30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری فصل : مراقبہ کی حقیقت اور درجات مُقَرَّبین کی معرفَتِ خُد اوندی :
مراقبہ کی حقیقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا لحاظ کر نا اور اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوناہے۔چنانچہ اگر کوئی شخص کسی کےلحاظ کے باعث کو ئی کام چھوڑ دے تو کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں کا خیال اور لحاظ کرتا ہے۔یعنی مراقبہ دل کی اس کیفیت کانام ہے جو مَعرِفَتِ خُداوندی کاثمرہ ہےجس کےسبب اعضاء اور دل میں کچھ اعمال پیدا ہوتے ہیں۔ایسی کیفیت میں دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاحکام کالحا ظ کرتا،اسی کی جانب مشغول رہتا،اسی کی طرف متوجہ ہوتا،اسی کی ذات کو پیش نظر رکھتا اور اسی کی طرف رجوع کرتاہے۔
اس کیفیت کانتیجہ وثمرہ مَعرِفَتِ خُدا وندی یعنی اس بات کا علم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دل کی باتوں پر مطلع ہے، پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے،بندوں کے اعمال کو دیکھ رہا ہےاور ہرجان کے عمل سے واقف ہے۔ اس پر دل کا راز اس طرح عیاں ہے جیسےمخلوق کے لئےجسم کا ظاہری حصہ عیاں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عیاں ہے۔ جب اس طرح کی معرفت حاصل ہو جائے اور شک یقین میں بدل جائے تو یہ معرفت دل پر مکمل غلبہ حاصل کرلیتی ہےالبتہ بہت ساری چیزوں کا علم یقینی ہوتا ہے لیکن پھر بھی ان کا دل پر غلبہ نہیں آتاجیسے موت کا علم۔پھر جب دل پر معرفت کا غلبہ ہوگا تو دل رب تعالیٰ کی رعایت اور لحاظ کرنے کی طرف مائل ہوگا اور اس کی طرف اپنی توجہ رکھے گا۔اس معرفت کے ذریعے یقین حا صل کرنے والوں کو’’مُقرَّبین‘‘کہتے ہیں۔
مُقَرَّبین کے مراتب :
مقربین کی دو قسمیں ہیں : (۱)…صِدِّیْقِیْن(۲)…اصحابِ یمین۔لہٰذان مقربین حضرات کےمراقبہ کے بھی دو مرتبے قرار پائے۔
پہلامرتبہ :
اس سے مراد اُن مقربین کامر اقبہ ہے جو صدیقین ہیں،یہ بڑی عظمت وبزرگی والا مراقبہ ہے۔ اس مراقبہ میں دل جلالِ الٰہی میں اس قدر مستغرق اور ہیبت الٰہی سے ایسا چور ہوجاتا ہے کہ کسی دوسری چیز کی طرف اس میں بالکل توجہ کی گنجا ئش نہیں ہوتی۔
ہم اس مراقبےکے اعمال کی تفصیل میں نہیں جاتے کیونکہ اس کا تعلق فقط دل سے ہو تاہے،اعضاء سے نہیں۔ اعضا ءجائز کاموں کی طرف توجہ کرتے ہیں نہ ممنوعہ چیزوں کی طرف بلکہ یہ تو نیکیاں کرنے میں دل کے پا بند ہو تے ہیں۔ اسی لئے اعضاء کو صحیح راستے پر قا ئم رکھنے کے لئے کسی تدبیر وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی جیسا کہ نگران اگر درست راہ پرگامزن ہوتو ماتحت افراد بھی درست رہتے ہیں، دل بھی نگران ہے اگر یہ درست رہے اور اپنے معبود عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ رہے تو ما تحت یعنی اعضا ءخود بخود کسی دشواری کے بغیر درستی اور استقامت پر قائم رہتےہیں۔
اس مرتبے والے شخص کا صرف ایک عزم واراد ہ ہو تاہے اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے باقی تمام فکروں سے بچائے رکھتاہے اور اس درجے پر فا ئز شخص مخلوق سے اتنابے خبر ہوجاتا ہے کہ آنکھیں کھلی رہنے اور قوتِ سماعت درست ہو نے کے باوجود اسے آس پاس کی خبر ہو تی ہے نہ کو ئی بات سنائی دیتی۔کبھی وہ اپنے بیٹے کے پاس سے گزرجاتا مگر اسے اس کاخیال تک نہیں ہو تا۔کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آیا تو انہوں نے توجہ دلانے والے سے فرمایا : ”جب تم میرے پاس سے گزرو تو مجھے حرکت دے دیا کرو۔‘‘
آپ اس طرح کی مثا لیں دنیاوی بادشاہوں کی تعظیم کرنے والوں کے دلوں میں پائیں گے کہ یہ شاہی خُدّام بادشاہوں کے دربار میں اس قدر متوجہ ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی خبر تک نہیں ہوتی نیز بعض اوقات دل دنیا کے کسی گھٹیا کام میں مشغول ہوکر اس میں اس قدر منہمک ہو جاتا ہے کہ جو کام کرناتھا اسے بھول جاتا ہے۔
حکایت : مجھے تو کوئی دکھائی ہی نہیں دیا
حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے دریافت کیا گیا : ” آپ اس زمانے میں کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اپنی حالت کے سبب مخلوق سے بے خبر ہو؟“ فرمایا : ”میں صرف ایک شخص کو جانتا ہوں جو عنقریب آئے گا۔“تھوڑی دیر گزری کہ حضرت سیِّدُنا عُتْـبَۃُالْغُلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ داخل ہوئے۔
حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے استفسار فرمایا : اے عتبہ!کہاں سے آرہے ہو؟ انہوں نے کہا : ”فلاں جگہ سے۔“اس جگہ کا راستہ چونکہ بازار کی طرف سے تھا لہٰذاحضرت سیِّدُنا عبد الواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دریافت کیا : ”راستے میں کس کس سے ملاقات ہوئی؟“ انہوں نے کہا : ”مجھے تو کوئی دکھا ئی ہی نہیں دیا۔“
حکایت : میں نے تو اسے د یوار سمجھا
مر وی ہے کہ حضرت سیِّدُنایحییٰ بن زکریا عَلَیْہِمَا السَّلَام کسی عورت کے قریب سے گزرے، اپنا بچاؤ کرنا چاہا تو وہ عورت گر گئی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے لوگو ں نے پوچھا : ”آپ نے یہ کیا کیا؟“ فرمایا : ”میں نے تو اسے دیوار سمجھا تھا۔“
حکایت : اکثر مخلوق غافل ہے
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں ایک جماعت کے پاس سےگزرا وہ تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے،ا ن میں سے ایک شخص دور بیٹھا تھا۔ میں اس کے قریب آیا اوربا ت کر نا چاہی تو اس نے کہا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں زیادہ لذت ہے۔“ میں نے پوچھا : ”تم یہاں اکیلے کیا کر رہےہو؟“ اس نے کہا : ”میرا رب تعالیٰ اور دو فرشتے میرے سا تھ ہیں۔“ میں نے پوچھا : ”ان تیر اند ازوں میں سے سبقت لے جانے والا کون ہے؟“ فرمایا : ”جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بخش دیا۔“میں نے پوچھا : ”راستہ کہاں ہے؟“ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیااور اٹھ کر چلتے ہوئے کہنے لگا : ”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !تیری اکثر مخلوق تجھ سے غافل ہے۔“
اس طرح کی گفتگو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مشاہدے میں مستغرق رہنے وا لا شخص ہی کر تا ہے جو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بات کر تا اور اسی کے بارے میں سنتا ہے۔ایسےشخص کو زبان اور اعضاء کے مراقبہ کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اعضا ء تو دل کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔
سیِّدُناابو الحسین نوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مراقبہ :
حضرت سیِّدُناابو بکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سیِّدُناابو الحسین نوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کے پاس آئے تو انہیں نہایت دل جمعی اور خاموشی سے ایک گو شہ میں بے حس و حرکت بیٹھا پایا۔حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے پوچھا : ”آپ نے ایسی دل جمعی اورمراقبہ کہاں سے سیکھا؟“فرمایا : ”ہماری ایک بلی تھی اس سے سیکھا ہےیوں کہ جب وہ شکار کا ارادہ کرتی تو بِل کے پاس گھات لگا کر اس طرح بیٹھتی کہ اس کا ایک بال بھی حرکت نہ کرتا۔“
حکایت : ایک نوجوان کی نصیحت
حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ بن خفیف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں مصر سے رَمْلَہ حضرت سیِّدُنا ابوعلی روذباری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی سے ملاقات کے لئے نکلاتو مجھ سے حضرت سیِّدُناعیسیٰ بن یونس مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے جو زاہد کے لقب سے مشہور تھےفرمایا : ”مقامِ صُور میں ایک نوجوان اور ایک ادھیڑ عمر شخص مراقبہ کی حالت میں ہیں، اگر تم ان سے ملنے جاؤ تو شایدتمہیں فائدے کی کوئی بات معلوم ہو۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں مقامِ صور میں بھوکا پیاسا داخل ہوا،میرے جسم پر فقط اتناکپڑاتھاجس سے ستر چھپ سکے۔میں مسجد میں داخل ہوا تو دو آدمیوں کو قبلہ رخ بیٹھے ہوئے پایا۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے انہیں دوسری اور تیسری بار سلام کیا لیکن پھر بھی کو ئی جواب نہ سنا تو میں نے انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دے کر کہا کہ میرے سلام کا جواب دیجئے۔ نوجوان نے مراقبہ سے سر اٹھاکر میری طرف دیکھ کر کہا : ”اے ابْنِ خفیف!دنیا بہت مختصرہے اور اس مختصر میں سے بھی بہت کم باقی رہ گئی ہےلہٰذا تم اس مختصر سی دنیا میں زیادہ سے زیادہ عمل کرو۔اے ابْنِ خفیف! تمہاری مصروفیات کتنی کم ہیں کہ ہم سے ملنے چلے آئے!“حضرت سیِّدُنا ابْنِ خفیف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اس کی بات نے مجھے مکمل طور پر جکڑلیا پھر وہ نوجوان سر جھکاکر دوبارہ مراقبہ میں مشغول ہوگیا۔ میں ان دونوں کے پاس ٹھہرا رہا حتّٰی کہ ہم نے ظہر اور عصر کی نماز پڑھی جبکہ میری بھوک اور پیاس سب ختم ہوچکی تھی۔ عصر کے وقت میں نےان سے کہا : مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔نوجوان نے سر اٹھا کرکہا : ”اے ابْنِ خفیف!ہم خود مصیبت میں ہیں،ہمارے پاس نصیحت والی زبان نہیں ہے۔“حضرت سیِّدُنا ابن خفیف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں تین دن ان کے پاس رہا، اس دوران میں نے کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی میں سویا اور میں نے ان دونو ں کو بھی کچھ کھاتے پیتے نہ دیکھا۔ تیسرےدن میں نے دل میں کہا : مجھے انہیں نصیحت کرنے کے لئےقسم دینی چاہئے تاکہ ان کی نصیحت سے مجھے کوئی فا ئدے کی با ت معلوم ہو۔اسی دوران نوجوان نے سر اٹھایا اور کہا : ”اے ابن خفیف! ایسے شخص کی صحبت اختیار کروجسے دیکھ کر خدا یاد آجائے اور اس کی عظمت وہیبت تمہارے دل پر چھاجائے، وہ تمہیں زبان سے نہیں عمل سے نصیحت کرے۔ وَالسَّلام اب تم جا ؤ۔“
یہ ان مراقبہ کرنے والوں کا ر تبہ ہے جن کے دلوں پر عظمت وہیبت کا اتناغلبہ ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کے خیال کی گنجائش نہیں ہوتی۔
دوسرا مرتبہ :
اُن مقربین کا مراقبہ جو اصحابِ یمین متقی حضرات ہیں۔انہیں کامل یقین ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے ظا ہر و باطن پر مطلع ہے۔ یہ جلالِ الٰہی کوملاحظہ کرنے کے باوُجود مدہوش نہیں ہوتے بلکہ ان کے دل حدِ اعتدال پر رہتے ہیں اور دیگر اعمال کی طرف توجہ ہونے کے باوجود مراقبہ سے غافل نہیں رہتے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ان پر غالب ہوتا ہے جس کےباعث یہ کسی بھی کام کو کرنے اور نہ کرنے سے پہلے خوب غور وفکر کرتے ہیں۔ چونکہ انہیں یقیْنِ کامل ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر با ت کو جانتا ہےاسی لئے جو چیزبروزِقیامت ذلّت و رسوائی کا سبب بنے یہ پہلے ہی اس سے بچتے ہیں قیامت کے انتظار میں نہیں رہتے۔
مراقبہ کے مذکورہ دونوں مرتبوں کافرق مشاہدےسے واضح ہوتا ہے مثلاً آپ اگر تنہائی میں کوئی عمل کر رہے ہوں اسی دوران اچانک کوئی بچہ یا عورت آجائے اور آپ کو معلوم ہوجائے کہ وہ آپ کے عمل سے واقف ہوچکےہیں تو آپ ان سے جھجک محسوس کریں گے اور اچھی طرح سنبھل کر بیٹھیں گے نیزاپنے معاملات پر نظر بھی رکھیں گے لیکن یہ سب کچھ آپ بچے یاعورت کی تعظیم کی وجہ سے نہیں بلکہ جھجک اور حیا کی وجہ سے کررہے ہوں گے۔واضح ہواکہ بچے یاعورت کاآپ کوتنہائی میں دیکھ لیناخوف ودہشت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اس سے تو فقط آپ میں حیا اور جھجک پیدا ہوتی ہے۔ کبھی اس کے بر عکس معاملہ پیش آتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی بادشاہ یا بزرگ شخصیت آجاتی ہے، آپ ان کی تعظیم بجا لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے حتّٰی کہ اپنی تمام مصروفیات چھوڑ دیتےہیں اور یہ سب تعظیم کی وجہ سے ہوتاہے حیا کی وجہ سے نہیں۔اسی طرح بندوں کے مر تبے باری تعالیٰ کے مرا قبہ کے سلسلے میں مختلف ہیں۔ بیان کردہ دونوں مرتبے والے حضرات اپنی تمام حرکات وسکنات ،لمحات وخیالات اور تمام اختیارات پر غور و فکر کے محتاج رہتے ہیں۔
غور وفکر کے مراحل
غور وفکر کے دومرحلے ہوتے ہیں : (۱)…عمل شروع کرنے سے پہلےاور(۲)…عمل کرتے وقت۔
پہلا مرحلہ : عمل سے پہلےغوروفکر
عمل سے پہلے غور وفکر کرنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ سامنے ظاہر ہوا یا دل میں عمل کے لئے حرکت پیدا ہوئی تواس پر غور کرلے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لئے ہے یا نفسانی خواہشات کی وجہ سے یا شیطان کی پیروی میں ہے؟پھر اس سلسلے میں خوب غوروفکر کرے حتّٰی کہ نورِ حق کے ذریعےاس پر کوئی بات واضح ہوجائے۔پھراگر وہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہو تو کرلے اور اگر نفس وشیطان کی طرف سے ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حیا کرتے ہوئے اس کام سے باز رہےاور نفس کو اس گناہ کی طرف رغبت کرنے اور مائل ہونے پر ملامت کرے نیزنفس کواس فعل کی برائی سے آگاہ کرے اور بتائے کہ یہ رُسوائی کی کوشش ہے، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ محفوظ نہ رکھتا تو یہ عمل خود سے دشمنی کرنے کےمترادف ہوتا۔
کسی عمل کے گناہ یانیکی کا علم ہونے تک یہ غوروفکر ضروری اور واجب ہے۔اس سے راہِ فرار کی گنجائش نہیں۔
ہر عمل کے متعلق تین سوال :
روایت میں آتا ہے کہ بندے کاعمل کتنا ہی چھوٹا ہواس کے با رے میں تین سوالات کیے جائیں گے : (۱)…یہ عمل کیوں کیا؟ (۲)…کیسے کیا؟اور(۳)…کس کے لئے کیا؟ (1 )
مطلب یہ ہے کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اپنے رب تعالیٰ کاحکم سمجھ کر کیایاخواہِشِ نفس کی وجہ سے ؟ اگر بندہ اس مرحلے میں کامیا ب ہو گیا کہ اس کا م کورب تعالیٰ کاحکم سمجھ کر کیا تو دوسرا سوال ہوگا کہ کیسے کیا؟ کیونکہ ہر عمل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے کچھ شرائط واحکام ہوتے ہیں اور بغیر علم کے اس کی مقدار اور اوقات واوصا ف سے آگاہی ممکن نہیں لہٰذا اس سے سوال ہوگا کہ یہ عمل عِلْمِ یقین کےساتھ کیا یا جہالت اور گمان کے باعث کیا؟اگر اس مرحلے میں بھی کامیاب رہا تو تیسرا سوال اخلاص کے بارے میں ہوگا کہ کس کے لئے عمل کیا؟ خالصۃً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا اور ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ “ پر عمل کرتے ہوئے کیا؟اگر یہ صورت ہو تو بندے کا اجر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِمَّۂ کرم پر ہوگااور اگرلوگوں کو دکھانے کے لئے کیاتو اجر بھی انہی سے طلب کرنے کا فرمایا جائے گااور اگر دنیاوی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے عمل کیا تو فرمایاجائے گا : ”تجھے اس کااجر دنیاوی نعمتوں کی صورت میں ہم نے دے دیا۔“اگر غفلت اور بھول کے طور پر عمل کیا تو اجر بھی ضائع عمل بھی ضائع اور کوشش بھی برباد گئی۔ اگر غیْرِخداکے لئے عمل کیاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب اور ناراضی لازم ہوگئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سےفر مائے گا : تومیرا بندہ تھا میرا رزق کھاتاتها اور میری نعمتوں سے نفع حاصل کرتا تھا پھر بھی تو نے دوسروں کے لئےعمل کیا۔ کیا تونے میرے یہ فرامین نہ سنے تھے :
(1)…
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ ( پ ۹، الاعراف : ۱۹۴)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک وه جن كوتم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں۔
(2)…
اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ ( پ ۲۰، العنکبوت : ۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک وہ جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو اور اس کی بندگی کرو۔
تجھےکیا ہوگیا کہ تو نے میری یہ بات بھی نہ سنی :
اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ- ( پ ۲۳، الزمر : ۳) ترجمۂ کنز الایمان : ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔
جب بندہ اس با ت کو سمجھ جاتاہے کہ اسے اس طرح کے مختلف سوالات اور زبر دست بازپُرس کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ اپنے نفس کوان سوالات کے ہو نے سے پہلے ہی سوالات اور باز پُرس کے لئے تیارکرتا ہے تاکہ درست جواب دے سکے۔الغرض !ہر کام میں غور وفکر لازمی ہونا چاہئےخواہ وہ کام شروع کیا جائے یا دوبارہ کیاجائےیہاں تک کہ پلک اور انگلی کوبھی سوچ و بچار کے بعد حرکت دے۔
حسن اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا : ’’بے شک آدمی سے آنکھوں کے سرمے،انگلیوں سے مٹی کھرچنے اور اپنے بھائی کے کپڑوں کو چھونے کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔‘‘(2
غوروفکر کے متعلق چاراقوالِ بزرگانِ دین :
(1)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : بزرگانِ دین صدقہ کرنا چاہتے تو غور و فکر کرتے اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا نظر آ تی تو صدقہ کردیتے۔
(2)…آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی سے منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جو کسی چیز کا ارادہ کرتے وقت غو روفکر کر تا ہے پھر اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہو تو کر گزرتا ہے اور اگر غیْرِخدا کے لئے ہو تو رک جاتا ہے۔
(3)…حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مر وی ہے کہ انہیں حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا : جب کسی بات کا ارادہ کرو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو۔(3 )
(4)…حضرت سیِّدُنا محمد بن علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مومن خوب غور و فکر کرنے والا ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر کسی کام كا ارادہ کرتا ہے۔وہ رات کے وقت لکڑیاں چننے والے کی طرح نہیں ہوتا(کہ جو کچھ مل جائے اسے اٹھالے)۔
یہ مراقبہ کے سلسلے میں پہلا مرحلہ ہے جس میں انسان پختہ علم، اعمال کے اَسرارپرحقیقی معرفت اور نفس و شیطان کے مکروفریب کی آگاہی سے ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔لہٰذاجب تک انسان اپنی ذات ،اپنے رب، اپنے دشمن یعنی شیطان اورنفسانی خواہش کےموافق اشیاء کو جان نہ لے یا اپنی حرکات وسکنات،نیت وارادے میں رب تعالیٰ کے نزدیک اچھی بُری اشیاءکے درمیان فرق کو جان نہ لے اس وقت تک مراقبہ پر استقامت نہیں مل سکتی۔بہت سے لوگ جہالت والےکاموں کواچھاسمجھ کران میں پڑجاتے ہیں حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کاموں کوناپسندفرمارہا ہوتا ہے۔
جہالت کا عذر قبول نہیں :
خبردار!علم سیکھنے پر قادر ہونے کےباوجودجاہل رہنے کا عذر ہرگزقابلِ قبول نہیں بلکہ علم حاصل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالِم کی دورکعتیں غیْرِ عالِم کی ہزار رکعات سے افضل ہیں کیونکہ عالم نفس کی آفات، شیطان کی مکاریوں اور دھوکے کے مقامات سے واقف ہوتا ہےجس کے باعث وہ ان سے بچ سکتا ہے جبکہ جاہل کوتو ان باتوں کی پہچان ہی نہیں ہوتی تو وہ بچے گاکیسے؟ جاہل تو ہمیشہ مشقت میں مبتلا رہتا ہے اور شیطان اس پر ہنس رہاہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں جہالت اور غفلت سے بچا ئے کیونکہ یہ ہربدبختی اور نقصان کی جڑ ہے۔
ہر آدمی پر غوروفکر ضروری ہے :
ہر آدمی پر لازمی ہے کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ یا عملاً سعی کرنا چاہے تو اپنے ارادے اور سعی سے پہلے اس میں غوروفکر کرے اور کچھ دیر توقُّف کرے یہاں تک نورِ علم کے ذریعے واضح ہوجائے کہ یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہےتاکہ اسے کر لیا جائے یا نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہے تو اس سے بچا جائےاور دل کو اس میں غور وفکر کرنے سے بھی روکاجائے کیونکہ باطل کام میں مبتلا ہونے سے پہلےنفس کا احتساب نہ کیا جائے تو اس میں رغبت بڑھ جاتی ہے اور رغبت ارادے کو جنم دیتی ہے اور ارادہ عمل کا سبب بنتا ہے اورباطل عمل بر بادی اورخداتعالیٰ سے دوری کا سبب ہوتا ہے۔اسی لئے شر کے مادے یعنی قلبی وسوسوں کو شروع ہی میں جڑسے اکھا ڑ پھینکناچاہئے کیونکہ دیگر امور اسی کی پیروی میں رونماہو تےہیں۔
خود غوروفکر نہ کرسکے تو کیا کرے؟
جب کسی شخص کو شیطانی مکر وفریب کا علم نہ ہوسکے اور حقیقت واضح طور پر سامنے نہ آسکے تو نورِ علم سے اس میں غور و فکر کرے اورنفس میں پیداہونے والے شیطانی مکروفریب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگے اور اگر خود غوروفکر بھی نہ کرسکے تو علمائے کرام سے راہ نما ئی حاصل کرے مگر گمراہ کن اور دنیادارعلما سے اس طرح بچے جس طرح شیطان سے بچتاہےبلکہ اس سے بھی زیادہ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ دنیا کی محبت کے نشے میں مست عالِم کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو،ایساعالِم بندوں کو میری محبت سے دور کرتا ہے اور ایسے علما میرے بندوں کو ڈاکوؤں کی طرح لوٹنے والے ہیں۔
لہٰذاجو دل دنیا کی محبت اور اِس کی حرص و ہَوس کی وجہ سے سیاہ ہو جائیں وہ معرفت اورنو رِ الٰہی سے محروم رہتے ہیں کیونکہ دلوں میں انوار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجہ ہونے سے پیدا ہو تے ہیں تو جو شخص باری تعالیٰ کی بارگاہ سے پیٹھ پھیرے اور اس کے دشمن کی طرف متوجہ ہوجائےنیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےغضب کاسبب یعنی دنیاوی خواہشات کا دلدادہ ہو وہ انوار ِالٰہیہ کی تجلی کیسے حاصل کرسکےگا؟
ارادت مند سب سےپہلے کیا کرے؟
ارادت مندسب سے پہلے اچھی طرح علم حاصل کرے اور کسی ایسے عالِم کو تلاش کرے جو دنیا سے بےرغبت ہواوراگر ایساعالم نہ ملے توکم رغبت والے کو تلاش کرے۔سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتےہیں : ” اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْبَصَرَ النَّا قِدَ عِنْدَ وُرُوْدِ الشُّبُھَاتِ وَالْعَقْلَ الْـکَامِلَ عِنْدَھُجُوْمِ الشَّھَوَاتِ یعنی بےشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ شبہات کے وقت پرکھنے والی نگاہ اور خواہشات کے حملے کے وقت کا مل عقل کو پسند فرماتا ہے۔“(4 )
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان دو لازم وملزوم چیزوں کواکٹھےبیان فرمایا کیونکہ جس شخص کے پاس خواہشات سے روکنے والی عقل نہ ہو اس کے پاس شبہات کو پرکھنے والی نگاہ بھی نہیں ہوسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” مَنْ قَارَفَ ذَنْبًافَارَقَہ ٗ عَقْلٌ لَا یَعُوْدُ اِلَیْہِ اَبَدًا یعنی جس شخص نے گناہ کیا اس کی عقل ہمیشہ کے لئے رخصت ہوجاتی ہے۔“(5 )
ذراسوچئے!انسان کےپاس سعادت مندی حاصل کر نےکےلئے عقل ہےہی کتنی؟اب اگراسےبھی گناہوں میں ضائع کر دیاجائے توکیابنے گا؟
اعمال کی آفا ت کا علم :
اس دور میں اعمال کی آفات کو جاننے کا علم ختم ہوگیا ہے،لو گ اس علم کو چھوڑ کر خواہشاتِ نفس کی خاطر لوگوں کے درمیان پیش آنے والے جھگڑوں کے مسائل میں مشغول ہوگئے اور اس کا نام’’ فقہ‘‘ رکھ دیا اور اعمال کی آفات کو جاننے کے علم کو جو کہ علم دین سے ہے اسے علم کی فہرست ہی سےنکال دیا۔ اب فقہ کا تعلق فقط دنیاداری سے رہ گیا حالانکہ عِلْمِ فقہ کامقصد دلوں کو دنیاوی مشاغل سے دور کرکے دین کی سمجھ کے لئے فارغ کر ناتھااور دنیاوی مسائل کو جاننا توعلم دین کا ایک ذریعہ تھا (لیکن لوگوں نے اس ذریعہ کو مقصد بنالیا)۔
حدیث پاک میں ہے : تم اِس وقت ایسے زمانے میں ہو کہ تم میں جو عمل میں جلدی کر ے وہ بہتری پر ہوگا جبکہ عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ جو تم میں غوروفکر کرے گا وہ بہتری پر ہوگا۔(6 )
یہی وجہ ہے کہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت نے عراقیوں اور شامیوں سے لڑنے میں توقف کیا کیونکہ ان پر یہ معاملہ مشتبہ ہوگیا تھاجیسے حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر، حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید، حضرت سیِّدُنا محمد بن مسلمہ اور دیگر صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ۔
شبہ کے وقت توقف نہ کر نے والاشخص اپنی خواہش کی پیروی اور اپنی رائے کو فو قیت دینے والاہے اور ایسا شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں سرکار دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جائے، خواہِشِ نفس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے دینے والا اپنی رائے کو پسند کرے تو اس وقت تم اپنی فکر کرو۔“(7 )
جوبھی شخص بلاتحقیق شُبہ والی چیزوں میں اظہارِرائے کرتا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس ارشاد گرامی کی مخالفت کرنے والاہے : وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ- ( پ ۱۵، بنی اسرآئیل : ۳۶) ترجمۂ کنز الایمان : اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔
اس نے سرکارمدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فر مان کی بھی مخالفت کی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں : ” اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَ اَکْذَبُ الْحَدِیْث یعنی اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔“(8 )
اس سے مراد بغیر دلیل والے گمان ہیں جیسے عوام مشتبہ اُمور میں اپنے دل سے فتوٰی لے کر اپنے گمان کے مطا بق عمل کر لیتے ہیں ۔اس معاملے کی نزاکت و عظمت کے پیش نظر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یوں دعا فرمایا کرتے : ” اَللّٰھُمَّ اَرِنِی الْحَقَّ حَـقًّا وَارْزُقْنِی اتِّبَاعَہ ٗ وَاَرِنِی الْبَاطِلَ بَاطِلًاوَارْزُقْنِی اجْتِنَابَہ ٗ وَلَا تَجْعَلْہ ٗ مُتَشَابِھًا عَلَیَّ فَاَ تْبَعُ الْھَوٰی یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھ پر حق کو واضح فرماکر اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما اور باطل کو میرے سامنے واضح کرکے اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما اور مجھ پر کسی مُعاملے کو مشتبہ نہ فر ماکہ میں نفسا نی خواہشات کی پیروی میں لگ جا ؤں ۔“
معاملات کی تین قسمیں :
حضرت سیِّدُنا عیسٰی روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : مُعاملات تین قسم کے ہیں : (۱)…جس کا اچھا ہونا ظاہر ہو اس کی اتباع کرو (۲)…جس کی خرابی وگمراہی واضح ہو اس سے بچواور (۳)…جس با ت میں تمہیں شبہ لاحق ہواسے کسی عالم سے پو چھو۔(9 )
رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس طرح دعا فرمایا کر تے : ” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَقُوْلَ فِی الدِّیْنِ بِغَیْرِ عِلْم یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !میں بغیرعلم کے دین میں کوئی بات کرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“(10 )
سب سے بڑی نعمت :
بندوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سب سے بڑی نعمت علم اور حق کوواضح فر ماناہے اور ایمان بھی ایک قسم کا علم اور واضح حق ہے۔اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پراحسان کاذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
(1)…
وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( پ ۵، النسآء : ۱۱۳) ترجمۂ کنز الایمان : اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔
اس آیت میں فضل سے مراد علم ہے۔
(2)…
فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳) ( پ ۱۴، النحل : ۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان : تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔
(3)…
اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ(۱۲) ( پ ۳۰، اللیل : ۱۲) ترجمۂ کنز الایمان : بے شک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔
(4)…
ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ(۱۹) ( پ ۲۹،ا لقیامة : ۱۹) ترجمۂ کنز الایمان : پھر بے شک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمّہ ہے۔
(5)…
وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ ( پ ۱۴، النحل : ۹) ترجمۂ کنز الایمان : اور بیچ کی راہ ٹھیک اللہ تک ہے۔
سیِّدُناعلی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے اقوال زریں :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :
٭…نفسانی خواہشات اندھے پن کانام ہے۔
٭…پر یشا نی میں غورو فکر سے کام لینا توفیْقِ خُداوندی ہے۔
٭…غم کو ٹالنے والی بہترین چیز یقین ہے۔
٭…جھوٹ کاانجا م ند امت ہے اور سچ بو لنے میں عا فیت وسلامتی ہے۔
٭…دوررہنے والے بہت سے لوگ انتہائی قریب ہوتے ہیں۔
٭…اجنبی وہ ہےجس کاکوئی دوست نہیں۔
٭…صدیق وہ ہے جو بغیر دیکھے تصدیق کرے۔
٭…بدگما نی تمہیں کسی بھی دوست سے محروم نہ کر ے۔
٭…فر اخ دلی بہترین وصف ہے۔
٭…ہر اچھی بات کی بنیاد حیا ہے۔
٭…تقوٰی سب سے مضبوط رسی ہے۔
٭…سب سے مستحکم سبب وہ ہے جو تمہارے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہو۔
٭…دنیا میں تمہارے لئے سب سے اچھی چیز وہ ہے جس کے ذریعے تم اپنی آخرت سنوارو۔
٭…رزق دو ہیں ایک وہ جسے تم تلاش کرواور دوسرا وہ جو تمہیں تلاش کرے کہ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو تو وہ خود تمہارے پاس آجائے۔
٭…اگر تم مصیبت پہنچے پر واویلا کرو توکسی چیز کے نہ ملنے پر واویلا نہ کرو بلکہ اس کے بارے میں یہ گمان کرو کہ وہ ہے ہی نہیں کیونکہ تمام اُمور یکساں ہیں کہ انسان باقی رہنے والی نعمت کے حصول پر خوش ہوتا ہے اور جسے حاصل نہ کرسکے اس پر ناخوشی کااظہار کرتا ہے۔
٭…تمہیں دنیا میں جو کچھ ملے اس پر زیادہ خوش نہ ہو اور جو تمہیں نہ مل سکا اس پر افسوس بھی نہ کرو۔
٭…تمہیں آخرت کے لئے کئےجانے والے اعمال پر خوش ہونا چاہئے اور غفلت پر افسوس کرنا چاہئےلہٰذا آخرت میں مشغول ہوجاؤ اور قبر کی تیاری میں لگ جاؤ۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ان فر امیْنِ مُبارَکہ کو ذکر کر نے کا مقصد یہ ہے کہ پر یشا نی میں غورو فکر سے کام لینا توفیْقِ خداوندی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مراقبہ کرنے والے کو سب سے پہلے یہ غو ر وفکر کر نی چاہئے کہ اس کےارادے اور دل میں عمل کے لئے پیدا ہو نےوالی حرکت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لئے ہے یا نفسانی خواہشات کے لئے؟
تین باتوں کے سبب ایمانِ کامل :
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں : تین باتیں جس میں پائی جائیں وہ کامل ایمان وا لا ہے : (۱)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرے (۲)…کسی عمل میں ریاکاری نہ کرے اور(۳)…جب سامنے دو باتیں پیش ہوں ایک کا تعلق دنیا سے ہو اور دوسری کاآخرت سے تو دنیا پر آخرت کو ترجیح دے۔(11 )
اکثر اوقات یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ عمل مباح ہے لیکن وہ بے فائدہ ہوتا ہےتو ایسے عمل کو چھوڑدے کیونکہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہ ٗ مَالَا یَعْنِیْہ ٖیعنی آدمی کے اسلام کی خوبی سے ہے کہ وہ بے فائدہ کام کو چھوڑ دے۔“(12 )
دوسرا مر حلہ : عمل شروع کرتے وقت غور وفکر
عمل شروع کرتے وقت کیفیَتِ عمل کاجائزہ لے تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق کو پورا کرسکے اور اسے پورا کرنے میں اچھی نیت کر ے اورپورے طو ر پرانجا م دےاوراسے بجا لانے میں پوری کو شش صرف کرے۔ یہ تمام باتیں ہروقت لازم ہیں کیونکہ انسان کاکوئی لمحہ حرکت وسکون سے خالی نہیں ہوتا لہٰذا انسان جب ہرلمحہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کوپیش نظر رکھے گا تو اچھی نیت،حُسْنِ عمل اور ادب کے سبب عبادت پر قادر ہوگا۔
قبلہ رو بیٹھنا سنت ہے :
مثلاً جب بیٹھے تو قبلہ رو بیٹھے کیونکہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” خَیْرُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِہِ الْقِبْلَةُ یعنی بہترین نشست قبلہ رو ہوکربیٹھنا ہے ۔“(13 )
چار زانوں ہوکر نہ بیٹھے کیونکہ بادشاہوں کے سامنے اس طرح نہیں بیٹھاجاتا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے جواُس پر مطلع بھی ہے۔
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم فرماتے ہیں : میں ایک دفعہ چارزانوں ہوکر بیٹھا تو ایک غیبی آواز سنی : کیا بادشاہوں کے سامنے اس طرح بیٹھتے ہیں؟ اس کے بعد میں کبھی چارزانوں ہوکر نہ بیٹھا۔
اگر کو ئی سونا چاہے تو قبلہ رو ہوکر دائیں ہاتھ پر سوئےنیز اُن تمام آداب کا اہتمام کرے جن کا ذکر ہم نے اس کتاب میں اِس کے مقام پرکیا۔ یہ تمام باتیں مراقبہ میں شامل ہیں۔ اسی طرح قضائے حاجت کے وقت بھی ان آداب کا خیال رکھنا مراقبہ میں شا مل ہے۔
اعمال میں مراقبہ کی صورت :
بندہ عام طور پر تین طرح کے عمل(۱)…عبادت (۲)…گناہ اور(۳)…مباح میں مصروف رہتا ہے۔ عبادت میں مصروف ہے تو اس کا مراقبہ اخلاص کے ساتھ پو ری طرح تمام آداب سمیت اور آفات سے بچتے ہوئے عبادت کو بجالانے سے ہوگا اوراگر گناہ میں مصروف ہے تو مراقبہ کی صورت توبہ کرنا، نادم ہونا،باز آنا، حیاکرنا اور غور و فکر میں مشغول ہونا ہےاور اگر کسی مباح کام میں مصروف ہے تو اس صورت میں آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنااور نعمتوں کے ملنے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر اد اکرنا مر اقبہ ہے۔
ہر شخص مصیبت اور نعمت کاسا منا كرتا رہتاہے لہٰذا مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکرلازمی ادا کرنا چاہئے کہ یہ بھی مراقبہ میں شامل ہے بلکہ بندے کو ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمقرر کردہ احکام كالحاظ كرنا چاہئےخواہ اس کا تعلق بجا لانے والے لازمی اُمور سے ہو یا چھوڑنے والے ممنوعہ امور سے یا بارگاہِ خداوندی میں مغفرت دلانے والے مستحب اُمور سے ہوتاکہ دیگربندگانِ خُدا سے سبقت حا صل ہو جائے یا قلب وجسم کی اصلاح اور عبادت پر مدددینے والے مباح اُمور سے ہو۔ان میں سے ہر ایک کی کچھ حدود ہیں جن کا لحاظ دائمی مراقبہ سے کر ناضروری ہے کیو نکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فر ماتا ہے :
وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ- ( پ ۲۸، الطلاق : ۱)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو اللہ کی حدوں سے آ گے بڑھا بےشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
ہر وقت نفس کاجائزہ :
اعمال کی مذکو رہ تینو ں صورتوں میں بندے کو ہر وقت نفس کاجائزہ لیتے رہنا چا ہئےپھرفرائض کے بعد اگر ممکن ہو تو نوافل کی طرف متوجہ ہواور افضل ترین عمل میں مشغولیت اختیار کرے کیونکہ جو شخص زیادہ نفع حاصل کرسکتا ہے لیکن حاصل نہ کرے تو وہ خسارے میں شما ر کیا جا تاہے اورآخرت کے نفع کی زیادتی نفلی اعمال کے زیادہ ہونے سے حاصل ہوتی ہے یوں بندہ دنیا سے آخرت کا حصہ لے لیتا ہے جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا ( پ ۲۰، القصص : ۷۷) ترجمۂ کنز الایمان : اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول۔(14 )
یہ سب باتیں كسی بھی ایک وقت میں صبرکر کے حاصل ہوسکتی ہیں کیونکہ اوقات تین ہیں۔
تین اوقات :
(۱)…گزرا ہوا وقت خواہ مشقت میں گزراہو یاآرام میں لیکن اب اس میں کچھ نہیں کیاجاسکتا (۲)…مستقبل میں پیش آنے والا وقت جس کابندے کو علم نہیں کہ زندہ رہے گا یا نہیں؟ نہ اس بات کا علم ہے کہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے گااور(۳)…موجودہ وقت، اس میں بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کوپیش نظر رکھ کرنفس سے مجاہدہ کرے تاکہ اگر آ نے والازمانہ نصیب نہ بھی ہوتو اس کے ضائع ہونے کا افسوس نہ ہو اور اگر اگلا زمانہ بھی نصیب ہوگیاتو اس میں بھی پچھلے کی طرح خوب عمل کر کے حق وصول کرے۔ پچاس سال زندہ رہنے کی امید نہ با ندھے کیونکہ اس طرح لمبی مدت کاخیال مراقبہ سے روکے گا بلکہ یہ ذہن بنانا چاہئے کہ زندگی کا وقت پورا ہوچکاہے، معلوم بھی نہ ہوا اورآخری سانس کاوقت آگیا،اب سا نس کی مالا ٹوٹنے ہی والی ہے۔ جب ایسا ممکن ہےکہ یہی آخری سانس ہو تو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ روح قبض کی جارہی ہوتو ناپسندیدگی نہ ہو اور احوالِ زندگی حضرت سیِّدُناابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث کی طرح ہوں کہ سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” لَایَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ طَامِعًا اِلَّا فِی ثَلَاثٍ تَزَوُّدٍ لِمَعَادٍ اَوْمَرَمَّةٍ لِمَعَاشٍ اَوْلَذَّةٍ فِی غَیْرِ مُحَرَّمٍ یعنی مومن صرف تین باتوں کی خواہش رکھتا ہے (۱)آخرت کی تیاری (۲)زندگی کی درستی اور(۳) حلال چیز کی لذت۔“(15 )
عقل مند شخص کے اوقات :
حضرت سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی مروی دوسری روايت میں ہے کہ عقل مند شخص کے اوقات چار اقسام کے ہوتے ہیں : (۱)…جس میں ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگا ہ میں مناجات کرے (۲)…جس میں محاسَبۂ نفس کرے (۳)…جس میں خَلْقِ خُدا میں غور وفکر کرے اور (۴)…جس میں کھانے پینےکاانتظام کرے۔(16 )
کھانے کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ کھانے پینے کاوقت باقی تین اوقا ت کے لئےمدد گار ثابت ہوتا ہے، البتہ کھانے پینے کے وقت کوبھی افضل عمل یعنی ذکر و فکر میں گزارے۔مثلاً جو کھانا کھارہاہے اس میں ہزارہا حکمتیں ہیں کہ اگر انہیں غور و فکر کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرے تو یہ بہت سےجسمانی اعمال سے افضل واعلیٰ ہے۔اس سلسلے میں لوگوں کی کئی اقسام ہیں۔
کھانے پینے کی اشیاءکے متعلق لوگوں کی اقسام :
٭…بعض لوگ کھانے کوعبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کس طرح جاندار کی زندگی کواس سے وابستہ فر مایااوراس كے حصول کےکیسے کیسےاسباب بنادئیے؟ کھا نے کی خواہشات کو پیدا فرمایا اور انہیں ان خواہشات کا پابند کیا۔اس طرح کی بعض باتیں ہم’’صبر وشکر کے بیان‘‘میں ذکر کرچکےہیں۔اس قسم کی غور وفکر بصیر ت یافتہ لوگ ہی کرتے ہیں اور یہ ان ہی کا مقام ہے۔
٭…کچھ لوگ کھانے پینے کی اشیاء کو(دنیا ہونےکی وجہ سے) ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،اگر استعمال کرتے بھی ہیں تو نہایت مجبوری کی حالت میں نیز ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کھانے پینے سے بے نیاز کر دئیے جائیں لیکن مجبورہوتے ہیں۔ یہ دنیا سے بے رغبتی رکھنے والوں کا مقام ہے۔
٭…بعض لوگ کھانے پینے کی اشیاء کی تخلیق کو دیکھ صفات باری تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لئے مخلو ق کامشاہدہ غورو فکر کا سبب بنتا ہے اور یہ نہا یت اعلیٰ مقام ہے۔اسےعارفین کا مقام اور مُحبِّین کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ مُحب جب اپنے محبوب کی کوئی تصنیف یا اس کی بنی ہوئی کسی شے کو دیکھتا ہے تو وہ کاریگری کو بھول جاتا ہے اور اس کا دل تخلیق کرنے والے میں مشغول ہوجاتا ہے۔بندہ کسی بھی مخلوق میں غور و فکر کرے اس میں ذاتِ باری تعالیٰ کی نشانی ضرور پائے گا بشرطیکہ اس کے لئے غیبی دروازے کھو ل دیئے جائیں لیکن ایسے لو گ بہت کم پائے جاتے ہیں۔
٭…کچھ لوگ کھانے پینے کی اشیاء میں بہت حرص و رغبت رکھتے ہیں نہ ملنے پرافسوس اورمل جا نے پر خوش ہوتے ہیں اور اگر ملنے والی اشیاء خواہش کے مطابق نہ ہوں تواس میں عیب نکالتے ہیں اور کھلانے اور بنا نے والوں کو خوب بر ابھلاکہتے ہیں۔یہ بے شعور لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ انہیں پکانے کا طریقہ و سلیقہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی جانب سے عطا ہواہے نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اجازت کے بغیر اس کی مخلوق کی مذمت کرنے والاشخص گویا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مذمت کرنے والا ہے۔اسی وجہ سے رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَاِنَّ اللّٰہَ هُوَ الدَّهْر یعنی زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی نے زمانے کو پیدا فرمایا ہے۔“(17 )
مراقبہ کے دوسرے رتبہ کا بیان مکمل ہوا،اس کی تفصیل بہت طویل ہے ہم نے مختصراً بطور تنبیہ چند باتوں کا ذکرکر دیا ہے،اگر کسی نے ان باتوں کو سامنے رکھ کرہمیشہ عمل کیاتو اس کے لئے یہی کافی ہیں۔
1 قوت القلوب ، الفصل الثالث والعشرون : محاسبةالنفس ، ۱ / ۱۴۳، ۱۴۴
2 حلیة الاولیاء ، ۱۰ / ۳۱، حدیث :۱۴۴۰۶، الرقم :۴۴۵، احمد بن ابی الحواری
قوت القلوب ، الفصل الثامن والثلاثون : فی الاخلاص وشرح النیات ، ۲ / ۲۷۳
3 سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب الزھد فی الدنیا ، ۴ / ۴۲۳، حدیث :۴۱۰۴
4 الزھد الکبیر للبیھقی ، الجزء الخامس من کتاب الزھد ، ص ۳۴۶، حدیث :۹۵۴
5 شعب الایمان للبیھقی ، باب فی المطاعم والمشارب ، ۵ / ۴۵، حدیث :۵۷۱۸ ، دون ’’ من قارف زنبا ‘‘
6 قوت القلوب ، ذکر الفرق بین علماء الدنیا وعلماء الاٰخرة ، ۱ / ۲۷۶
7 سنن الترمذی ، کتاب التفسیر ، باب ومن سورة المائدة ، ۵ / ۴۱، حدیث :۳۰۶۹
8 بخاری ، کتاب الفرائض ، باب تعلیم الفرائض ، ۴ / ۳۱۳، حدیث :۶۷۲۴
9 المعجم الکبیر ، ۱۰ / ۳۱۸، حدیث :۱۰۷۷۴
10 قوت القلوب ، الفصل الثالث والعشرون : مجالسة النفس ، ۱ / ۱۴۳
11 قوت القلوب ، الفصل الثالث والعشرون : محاسبةالنفس ، ۱ / ۱۳۹
12 سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ۱۱، ۴ / ۱۴۲، حدیث :۲۳۲۴
13 المصنف لابن ابی شیبة ، کتاب الادب ، باب من کان یستحب اذا جلس ان یجلس مستقبل القبلة ، ۶ / ۱۶۳، حدیث :۱
14 اس آیت کےتحت صدرالافاضل مفتی سیِّدمحمدنعیم الدین مرادآبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی ’’تفسیرخزائن العرفان‘‘میں فرماتے ہیں: یعنی دنیا میں آخرت کے لئے عمل کر کہ عذاب سے نجات پائے اس لئے کہ دنیا میں انسان کا حقیقی حصہ یہ ہے کہ آخرت کے لئے عمل کرے صدقہ دے کر صلہ رحمی کر کے اور اعمالِ خیر کے ساتھ اور اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی صحت و قوت و جوانی و دولت کو نہ بھول اس سے کہ ان کے ساتھ آخرت طلب کرے۔ حدیث میں ہے کہ پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، ثروت کو ناداری سے پہلے، فراغت کو شغل سے پہلے، زندگی کو موت سے پہلے۔
15 صحیح ابن حبان ، کتاب البر والاحسان ، باب ما جاء فی الطاعات وثوابھا ، ۱ / ۳۸۸، حدیث :۳۶۲
قوت القلوب ، الفصل السادس والعشرون : ذکرمشاھدةاھل المراقبة ، ۱ / ۱۶۰
16 صحیح ابن حبان ، کتاب البر والاحسان ، باب ما جاء فی الطاعات وثوابھا ، ۱ / ۳۸۸، حدیث :۳۶۲
17 مسلم ، کتاب الفاظ من الادب ، باب النھی عن سب الدھر ، ص ۱۲۳۴، حدیث :۲۲۴۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع