعتوں میں جس قدر تلاوت کرکے رکوع فرماتے اسے مشائخ نے ”رکوع“ کا نام دیا اور 540 رکوع مقرر فرمائے، تاکہ تراویح کی ہر رکعت میں ایک رکوع پڑھ کر ستائیسویں شب میں ختمِ قرآن ہوسکے۔ (8) اس کے علاوہ بھی رکوع کی تعداد مقرر کی گئی ہے جیسے بعض بزرگوں نے 480 مقرر فرمائے اور ہمارے مصاحف میں 558 مقرر ہوئے ۔

”ع“ کس چیز کی علامت ہے؟

قرآن کے حاشیہ پر موجود ”ع“ رکوع کی علامت ہے؛ ہر رکوع کے اختتام پر یہ علامت لگائی جاتی ہے، اس کی مراد میں تین قول ہیں: 1 جماعتِ تراویح کا باقاعدہ رواج دینے والے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جانب اشارہ۔ 2 جماعتِ تراویح کے رواج کو پوری دنیا میں پھیلانے والے امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ۔ 3 لفظ رکوع کا مخفف؛ یہی صحیح ہے۔(9)

”ع“ کے ارد گردا عداد کا مطلب:

قرآن کے حاشیہ پر موجود عین کے ارد گرد اعداد لکھے ہوتے ہیں جیسے ”ع“ ان اعداد کی وضاحت یہ ہے: 1. علامت کے اوپر لکھے ہوئے عدد سے مراد سورت کا رکوع نمبر ہے۔ 2. درمیان میں لکھے ہوئے عدد سے مراد اس رکوع کی کل آیات ہیں۔ 3. نیچے لکھے ہوئے عدد سے مراد پارے کا رکوع نمبر ہے۔

(5) رُبْع کے اعتبار سے تقسیم:

رُبْع کا معنیٰ ہے ”چوتھائی حصہ“۔ اس سے پورے قرآن کا چوتھائی حصہ مراد نہیں بلکہ ایک پارے کا چوتھائی حصہ مراد ہے؛ قرآنِ پاک کے ہر پارے کے چار حصے کیے گئے؛ 1. پہلے رُبْع کے اختتام پر مصحف کے صفحات پر دائیں بائیں” اَلرُّبْع “ لکھا گیا۔ 2. دوسرے رُبْع کے اختتام پر مصحف کے صفحات پر دائیں بائیں” اَلنِّصْف “ لکھا گیا۔ 3. تیسرے رُبْع کے اختتام پر مصحف کے صفحات پر دائیں بائیں” اَلثَّلٰثَہ “ لکھا گیا۔ 4. چوتھے رُبْع پر پارے کا اختتام ہوگیا۔

(6) منزل یا احزاب کے اعتبار سے تقسیم:

یہ تقسیم زمانۂ رسالت میں ہوچکی تھی؛ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حدیث ” فَا قْرَءْہُ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ یعنی ہر سات دن میں ایک بار ختمِ قرآن کرو“(10)سات منزلوں کی اصل ہے۔ اسی وجہ سے کئی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ سات دن میں ایک بار ختمِ قرآن کرتے تھے۔ قرآن پاک کی سات منزلیں درج ذیل ہیں: پہلی منزل: سورۂ فاتحہ سے سورۂ نِساء تک 4 سورتیں۔ دوسری منزل: سورۂ مائدہ سے سورۂ توبہ تک 5 سورتیں۔ تیسری منزل: سورۂ یونس سے سورۂ نَحْل تک 7 سورتیں۔ چوتھی منزل: سورۂ بنی اسرائیل سے سورۂ فرقان تک 9 سورتیں۔ پانچویں منزل: سورۂ شُعَراء سے سورۂ یٰسٓ تک 11 سورتیں۔ چھٹی منزل: سورۂ وَالصَّافَّات سے سورۂ حجرٰت تک 13 سورتیں۔ ساتویں منزل: سورۂ ق سے سورۂ ناس تک 65 سورتیں۔ (11) صحابۂ کِرام علیہمُ الرّضوان نے قرآن کو اسی طرح تقسیم کیا ہوا تھا اور اسی کے مطابق ختمِ قرآن کرتے تھے۔ (12) اس طرح سات دن میں ختمِ قرآن کرنے کو ”ختم الاحزاب“ کہا جاتا ہے۔(13)

منازل کے ابتدائی حروف کا مجموعہ:

منازل کے ابتدائی حروف کا مجموعہ ” فَمِیْ بِشَوْقٍ “ ہے، یہ مجموعہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے، آپ نے اس کے ہر حرف سے ترتیب وار ہر منزل کی طرف اشارہ فرمایا۔(14) اس کا مطلب ہے: ” یَشْتَاقُ فَمِیْ لِتِلَاوَۃِ الْقُرْاٰنِ “ یعنی میرا منہ قرآن کی تلاوت کا شوق رکھتا ہے۔

(7) خمس،عشر یا جزء کے اعتبار سے تقسیم:

خمس پانچ اور عشر دس آیتوں کے مجموعے کو کہا جاتا ہے، صحابۂ کرام نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ایک عشر پڑھتے اور اس میں موجود علوم و معارف حاصل کرتے اس پر عمل کرتے، اس کے بعد دوسرا عشر شروع کرتے تھے۔ (15) ہر عشر پر اس کی علامت ”ع“ بھی لکھی جاتی تھی۔ (16) اور بعض نے یہ تقسیم پانچ پانچ آیات کے اعتبار سے کی ہوئی تھی اور بعض صحابہ نے اپنی آسانی اور سہولت کےلیے قرآن پاک کے مختلف اجزا بنائے ہوئے تھے۔ (17)

(8) مقدار اور مضامین کے لحاظ سے تقسیم:

سورتوں کی تعداد اور مضامین کے لحاظ سے ایک تقسیم نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود بیان فرمائی اور ہر حصے کا مخصوص نام بھی بیان فرمایا۔ یہ کل چار قسمیں ہیں: 1-سبعِ طِوال:سورۂ بقرہ سے سورۂ توبہ تک آٹھ بڑی سورتوں کو ”سبعِ طوال“ کہا جاتا ہے۔ سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کے درمیان ”بسم اللہ “ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ایک سورت شمار کیا گیا ہے۔ (18) 2- مِئِین: سبعِ طوال سے ملی ہوئی وہ سورتیں جن میں کم و بیش سو آیات ہیں، (19) یہ سورۂ یونس سے سورۂ فاطر تک ہیں۔ (20) 3- مثانی: مِئِین سے ملی ہوئی وہ سورتیں جو مقدار میں اس سے کم اور مفصل سے زیادہ ہوں، (21)یہ سورۂ احزاب کی ابتدا سے سورۂ قٓ کے شروع تک ہیں۔ (22) 4- مُفَصَّل:وہ سورتیں جن میں تسمیہ کے ذریعے بار بار فاصلہ لایا گیا ہے، یہ سورۂ حجرٰت سے سورۂ ناس تک ہیں۔ (23)

مُفَصَّل کی اقسام:

پھر اس آخری قسم کی مزید تین اقسام ہیں: طِوالِ مُفَصَّل: سورۂ حجرٰت سے سورۂ بُرُوج تک ”طوالِ مُفَصَّل “ کہلاتاہے۔ اوساطِ مُفَصَّل: سورۂ بروج سے سورۂ بَیِّنہ تک ”اوساطِ مُفَصَّل “ کہلاتاہے۔ قِصارِ مُفَصَّل: سورۂ بَیِّنہ سے آخرتک ”قِصارِ مُفَصَّل “ کہلاتا ہے۔ (24)

قرآنی سورتوں کے مجموعوں کے نام:

قرآن پاک کی سورتوں کے مجموعوں کے مختلف نام ہیں: حَوَامِیْم: وہ سورتیں جن کی ابتدا میں ”حٰمٓ“ہے، یہ کل سات سورتیں ہیں: (1) مؤمن (2) حٰمٓ السجدۃ (3) شوریٰ (4) زُخْرُف (5) دُخَان (6) جَاثِیہ (7) اَحقاف ۔ (25) انہیں ” آلِ حامیم “ بھی کہا جاتا ہے۔ (26) طَوَاسِیم/ طَوَاسِین: وہ سورتیں جن کی ابتدا ” طٰسٓ “ یا ” طٰسٓمٓ “ سے ہوتی ہے انہیں ” طواسیم “ یا ” طواسین “ کہا جاتا ہے، یہ تین سورتیں ہیں: (1) شُعَرَاء (2) نَمْل (3) قَصَص ۔ (27) مُسَبِّحَات: وہ سورتیں جن کی ابتدا میں سُبْحَانَ ، سَبَّحَ ، یُسَبِّحُ یا سَبِّحْ ہے، یہ کل سات سورتیں ہیں:(1) بنی اسرائیل (2) حدید (3) حَشْر (4) صَفّ (5) جُمُعہ (6) تَغَابُن (7) اعلی ٰ۔ (28) عِتَاقِ اُوَل: یہ پانچ سورتیں ہیں: (1) بنی اسرائیل (2) کَہْف (3) مریم (4) طٰہٰ (5) انبیاء ۔ (29) عِتَاق عتیق کی جمع ہے جس کا معنیٰ ہے ”عمدہ چیز“ اور اُوَل اُولی کی جمع ہے، عِتَاق ِاُوَل کا معنیٰ ہوا ”سب سے پہلی عمدہ سورتیں“ چونکہ ان میں تعجب خیز واقعات، مثلاً اصحابِ کہف کا واقعہ، حضرت مریم رضی اللہ عنہا کا واقعہ اور معجزاتِ انبیاء کا ذکر ہے۔ یا یہ سورتیں سب سے پہلے یاد کی گئیں، اس لیے انہیں ”عِتَاقِ اُوَل“ کہا گیا ہے۔ (30)

قرآن کا نصف:

قرآنِ پاک کا نصف مختلف اعتبارات سے بیان کیا گیا ہے: حروف کے اعتبار سے: سورۂ کہف کی آیت نمبر 74 میں لفظِ ( نُّكْرًا(۷۴) ) کے نون پر باعتبارِ حروف نصفِ قرآن ہوتا ہے اور کاف سے نصفِ ثانی شروع ہوتا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق سورۂ کہف کی آیت نمبر 19 میں ( وَ لْیَتَؔلَطَّفْ ) کی فاء پر ہوتا ہے۔ کلمات کے اعتبار سے: سورۂ حج کی آیت نمبر 20 میں ( وَ الْجُلُوْدُؕ(۲۰) ) پر باعتبارِ کلمات نصفِ قرآن ہوتا ہے اور اگلی آیت سے نصفِ ثانی شروع ہوتا ہے۔ آیات کے اعتبار سے: سورۂ شُعَرَاء کی آیت نمبر 45 میں ( یَاْفِكُوْنَۚۖ(۴۵) ) پر باعتبارِ آیات نصف ِقرآن ہوتا ہے اور اگلی آیت سے نصفِ ثانی شروع ہوتا ہے۔ سورتوں کے اعتبار سے: سورۂ حدید کے آخر تک باعتبارِ سورت نصفِ قرآن ہوتا ہے اور سورۂ مجادلہ سے نصفِ ثانی شروع ہوتا ہے۔(31)

مشق

سُوال: تقسیمِ قرآن کا معنیٰ کیا ہے اور قرآن کی تقسیم کتنے اعتبار سے کی گئی ہے؟ سُوال: قرآن کو سورتوں میں کب تقسیم کیا گیا اور اس کی حکمتیں کیا تھیں؟ سُوال: قرآن کو پاروں میں تقسیم کرنے کی بنیاد کیا ہے اور اس تقسیم کا کیا فائدہ ہے؟ سُوال: قرآن کی رکوع کے اعتبار سے تقسیم کب کی گئی اور اس کا مقصد کیا ہے؟ سُوال: قرآن کے حاشیے میں”ع“ سے مراد اور اس کے ارد گرد عدد کا مطلب بیان کیجیے۔ سُوال: ربع کا کیا معنیٰ ہے؟ نیز ” اَلرُّبْع “ ، ” اَلنِّصْف “ اور ” اَلثَّلٰثَہ “ کی علامات کہاں لگائی جاتی ہیں؟ سُوال: ختم الاحزاب کسے کہا جاتا ہے؟ اس کی بنیاد بیان کیجیے۔ سُوال: منزلوں کا مجموعہ معنیٰ کے ساتھ بیان کیجیے نیز ان کی ابتدا و انتہا تحریر کیجیے ۔ سُوال: عشر کا معنیٰ اور اس کی علامت بیان کیجیے، نیز بتائیے کہ یہ تقسیم کب ہوئی؟ سُوال: مضمون اور سورتوں کی مقدار کے لحاظ سے قرآن کی تقسیم تحریر کیجیے۔ سُوال: مفصل کے معنیٰ، اس کی اقسام اور وجہِ تسمیہ تحریر کیجیے۔ سُوال: ” حوامیم “ ، ” طواسیم “اور” مُسَبِّحَات “کے نام تحریر کیجیے۔ سُوال: عتاقِ اُوَل بیان کیجیے اور اس کی وجہ تسمیہ بتائیے۔ سُوال: قرآن کا نصف کتنے اعتبار سے کیا گیا ہے؟ وضاحت کیجیے۔

سبق 11 قراءاتِ قرآن

قراءاتِ قرآن کا معنیٰ:

قرآنِ مجید کی نظم اور کلمات کی ادائیگی کے لیے چند طریقے رائج ہیں؛ جس طرح قرآنِ مجید حق ہے اسی طرح دنیا بھر میں رائج اس کی یہ قراءتیں بھی حق اور درست ہیں ان میں معنیٰ کا کوئی تضاد نہیں ہے۔

قراءاتِ قرآن کا ابتدائی دور:

نزولِ قرآن کے وقت عرب میں مختلف قبائل آباد تھے جو اسلام میں نئے نئے داخل ہورہے تھے ان نئے مسلمان ہونے والوں کے الفاظ کی ادائیگی، لہجوں اور لغتوں میں بہت فرق تھا۔ اگر تلاوتِ قرآن کے لیے کسی خاص لغت کی پابندی کا حکم ہوتا تو یہ امت کے لیے مشقت کا باعث بن جاتا، کیونکہ اپنے قبیلے کی لغت اور لہجے کو چھوڑنا سخت دشوار ہوتا ہے؛ نتیجتاً قرآن سیکھنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی رہ جاتی، لہٰذا اللہ پاک نے سات لغتوں میں قرآن پڑھنے کی رخصت عطا فرمائی اور خود رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس کو بیان فرمایا۔ (32)

سات لغتوں کی وضاحت:

اکثر علما کے نزدیک سات لغتوں سے مراد عرب کی یہ فصیح و بلیغ لغتیں ہیں: (1) لغتِ قریش (2) لغتِ بنی طے(3) لغتِ ہَوَازِن (4) لغتِ اہلِ یمن (5) لغتِ ثقیف (6) لغت بنی ہُذَیل اور (7) لغتِ بنی تمیم۔ (33) یہ بھی ممکن ہے کہ ”سات“ سے مراد خاص عدد نہ ہو بلکہ بیان زیادتی ہو یعنی کئی لغتوں میں قراءت کی اجازت دینا مقصود ہے۔ (34)

لغاتِ قرآن میں اختلاف کی نوعیت:

جس طرح اردو زبان کے بعض الفاظ کی ادائیگی و املا وغیرہ میں اہلِ زبان ماہرین کا اختلاف پایا جاتا ہے اسی طرح مختلف قبائلِ عرب کے فصحا کا عربی زبان کے بعض الفاظ میں اختلاف تھا۔ چند قبائل کا اختلاف ملاحظہ کیجیے: غیرِ اہلِ حجاز: جس مضارع کا ماضی مکسورُ العین ہو اس کی علامتِ مضارع کو کسرہ دیتے مثلاً نَعْبُدُ کو نِعْبُدُ اور نَسْتَعِیْن کو نِسْتَعِیْن پڑھتے، اسی طرح علامت مضارع یاء کے بعد دوسری یاء ہوتی تو اسے بھی مکسور پڑھتے مثلاً یَیْقَظُ کو یِیْقَظُ پڑھتے۔ (35) بنی ہُذَیل: حاء کو عین سے بدل کر پڑھتے مثلاً حتّٰی کو عتّٰی پڑھتے؛ اس طرزِ ادا کو ” فَحْفَحَہ “ کہا جاتا ہے۔ (36) اہلِ مدینہ: ”تابوت“ کا تلفظ ”تابوۃ“ کرتے۔ (37) قبیلۂ ربیعہ و مُضَر: کافِ تانیث کے بعد شین کا اضافہ کرکے بولتے جیسے ” رَأَیْتُکِ “ کو ” رَأَیْتُکِش “ کہتے تھے؛ اس طرزِ ادا کو ” کَشْکَشَہ “ کہا جاتا ہے۔ بنی تمیم : کلمات کے شروع میں آنے والے ہمزہ کو عین سے بدل کر پڑھتے مثلاً ” اَنَّ “ کو ” عَنَّ “ پڑھتے تھے، ” اَسْلَم “ کو ” عَسْلَم “ اور ” اُذُن “ کو ” عُذُن “ پڑھتے؛ اس طرزِ ادا کو ” عَنْعَنَہ “ کہا جاتا ہے۔ (38) لغات کے اس اختلاف میں یہاں تک وسعت اور رخصت دی گئی تھی کہ جو شخص قرآن کے کسی لفظ کا تلفظ نہ کرسکتا وہ اس لفظ کو اسی کے ہم معنیٰ لفظ سے بدل کر پڑھ لیا کرتا تھا، لیکن لفظ کو دوسرے لفظ سے بدلنے کے لیے صاحبِ قرآن رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اجازت ضروری ہوتی، مگر پھر یہ رخصت ختم کردی گئی۔ (39)

لغتِ قریش کی پابندی کا حکم:

جب دیگر قبائل کے لوگ لغتِ قریش کے الفاظ بآسانی ادا کرنے لگے، ان کی زبانیں خوب مشق کے بعد قرآنی الفاظ کی ادائیگی میں رواں ہوگئیں اور یہ ایک لغت کی پابندی پر قادر ہوگئے تو اختلافِ لغت کی وجہ سے دی گئی رخصت ختم کرکے انہیں لغتِ قریش کا پابند کردیا گیا۔ حضرت جبریلِ امین علیہ السلام نے زمانۂ رسالت کے آخری رمضان میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دورۂ قرآن کیا اور اسی آخری دورے کی قراءت باقی رکھی گئی، لہٰذا اب کسی کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل کر پڑھ سکے بلکہ سب کے لیے دورۂ اخیرہ کی پابندی واجب اور ضروری قرار پائی۔ (40)

مختلف قراءتوں کا پسِ منظر:

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے اولین زبانِ نزول لغتِ قریش اور قرآن کے دورۂ اخیر ہ کے موافق قرآنِ کریم کے چند نسخے لکھوائے اور ان کو دیگر اسلامی ممالک میں بھیج دیا۔ لغت کے معمولی فرق کے ساتھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے قرآن سیکھا اور صحابہ سے تابعین اور تابعین سے تبعِ تابعین نے سیکھا، اسی طرح ہر زمانے اور ہر دور میں یہ قراءتیں اور کتابت و ادائیگی کی نقل تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچیں جو مختلف قراء حضرات کی قراءتوں کی صورت میں موجود ہیں۔ اسی لیے تمام متواتر قراءتیں حق ہیں ۔ (41)

ائمہ کے ساتھ مخصوص قراءتیں:

بعض بزرگوں کو کسی خاص قراءت کے ساتھ غیر معمولی شَغَف رہا وہ اس کی تعلیم و اشاعت میں ایسے مصروف ہوئے کہ وہ قراءت ان سے نقل ہوئی یوں وہ ان کی طرف منسوب ہوکر ان ہی کی قراءت کہلائی جانے لگی؛ ان تمام ائمۂ قراءات میں سب سے زیادہ شہرت ائمۂ سبعہ اور ائمۂ عشرہ کو حاصل ہوئی اور ان ہی کی قراءتیں تواتر کے ساتھ منقول ہوئیں۔

ائمۂ سبعہ اور ان کے راوی:

علمِ قراءت کے وہ سات امام جن کو دنیا بھر میں شہرت اور درجۂ امامت حاصل ہوا ؛ ان ائمہ سے بے شمار حضرات نے علمِ قراءت حاصل کیا مگر جس طرح بہت سے قراء حضرات میں سے ان سات ائمہ کو شہرت حاصل ہوئی اسی طرح ان کے بے شمار شاگردوں میں سے صرف چند حضرات کو ہی شہرت ملی؛ ان ساتوں اماموں میں سے ہر امام کے دو دو خاص شاگرد ہیں جن کے ذریعے ان ائمہ کی قراءتیں ہم تک پہنچیں۔ ذیل میں ان قراءتوں کو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و سل م سے سیکھ کر آگے پہنچانے والے صحابہ اور اِن صحابہ سے نقل کرنے والے سات ائمۂ قراءت اور ان کے راویوں کے نام ذکر کیے جارہے ہیں ذہن نشین کرلیجیے: ---- صحابیِ رسول امیر المؤمنین مولا علی رضی اللہ عنہ نمبر ----ائمۂ قراءت ----قراءت کے راوی 1 ----امام عاصم بن ابو نَجود کوفی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام شُعْبَہ بن عیاش رحمۃُ اللہ علیہ --------امام حَفْص بن سلیمان رحمۃُ اللہ علیہ ----صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ 2 ----امام حمزہ بن حبیب کوفی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام خَلَّاد بن خالد رحمۃُ اللہ علیہ --------امام خَلَف بن ہِشَام رحمۃُ اللہ علیہ 3 ----امام علی بن حمزہ کسِائی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام حفص بن عمرو دُوْرِی رحمۃُ اللہ علیہ --------امام ابوالحارث لیث بن خالد رحمۃُ اللہ علیہ ---- صحابیِ رسول حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ 4 ----امام عبد اللہ بن عامر شامی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام ہِشَام بن عامر دمشقی رحمۃُ اللہ علیہ --------امام عبد اللہ بن احمد المعروف ابن ذَکْوَان رحمۃُ اللہ علیہ ---- صحابیِ رسول حضرت اُبَی بن کعب رضی اللہ عنہ 5 ----امام عبد اللہ بن کثیر مکی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام محمد بن عبدالرحمن قُنْبُل رحمۃُ اللہ علیہ --------امام احمد بن محمد بَزّی رحمۃُ اللہ علیہ ---- صحابیِ رسول حضرت انس بن مالک 6 ----امام ابو عمرو زبان بن علاء بصری رحمۃُ اللہ علیہ ----امام حفص بن عمرو دُوْری رحمۃُ اللہ علیہ --------امام صالح بن زیاد سُوْسی رحمۃُ اللہ علیہ 7 ----امام نافع عبدالرحمن مدنی رحمۃُ اللہ علیہ ----امام عیسی بن مینا المعروف قالون رحمۃُ اللہ علیہ --------امام عثمان بن سعید المعروف وَرْش رحمۃُ اللہ علیہ
1……البرہان فی علوم القرآن، 1/333-334۔ 2…… قرآن پاک کی کل آیات شمار کرنے میں ماہرین قرآن کا اختلاف ہے؛ یہ اختلاف معاذ اللہ قرآن پاک میں کمی زیادتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک ہی آیت کو دو شمار کرنے یا دو کو ایک شمار کرنے کی جہت سے ہےمثلاً سورۂ فاتحہ میں آیات کی تعداد جمہور کے نزدیک سات ہے، لیکن بعض ) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ (کو ایک مستقل آیت شمار کرتے اور ”بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ کو بھی سورہ ٔ فاتحہ کی مستقل آیت مانتے ہیں لہٰذا ان کے نزدیک سورۂ فاتحہ میں کل آیات آٹھ ہیں ۔ بعض کے نزدیک اس کی آیات چھ اور بعض کے نزدیک نو ہیں ۔ یوں ہی بعض نے سورۂ بقرہ کی 285 آیات شمار کی ہیں، بعض نے 286 کا فرمایا اور ایک قول کے مطابق اس کی آیات 287 ہیں۔ اسی طرح سورۂ آل عمران کی 200 آیات ہیں اور ایک قول کے مطابق 199 ہیں۔ یہ سلسلہ مزید چند سورتوں میں بھی ہے۔ آیاتِ قرآنیہ کو شمار کرنے کے اسی اختلاف کی بنا پر بعض حضرات نے پورے قرآن کی آیات کی تعداد صرف چھ ہزار بتائی، بعض نے6204 فرمایا،کسی نے 6214 کا قول کیا ، کسی نے 6219 شمار کیں، کسی نے 6225 گنیں، اورکسی نے 6236 کا عدد بیان کیا اور کسی نے 6666 تعداد بھی بتائی۔ (اتقان فی علوم القرآن، 1/210تا213 ملخصاً- مراٰۃ المناجیح، 3/262) اب طباعت ہونے والے مصاحف میں آیت کےلیے ایک مخصوص نشان موجود ہے توآیت کے اس نشان کے اعتبار سے جب ہم نے شائع ہونے والے مصاحف میں آیات شمار کیں تو وہ 6236 تھیں۔ 3 …… ‫ترمذی، 5/59، حدیث:3097۔ 4……مسلم، ص 451، حدیث:2730۔ 5 ……روح البیان، 9/98، تحت الآیۃ:18۔ 6 …… مراٰۃ المناجیح، 3/188۔ 7 …… 30پاروں کی تقسیم امیرالمومنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے نہیں کی نہ ہی یہ تقسیم کسی صحابی یا تابعی کی بیان کردہ ہے بلکہ یہ بھی واضح نہیں کہ پاروں کی اس تقسیم کی ابتدا کس نے کی! یہ تقسیم بہت بعد میں کی گئی ہوگی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے اس کی ابتداء کی اس نے اپنے پاس موجود مصحف شریف کو برابر برابر اوراق میں 30 حصوں پر تقسیم کرلیا ہوگا جو آج ہمارے سامنے ہے اوریہی تقسیم مختلف شہروں میں رائج ہوچکی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 26/492 ملخصاً) 8……المبسوط ،الجزء الثانی،1/198- مراٰۃ المناجیح، 3/188۔ 9 ……مراٰۃ المناجیح، 3/188- تفسیر نعیمی، 1/12۔ 10……مسلم، ص 451، حدیث:2730۔ 11……مرقاۃ المفاتیح، 4/701، تحت الحدیث:2201۔ 12 ……احیاء العلوم، 1/367۔ 13 ……مرقاۃ المفاتیح، 4/701، تحت الحدیث:2201۔ 14 ……مرقاۃ المفاتیح، 4/701-702، تحت الحدیث:2201۔ 15 ……تفسیر طبری، 1/60۔ 16 ……مناہل العرفان، ص 287۔ 17 …… احیاء العلوم، 1/367-البیان فی عد آی القرآن، ص 131۔ 18……تفسیر طبری، 1/71-فیض القدیر، 1/722، تحت الحدیث:1171۔ 19……البرہان فی علوم القرآن، 1/308۔ 20 ……الکنز الوفیر حاشیۃ الفوز الکبیر ، ص 124۔ 21 ……النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر، 1/219۔ 22 ……معجم علوم القرآن، ص 244۔ 23 ……رد المحتار ، 2/318۔ 24…… رد المحتار، 2/218 تا 319- فتاویٰ ہندیہ، 1/77۔ 25……الاتقان فی علوم القرآن، 1/203۔ 26……عمدۃ القاری، 13/584، تحت الحدیث:5043۔ 27……تفسیر قرطبی، 7/70، پ 19، الشعراء، تحت الآیۃ:1-معجم علوم القرآن، ص 185۔ 28……مرقاۃ المفاتیح، 4/662، تحت الحدیث:2151۔ 29……بخاری، 3/275، حدیث:4739۔ 30……عمدۃ القاری، 13/104، تحت الحدیث:4508۔ 31……الاتقان فی علوم القرآن، 1/220۔ 32……مسلم، ص 318، حدیث:1906 ماخوذاً -فتاویٰ رضویہ، 26/451۔ 33 ……اشعۃ اللمعات، 1/178۔ 34……مرقاۃ المفاتیح، 1/496، تحت الحدیث:238۔ 35……فتاویٰ رضویہ، 26/451 - تدوین قرآن، ص 82۔ 36…… المزہر فی علوم اللغۃ و انواعہا، 1/ 222۔ 37……فتاویٰ رضویہ، 26/451۔ 38……المزہر فی علوم اللغۃ و انواعہا، 1/221 تا 222۔ 39……ارشاد الساری، 11/309، تحت الحدیث:4992۔ 40……ارشاد الساری، 11/309، تحت الحدیث:4992۔ 41……فتاویٰ رضویہ،12/315۔تدوین قرآن، ص 174 بتصرف۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن