دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ihya ul Uloom Jild 5 | اِحْیاءُ الْعُلوم جلد پنجم

roz e mehshar sawal o jawab ki kaifiyat ka bayan

book_icon
اِحْیاءُ الْعُلوم جلد پنجم
            

باب نمبر6 : روز محشر سوال وجواب کی کیفیت

اے مسکین! ان حالات کے بعد تجھ سے کسی ترجمان کے بغیر بالمشافہ سوال ہوگا اس کی فکر کر، تجھ سے تھوڑے اور زیادہ کے بارے میں پوچھا جائے گا، الغرض گٹھلی کے سوراخ اور کھجور کے ریشے جیسی معمولی چیز کے متعلق بھی سوال ہوگا، اس وقت تو قیامت کی سختیوں، پسینے اور بڑی بڑی آفات میں گھرا ہو گا کہ اچانک آسمان کے کناروں سے لمبے چوڑے جسموں والے نہایت سخت فَرِشتے اتریں گے انہیں حکم ہو گا کہ مجرموں کو پیشانیوں سے پکڑ کر جبّار عَزَّ وَجَلَّ کے روبرو پیش کریں، رسولِ اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کی دونوں آنکھوں کے کناروں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے۔“(1 ) اب تیرا اپنے بارے میں کیا خیال ہے جب تو ان فرشتوں کو دیکھے گا جو تیری طرف اس لئے بھیجے گئے ہیں تاکہ تجھے پکڑ کر پیشی کے مقام تک لے جائیں، تو ان کو دیکھے گا کہ وہ اپنے لمبے چوڑے مضبوط جسموں کے باوجود اس دن کی سختی کی وجہ سے شکستہ حال ہوں گے اور بندوں پر غَضَبِ جبّار کی مجسم تصویر بنے ہوں گے۔ ان فرشتوں کے اترنے کے وقت ہر نبی، ہر صدّیق اور ہر نیکوکار اپنی گردنیں اس خوف سے جھکائے ہوں گےکہ کہیں وہ ماخوذ نہ ہوں۔ یہ مقرّبین کا حال ہے تو گناہ گار مجرموں کےبارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ اس وقت لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر ان فرشتوں سے پوچھیں گے : کیا تم میں ہمارا ربّ ہے؟ یہ سوال فرشتوں کی کثرت اور ان کی ہیبت کی وجہ سے ہوگا، چنانچہ فرشتے ان کے اس سوال پر کانپ اٹھیں گے کہ کہاں خالق عَزَّ وَجَلَّ کی شان اور کہاں ہمارے درمیان ہونے کا سوال؟ پس زمین والوں نے جو خیال کیا فرشتے اس سے اپنے مالک عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی بیان کرتے ہوئے بلند آواز سے پکاریں گے اور کہیں گے : ہمارا ربّ پاک ہے وہ ہم میں سے کوئی نہیں لیکن وہ ابھی آنے والا ہے (اپنی شان کے لائق)، اس وقت فرشتے مخلوق کو چاروں طرف سے گھیر کر صف باصف کھڑے ہو جائیں گے اور اس دن کی شدت کی وجہ سے ان پر مسکینی، عاجزی اور ڈر وخوف کی علامت بالکل واضح ہوگی۔اس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے ان فرامین کو سچ کر دکھائے گا : (1)فَلَنَسْــٴَـلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْــٴَـلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۶)فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآىٕبِیْنَ(۷) ( پ ۸،ا لاعراف : ۶، ۷) ترجمۂ کنز الایمان : تو بے شک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئےاور بے شک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے تو ضرور ہم ان کو بتا دیں گے اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے۔ (2)فَوَرَبِّكَ لَنَسْــٴَـلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۹۲)عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۳) ( پ ۱۴، الحجر : ۹۲، ۹۳) ترجمۂ کنز الایمان : تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے جو کچھ وہ کرتے تھے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے ابتدافرمائے گا جیسا کہ اس کا فرمان ہے : (3) یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْؕ-قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(۱۰۹) ( پ ۷، المآئدة : ۱۰۹) ترجمۂ کنز الایمان : جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گاتمہیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں بے شک تو ہی سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔ ہائے اس دن کی شدت جس میں انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی عقلیں بھی متوجہ نہ ہوں گی، ان کے علوم اس ہیبت کی شدت سے مٹ جائیں گے کہ جب ان سے کہا جائے گا : ”تم مخلوق کی طرف بھیجے گئے تھے تمہیں کیا جواب ملا؟“ ان کو جواب کا علم ہو گا لیکن پھر بھی ان کی عقلوں پر دہشت طاری ہو جائے گی تو ان کاذہن جواب کی طرف نہ جائے گا، پس شدید ڈروخوف سے عرض کریں گے : ”ہمیں کچھ علم نہیں بے شک تو ہی سب غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔“ اس وقت ان کا یہ کہنا سچ ہوگاکیونکہ ان کی عقلیں متوجہ نہ ہوں گی اور علوم مٹ گئے ہوں گےیہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں قوت عطا فرمائےگا۔

سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام سے سوال :

حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام کو بلایا جائےگا اور ان سے کہا جائے گا : کیا آپ نے احکام پہنچائے تھے؟ عرض کریں گے : جی ہاں۔ اب ان کی امت سے کہا جائے گا : کیا انہوں نے تمہیں تبلیغ کی تھی؟ امتی کہیں گے : ہمارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ اب حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کو بلایا جائے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے فرمائے گا : ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ- ( پ ۷، المآئدة : ۱۱۶) ترجمۂ کنز الایمان : کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنا لو اللہ کے سوا۔ حضرت سیِّدُناعیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اس سوال کی ہیبت سے کئی سال تک حیرانی وپریشانی میں ڈوبے رہیں گے۔ آہ! اس دن کی عظمت کہ جس میں اس قسم کے سوالات کے ذریعے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام بھی تَحْتِ تدبیر ہوں گے، پھر فرشتے ایک ایک کو آواز دیں گے : اے فلانی کے بیٹے فلاں! پیشی کے مقام پر آجا۔اس وقت کاندھے تھرتھرائیں گے، اعضاء کانپ اٹھیں گے اور عقلیں مبہوت ہو جائیں گی، لوگ تمنّا کریں گے کہ کاش! انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے لیکن جبّار ذات جَلَّ جَلَالُہُ کے سامنے ان کے برے اعمال پیش نہ کیے جائیں اور تمام مخلوق کے سامنے ان کا پردہ فاش نہ کیا جائے۔سوال جواب سے قبل عرش کا نور ظاہر ہو گا جیساکہ قرآن مجید میں ہے : وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا ( پ ۲۴، الزمر : ۶۹) ترجمۂ کنز الایمان : اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے۔ اب ہر بندے کو جبّار ذات جَلَّ جَلَالُہُ کےاپنی طرف متوجہ ہونے کا یقین ہو جائے گااور ہر شخص یہ گمان کرے گا کہ اس نور کو صرف میں ہی دیکھ رہا ہوں میرے سوا کوئی نہیں اور میری ہی پکڑاور مجھ ہی سے سوال وجواب ہونا ہے اور کسی سے نہیں، پس اس وقت اس پاک و بلند ذات کا فرمان جاری ہوگا : اے جبریل! جہنم کو ہمارے پاس حاضر کرو۔ حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام جہنم کے پاس آکر کہیں گے : اے جہنم اپنے خالق ومالک کے حکم کی پیروی کر۔ حضرت سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام اسے شدید غیظ وغضب کی حالت میں پائیں گے چنانچہ جہنم آپ کی پکار سنتے ہی جوش میں آکر دہاڑے گی اور مخلوق کی طرف چنگاڑے گی تمام مخلوق اس کے جوش اور چنگاڑ کی آواز کو سنے گی، جہنم کے محافظ فرشتے غصے میں بھرے مخلوق میں ان لوگوں کی طرف دوڑیں گے جنہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی ومخالفت کی۔ اب تو اپنے دل میں خیال کر اور ان بندوں کی دلی حالت کو پیْشِ نَظَر رکھ جو رعب وخوف سے بھرے ہوں گے ، پس وہ اپنے گھٹنوں کے بل گریں گے اور پیٹھ دے کر پھریں گےاس دن تو ہر گروہ کو زانو کے بل گرے دیکھے گا اور بعض تو اپنے مونہوں کے بل پڑے ہوں گے جبکہ گناہ گار اور ظالم موت مانگتے ہوں گے اور صدیقن وصالحین نفسی نفسی پکار رہے ہوں گےوہ اسی حالت پر ہوں گے کہ جہنم دوسری مرتبہ چنگھاڑے گی پس ان کاڈر و خوف دگنا ہو جائے گااور تمام اعضاء ڈھیلے پڑ جائیں گے، وہ گمان کریں گے کہ اب ان کی پکڑ ہونے والی ہے پھر جب جہنم تیسری مرتبہ چنگھاڑے گی تو لوگ اپنے مونہوں کے بل گر پڑیں گےاور اپنی پوشیدہ ڈری سہمی نگاہیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اس وقت ظالموں کے غم میں بھرے دل ٹوٹ کر گلوں تک آجائیں گےاور نیک بخت و بدبخت سب کی عقلیں کام کرنا چھوڑ دیں گی۔ اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی جانب توجہ فرمائے گا اور فرمائے گا : تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ جب لوگ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے اس طرح کی تفتیش کو دیکھیں گے تو گناہ گاروں کا خوف مزید بڑھ جائے گا، اب باپ بیٹے سے، بھائی بھائی سے اور شوہر بیوی سے بھاگے گا اور ہر ایک ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کا منتظر ہو گا، ایک ایک کی پکڑ کی جائے گی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ براہِ راست اس سے اس کے قلیل وکثیر اور ظاہر وپوشیدہ عمل نیز تمام اعضاء کے متعلق باز پرس فرمائے گا۔ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ صحابَۂ کرام نے عرض کی : یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے ربّ کو دیکھیں گے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : کیا تم دوپہر کے وقت کہ جب بادل نہ ہوں سورج کے دیکھنے میں شک کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی : نہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر ارشاد فرمایا : جب بادل نہ ہوں تو چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں شک کرتے ہو؟ انہوں پھر عرض کی : نہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! تم اپنے ربّ کو دیکھنے میں بھی بالکل شک نہ کرو گے، بندہ اپنے ربّ سے ملے گا اور رب عَزَّ وَجَلَّ اس سے فرمائے گا : کیا میں نے تجھے عزت نہ دی؟کیا سردارنہ بنایا؟کیا تیرا جوڑا نہ بنایا؟ کیا تیرے لئے اونٹ اور گھوڑے مسخر نہ کئے؟ کیا تجھے سردار نہ بنایا کہ تو مالِ غنیمت کا چوتھا حصہ لیتا تھا؟ بندہ عرض کرے گا : کیوں نہیں۔ ربّ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے میری ملاقات کا خیال تھا؟ وہ کہے گا : نہیں۔ اللہعَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : آج میں تجھےچھوڑتاہوں(یعنی فضل وثواب سےمحروم کرتاہوں)جیسے تو نے مجھےچھوڑدیا(بھلادیا) تھا۔(2 ) اے مسکین! تو اپنے بارے میں سوچ کہ جب فرشتے تجھے تیرے بازؤں سے پکڑے ہوں گے اور تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے کھڑا ہو گا وہ براہ راست تجھ سے فرمائے گا : کیا میں نے تجھ پر جوانی کا انعام نہیں فرمایا ؟ تو نے اسے کن کاموں میں گزارا؟ کیا میں نے تجھے زندگی میں مہلت نہ دی؟ تو نے اسے کہاں فنا کیا؟ کیا میں نے تجھے مال نہ دیا؟ تو نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ کیامیں نے تجھے علم سے عزت نہ بخشی؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟اس وقت تیری حیا وشرمندگی کا کیا عالم ہو گا، ربّ تعالیٰ تجھ پر اپنے انعامات اور تیری نافرمانیاں نیز اپنے احسانات اور تیری برائیاں شمار کروائے گااور اگر تو انکار کرے گا تو تیرے اعضاء تیرے خلاف گواہی دیں گے۔

جب اعضاء گفتگو کریں گے!

حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول ُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھل کرمسکرائے پھر ارشاد فرمایا : تم جانتے ہو میں کیوں مسکرایا؟ ہم نے عرض کی : اَللّٰہُ وَرَسُوْلُـہ ٗ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اس بات پر کہ بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے مخاطِب ہوگا اور کہے گا : اے میرے ربّ کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ ربّ تعالیٰ فرمائے گا : کیوں نہیں۔ بندہ عرض کرے گا : میں تو اس وقت مانوں گا جب مجھ ہی میں سے کوئی گواہ ہو۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے اور اعمال نامہ لکھنے والے معزز فرشتے حاضر ہیں۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : پس اس کے منہ پر مہر کر دی جائے گے اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا بولو۔ چنانچہ ہر عضو اس کے اعمال کی خبر دے گاپھر اس کے منہ سے مہر ہٹائی جائے گی تو وہ اپنے اعضاء سے کہے گا : تمہارے لئے دوری اور بربادی ہو میں تمہاری طرف سے ہی تو دفاع کرتا تھا۔(3 ) پس ہم تمام مخلوق کے سامنے اعضاء کی گواہی کے ذریعے ہونے والی ذلت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں، ہاں! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مومن سے وعدہ فرمایا ہے کہ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور کسی دوسرے کو اس پر مطلع نہیں کرے گا۔

رب ّ تعالٰی سے ملاقات کی کیفیت :

ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے پوچھا : آپ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سرگوشی کے بارے میں کیا فرماتے سنا؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تم میں کوئی اپنے ربّ کے قریب ہوگا حتّٰی کہ اپنا شانہ اس پر رکھے گا (جیسے اس کے شایان شان ہے) ربّ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : تو نے فلاں فلاں عمل کیا؟ بندہ عرض کرے گا : جی ہاں۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : تو نے فلاں فلاں عمل بھی کیا؟ وہ کہے گا : جی ہاں۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : میں نے دنیا میں تیری پردہ پوشی فرمائی اور آج میں تیری خطاؤں کو معاف کرتا ہوں۔(4 ) سرکارِمکہ مکرمہ،سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : مَنْ سَتَرَعَلٰی مُوْمِنٍ عَوْرَتَہُ سَتَرَ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ یَوْمَ الْقِیَامَة یعنی جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(5 ) اس بات کی امید اس بندۂ مومن کے لئے کی جا سکتی ہے جو لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہو اور ان کی طرف سے کوئی کوتاہی ہو تو اسے برداشت کرتا ہو، اپنی زبان پر ان کی برائیاں نہ لاتا ہو اور نہ ہی پیٹھ پیچھے ایسی بات کہتا ہو کہ اگر ان کے سامنے کہی جائے تو انہیں برا لگے، ایسا شخص اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ اسے قیامت کے دن اسی کے مثل بدلہ دیا جائے۔فرض کراگر تیری پردہ پوشی بھی کی گئی تو کیا پھر بھی تیرے کانوں سے پیشی کی ند انہیں ٹکڑائے گی؟تیرے گناہوں کے بدلے کے طور پر یہ خوف بھی تیرے لئےکافی ہے کیونکہ تجھے تیری پیشانی سے پکڑ کر کھینچا جائے گا اس وقت تیرا دل بے چین ہوگا، عقل ہَوا ہوجائے گی، شانے تھرتھرا رہے ہوں گے، اعضاء کانپ رہے ہوں گے اور رنگ بدل جائے گا ، شدتِ خوف کی وجہ سے سارا جہاں تجھے اندھیرے میں ڈوبا ہوا لگے گا،اپنی فکر کر کہ اسی حالت میں تو لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ،صفوں کو چیرتا آگے بڑھ رہا ہو گااور تجھے پیچھے رہ جانے والے گھوڑے کی طرح کھینچا جا رہا ہو گا اور تمام مخلوق تجھے نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھے گی، اب تو خیال کر کہ تو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہے اور اسی حالت میں وہ تجھے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کے عرش تک لے جا کر پھینک دیتے ہیں، اب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے عظیم کلام سے تجھے یوں ندا فرماتا ہے : اے ابن آدم! میرے قریب ہوجاچنانچہ توپریشان وغمگین اور ٹوٹے دھڑکتے دل کے ساتھ ذلیل وشرمسار قریب ہوتا ہے اب تجھے تیرا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں تیرا ہر چھوٹا بڑا گناہ درج ہے، کتنے ہی گناہ ایسے ہوں گے جنہیں تو بھول گیا ہو گا تو یہ نوِشْتَہ تجھے یاد دلائے گا اور کتنی ہی نیکیاں ایسی ہوں گی جن کی آفات سے تو بے خبر تھا اب ان کی برائیاں تیرے سامنےہوں گی،اب تجھے کس قدر شرمندگی اور بزدلی کا سامنا ہوگا؟ اور کس قدر تنگ دلی اور مجبوری درپیش ہو گی؟ آہ! معلوم نہیں تو کس قدم کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہوگا، کس زبان کے ساتھ جواب دے گااوراپنے کہے کو کس دل کے ساتھ سمجھے گا؟پھر ذرا یہ تو سوچ کہ تیری شرم وحیا کا کیا عالَم ہوگا جب وہ ذات بلا واسطہ تجھے تیرے گناہ یاد دلاتے ہوئے فرمائے گی : اے میرے بندے! کیا تجھے مجھ سے حیا نہ آئی کہ میرے سامنے برائیوں کے ساتھ حاضر ہوا تو نےمیری مخلوق سے حیا کی اور ان کے سامنے اچھا بنا رہا، کیا تیرے نزدیک میں اپنے تمام بندوں سےزیادہ ہلکا تھا؟میری نظر کو تو نے خود پر ہلکا جانا اور کوئی پروا نہ کی جبکہ میرے غیر کی نظر کو تو نے بہت عظیم سمجھا، کیا میں نے تجھ پر انعام نہ کیا تھا؟ تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا؟ کیا تو یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ میں تجھے نہیں دیکھ رہا اور نہ تو نے مجھ سے ملنا ہے؟ جناب سِیِّدُالْمُرْسَلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک سے اللہ ربّ العالمین اس طرح سوال کرے گا کہ درمیان میں نہ کوئی پردہ ہو گا نہ کوئی ترجمان۔(6 )

اچھی بات جہنم سے بچاتی ہے :

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزید ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے ایسے کھڑا ہوگا کہ درمیان میں کوئی پردہ نہ ہوگا پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے فرمائے گا : کیا میں نے تجھ پر انعام نہ کیا؟ کیا میں نے تجھے مال نہ دیا؟ بندہ عرض کرے گا : کیوں نہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : کیا میں نے تمہاری طرف رسول نہ بھیجا؟ وہ عرض کرے گا : کیوں نہیں۔ پس بندہ اپنے دائیں نظر کرے گا تو صرف آگ ہی نظر آئے گی پھر بائیں دیکھے گا تو بھی آگ کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا لہٰذا تم میں سے ہر ایک جہنم سے بچے چاہے کھجور کے ٹکڑے ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو اور اگر یہ بھی نہ پاؤ تو اچھی بات کے ذریعے بچو۔(7 ) حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے اس طرح تنہا ہوگا جیسے چودھویں رات کے چاند کے سامنے تنہا ہوتا ہے پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : اے ابن آدم! تجھے مجھ سے کس چیز نے دھوکے میں رکھا؟ اے ابن آدم! تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ اے ابن آدم! کیا میں تیری آنکھوں پر نگہبان نہیں تھا پھر بھی ان چیزوں کو دیکھتا تھا جو تیرے لئے حلال نہیں، کیا میں تیرے کانوں پر نگہبان نہیں تھا؟ یونہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمام اعضاء کا شمار کروائے گا۔

روزِقیامت کے چار سوال :

حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں : روز قیامت بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عدالت سے اس وقت تک نہ چھوٹے گا جب تک اس سے چار سوال نہ کر دیے جائیں : (۱)عمر کس کام میں گزاری؟(۲)اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ (۳)خود کو کن کاموں میں مبتلا رکھا؟ (۴)مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ لہٰذا اے کمزور انسان! اپنے اس وقت کی شرم اور خطرے کو بڑا جان، ہو سکتا ہے تجھے یہ کہا جائے : ہم نے دنیا میں تیرے عیبوں کو چھپائے رکھا اورآج ہم تجھے معاف کرتے ہیں۔ اس وقت تیری خوشی اور سرور کا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا اور تمام اگلے پچھلے تجھ پر رشک کریں گےاور یہ بھی ممکن ہےکہ فرشتوں کو حکم دیا جائے : اس برے بندے کو پکڑوپھر اسے طوق ڈالو اور پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ۔ اس وقت اگر تمام زمین و آسمان تجھ پر روئیں تو یقیناً تو اسی لائق ہےکیونکہ اطاعَتِ الٰہی میں کوتاہی اور فانی وکمینی دنیا جوکہ اب تیرے پاس نہ رہی اس کے بدلے اپنی آخرت بیچ کر توبڑی مصیبت اور شدید حسرت سے دوچار ہے۔
1 کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی ، باب حملة العرش وعظم خلقھم ، ص ۱۷۰، حدیث :۴۸۰ 2 مسلم ، کتاب الزھد والرقاق ، ص ۱۵۸۷، حدیث :۲۹۶۸ 3 مسلم ، کتاب الزھد والرقاق ، ص ۱۵۸۸، حدیث :۲۹۶۹ 4 بخاری ، کتاب الادب ، باب ستر المؤمن علی نفسہ ، ۴ / ۱۱۸، حدیث :۶۰۷۰ 5 سنن ابن ماجہ ، کتاب الحدود ، باب الستر علی المؤمن ودفع الحدود بالشبھات ، ۳ / ۲۱۹، حدیث :۲۵۴۶ 6 بخاری ، کتاب الزکاة ، باب الصدقة قبل الرد ، ۱ / ۴۷۷، حدیث :۱۴۱۳ بخاری ، کتاب الرقاق ، باب من نوقش الحساب عذب ، ۴ / ۲۵۷، حدیث :۶۵۳۹ 7 بخاری ، کتاب الزکاة ، باب الصدقة قبل الرد ، ۱ / ۴۷۷، حدیث :۱۴۱۳ ، بدون الم انعم علیک ؟“

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن