دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ilm e Tafseer Asan Lafzon Mein | علم تفسیر آسان لفظوں میں

book_icon
علم تفسیر آسان لفظوں میں
            

سبق 7 حفاظتِ قرآن

حفاظتِ قرآن کے معنیٰ:

اللہ پاک نے قرآن پاک کو ہر قسم کے رد و بدل اور کسی بھی حرف و نقطہ کی کمی بیشی سے محفوظ رکھا ہے؛ اگر پوری دنیا بھی اس کے بدلنے پر جمع ہوجائے تو کامیاب نہیں ہوسکتی۔

حفاظتِ قرآن کی صورتیں:

اللہ پاک نے اپنی قدرت سے قرآنِ پاک کو محفوظ فرمایا، اس کی چند ظاہری صورتیں ملاحظہ کیجیے: * قرآن کو معجزہ بنایا کہ کسی انسان کا کلام اس میں شامل ہی نہ ہوسکے۔ * قرآن کو مُقابَلے سے محفوظ فرمایا تاکہ کوئی اس جیسا کلام بنانے پر قادِر نہ ہو۔ * ساری مخلوق کو اس کے نیست ونابُود اور ختم کرنے سے عاجِز کر دیا کہ کُفّار پکے دشمن ہونے کے باوجود اس کتاب کو مٹانے سے عاجِز ہیں۔ (1) * اُمَّت کے لیے اس کا یاد کرنا آسان فرمادیا تاکہ مَصاحف کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے سینوں میں بھی محفوظ رہے۔ * مختلف عُلوم مثلاً علمِ تجوید،علمِ قراءت اور علمِ تفسیر وغیرہ کے ذریعے قرآن کے لفظ لفظ بلکہ زبر زیر تک کو محفوظ فرمایا۔ (2)

قرآن میں شک کرنے والے کا حکم:

جو شخص قرآن میں کسی بھی قسم کی کمی زیادتی، رد و بدل یا کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کا یقین رکھے یا اس کا شبہ جانے کافر و مرتد ہے کہ وہ صراحتاً قرآنِ عظیم کو جھٹلا رہا ہے۔ (3) ارشادِ باری تعالیٰ ہے:( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹) ) (4) ترجمہ: بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ * * * *

مشق

سُوال:حفاظتِ قرآن سے کیا مراد ہے؟ سُوال: حفاظتِ قرآن کی کوئی ایک صورت بیان کیجیے۔ سُوال: قرآن میں شک کرنے والا کس آیت کو جھٹلانے والا ہے ؟ آیت اور ترجمہ بیان کیجیے۔

سبق 8 جمعِ قرآن

جمعِ قرآن کا معنیٰ:

جمع سے مراد کسی بکھری ہوئی چیز کو یکجا کردینا ؛ جمعِ قرآن کا معنیٰ ہوگا کہ مکمل قرآن کو لوحِ محفوظ کی ترتیب کے مطابق حفظ و کتابت کی صورت میں ایک جگہ جمع کردینا۔

جمعِ قرآن کی قسمیں:

جمعِ قرآن کی دو قسمیں ہیں: (1)بصورتِ حفظ جمع کرنا (2)بصورت کتابت جمع کرنا

(1)بصورتِ حفظ جمع کرنا:

کلامِ الٰہی بصورتِ حفظ دورِ رسالت میں جمع ہوچکا تھا؛ جب جب قرآنِ پاک کا نُزول ہوتا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس کو اپنے سینے میں محفوظ فرمالیتے اور پھر صحابۂ کِرام علیہمُ الرّضوان کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر قراءت فرماتے تاکہ وہ حضرات بھی قرآنِ کریم یاد کرلیں۔(5) صحابۂ کِرام قرآنِ پاک حفظ کرنے کے لیے بہت اہتمام کرتے اور جنہیں زیادہ قرآن حفظ ہوتا وہ بہت خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے؛ یہی وجہ ہے کہ زمانۂ رسالت میں ہی کثیر صحابہ کے سینے قرآن کے خزینے بن چکے تھے اور ایک بڑی تعداد قرآنِ پاک حفظ کرچکی تھی۔ (6) حفظِ قرآن کا یہ سلسلہ دورِ رسالت سے اب تک چلتا آرہا ہے اور شروع سے اب تک ہر زمانے میں بہت بڑی تعداد حفاظِ قرآن کی موجود ہوتی ہے؛ اس میں عنایتِ الٰہی کا کمال یہ ہے کہ شروع شروع میں جو قرآن حفاظ کو یاد تھا آج بھی وہی قرآن حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہے۔

(2)بصورتِ کتابت جمع کرنا:

اہلِ عرب کے مضبوط حافظے اور اشیائے کتابت (لکھنے والی چیزوں ) کی کمی کے باعث اکثر صحابۂ کِرام قرآنِ پاک کو حفظ کرکے ہی جمع کیا کرتے تھے، البتہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی ظاہری حیات میں کتابتِ قرآن کا اہتمام بھی فرمادیا تھا اور یہی کتابت آگے چل کر قرآنِ پاک کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کرنے کی بنیاد بنی۔ جمع ِقرآن کی اس صورت کو تین مراحل میں بیان کیا جارہا ہے ملاحظہ کیجیے:

پہلا مَرحلہ:

بصورتِ کتابت جمعِ قرآن کا پہلا مرحلہ دورِ رسالت ہی ہے ؛(7) حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کئی صحابہ کو وحیِ الٰہی لکھنے پر مقرر فرمایا تھا جیسے جیسے وحی آتی آپ ان حضرات کو لکھوا دیتے اور اس آیت یا سورت کا مقام بھی ارشاد فرمادیتے یوں دورِ رسالت میں ہی پورا قرآن لکھا جاچکا تھا۔ لیکن قرآنِ پاک کے یہ صحائف ایک جگہ جمع نہیں کیے گئے تھے بلکہ مختلف صحابۂ کِرام کے پاس موجود تھے۔

کاتبینِ وحی:

کتابتِ وحی کے لیے صحابۂ کِرام کی ایک جماعت مقرر کی گئی تھی جو ” کاتبینِ بارگاہِ رسالت“ کے نام سے جانی جاتی ہے؛ ان میں سے 12 مشہور کاتبین کے نام یہ ہیں: 1- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ----2- حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ 3- حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ----4- حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ 5- حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ----6- حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ 7- حضرت اُبَیْ بن کعب رضی اللہ عنہ ----8- حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ 9- حضرت مُغَیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ----10- حضرت عبد اللہ بن اَرْقَم رضی اللہ عنہ 11- حضرت ثابت بن قَیْس رضی اللہ عنہ ----12- حضرت عامر بن فُہَیرہ رضی اللہ عنہ (8)

اشیائے کتابت:

کاتبینِ وحی نے قرآن لکھنے کے لیے جن چیزوں کا انتخاب فرمایا وہ اپنے زمانے کے لحاظ سے نہایت مناسب اور پائیدار تھیں؛ یہی وجہ ہے کہ جب جمعِ قرآن کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا تو 23 برس پہلے املا کروائی ہوئی تحریریں بھی دریافت ہوگئیں! احادیث مبارکہ میں اشیائے کتابت کے درج ذیل نام ملتے ہیں: اَدِیْم : وہ چمڑا جو دباغت کے بعد باریک کھالوں سے بنایا جاتا ہے۔ لِخَاف : لَخْفَۃ کی جمع ہے یعنی پتھر کی بنی ہوئی ایک خاص قسم کی چوڑی اور سفید تختی۔ کَتِف: اونٹ یا بکری کے مونڈھے کے پاس کی وہ ہڈی جو خاص انداز سے تراش کر نکالنے سے بڑی پلیٹ کی طرح بن جاتی ہے۔ عَسِیْب : کھجور کی شاخوں میں تنے سے ملا ہوا کشادہ حصہ جسے شاخ سے جدا کرکے خشک کرلیا جاتا ہے اور اس کے ٹکڑے لکھنے کے کام آتے ہیں۔ اَقتاب : اونٹ کے کجاوے کے چوڑے اور پتلے تختے جو زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے صاف اور چکنے ہوجاتے ہیں اور لکھنے کے کام آسکتے ہیں۔ رِقاع : چرمی پارچوں اور کاغذ یا پتے کے ٹکڑوں کو کہتے ہیں یہ بھی کتابت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ (9)

دوسرا مرحلہ:

جمعِ قرآن کا دوسرا مرحلہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت ہے؛ پہلے مرحلے میں اگرچہ قرآن پاک لکھا جاچکا تھا مگر اس کے صحیفے ایک جگہ جمع نہیں کیے گئے تھے بلکہ مختلف صحابۂ کِرام کے پاس موجود تھے اور جمعِ قرآن صرف حفاظ صحابۂ کِرام کے سینوں میں تھا؛ اب ان صحیفوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی ضرورت تھی۔

دوسرے مرحلے کا بنیادی سبب:

رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد کئی فتنوں نے سر اٹھایا ان ہی میں سے ایک خطرناک فتنہ مسیلمہ کذاب کا ہے جس نے اللہ کے آخری نبی کی مبارک زندگی میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا، حضور کے پردہ فرمانے کے بعد اسے مزید موقع مل گیا؛ اس کو ختم کرنے کے لیے جنگِ یَمامہ ہوئی جس میں سینکڑوں حفاظ صحابۂ کِرام شہید ہوئے! حفاظ صحابہ کی شہادت نے بڑے بڑے صحابۂ کِرام کو چونکا دیا اور بصورتِ کتابت جمعِ قرآن کو ضروری سمجھا گیا، لہٰذا خلافتِ راشدہ کی نگرانی میں ہی جمعِ قرآن کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ (10)

جمعِ قرآن کی صورت:.

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کو جمع قرآن کا حکم فرمایا اور انہیں ہدایت فرمائی کہ آپ دونوں مسجد کے دروازے پر بیٹھ جائیں اور کسی بھی آیت کو جمع کرنے سے پہلے کم از کم دو گواہیاں لازمی لیں! (11) انہوں نے اس عظیم منصوبے کو اپنے ذمے لیا اور نہایت محنت کے ساتھ جمعِ قرآن کے لیے مشغول رہے؛ حفاظ صحابۂ کِرام کے ساتھ ساتھ مختلف صحیفوں میں درج قرآن کو بھی جمع کیا بالآخر زمانۂ رسالت میں مرتب شدہ سورتوں اور آیات پر مشتمل صحائف ایک جگہ اکٹھے ہوگئے ۔ (12) قرآنی آیات اور سورتوں پر مشتمل یہ صحائف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہے، آپ کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور پھر ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کی حفاظت فرمائی، بعد ازاں حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے ان صحائف کی روشنی میں مصحف تیار فرمایا۔ (13)

جمعِ صدیقی کی خصوصیات:

آیاتِ قرآنیہ کی تحقیق و تفتیش اور تلاش و جستجو میں درجِ ذیل باتیں ملحوظ رکھی گئیں: * دورِ رسالت کا کتابت شدہ قرآن مختلف چیزوں پر بکھرا ہوا تھا اسے یکجا کرکے پیشِ نظر رکھا؛ یہ وہ اصل تھی جسے خود رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے املاکرایا تھا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق املا کے بعد پڑھواکر سنا بھی تھا بلکہ جہاں اصلاح کی ضرورت تھی اصلاح بھی فرمادی تھی۔ * لوگوں کے پاس جس چیز پر بھی قرآن لکھا ہوا تھا حتَّی الامکان ان سب چیزوں کو جمع کردیا۔ * حضرت زید نے خود حافظ ہونے کے باوجود ہر آیت کی تصدیق دو حفاظ سے کروائی۔ (14)

جمعِ صدیقی کی حکمتیں:

جمعِ قرآن کے اس فیصلے میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ تھیں ان میں سے تین حکمتیں ملاحظہ ہوں: * سب سے بنیادی فکر یہ لاحق تھی کہ حفاظ کے مسلسل شہید ہوجانے سے کلامِ الٰہی کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوجائے لہٰذا قرآن کو مضبوط بنیادوں پر جمع کرلیا گیا۔ * قرآن کا ایک قابلِ اعتماد نسخہ جمع کرنا مقصود تھا تاکہ وقتِ ضرورت اس کی طرف رجوع کیا جاسکے۔ * بعد میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہ کرسکے کہ میرے پاس بھی قرآن کا کچھ حصہ موجود ہے اور لوگ ناسخ و منسوخ یا کمی زیادتی کے نام پر کسی قسم کی تبدیلی نہ کرسکیں۔(15)

تیسرا مرحلہ :

جمعِ قرآن کا تیسرا مرحلہ امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت ہے؛ پہلے دو مراحل میں اگرچہ قرآنِ پاک لکھا جاچکا تھا اور ایک جگہ صحیفوں کی صورت میں جمع بھی ہوگیا تھا، مگراس کی ایک جلد اور پھر اس جلد کی مزید نقول اور نسخے تیار نہیں کیے گئے تھے۔ کثیر حضرات کو قرآنِ پاک حفظ تھا وہ اپنی اپنی لغتوں میں قرآن پڑھتے تھے، لیکن اب قرآنِ پاک کی کتابی اشاعت ضروری تھی اور لوگوں کو مختلف لغتوں کے بجائے ایک لغت پر جمع کرنا ضروری تھا۔(16)

تیسرے مرحلے کا بنیادی سبب:

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلام کی سرحدیں دور دور تک پھیل گئیں اور بہت سے قبائل اور علاقوں کے لوگ دامنِ اسلام میں پناہ لینے لگے تو مختلف لغتوں میں قرآن پڑھنے کی وجہ سے تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا؛ ایک علاقے کے لوگ اپنی لغت کے علاوہ دوسری لغت میں کسی کو تلاوت کرتا دیکھتے تو اس سے الجھ پڑتے، ایسے واقعات دورِ رسالت سے دورِ فاروقی بلکہ خلافتِ عثمانی تک چلتے آرہے تھے مگر شروع میں اس کی اجازت باقی رکھی گئی کہ اس میں لوگوں کے لیے آسانی تھی، ہر کوئی اپنی لغت پر قرآن پڑھ لیتا تھا، مگر یہ صورت اب مسلمانوں کی کثرت کی وجہ سے پریشان کن حالت اختیار کرگئی تھی لہٰذا اس رخصت کو ختم کرنا ضروری ہوگیا تھا۔(17)

جمعِ قرآن کی صورت:

امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے دور ِصدیقی میں جمع کیے گئے صحائفِ قرآنیہ کے مطابق لغتِ قریش پر مصحف شریف مرتب کرنے کا اہتمام فرمایا اور وہی کچھ بر قرار رکھا جو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ثابت ہوسکا؛ اس کے علاوہ کسی بھی لغت میں قرآن پڑھنے پر پابندی لگادی گئی، حتّٰی کہ مختلف لغتوں میں موجود قرآن کے صحیفوں کو ختم کردیا گیا۔(18)

جمعِ عثمانی کی خصوصیات:

جمعِ قرآن کے اس دور میں درج ذیل باتوں کو بالخصوص ملحوظ رکھا گیا: 1پورے قرآن کو ایک مصحف (جلد)کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ 2مصحفِ عثمانی کے علاوہ کسی بھی لغت میں قرآن پڑھنے پر پابندی لگادی گئی۔ 3مشہور اور مرکزی شہروں کی طرف اسی مصحف (جلد) کی نقلیں روانہ کی گئیں۔(19) 4تمام سورتوں کو باہمی ترتیب سے لکھا گیا۔ 5اس خدمت کے لیے حضرت زید بن ثابت کو ترجیحی بنیادوں پر منتخب کیا گیا کیونکہ آپ کاتبِ وحی ہونے کے ساتھ دورِ صدیقی کے صحائف جمع کرنے والے بھی تھے۔ (20)

جمعِ عثمانی کی حکمتیں:

جمعِ قرآن کے اس فیصلے میں کئی حکمتیں تھیں ان میں سے تین ملاحظہ ہوں: 1. مسلمانوں کو اختلاف قرآن کے فتنے سے محفوظ رکھنا۔ 2. مسلمانوں کو اجتماعیت پر قائم رکھنا۔ 3. قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے آسانی پیدا کرنا۔ (21)

جمعِ صدیقی و جمعِ عثمانی میں فرق:

جمعِ قرآن ہر دور میں اپنی اسی ترتیب پر ہوا جو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمائی، البتہ ان کے اغراض و مقاصد وغیرہ میں معمولی سا فرق تھا جس کا بیان طلبہ کے لیے آسانی کا سبب ہوگا: جمعِ صدیقی ----جمعِ عثمانی ضائع ہونے کے خوف سے جمع کیا گیا۔ ----فتنے سے بچانے کے لیے جمع کیا گیا ۔ مقصد صرف جمع قرآن تھا ----مقصد ایک لغت پر جمع کرنا تھا مختلف صحائف کو یکجا کیا گیا تھا ۔ ----صحائف سے مصحف مرتب کیا گیا تھا ۔ آیات کو ترتیب سے لکھا گیا تھا۔ ----سورتوں کی بھی ترتیب کردی گئی تھی۔ * * * *

مشق

سُوال: جمعِ قرآن کا معنیٰ بیان کیجیے اور اس کی قسموں پر روشنی ڈالیے۔ سُوال: دورِ رسالت میں جمع قرآن کی کیا صورت تھی؟ سُوال: جمع قرآن کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے اسباب بتائیے۔ سُوال: جمع صدیقیِ اور جمعِ عثمانی کی الگ الگ خصوصیات ذکر کیجیے۔ سُوال: جمعِ قرآن کی صورتوں کو کم از کم تین تین مرتبہ پڑھیے اور بتائیے آپ کو کیا سمجھ آیا؟ سُوال: جمعِ صدیقی اور جمعِ عثمانی کی حکمتیں بیان کیجیے۔ سُوال: جمع ِصدیقی اور جمعِ عثمانی میں فرق بیان کیجیے۔ سُوال: کاتبینِ وحی کی تعداد بیان کیجیے اور آپ کو کتنے کاتبین کے نام یاد ہیں تحریر کیجیے۔ سُوال: اشیائے کتابت کے نام یاد کیجیے، نیز تمام کا لغوی معنیٰ تلاش کرکے سبق میں دی گئی وضاحت کو اپنے لفظوں میں لکھیے۔

سبق 9 ترتیبِ قرآن

ترتیب کی تعریف:

مختلف اجزا کو اس طرح جمع کردینا کہ ان اجزا میں تقدیم و تاخیرکی وجہ سے تعلق اور مناسبت پیدا ہوجائے۔ (22)

ترتیبِ قرآن کا معنیٰ:

قرآنِ پاک کی آیات اور سورتوں کی موجودہ ترتیب نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہدایت سے اللہ پاک کے حکم اور حضرتِ جبریلِ امین علیہ السّلام کے بیان کے مطابق ہوئی؛ یہی ترتیب لوحِ محفوظ میں بھی موجود ہے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس میں اپنی رائے سے کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ (23) ترتیبِ قرآن کی تفصیل سے پہلے آیت اور سورت کا معنیٰ اور تعریف ملاحظہ کیجیے:

آیت کے لغوی معنیٰ:

آیت کے تین معانی ہیں: (1) جماعت (2) تعجب خیز چیز (3) علامت ان تینوں معانی کے اعتبار سے آیت کی وجہ تسمیہ ملاحظہ کیجیے: * یہ چند حروف کے مجموعے کا نام ہے۔ * یہ اپنے خوبصورت کلمات اور عمدہ معانی کی وجہ سے تعجب خیز ہے۔ * یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت کے حق ہونے کی ایک علامت ہے۔ (24)

آیت کی تعریف:

حروف یا کلمات سے مرکب قرآن کا وہ خاص حصہ جو نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیان سے کسی سورت کا حصہ بنے،نیز پہلے اور بعد والے کلام سے علیحدہ ہو۔ مثلاً ( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) ) وغیرہ۔ (25) وضاحت: پہلے اور بعد والے کلام سے علیحدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے اور بعد والی آیت کا جزء نہ ہو، یہ مطلب نہیں کہ معنیٰ کے اعتبار سے تعلق نہ ہو۔ مثلاً ( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) ) ایک مکمل آیت ہے، کیونکہ یہ اگلی اور پچھلی آیت کا حصہ نہیں، لیکن ان میں معنوی تعلق موجود ہے۔

سورت کے لغوی معنیٰ:

سورت کے دو معنیٰ ہیں: (1) بلند مرتبہ (2)شہر کی دیوار دونوں معانی کے اعتبار سے سورت کی وجہِ تسمیہ ملاحظہ کیجیے: * قرآن کی ہر سورت کا ایک بلند مرتبہ ہے۔ * قرآن کی ہر سورت شہر کی دیوار کی طرح اپنے مضامین کا احاطہ کرتی ہے۔ (26)

سورت کی اصطلاحی تعریف:

آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل قرآن کا وہ حصہ جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خاص نام کے ساتھ معین فرمادیا ہو، مثلاً سورۂ کوثر وغیرہ۔(27)

ترتیبِ قرآن کی اَقسام:

ترتیبِ قرآن کی دو قسمیں ہیں: (1) ترتیبِ نُزولی (2) ترتیبِ مُصْحَفِی

ترتیبِ نُزولی:

جس ترتیب سے قرآن کی آیات نازل ہوئیں اسے ”ترتیبِ نزولی“ کہا جاتا ہے، مثلاً سورۂ عَلَق کی ابتدائی آیات سب سے پہلی وحی میں نازل ہوئیں پھر سورۂ مُدَّثِّر کی آیات نازل ہوئیں، اسی طرح موقع اور ضرورت کے مطابق آیات کا نزول ہوتا رہا۔

ترتیبِ مُصْحَفِی:

جس ترتیب سے امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے مختلف صحائف جمع کروا کر انہیں مصحف میں لکھوایا اسے ”ترتیبِ مصحفی“ کہا جاتا ہے۔

آیات اور سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے:

قرآنِ پاک کی آیات اور سورتوں کی ترتیب، توقیفی (28)ہے (29) یعنی جو ترتیب نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بیان فرمائی انہوں نے اسی کے مطابق قرآن کو مرتب فرمایا۔ (30) جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ کاتبینِ وحی میں سے کسی کو بلاتے اور اس آیت کو رکھنے کا خاص مقام بیان کرکے اسے لکھنے کا حکم فرماتے۔(31) جب آخری آیت نازل ہوئی تو حضرتِ جبریل علیہ السّلام نے آپ سے عرض کیا کہ اسے آیاتِ رِبا اور آیتِ دَیْن کے درمیان رکھ دیجیے۔(32) نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہر سال رَمَضان میں حضرت جبریل علیہ السّلام کے ساتھ قرآن کا دور فرماتے؛ آپ نے زندگی کے آخری سال دو مرتبہ قرآن کا دور فرمایا، اس دورۂ قرآن میں جو ترتیب تھی صحابۂ کرام نے اسی ترتیب کو بر قرار رکھا اور اسی پر مصحفِ عثمانی تیار کیا گیا،(33) یہی ترتیب آج تک تواتر کے ساتھ چلی آرہی ہے۔

قرآن کی ترتیبِ توقیفی کیسے ممکن بنی؟

سُوال:دورۂ قرآن حضرتِ جبریل علیہ السّلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلم نے فرمایا؛ صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کو اس میں ہونے والی ترتیب کا علم کس طرح ہوا؟ جواب: آخری دورۂ قرآن میں حضرتِ زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور یہ دیگر افراد کو ساری زندگی وہی قراءت سکھاتے جو انہوں نے اس آخری دورۂ قرآن میں سنی تھی، اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین حضرتِ عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جمعِ قرآن کے معاملے میں ان ہی پر اعتماد کیا اور امیر المؤمنین حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں کاتبینِ مَصاحف (قرآن مجید لکھنے والوں)کا سربراہ مقرر کیا۔ (34)

سورتوں کی ترتیبِ توقیفی پر دلائل:

1- دلیل: وہ احادیث جن میں سورتوں کے پڑھنے کی ترغیب یا فضیلت بیان ہوئی ہے ان میں سے اکثر میں ترتیب وہی ہے جو موجودہ مصحف میں ہے، دو احادیث ملاحظہ کیجیے: (1)ام المؤمنین حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب اپنے بستر پر آرام کے لیے تشریف لاتے تو اپنی ہتھیلیاں ملا کر ان میں ( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) )،( قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱) ) اور ( قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) ) پڑھ کر دم کرتے۔(35) (2)حضرت ابو اُمامہ باہِلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دو روشن سورتیں سورۂ بَقَرہ اور سورۂ اٰلِ عمران پڑھا کرو۔(36) 2-دلیل: موجودہ مصحف میں حَوَامِیْم ترتیب سے ہیں لیکن مُسَبِّحَات (37) مختلف مقامات پر ہیں، اسی طرح سورۂ شُعَرَاء اور سورۂ قَصَص جن کی ابتدا میں ” طٰسٓمّٓ “ ہے ان کے درمیان سورۂ نَمْل کے ذریعے فاصلہ ہے حالانکہ رائے کے مطابق انہیں ترتیب سے ہونا چاہیے تھا! اگر سورتوں کی ترتیب صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی ذاتی رائے سے ہوتی تو ان سورتوں کو بھی ترتیب وار جمع کردیا جاتا۔(38)

مشق

سُوال:ترتیب کی تعریف اور ترتیبِ قرآن کے معنیٰ تحریر کیجیے۔ سُوال:سورت اور آیت میں فرق واضح کیجیے ۔ سُوال:ترتیبِ قرآن کی اقسام مثالوں کے ساتھ تحریر کیجیے۔ سُوال:امرِ توقیفی کا معنیٰ نیز آیتوں اور سورتوں کا توقیفی ہونا جامع الفاظ میں لکھیے۔ سُوال:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو دورۂ اخیرہ کی ترتیب کا علم کیسے ہوا؟ سُوال:سورتوں کی ترتیب، توقیفی ہونے کے دلائل دیجیے۔
1……تفسیر خازن، پ 14، سورۃ الحجر، تحت الآیۃ:9، 3/95۔ 2……تفسیر نعیمی، 1/12 تا 13 ماخوذاً۔ 3……فتاویٰ رضویہ، 14 /259۔ 4……پ14، الحجر:9۔ 5……تفسیربیضاوی،پ 15، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: 106 ، 3/471۔ 6……مناہل العرفان، ص 174۔ 7……فتح الباری، 10/11، حدیث:4988۔ 8…… السیرۃ الحلبیۃ، 3/457 تا 458، ملتقطاً۔ 9……الاتقان فی علوم القرآن، 1/185 تا 186- تدوین قرآن، ص 61 تا 63۔ 10 ……بخاری،3/398، حدیث: 4986 ماخوذاً۔ 11…… کنز العمال،الجزء الثانی، 1/243، حدیث:4753 12…… فتاویٰ رضویہ، 26/451-تدوین قرآن،ص 92۔ 13…… بخاری،3/398، حدیث: 4987 ماخوذاً۔ 14……تدوین قرآن، ص71۔ 2 15 ……مناہل العرفان، ص 182۔ 16…… لغت سے متعلق تفصیلی کلام سبق نمبر 11 صفحہ نمبر 58 پر آرہا ہے۔ 17…… بخاری،3/398، حدیث: 4987 ماخوذاً- عمدۃ القاری، 13/536، تحت الحدیث: 4987- طبری،1/36- الاتقان فی علوم القرآن، 1/187۔ 18 …… بخاری،3/399، حدیث: 4987 ماخوذاً -فتح الباری، 10/19، حدیث:4988۔ 19……فتاویٰ رضویہ، 26/ 452 ماخوذاً۔ 20…… فتح الباری، 10/17، حدیث:4988 - تدوین قرآن، ص92۔ 21 ……شرح السنۃ للبغوی، 3/56 ماخوذاً۔ 22……التعریفات، ص 41۔ 23 …… ارشاد الساری، 11/303، تحت الحدیث:4987۔ 24 …… البرہان فی علوم القرآن، 1/335۔ 25…… البرہان فی علوم القرآن، 1/336۔ 26…… الاتقان فی علوم القرآن، 1/165۔ 27…… الاتقان فی علوم القرآن، 1/166۔ 28……قرآن و حدیث سے ثابت شدہ وہ کام جس میں انسانی عقل کو دخل نہ ہو اسے ”امرِ توقیفی“ کہا جاتا ہے۔ مثلاً کیفیات عبادات، آیات قرآنیہ کی ترتیب اور عبادات کی معین مقداریں جیسے رکعات کی تعداد یا زکوٰۃ کی معین مقدار وغیرہ۔ (عمدۃ القاری، 9/656-فتح الباری، 14/250- المبسوط للسرخسی، الجزء الرابع، 2/13- فتاویٰ رضویہ، 21/581) 29……فواتح الرحموت، 2/14۔ 30…… ارشاد الساری، 11/303، تحت الحدیث:4987۔ 31 …… ترمذی، 5/59، حدیث:3097۔ 32…… الاتقان فی علوم القرآن، 1/195۔ 33 …… ارشاد الساری، 11/316، تحت الحدیث:4998۔ 34 ……شرح السنۃ، 3/57- ارشاد الساری، 11/304، تحت الحدیث:4987۔ 35……بخاری، 3/407، حدیث:5017۔ 36……مسلم، ص 314، حدیث:1874۔ 37…… یہ سورتوں کے مجموعوں کے نام ہیں ان کی وضاحت سبق نمبر 10 صفحہ نمبر55 پر آرہی ہے۔ 38……الاتقان فی علوم القرآن، 1/198۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن