دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ilm e Deen Kay Fazail | علم دین کے فضائل

Luqman Hakeem Ki Wasiyat

book_icon
علم دین کے فضائل

لقمان حکیم کی وَصِیّت

منقول ہے کہ حضرتِ لقمان رحمۃُ اللہِ علیہ  نے اپنے بیٹے کو جو وصیتیں فرمائیں ان میں   ایک وَصِیّت یہ بھی تھی کہ بیٹا علمائے کرام کی صحبت میں بیٹھا کرو کیونکہ اللہ پاک نورِ حکمت  سے دلوں کو ایسے زندہ کرتا ہے جیسے زمین کو مسلسل بارِش سے۔
(مؤطا امام مالک ، 2/478،حدیث:1940)

دِل کی غِذا

حضرت فَتْح مَوْصَلی رحمۃُ اللہِ علیہ  نے لوگوں سےپوچھا : اگر مریض کو کھانے، پینے اور دَواسے روک دیا جائے تو کیا وہ مَر نہیں جائے گا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں ۔ فرمایا:دل کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اگر تین دن تک اس سے علم وحکمت کو دور رکھا جائے تو وہ مُردہ ہو جاتا ہے۔ ( التذکرۃ فی الوعظ لابن جوزی،ص56)
امام  غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: حضرت فتح موصلی رحمۃُ اللہِ علیہ نے بالکل سچ فرمایا کیونکہ جس طرح کھانا بدن کی غِذا ہے اسی طرح علم وحکمت دل کی غِذا ہے جن کی بدولت وہ زندہ رہتا ہے اور جس کے پاس علم نہیں اس کا دل بیمار اور اس کی موت لازِمی ہے ۔لیکن اسے اس بات کی خبر نہیں ہوتی کیونکہ دنیا کی مَحَبَّت اور اس میں   مشغولیت اِس کے احساس کو ختم کر دیتی ہے ، جیساکہ خوف کے غَلَبے کے وقت زخم کی تکلیف کا احساس نہیں رہتا اگرچہ تکلیف موجود ہوتی ہے۔ پھر جب موت اس سے دنیا کے بوجھ اُتارتی ہے تب وہ اپنی ہلاکت محسوس کرکے بہت پچھتاتا ہے لیکن پھر یہ اُس کے حق میں   بے فائدہ ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے مَدہوش کو نَشے اور خوف کی حالت میں   لگے زَخموں کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب اُسے خوف اور نَشے سے نجات ملتی ہے۔ ہم پردے کُھلنے کے دن سے اللہ پاک   کی پناہ مانگتے ہیں۔ بے شک لوگ سوئے ہوئے ہیں جب مریں گے تو ان کی آنکھیں کُھل جائیں گی۔(احیاء العلوم  (مترجم) ، 1/51)
عیب دُنیا میں تو نے چھپائے                               حشر میں بھی نہ اب آنچ آئے
آہ! نامہ مِرا کھل رہا ہے                              یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے

لباسِ حياء

اللہ  پاک پارہ 8 سورۃُ الْاَعْراف، آیت 26میں ارشاد فرماتا ہے:( یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ-) (پ8، الاعراف:26)
ترجَمۂ کنزالعرفان:اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا جو تمہاری شرم کی چیزیں چھپاتا ہے اور (ایک لباس وہ جو) زیب و زینت ہے اور پرہیزگاری کا لباس سب سے بہتر ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں  ”لِبَاسًا “سے علم ”رِیۡشًا“سے یقین اور ”لِبَاسُ التَّقْوٰی “سے حیا مراد ہے۔
حضرت وَہْب بن مُنَبِّہ یَمانی  رحمۃُ اللہِ علیہ  سے  روایت ہے کہ’’ایمان بے لباس ہے،   اس کا  لباس پرہیزگاری ہے،   جبکہ اس کی زِیْنت حَیا اور اس کا  پھل علم ہے۔ ( احیاء علوم ،  1/20)

شہر کے حاکم سے مِلنے کا وقت نہیں

عظيم تابعی بُزُرگ حضرتِ سالم بن ابو جَعْد رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے مالك نے 300 دِرہم میں   خرید کر آزاد کر دیا تو میں   نے سوچا کہ اَب کون سا پیشہ اختیار کروں ؟ بالآخِر علمِ دين حاصل كرنے میں   مشغول ہو گیا ، ابھی سال بھی نہیں گزرا تھا کہ شہر کا حاکم مجھ سے مِلنے کے لئے آیا لیکن میں   نے اُسے اجازت نہ دی۔
( فیض القدیر، 3/552، تحت الحدیث: 3827)
(ایک بُزُرگ کا فرمان ایسے معاملے پر کیا خوب صادق آتاہے چنانچہ)حضرت ابو اَسْوَد  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے فرمایا: علم سے بڑھ کر عزّت والی چیز کوئی نہیں  ،  بادشاہ لوگوں پر حُکومت کرتے ہیں جبکہ عُلَما بادشاہوں پر حُکومت کرتے ہیں ۔(احیاء العلوم  (مترجم) ، 1/50)

فضیلت کا لُغَوی اور اِصْطِلاحی معنیٰ

امام  غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: لفظ ’’فضیلت ‘‘فَضْل   سے لیا گیا ہے اور” فَضْل“  زیادہ  ہونےکو کہتے ہیں۔ جب دوچیزیں کسی بات میں   مُشْتَرَک (یعنی ایک جیسی)ہوں اور ان میں سے    ایک کسی اضافی بات سے خاص ہوتو کہا جاتا ہے کہ یہ اُس سے اَفْضل ہے اور اسے اس پر فضیلت حاصل ہے جبکہ وہ اضافی بات اس میں   موجود ہو جو اس کے لئے کمال کی بات ہو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: گھوڑا گدھے پر فضیلت رکھتا ہے کیونکہ بوجھ اُٹھانے کی قُوَّت میں   تو گھوڑا اورگدھا برابر ہیں لیکن حملہ کرنے، دوڑنے، سخت حملہ آوَر ہونے کی قُوَّت اور اچھی صورت کی خوبیاں گھوڑے میں   اضافی ہیں ۔ اب اگر بِالْفَرْض گدھے کو اضافی سامان کے ساتھ خاص کیا جائے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ گھوڑے  پر فضیلت لے گیا کیونکہ یہ جسمانی اضافہ ہے جبکہ حقیقت میں   کمی جوکہ کوئی کمال کی بات نہیں ، اس لئے کہ حیوان میں   جسم نہیں بلکہ معنوِیَّت(یعنی اَصلِیَّت ) اور اس کی صفات مقصود ہوتی ہیں ۔
مزید فرماتے ہیں :علم کو اپنی ذات کے اعتبار سے کسی کی طرف اِضافت کئے بغیرمطلقاً فضیلت حاصل ہے کیونکہ یہ اللہ پاک کا وَصْفِ کمال ، اَنبیائے کِرام اور ملائکہ عِظام  علیہمُ السّلام  کا شرف ہے ۔(احیاء العلوم، 1/29 ملتقطا)

پسندیدہ چیز کی طرف رغبت کی وجہ

امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:یاد رہے کہ ایسی بہترین چیز یں جنہیں حاصل کرنے کا شوق ہوتاہے اُن کی تین قسمیں ہیں۔
(1) ایسی چیز جسےحاصل کرنے کامقصد کوئی اور وجہ ہو جیسے روپے پیسے،دراصل روپے پیسے کاغذ کے ٹکڑے ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہےکیونکہ کاغذ کےنوٹ کھانے سے نہ پیٹ بھرتا ہے نہ  پیاس بجھتی ہے، اگر اللہ پاک ان کے ذریعے ہماری ضروریات  حاصل کرنا آسان نہ فرماتاتویہ نوٹ اور ردّی کے کاغذ برابر ہوتے۔(احیاء العلوم، 1/29 بتغیر)حضرتِ  وَہْب بن مُنَبِّہ  رحمۃُ اللہِ علیہ  سے درہم ودینارکےمتعلق پوچھاگیا توآپ نےفرمایا:یہ انسان کے گزر بسر کے لئے زمین میں اللہ پاک کی مُہْریں ہیں، نہ کھائی جاتی ہیں نہ پی جاتی ہیں  تم انہیں جہاں بھی لے جاؤ گے تمہاری ضرورت  پوری ہو گی۔(حلیۃ الاولیاء، 4/57، رقم: 4729)
(2)وہ چیز جسے حاصل کرنے کا مقصدخود وہی چیز ہو جیسے آخِرت کی کامیابی اوراللہ پا ک کے دیدار کی لذّت۔ اللہ پاک کی عطا کی گئی نعمتوں میں سب سے اَفضل و اعلیٰ یہ قسم ہے۔
(3) وہ چیز جسے حاصل کرنے کا مقصد خود وہ چیز بھی ہوتی ہے  اورکبھی اس سے کوئی دوسری چیز بھی  حاصل کی جاتی ہے جیسےانسان چاہتا ہے کہ اُس کاجسم کی سلامت رہے  کیونکہ اگر اُس کےپاؤں کو چوٹ لگی تو تکلیف ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کی ضروریاتِ زندگی کے کاموں میں حرج بھی آتاہے اس لئے بندہ کوشش کرتاہے کہ  اُس کا جسم سلامت رہے۔ 
اَب اس اعتبار سے علم کو دیکھیں تو علم اپنی ذات کے اعتبار سے لذیذ ہے لہٰذا وہ دوسری قسم میں   شامل ہے(جو پہلی سے افضل ہے) نیز وہ آخِرت اور اس کی کامیابی کا وسیلہ اور اللہ پاک کے نزدیک ہونے کا ذریعہ ہے کہ اس کے بغیر قربِ اِلٰہی حاصل نہیں ہوتا۔آدمی کے حق میں سعادتِ اَبَدی(یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے  سعادت مندی) کا مرتبہ سب سے بلند ہے اور اس کا وسیلہ سب چیزوں سے افضل ہے اور سعادتِ اَبَدی بغیر علم وعمل کے حاصل نہیں ہوسکتی اور عمل کی کیفیت کا علم نہ ہو تو عمل تک رسائی نہیں ہوتی۔ پتا چلا کہ دنیا وآخِرت کی اصل سعادت ’’علم ‘‘ہے اسی لئے یہ سب سے افضل ہے۔(احیاء العلوم، 1/29، اتحاف السادۃ ،1/ 187-190 ملخصاً ) ایک روایت میں ہے:تمہارے دین کا افضل عمل وہ ہے جو آسان ترین ہو اور دین سیکھناسب سے افضل عبادت ہے۔
( جامع بیان العلم وفضلہ، حدیث:80، ص34)

مال سے بہتر

مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، امیرُ الْمُؤمنین حضرتِ علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ نے حضرت کُمَیْل بن زیاد نَخعی رحمۃُ اللہِ علیہ  سے فرمایا: اے کُمَیْل! علم مال سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی تجھے حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ علم حاکم ہے اور مال مَحْکوم۔ مال خرچ کرنے سے گھٹتاہے جبکہ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ (الفقیہ و المتفقہ، 1/182، حدیث: 176)
مزید فرمایا: رات بھر عبادت کرنے والے دن بھر روزہ رکھنے والے مجاہِد سے عالم افضل  ہے اور عالم کی موت سے اسلام میں   ایسا رَخْنہ (Gape)پڑتا ہے جسے اس کے نائب کے سوا کوئی نہیں بھرسکتا۔(الفقیہ و المتفقہ، 2/197، حدیث: 856)
آپ رضی اللہُ عنہ    نے کچھ اَشعار پڑھے جن  میں یہ بھی ہے:   علم کے ذریعے کامیابی حاصل کرو ہمیشہ کی زندگی پاؤ گے۔ لوگ مَر جاتے ہیں جبکہ عُلَما زندہ رہتے ہیں ۔ 
(الفقیہ و المتفقہ، 2/150، حدیث: 769)

مُشْکِلات آسان ہوجائیں گی

حضرت زُبَیْر بن ابوبَکْر رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں عِراق میں تھا میرے والدِ محترم نے مجھے پیغام بھیجا کہ علم کو لازِم کرلو! اگر غریب ہو تو یہ تمہارامال ہے اور اگر غَنی ہو تویہ تمہارا جَمال ہے۔ (احیاء العلوم، 1/24)
ایک روایت میں ہے:جو علمِ دین حاصل کرے گا اللہ پاک اُس کی مُشْکِلات کو آسان فرمادےگااور اُسے وہاں سے رِزْق عطا فرمائے گا جہاں اُس کا گمان بھی نہ ہو گا۔
(جامع بیان العلم وفضلہ،ص 65، حدیث: 198)

عالمِ دین کی وفات

حدیثِ پاک میں ہے: عالم زمین میں  اللہ پاک  کا اَمین ہوتا ہے۔( جامع بیان العلم وفضلہ، ص 74، حدیث: 225 ۔ ) ایک اور روایت میں ہے:ایک قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے آسان ہے۔(شعب الایمان، 2/264، حدیث: 1699)
کسی  عقلمند کا قول ہے کہ عالم کی وفات پر پانی میں   مچھلیاں اور ہوا میں   پرندے روتے ہیں۔ عالم کا چہرہ  غائب ہوجاتاہے لیکن اُس کی یادیں باقی رہتی ہیں۔(احیاء العلوم، 1/24)

علم کا اُخروی فائدہ

امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:علم اس وجہ سے بھی افضل ہے کہ تم جانتے ہو کسی چیز کا نتیجہ جتنی عظمت وشان والا ہوگا وہ چیز بھی اُتنی ہی فضیلت والی ہوگی اور تم جان چکے ہوکہ علمِ دین  کا اُخْروی فائدہ اللہ پاک کا قرب مل جانا ہے جبکہ دنیا میں   اس کا فائدہ یہ ہے کہ عزّت و وقار میں   اضافہ اور طبیعتوں میں   ضروری طور پر اِحترام کرنا پایا جاتا ہے۔یہ مُطْلَق علم کی فضیلت ہے۔ پھر عُلُوم مختلف ہیں، جب علم افضل اُمُور میں   سے ہے تو اسے حاصل کرنا افضل کام کی جُستجو کرنا اور سکھانا افضل کام کا فائدہ پہنچانا ٹھہرا۔(احیاء العلوم، 1/29 ملتقطاً)

عالم کے چار حُروف کی نسبت سے چار احادیثِ مبارکہ

(1)وہ عالم دین بہت اچھا ہے اگر اس کی ضرورت پڑے تو نفع پہنچادے اگر اس سے بے پرواہی ہو تو اپنے کو بے نیاز رکھے۔ (مشکاۃ المصابیح، 1/67، حدیث: 251)
(2)عالم اور عابد کے درمیان 100دَرَجے ہیں اور ہر دو درَجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنی مَسافت سَدھایا ہوا عُمدہ گھوڑا 70سال تک دوڑ کر طے کرتا ہے۔
(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص 43، حدیث: 118 )
(3)حدیثِ پاک میں ہے:مومن عالم مومن عابد پر 70دَرَجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ 
(جامع بیان العلم وفضلہ، ص 36، حدیث: 84)
(4)بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! افضل عمل کون سا ہے؟ پیارے مصطفٰی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اَلْعِلْمُ باللہ۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  !  آپ کون سا علم مراد لیتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا: اللہ پاک  کی ذات کا علم (یعنی اللہ پاک کی معرفت یعنی پہچان  کا علم) عرض کی گئی: ہمارا سوال عمل کے متعلق ہے جبکہ  آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   علم کا ارشاد فرما رہے ہیں ؟ ارشاد فرمایا: اللہ پاک  کی ذات کا علم ہو تو تھوڑا عمل بھی فائدہ دیتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو زیادہ عمل بھی فائدے سے خالی ہوتا ہے۔ (احیاء العلوم، 1/22)

دنیا وآخِرت کی بھلائی سے کیا مراد ہے؟

عظیم تابعی بُزُرگ حضرتِ حسن بصری رحمۃُ اللہِ علیہ اس ارشادِ باری تعالیٰ  (رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱))( ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: دنیا میں
 ” حَسَنَۃً “سے مراد علم و عبادت ہے جبکہ آخِرت میں   اس سے مراد جنّت ہے۔ 
(ترمذی، 5/295، حدیث: 3499)

علمِ دین کی فضیلت پر مشتمل اقوالِ بُزُرگانِ دین

(1)مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ،اَمیرُالْمُؤمنین حضرتِ عمرفاروق رضی اللہُ عنہ   نے فرمایا: اے لوگو! تم پر علم حاصل کرنا لازِم ہے۔ بے شک اللہ پاک کی ایک چادرِ محبت ہے اور جو علم کا ایک باب حاصل کر لیتا ہے  اللہ  پاک   اُسے وہ چادر پہنا دیتا ہے۔
(جامع بیان العلم وفضلہ، ص 83، حدیث: 251) 
(2) حضرت عبدُ اللہ بن مَسعود رضی اللہُ عنہ نے فرمایا: علم سیکھو اس سے پہلے کہ اٹھا لیا جائے اور علم کا اُٹھایا جانا یہ ہے کہ علما وفات پا جائیں گے۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے، راہِ خدا میں   مارے جانے والے شُہَدا جب عُلَما کا مقام دیکھیں گے تو تَمنّا کریں گے کہ کاش! انہیں بھی عالم اُٹھایا جاتا۔(احیاء العلوم، 1/23) کوئی بھی عالم پیدا نہیں ہوتا علم سیکھنے سے ہی آتا ہے۔(کتاب الزہد للام احمد، ص 184، حدیث: 899)
(3) حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما  نے فرمایا: رات میں   کچھ دیر علم کی تکرار کرنا مجھے ساری رات شب بیداری سے زیادہ مَحْبُوب ہے۔(اِسی طرح حضرت ابوہُریرہ  رضی اللہُ عنہ   اور حضرت امام احمد بن حَنْبل رحمۃُ اللہِ علیہ  سے بھی منقول ہے۔) (احیاء العلوم، 1/23)
(4)حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : عُلَما کی سیاہی کا شُہَدا کے خون سے وَزْن کیا جائے گا تو عُلَما کی سیاہی شہدا کے خون سے بھاری ہوگی۔(احیاء العلوم، 1/23)
(5)حضرت اَحْنَفْ رحمۃُ اللہِ علیہ  کاقول ہے کہ جلد ہی عُلَما مالک بن جائیں گے اور ہر اس عزّت  کا اَنْجام ذِلَّت ہوتا ہے جسے علم سے مضبوط نہ کیا جائے۔ (عیون الاخبارللدینوری، ص 137)
(6)حضرت امام شافِعِی  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے فرمایا: علم کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس کی طرف یہ مَنْسوب ہو خواہ چھوٹی سی بات میں،تو وہ خوش ہوتا ہے اور جس سے اسے اُٹھا لیا جاتا ہے وہ رَنْجیدہ ہوتا ہے۔(احیاء العلوم، 1/23)
(7)ایک عالم کاقول ہے کہ کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ جسے علم نہیں ملا اسے کیا ملا اور جسے علم ملااسے کیا نہیں ملا۔ (احیاء العلوم، 1/23)
(8)کسی عقلمندسے پوچھا گیاکہ کون سی چیزیں جمع کرنی چاہئیں ؟ جواب دیا: وہ چیزیں کہ جب تمہاری کشتی ڈوب جائے تووہ تمہارے ساتھ تیرنے لگیں یعنی علم۔(جامع بیان العلم وفضلہ، ص 80، حدیث: 246)بعض نے کہا: کشتی کے غرق ہونے سے مراد موت کے ذریعے بدن کا ہلاک ہونا ہے۔(احیاء العلوم، 1/23)
(9)کہا گیا ہے کہ جو حکمت کو لگام بنا لیتا ہے لوگ اسے امام بنا لیتے ہیں اور جو حکمت کو سمجھ لیتا ہے لوگ اسے عزّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ (جامع بیان العلم وفضلہ، ص 80، حدیث: 246)

علم سیکھنے سِکھانے کی فضیلت

ایک بار حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   اپنے حُجرہ ٔمبارَکہ سے مسجد میں تشریف لائے تو دو حلقے سجے ہوئے تھے ایک قرآن مجید پڑھ رہا تھا اور  اللہ  پاک سے دعا مانگ رہا تھا جبکہ دوسرا علم سیکھنے سکھانے میں مشغول تھا فرمایا : ” دونوں بھلائی پر ہیں۔“  یہ لوگ قرآن کی تلاوت اور  اللہ پاک سے دعا کر رہے ہیں ، اللہ پاک چاہے تو انہیں عطا کرے یا نہ کرے اور یہ لوگ علم سیکھنے سکھانے میں مشغول ہیں اور  بے شک میں مُعَلِّم بنا کر بھیجا گیا ہوں ، پھر آپ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  وہیں  تشریف فرما ہوئے ۔  (ابن ماجہ، 1/150، حدیث: 229)

 …ترجَمۂ کنزالعرفان: اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔(پ 2 ، البقرۃ: 201)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن