30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھوڑتا: (۱) میں وتر ادا کئے بغیر نہ سوؤں (۲) میں چاشت کی دو رکعتیں ترک نہ کروں کیونکہ یہ ”توابین“ یعنی کثرت سے توبہ کرنے والوں کی نمازہے (۳) اور ہر مہینے تین دن روزے رکھا کروں۔ ([1])
حضرتِ سیِّدُنامُعَاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جو شخص فجر کی نماز کے بعد چاشت کی دو رکعتیں ادا کرنے تک اپنی جگہ بیٹھا رہے اور خیر کے علاوہ کوئی بات نہ کہے، اس کی خطائیں معا ف کر دی جاتی ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں ۔ ([2])
اُمُّ الْمُؤمِنِینْ حضرتِ سیِّدَتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی مُکَرَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ،جو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعدچاشت کی چار رکعتیں ادا کرنے تک اپنی جگہ بیٹھا رہے اور کوئی لغو بات نہ کہے بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا رہے تو اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ ([3])
حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن عَمْرو بِن عَاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک لشکر کو نجد کی جانب بھیجا وہ لشکر بہت سا مالِ غنیمت لے کرجلدلوٹ آیا تو لوگ لشکر کے مقام کی نزدیکی، کثرتِ مالِ غنیمت اور جلد لوٹ آنے کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:کیا میں تمہیں ایک ایسی قوم کے بارے میں نہ بتاؤ ں جو اِن سے بھی قریب جہاد کرنے والی اس سے بھی زیادہ مالِ غنیمت حاصل کرنے والی اور جلدی لوٹنے والی ہے۔ (پھر فرمایا:) جو شخص وضو کرے پھر نمازِ چاشت ادا کرنے کیلئے مسجد میں حاضر ہو، وہ ان لوگوں سے بھی قریب ، زیادہ غنیمت لانے والا اور جلدی لوٹنے والا ہے۔ ([4])
حضرتِ سیِّدُنااَبُواُمامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:جواپنے گھر سے کسی فرض نماز کی ادائیگی کے لئے نکلا ،اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کی طرح ہے اور جو چاشت کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلا اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کی طرح ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا اس طرح انتظارکرنا کہ بیچ میں لغو بات نہ کی جائے تو اس کا نام عِلِّیِّیْن (یعنی اعلیٰ درجے والوں) میں لکھا جاتاہے۔ ([5])
حضرتِ سیِّدُنااَبُوْہُرَیْرَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:جو چاشت کی دو رکعتیں پابندی سے ادا کرتاہے اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اگر چہ سمند رکی جھاگ کے برابر ہوں ۔ ([6])
حضرتِ سیِّدُناعُقْبَہ بِن عَامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ساتھ غزوۂ تبو ک کیلئے گیا۔ ایک دن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بیٹھ کر اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے گفتگو فرما رہے تھے کہ دورا نِ گفتگو اِرشاد فرمایا : جوشخص سورج کے بلند ہونے تک اپنی جگہ پر بیٹھا رہے، پھر اٹھ کر کامل وضو کرے اور دورکعتیں ادا کرے تو اس کے گناہ ایسے معاف کر دئیے جائیں گے، جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو ۔ ([7])
حضرتِ سیِّدُنااَبُواُمامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب سورج اپنے مطلع سے طلوع ہو کر ایسی حالت پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع