30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذریعے انسان پر بہت سی ایسی حقیقتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں جن کے بارے میں پہلے وہ صرف سنا کرتا تھا۔
(احیاء العلوم 1/87 تسہیلاً)
(22)تقویٰ کے مَراتِب
جہاں تک حلال وحرام کی بات ہے تو حرام سے بچ کر تقویٰ اختیار کرنا دین سے ہے لیکن اس وَرع وتقویٰ کے 4دَرَجے ہیں :
(1) ظاہری حرام سے بچنا: یہ وہ تقویٰ ہے جو عدالت وشہادت میں شرط ہے اسے ترک کرنے کے سبب انسان قضا وشہادت اور ولایت کی اہلیت سے نکل جاتا ہے۔(یعنی یہ ایسا بنیادی تقویٰ ہے جو شرعی اعتبار سے ضروری ہے۔ جو شخص کُھلے حرام کاموں سے نہ بچے وہ مُعْتَبر گواہ، قاضی یا دینی مَنصَب کا اہل نہیں رہتا۔)
(2) صالحین کا تقویٰ: یہ ان شبہے والی چیزوں سے بچنے کا نام ہے جن کے بارے میں حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جو تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑکر جو شک میں نہ ڈالے اسے اختیارکرو۔(ترمذی، 4/232، حدیث: 2526) ایک روایت میں ہے: ’’ گناہ دلوں میں کھٹکتا ہے۔‘‘
(معجم کبیر، 9/149، حدیث: 8748)
(3) پرہیزگاروں کا تقویٰ: یہ ایسی حلال چیزوں کو چھوڑ دینے کا نام ہے جن کے بارے میں خوف ہو کہ وہ حرام تک پہنچا دیں گی۔جیساکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ آدمی اس وقت تک پرہیزگاروں میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک اس چیز کو نہ چھوڑدے جس میں کوئی حرج نہیں اس خوف سے کہ کہیں اس میں مبتلانہ ہوجائے جس میں حرج ہے۔(ابنِ ماجہ، 4/475، حدیث: 4215) مثلاً:لوگوں کے بارے میں گفتگو سے اس ڈر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع