30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گیارہویں فصل : بندے کی اللہ تعالٰی سے مَحبت کی علامات
محبت ایک پاکیزہ درخت :
جان لیجئےکہ محبت کا دعوٰی تو ہر کوئی کرتا ہے اور دعوٰی کرنا بہت آسان ہے لیکن محبت نادرُ الوجود ہےاس لئے انسان کو نفس و شیطان کے مکر و فریب سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کا دعویٰ کر دے جب تک نفس کو علاماتِ محبت سے آزما نہ لے اور اَدِلّہ و براہین کا اس سے مطالبہ نہ کر لے۔ محبت تو ایک پاکیزہ درخت ہے جس کی جڑیں قائم اور شاخیں آسمان میں ہیں۔ اس کے پھل دل، زبان اور جوارح میں ظاہر ہوتے ہیں اور اس سے دل اور جوارح پرظاہر ہونے والے آثار محبت پر ایسے ہی دلالت کرتے ہیں جیسے دھواں آگ پر اور پھل درختوں پر دلالت کرتے ہیں اور یہ علامات بہت زیادہ ہیں۔
پہلی علامت :
ان میں سے ایک یہ ہے کہ دارُالسَّلام (سلامتی والے گھرجنت)میں محبوب یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات کو کشف اور مشَاہدہ کے طور پر پسند کرےکیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ دل کسی محبوب کو چاہے لیکن اس کے دیدار اور ملاقات کو پسند نہ کرے۔ پھر جب وہ جانتا ہے کہ محبوب سے ملاقات کے لئے موت کا جام پی کر دنیا کو چھوڑنا اور اس سے کوچ کرنا ضروری ہے تو اسے چاہئے کہ موت کو محبوب جانے ا سے نا پسند نہ جانے کیونکہ محبوب کی زیارت سے بہرہ مند ہونے کے لئے اپنے وطن سے دیارِ محبوب کی طرف راہِ سفر اختیار کر نامحب پر گِراں نہیں ہوتا اور موت ملاقات کی چابی اور مشاہدے میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔
رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مَنۡ اَحَبَّ لِقَآءَ اللّٰہِ اَحَبَّ اللّٰہُ لِقَآءَہٗ یعنی جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات پسند کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (1 )
حضرت سیِّدُنا حُذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بوقتِ وصال فرمایا : ’’ حَبِیۡبٌ جَآءَ عَلٰی فَاقَةٍ لَّا اَفۡلَحَ مَنۡ نَّدِمَ یعنی موت بڑے انتظار کے بعد آئی تواس پرغم کرنے والا فلاح نہیں پائے گا۔“(2 )
پسندیدہ خصلت :
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے : ”بندے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کی محبت کے بعد کثرتِ سجود سے بڑھ کر کوئی خصلت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو محبوب نہیں۔“
انہوں نے دیدارِ الٰہی کی محبت کو سجدے پر مقدم کیااوراس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محبت میں سچا ئی کے ثبوت کے لئے اپنے راستے میں شہادت کو شرط قرار دیا ہے چنانچہ جب لوگوں نے کہا تھا کہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے راستے میں قتل کیا جانا اور طلبِ شہادت کو اس کی علامت قرار دیاجیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا ( پ ۲۸، الصف : ۴)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف)باندھ کر۔
نیز ارشاد فرماتاہے :
یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ- ( پ ۱۱، التوبة : ۱۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وصیت جو حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمائی تھی اس میں مذکور تھا : حق بات گِراں ہوتی ہے مگر اس کے با وُجود خوشگوار اور عمدہ ہے اور باطل ہلکا ہوتا ہے لیکن اس کے باوُجود ناموافق اور برا ہوتا ہے پس اگر تم میری وصیت کو یاد رکھو گے تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی اور وہ تمہیں آکر ہی رہے گی اور اگرتم نے میری وصیّت کو ضائع کر دیا تو کوئی غائب چیز تمہارے ہاں موت سے زیادہ ناپسند نہیں ہو گی اور تم اس سے ہر گز بچ نہیں سکو گے۔
سیِّدُناعبداللہ بن جحش رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی دعائے شہادت :
حضرت سیِّدُنا اسحاق بن سعد بن ابی وقاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے والد حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی و قاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگ اُحد کے دن مجھ سے کہا : کیا ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا نہ کریں؟یہ کہہ کر وہ ایک جانب کو ہو گئے اور اس طرح دعا کرنے لگے : الٰہی!میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ کل جب میرا دشمن سے سامنا ہو تو میرا مقابلہ کسی بہادر اور سخت غصیلے شخص سے ہو اورمیں تیری رضا کے لئے اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے پھر وہ مجھے پکڑے اور میرا ناک اور کان کاٹ دے اور میرا پیٹ پھاڑ دے اور کل جب میں تجھ سے ملاقات کروں اور تو فرمائے : ” اے عبداللہ ! تیرا ناک اور کان کس نے کاٹا؟“تو میں عرض کروں : اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ !تیرے اور تیرے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے راستے میں میرا یہ حال ہوا ہے۔اور تو فرمائے : ”تو نے سچ کہا۔“
حضرت سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دن کے آخری حصے میں اس حال میں دیکھا کہ ان کا ناک اور کان ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے۔(3 )
حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عبداللہ بن جحش کی قسم کے دوسرے حصے کو یونہی پورا فرمائے گا جیسے اس کے پہلے حصے کو پورا کیا۔(4 )
موت کو ناپسند کرنے والا :
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ا ور حضرت سیِّدُنا بِشْر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی ارشادفرماتے ہیں : موت کو وہی نا پسند کرتا ہے جس کو شک ہو کیونکہ حبیب تو کسی بھی حال میں اپنے حبیب کی ملاقات کو ناپسند نہیں کرتا۔(5 )
حضرت سیِّدُنا ابو یعقوب یوسف بن یحییٰ بُوَیْطِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے کسی زاہد سے پوچھا : کیا تم موت سے محبت کرتے ہو؟اس نے کچھ توقف کیا تو آپ نے فرمایا : اگر تم زُہد میں سچے ہوتے تو ضرور موت سے محبت کرتے۔ پھر آپ نے یہ آیتِ طیبہ تلاوت فرمائی :
فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۹۴) ( پ ۱، البقرة : ۹۴) ترجمۂ کنز الایمان : تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو۔
اس شخص نے کہا کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تو یہ فرمایا ہے : ’’ لَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدُ کُمُ الۡمَوۡتَ یعنی تم میں کوئی ہر گز موت کی تمنا نہ کرے۔‘‘(6 )یہ سن کر حضرت سیِّدُناامام بُوَیْطِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے فرمایا : رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مصیبت آنے پر موت کی تمنا کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ قضائے الٰہی پر راضی رہنا اس سے فرار اختیار کرنے سے افضل ہے۔
موت کو ناپسند کرنے کےدو اسباب :
٭…پہلاسبب : اگر تم سوال کروکہ جو شخص موت کو پسند نہیں کرتا کیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مُحِب ہو سکتا ہے؟تو میں کہوں گا کہ موت کو پسند نہ کرنا بعض اوقات تو دنیا کی محبت اور اہل وعیال اور مال سے جُدائی پر افسوس کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ بات کمالِ محبتِ الٰہی کے منافی ہے کیونکہ کامل محبت وہ ہے جو سارے دل کو شامل ہو مگر ساتھ ہی اہل و اولاد کی محبت کے باوُجود محبتِ الٰہی کا ضعیف سا شائبہ ہونا بعید نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے میں لوگوں کے درمیان تفاوت ہے۔اس پر درج ذیل روایت دلالت کرتی ہے۔
فضیلَتِ سالِم بزبانِ مصطفٰے :
حضرت سیِّدُنا ابو حُذیفہ بن عُتْبَہ بن رَبِیْعہ بن عَبْدِشَمْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اپنی بہن فاطمہ کا نکاح اپنے غلام سالِم سے کر دیا تو اس پر قریش نے ان کو ملامت کی اور کہنے لگے کہ تم نے قریش کی ایک عقل مند خاتون کا نکاح غلام سے کر دیا؟توانہوں نے جواب دیا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں نے سالم کا نکاح فاطمہ سے کیا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ سالِم فاطمہ سے بہتر ہے۔قریش کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ جواب آپ کے فعل سے بھی زیادہ سخت لگا تو وہ کہنے لگے : یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ فاطمہ تمہاری بہن ہے اور سالم تمہارا غلام ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّنۡظُرَ اِلٰی رَجُلٍ یُّحِبُّ اللّٰہَ بِکُلِّ قَلۡبِہٖ فَلۡیَنۡظُرۡ اِلٰی سَالِم یعنی جو شخص ایسے بندے کو دیکھنا چاہے جوسچے دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ سالِم کو دیکھ لے ۔“(7 )
یہ حدیثِ پاک ا س بات کی دلیل ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جوسچے دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت نہیں کرتے بلکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرنے کے ساتھ غیر ُاللہ سے بھی محبت کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو بارگاہِ ربُّ العزت میں حاضری کے وقت ملاقات کی لذّت بقدرِ محبت ہو گی اور موت کے وقت دنیا چھوڑنے کا غم اسی قدر ہوگا جس قدر دنیا کی محبت ہو گی۔
٭…دوسرا سبب : موت کو ناپسند کرنے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ بندہ مقامِ محبت کی ابتدا میں ہوتا ہے اور وہ موت کو تو نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کی تیاری سے پہلے ہی موت کے آنے کو برا جانتا ہے اور یہ بات ضعْفِ محبت پر دلالت نہیں کرتی اور اس شخص کی مثال اس محب کی سی ہے جس کو محبوب کے آنے کی خبر پہنچے اور محب یہ چاہتا ہو کہ اس کا آنا کچھ دیر کے لیے مؤخر ہو جائے تا کہ اس کے لئے اپنے گھر کو آراستہ کر لے اور اس کے لئے تمام سامان تیار کر لے تا کہ قلبی شواغِل اور مَوانع سے فارغ اور ہلکا ہوکر جیسے چاہتا ہے ویسے ملاقات کرے تو اس سبب سے موت کو برا جاننا کمالِ محبت کے بالکل منافی نہیں ہے۔ اس کی علامت عمل میں کوشش کرنا اور فکرِ آخرت میں ڈوبے رہنا ہے۔
دوسری علامت :
محبَّتِ الٰہی کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پسند کو اپنے ظاہر اور باطن سے اپنی پسند پر ترجیح دے، لہٰذا اعمالِ شاقہ بجا لائے، خواہشات کی پیروی سے اجتناب کرے، سستی و غفلت سے اِعراض کرے، ہمیشہ عبادتِ الٰہی پر کاربند رہے، نوافل کے ذریعے اس کا قُرب حاصل کرتا رہے اور اس کی بارگاہ میں بلندیٔ دَرَجات کا طالب رہے جس طرح محب اپنے محبوب کے دل میں زیادہ قرب کا طالب ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں محبین کا وصْفِ ایثار یوں بیان فرمایا : یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ ( پ ۲۸، الحشر : ۹)
ترجمۂ کنز الایمان : دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیئے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو ۔
اور جو مسلسل خواہشات کی پیروی کرنے میں لگا رہے تو اس کا محبوب وہی ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے بلکہ محب تو محبتِ محبوب میں اپنی ذات سے محبت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے جیسا کہ کہا گیا ہے :
اُرِیۡدُ وِصَالَہٗ وَ یُرِیۡدُ ھِجۡرِیۡ فَاَتۡرُکُ مَا اُرِیۡدُ لِمَا یُرِیۡدُ
ترجمہ : میں اس کے وصال کا طالب ہوں اور وہ مجھ سے جُدائی چاہتا ہے،لہٰذا میں اپنی چاہت کو اس کی چاہت پر قربان کرتا ہوں۔
بلکہ جب محبَّتِ الٰہی کا غلبہ ہوتا ہے تو خواہشات کا صفایا ہو جاتا ہے تو اس کے لئے محبوب کے علاوہ کوئی لذت باقی نہیں رہتی جیسا کہ منقول ہے کہ
حکایت : میں اس محبت کا بدل نہیں چاہتی
زَلیخا جب ایمان لے آئیں اور حضرت سیِّدُنایوسُف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زَوْجِیت میں داخل ہوگئیں تو وہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے الگ ہوکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہو گئیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہورہیں۔ حضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دن کے وقت انہیں بلاتے تو وہ آپ کو رات کا کہہ دیتیں اور جب آپ انہیں رات کے وقت بلاتے تو وہ دن پر ٹال دیتیں اوران سے عرض کرتیں : ”میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت سے قبل آپ سے محبت کرتی تھی لیکن جب سے مجھے اس کی معرفت حاصل ہوئی ہے اس ذات کی محبت نے میرے دل میں اپنے سوا کسی کی محبت کو باقی نہیں چھوڑا اور میں اس محبت کا بدل نہیں چاہتی۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے فرمایا : مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہی اس کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ تیرے بطن سے دو لڑکے پیدا فرمائے گا اور ان دونوں کو منصبِ نَبُوَّت عطا فرمائے گا۔ یہ سُن کر انہوں نے عرض کی : اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے اور مجھے اس کا ذریعہ بنایا ہے تو حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیْمِ خم ہے، چنانچہ انہوں نے خلوت لے لی۔(8 )
محبَّتِ الٰہی والا نافرمان نہیں ہوتا :
معلوم ہوا کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتااسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :
تَعۡصِی الۡاِلٰہَ وَ اَنۡتَ تُظۡھِرُ حُبَّہٗ ھٰذَا لَعَمۡرِیۡ فِی الۡفَعَالِ بَدِیۡعُ
لَوۡ کَانَ حُبُّـکَ صَادِقًا لَّاَطَعۡتَہٗ اِنَّ الۡمُحِبَّ لِمَنۡ یُّحِبُّ مُطِیۡعُ
ترجمہ : (۱)…تم ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتے ہو اور اس سے محبت کا اظہار بھی کرتے ہو بخدا!یہ بہت عجیب فعل ہے۔
(۲)…اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم ضرور اس کی اطاعت کرتے کیونکہ محب تو اپنے محبوب کا اطاعت گزار ہوتا ہے۔
درج ذیل شعر بھی یہی معنیٰ بیان کر رہا ہے :
وَاَتۡرُکُ مَا اَھۡوٰی لِمَا قَدۡ ھَوَیۡتَہٗ فَاَرۡضٰی بِمَا تَرۡضٰی وَ اِنۡ سَخَطَتۡ نَفۡسِی
ترجمہ : تیری خواہش کے لئے میں اپنی خواہش چھوڑ دیتا ہوں پس میں تیری رضا پر راضی ہوں اگرچہ میرا نفس بُرا منائے۔
اصل محبت ممنوعات سے بچنا ہے :
حضرت سیِّدُنا سَہْل تُستری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشادفرمایا : محبت کی علامت یہ ہے کہ محبوب کو اپنے نفس پر ترجیح دو اور ایسا نہیں ہے کہ جو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرتا ہے وہ اس کا حبیب بن جاتا ہے، حبیب تو وہی بنتا ہے جواس کی منع کردہ باتوں سے باز رہے۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بندے کا محبت کرنا بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا سبب ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے :
یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ- ( پ ۶، المائدة : ۵۴) ترجمۂ کنز الایمان : وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔
پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے سے محبت فرماتا ہے تو اس کا کفیل ہوجاتا ہے اور اس کے دشمنوں کے خلاف اس کی مدد کرتا ہے اور بندے کا دشمن اس کا نفس اور اس کی خواہشات ہیں پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو رُسوا نہیں کرتا اور نہ اس کو خواہشات کے حوالے کرتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے : وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآىٕكُمْؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا ﱪ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا(۴۵) ( پ ۵، النساء : ۴۵) ترجمۂ کنز الایمان : اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے والی اور اللہ کافی ہے مدد گار۔
نافرمانی کمالِ محبت کے خلاف ہے :
اگر تم کہو کہ کیا نافرمانی اصْلِ محبت کے خلاف ہے؟تو میں اس کے جواب میں کہوں گاکہ یہ اصْلِ محبت کے تو خلاف نہیں البتہ کمالِ محبت کے خلاف ہے ۔مثال کے طور پر کتنے ہی لوگ ہیں جو اپنے نفس سے محبت کرتے ہیں اور بیماری کی حالت میں صحت کے طالب ہوتے ہیں۔ایسے لوگ جان بوجھ کر مُضِر(نقصان دہ) اشیاء کھا لیتے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ انہیں اپنی جان سے محبت نہیں بلکہ بات دراصل یہ ہے کہ کبھی معرفت کمزور پڑجاتی ہے اور شہوت غالب آجاتی ہے تو انسان محبت کا حق ادا کرنے سے عاجز آجاتا ہے ۔ جیساکہ مروی ہےحضرت سیِّدُنانُعَیْمان بن عَمْرو اَنصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوایک گناہ کےاِرتکاب پربارباربارگاہِ رسالت میں پیش کیاجاتااوررسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں سزا دیتے حتّٰی کہ ایک دن جب انہیں لایا گیا اورآپ نےان پرشرعی سزا نافذفرمائی توکسی شخص نےان پرلعنت کی اورکہا : ان کوکتنازیادہ بارگاہِ رسالت میں لایاجاتاہے۔توآپ نےارشادفرمایا : ’’ لَاتَلْعَنْہٗ فَاِنَّہٗ یُحِبُّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَـہ ٗیعنی اس پرلعنت نہ کروکیونکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتا ہے ۔“(9 )
غورکیجئے کہ گناہ کی وجہ سے ان کو محبت سے خارج نہ فرمایا۔ البتہ اِرتکابِ گناہ بندے کو کمال معرفت سے خارج کر دیتاہےجیساکہ ایک عارف نے فرمایا ہے : جب ایمان دل کے بیرونی حصے میں ہوتا ہے تو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے متوسط درجے کی محبت کرتا ہے اور جب ایمان دل کے سیاہ نقطے میں داخل ہوجاتا ہے اس وقت بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کامل و انتہائی محبت کرتا ہے اور گناہ چھوڑ دیتا ہے۔(10 )
دعوائے محبت میں خطرہ :
حاصِلِ کلام یہ ہے کہ محبت کا دعوٰی کرنے میں بہت خطرہ ہے۔اسی لئے حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ اگر تم سے پوچھا جائے : کیا تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتے ہو ؟تو خاموش رہو کیونکہ اگر تم نے کہا ’’نہیں‘‘تو تم کافر ہوگئے اور اگر تم نےکہا’’ہاں‘‘ تو تمہارا حال محبین جیسا نہیں،لہٰذا غضَبِ الٰہی سے ڈرو ۔
بعض علمافرماتے ہیں : جنت میں کوئی نعمت اہْلِ معرفت اور اہْلِ محبت کی نعمت سے بڑھ کر نہیں اور جہنم میں کوئی عذاب اس شخص کے عذاب سے بڑھ کر نہیں جو معرفت اور محبت کا دعوٰی کرے اور اس میں محبت و معرفت نام کی کوئی چیز نہ ہو۔
تیسری علامت :
بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کا بہت شیدائی ہو، زبان اس سے کوتاہی نہ کرے اور نہ دل اس سے خالی ہو کیونکہ جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کا اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزوں کا ذکر کثرت کے ساتھ کرتا ہے۔ پس محبَّتِ الٰہی کی علامت یہ ہے کہ اس کے ذکر سے محبت ہو،اس کے کلام یعنی قرآنِ پاک سے محبت ہو،اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نسبت رکھنے والی ہرچیزسے محبت ہو کیونکہ جو کسی انسان سے محبت کرتا ہے وہ اس کے محلے کے کتے سے بھی محبت کرتا ہے ۔
یہ محبت میں شراکت نہیں :
جب محبت قوی ہوجاتی ہے تو محبوب سے مُتَجاوِز ہو کر ہر اس چیز تک پہنچ جاتی ہے جو محبوب کو گھیرے اور احاطہ کئے ہوتی ہے اور جس کا تعلق محبوب کے دوستوں اور قرابت داروں سے ہوتا ہے۔ یہ محبت میں شرکت نہیں ہے کیونکہ جو محبوب کے قاصد سے اس لئے محبت کرے کہ وہ محبوب کا قاصد ہے اور اس کے کلام سے اس لئے محبت کرے کہ وہ محبوب کے قاصد کا کلام ہے تو اس کی محبت محبوب سے متجاوز ہو کر غیر تک نہیں پہنچی بلکہ یہ تو محبوب سے کمالِ محبت کی علامت ہے اورجس کے دل پر محبَّتِ الٰہی غالب ہو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تمام مخلوق سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیدا کی ہوئی ہے۔پس وہ قرآنِ کریم،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں سے کیسے محبت نہیں کرے گا؟اور اس بات کی تحقیق ہم اَخُوَّت اور صحبت کے بیان میں کر چکے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( پ ۳، اٰل عمرٰن : ۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان : اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتےہوتومیرےفرمانبردارہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا ۔
اوررسولِ اَکرم،شاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : ’’ اَحِبُّوااللّٰہَ لِمَایَغْذُوْکُمْ بِہٖ مِنْ نِّعَمِہٖ وَاَحِبُّوْنِیْ لِلّٰہ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت اس لئے کرو کہ وہ اپنی نعمتوں سے تمہاری پَروَرِش فرماتا ہے اور مجھ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے مَحبت کرو۔‘‘(11 )
اہل محبت سے محبت :
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والے سے محبت کی اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سے محبت کی اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم بجالانے والے کی تعظیم کرے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی تعظیم کرتا ہے۔
قرآنِ کریم سے محبت :
ایک ارادت مند سے منقول ہے کہ میں ابتدائے سُلوک میں مناجات کی لذت پاتا تھا تو میں نے دن رات تلاوتِ قرآن پر مُداوَمَت اختیار کی پھر سستی کے سبب تلاوتِ قرآن چھوٹ گئی تو میں نے خواب میں سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے : ’’اگر تم مجھ سے محبت کا گمان کرتے ہو تو تم نے میری کتاب سے جفا کیوں کی؟کیا تم نے ہمارے لطیف عِتاب میں غور نہیں کیا ؟“پس میں بیدار ہوا تو میرا دل قرآنِ پاک کی محبت سے مَمْلُو(پُر)تھا اور میں اپنی سابِقَہ حالت پر لوٹ آیا۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : تم میں سے کسی کو اپنے نفس سے قرآنِ پاک کے سوا کسی چیز کا سوال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر وہ قرآن کریم سے محبت کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے اور اگر قرآن پاک سے محبت نہیں کرتا ہوگا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بھی محبت نہیں کرتا ہوگا۔(12 )
سنت سے محبت کی علامت :
حضرت سیِّدُنا سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ارشادفرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ بندہ قرآنِ کریم سے محبت کرےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اورقرآنِ کریم سے محبت کی علامت یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرے اور آپ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ سنت سے محبت کرے اور سنت سے محبت کی علامت آخرت سے محبت کرنا ہے اور آخرت سے محبت کی علامت دنیا سے نفرت کرنا ہے اور دنیا سے نفرت کی علامت یہ ہے کہ اس میں سے توشَۂ آخرت کے علاوہ کچھ نہ لے۔
چوتھی علامت :
محبَّتِ الٰہی کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ بندے کو خلوت ،مناجاتِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن کریم سے اُنسیت ہو۔لہٰذا تہجُّد پرہمیشگی اختیار کرے اور رکاوٹیں دور ہونے کی وجہ سے رات کے سکون اور صاف وقت کو غنیمت جانے کیونکہ محبت کاکم سے کم درجہ حبیب کے ساتھ خلوت کی لذت پانا اور اس کی مناجات سے راحت حاصل کرنا ہےتو جس کے نزدیک سونا اور غیر کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہونا مناجاتِ الٰہی کی نسبت زیادہ لذیذ اور عمدہ ہو اس کی محبت کیسے صحیح ہوسکتی ہے ؟
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پہاڑ سے اتر رہے تھے کسی نے پوچھا : آپ کہاں سے آرہے ہیں؟تو جواب دیا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُنس حاصل کر کے آرہا ہوں۔
حضرت سیِّدُناداؤد عَلَیْہِ السَّلَام فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : میری مخلوق میں سے کسی سے اُنسیت حاصل نہ کرنا کیونکہ میں دو بندوں کو اپنی بارگاہ سے دور کر دیتا ہوں : (۱)… ایک وہ شخص جو میرے ثواب میں تاخیر سمجھ کر الگ ہو گیا اور(۲)…دوسرا وہ شخص جس نے مجھے بھلا دیا اور اپنے حال پر خوش رہا اور اس کی علامت یہ ہے کہ میں اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہوں اور اس کو دنیا میں حیران چھوڑ دیتا ہوں۔
بندہ جب غیرُاللہ سے مانوس ہوتا ہے تو جس قدر وہ غیرُاللہ سے مانوس ہوتا ہے اسی قدر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے وحشت محسوس کرتا ہے اور محبت کے درجے سے گر جاتا ہے ۔
حکایت : ایک عیب بھی نقصان دہ ہے
مروی ہے کہ بُرخ نامی غلام جس کے وسیلہ سے حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےبارش کی دعاکی تھی اس کےمتعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےحضرت سیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سےفرمایا : بُرخ میرا کتنا اچھا بندہ ہے لیکن اس میں ایک عیب ہے۔عرض کی : اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ ! اس میں کون ساعیب ہے؟ارشاد فرمایا : اس کو صبح کی ہوا اچھی لگتی ہے تویہ اس سے لُطف اندوز ہوتا ہے حالانکہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ کسی شے سے لطف نہیں اٹھاتا ۔
حکایت : پرندے سے محبت کا نقصان
منقول ہے کہ ایک عابد نے کسی جنگل میں طویل عرصہ تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کی۔ اس نے ایک مرتبہ کسی پرندے کو دیکھاجس نے ایک درخت میں گھونسلا بنارکھا ہےاوروہ وہاں آکر چہچہاتاہے تو اس عابد نے دل میں کہا : ”کیا ہی اچھا ہو جو میں اپنی جائے عبادت اس درخت کے قریب بنالوں تا کہ اس پرندے کی آواز سے مانوس ہوتارہوں ۔“پھر اس نے ایسا کر لیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وقت کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی نازل فرمائی : ”فلاں عابد سےکہہ دو : تم مخلوق سے مانوس ہوئے میں نے تمہارا درجہ ایسا کم کر دیا ہے کہ اب کسی بھی عمل سے اسے نہیں پا سکو گے ۔“
اُنسِ مناجات کی علامت :
معلوم ہوا محبت کی علامت یہ ہے کہ مناجاتِ محبوب کے ساتھ کمال درجے کا اُنس ہو اور اس کے ساتھ تنہائی سے کمالِ لذت ہو اور ہر وہ شے جو خلوت اور لذتِ مناجات میں خَلَل اور رَخْنہ ڈالے اس سے سخت نفرت ہواور اُنس کی علامت یہ ہے کہ عقل اور فہم سب کا سب لذتِ مناجات میں مُسْتَغْرَق ہو جس طرح کوئی شخص اپنے معشوق کو مخاطب کر کے اس سے مناجات کرتا ہو۔ اسلافِ کرام میں سے ایک بزرگ کو اس درجے کی لذت پہنچی کہ وہ نماز میں مشغول تھے اور ان کے گھر میں آگ لگ گئی لیکن ان کو پتا تک نہ چلااور ایک بزرگ کا بیماری کی وجہ سے نماز کی حالت میں پاؤں کاٹ دیا گیا اور انہیں معلوم تک نہ ہوا ۔
خلوت ومناجات آنکھوں کی ٹھنڈک :
جب محبت اور اُنس بندے پر غالب ہوتے ہیں تو خلوت اور مناجات اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے تمام فکریں دفع ہوجاتی ہیں بلکہ اُنس اور محبت دل کو اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اُمورِ دنیا جب تک کئی بار کانوں سے نہ ٹکرائیں تب تک سمجھ میں نہیں آتےچنانچہ ایسے کی مثال اس عاشق کی طرح ہے جو اپنی زبان سے تو لوگوں کے ساتھ گفتگو کر رہا ہوتا ہے لیکن باطن میں وہ محبوب کے ذکر سے مانوس ہورہاہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ( پ ۱۳، الرعد : ۲۸(
ترجمۂ کنز الایمان : وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے ۔
حضرت سیِّدُنا قَتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں : وہ دل جو اس کے خواہش مند اور اس سے مانوس ہیں۔
خالص محبت کا مزہ :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا : جو شخص خالص محبتِ الٰہی کا مزہ چکھ لیتا ہے تو یہ اس کو طلبِ دنیا سے روک دیتا ہے اور تمام لوگوں سے متَنَفِّر کر دیتا ہے ۔ (13 )
حضرت سیِّدُنامُطَرِّف بن ابوبکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : محب اپنے محبوب کی باتوں سے اکتاتا نہیں۔
محبت کا جھوٹا دعویدار :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی : ’’ جو مجھ سے محبت کا دعوٰی کرے اور رات آنے پر میرے ذکر سے غافل ہو کر سو رہے وہ جھوٹا ہے ۔کیا ہر محب اپنے محبوب کی ملاقات کا طالب نہیں ہوتا ؟میں اپنے طالبین کے لئے موجود رہتا ہوں ۔“
حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : ” اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ !تو کہاں ہے کہ میں تیرا قصد کروں ؟“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ” جب تو قصد کرے گا پہنچ جائے گا۔“
مُحِبّ کی تین خصلتیں :
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے فرمایا : ” مَنْ اَحَبَّ اللّٰہَ اَبْغَضَ نَفْسَہ ٗیعنی جو اللہعَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ اپنے نفس سے نفرت کرتا ہے۔“نیز فرماتے ہیں : جس میں تین خصلتیں نہ ہوں وہ محب نہیں : (۱)…کلامِ الٰہی کو مخلوق کے کلام پر(۲)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات کو مخلوق کی ملاقات پراور(۳)…عبادت کو مخلوق کی خدمَت پر ترجیح دے۔
پانچویں علامت :
باری تعالٰی سے محبت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا جو چیز بھی اس سے جاتی رہے اس پر افسوس نہ کرے لیکن ہر وہ گھڑی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر اور اس کی عبادت کے بغیر گزر جائے اس پر انتہائی افسوس کرے اور جب غفلت ہوجائے تو بکثرت طلبِ رحم ، رضا جوئی اور توبہ کے ساتھ رجوع کرے۔
ایک عارف فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اسی سے محبت کرتے ہیں اور اسی سے چین پاتے ہیں لہٰذا جانے والی چیز پر انہیں افسوس ہوتاہے نہ وہ نفسانی لذات میں مشغول ہوتے ہیں کیونکہ ان کے مالکِ حقیقی کی ملکیت کامل ہے، وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔پس جو ان کے لئے مقدر ہو چکا وہ انہیں مل کر رہے گا اور جو نہیں مل سکا تو وہ اس لئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان کے لئے حُسنِ تدبیریہی ہے۔
محب کا حق یہ ہے کہ جب خوابِ غفلت سے بیدار ہو تو اپنے محبوب کی طرف متوجہ ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے یہ سوال کرنے میں مشغول ہوجائے : ”اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ !تو نے میرے کس گناہ کی وجہ سے اپنا احسان مجھ سے مُنْقَطَع کیا اور مجھے اپنی بارگاہ سے دور کر کے نفس و شیطان کی پیروی میں مشغول کر دیا ؟“اس طرح خالص ذکر اور رِقَّتِ قلبی پیدا ہوگی جو اس کی سابقہ غفلت کا کَفّارہ ہو جائے گی اور اس کی لغزش نئے ذکر اورصفائے قلب کا سبب ہو گی اور جب محب صرف محبوب پر نظر رکھے اور ہر شے کو اسی کی طرف سے جانے تو نہ اس کو کسی چیز کا افسوس ہوگا اور نہ وہ شک کرے گا بلکہ تمام اَحوال میں راضی رہے گا اور یقین کر لے گا کہ محبوبِ حقیقی نے اس کے لئے وہی مقدر فرمایا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہے اور اس ارشادِ ربانی کو یاد کر ے :
وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ- ( پ ۲، البقرة : ۲۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان : اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔
چھٹی علامت :
علاماتِ محبت میں سےایک یہ بھی ہے کہ طاعتِ الٰہی میں لذت پائے اور اس کو بوجھ نہ جانے اور عبادت میں تھکاوٹ نہ ہو جیسا کہ ایک بزرگ کا قول ہے : میں نے20سال تک رات کی تکلیف برداشت کی پھر20 سال اس سے لذت اٹھائی۔
سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : محبت کی علامت دائمی نَشاط اور ایسی کوشش و مشقت کرنا ہے کہ بدن تھک جائے لیکن دل نہ تھکے۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : محبت کے ہوتے ہوئے عمل کرنے میں تھکاوٹ نہیں ہوتی۔
بعض علما نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! محب طاعتِ الٰہی سے سیر نہیں ہوتا اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قُرب کی بلند منازل پر پہنچ جائے۔
اس طرح کی تمام باتیں مشاہَدات میں موجود ہیں کیونکہ عاشق اپنے معشوق کی محبت میں تگ و دو کرنے کو بوجھ نہیں سمجھتا اور دل سے اس کی خدمت کو اچھا سمجھتا ہے اگرچہ بدن پر شاق ہواور جب اس کا بدن عاجز ہو جائے تو اس کے نزدیک سب سے محبوب چیز یہ ہوتی ہے کہ اس کو پھر سے قدرت حاصل ہوجائے اور عجز جاتا رہے تا کہ وہ خدمتِ محبوب میں مشغول ہو سکے ،محبتِ الٰہی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کیونکہ جو محبت غالب ہوتی ہے وہ اپنے سے کم تر کو دبا دیتی ہے۔مثال کے طور پر جس شخص کے نزدیک اس کا محبوب سُستی سے زیادہ پسندیدہ ہو وہ اپنے محبوب کی خدمت کی وجہ سے سستی چھوڑ دے گا اور اگر وہ مال سے زیادہ محبوب ہو تو اس کی محبت میں مال کو چھوڑ دے گا ۔
منقول ہے کہ ایک محب نے اپنی جان ،مال سب کچھ محبوب پر قربان کردیایہاں تک کہ اس کے پاس کچھ باقی نہ رہا تو اس سے پوچھا گیا : محبت میں آپ کا یہ حال کیسے ہوگیا؟تو اس نے جواب دیا : میں نے ایک دن کسی محب کو اپنے محبوب سے یہ کہتے سنا : بخدا!میں سچے دل سے تمہیں چاہتا ہوں اور تم مجھ سے بالکل رُخ پھیرے ہوئے ہو ۔محبوب نے اس سے کہا : اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو تم مجھ پر کیا چیز خرچ کرو گے؟ محب نے کہا : اے میرے آقا! اولاً میں اپنی ہر چیز کاآپ کو مالک بنا دوں گا پھر اپنی روح آپ پر قربان کردوں گا حتّٰی کہ آہ راضی ہو جائیں۔پس میں نے دل میں کہا : مخلوق کا مخلوق کے ساتھ اور بندے کا بند ے کے ساتھ یہ مُعاملہ ہے تو بندے کا معبود کے ساتھ مُعاملہ کیسا ہونا چاہئےتو محبت میں اس حال کا یہی سبب ہے۔
ساتویں علامت :
محبت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام بندوں پرمُشْفِق اور مہربان ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام دشمنوں اورہر اس شخص پر سخت ہو جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی والے اَفعال کا ارتکاب کرتا ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے :
اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ ( پ ۲۶، الفتح : ۲۹) ترجمۂ کنز الایمان : کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
اورکسی ملامت کرنے والے کی ملامت اسے اس بات سے باز نہیں رکھتی اورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے غصہ کرنے سے کوئی فعل اس کو پھیر سکتا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اولیا کا یہی وصف بیان کیا ہےجیساکہ
محبَّتِ الٰہی پر فریفتہ :
حدیْثِ قدسی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے : ”وہ میری محبت پر ایسے فریفتہ ہیں جیسے بچہ کسی چیز پر فریفتہ ہوتا ہے اور میرے ذکر کو اس طرح جائے پناہ بناتے ہیں جس طرح گدھ اپنے گھونسلے میں پناہ لیتا ہے اور میرے منع کردہ افعال پر انہیں اس طرح غصہ آتا ہے جس طرح چیتا ناراضی کے وقت غَضَب ناک ہوتا ہے تو لوگوں کے کم یا زیادہ ہونے کی پروا نہیں کرتا ۔“
اس مثال میں غور کرنا چاہئے کیونکہ بچہ جب کسی شے پر فریفتہ ہوتا ہے اس سے بالکل جدا نہیں ہوتا اور اگر اس سے وہ شے لے لی جائے تو جب تک اس کوواپس نہ دی جائے وہ رونے اور چیخنے کے سوا کچھ نہیں کرتا اور سوتے وقت اس کو اپنے ساتھ کپڑوں میں رکھ لیتا ہے اور جب جاگتا ہے تو دوبارہ اس کو پکڑ لیتا ہے جب اس سے جُدا ہوتا ہے رونا شروع کردیتا ہے اور جب اس کو پالیتا ہے توخوش جاتا ہے اور اس شے کے بارے میں جو اس سے جھگڑا کرتا ہے اس سے ناراض ہوتا ہے اور جو اس کو وہ شے د ے اس سے محبت کرتا ہے ۔یوں ہی چیتا غصے کے وقت اپنے قابو میں نہیں رہتا حتّٰی کہ شدت غضب کی وجہ سے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے ۔
آمیزش والی شراب :
یہ محبت کی علامات ہیں تو جس بندے میں یہ علامات پوری ہوں گی اس کی محبت بھی تام اور خالص ہوگی اور آخرت میں اس کی شراب صاف اور میٹھی ہوگی اور جس کی محبت میں غیر ُاللہ کی محبت کی آمیزش ہوگی وہ آخرت میں اپنی محبت کی مقدار نعمتیں پائے گا۔لہٰذا اس کی شراب میں مُقَرَّبِین کی شراب کی کچھ مقدار ملا دی جائے گی جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُقَرَّبِین کے بارے میں ارشاد فرمایا :
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ(۲۲)عَلَى الْاَرَآىٕكِ یَنْظُرُوْنَۙ(۲۳)تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ(۲۴)یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ(۲۵)خِتٰمُهٗ مِسْكٌؕ-وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ(۲۶)وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ(۲۷)عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ(۲۸) ( پ ۳۰، المطففین : ۲۲ تا ۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک نکو کار ضرور چین میں ہیں تختوں پر دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہچانے نتھری(خالص وپاک) شراب پلائے جائیں گے جو مہر کی ہوئی رکھی ہے اس کی مہر مشک پر ہے اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والےاور اس کی ملونی(ملاوٹ)تسنیم سے ہے وہ چشمہ جس سے مقربان بارگاہ پیتے ہیں۔
ابرار کی شراب اس لئے مزیدار ہوگی کہ اس میں مقربین کی خالص شراب کی آمیزش ہوگی اور شراب سے مراد تمام جنتی نعمتیں ہیں جس طرح کتاب سے مراد تمام اعمال ہیں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :
كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ(۱۸) ( پ ۳۰، المطففین : ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان : ہاں ہاں بے شک نیکوں کی لکھت سب سے اونچے محل علیین میں ہے۔
پھر ارشاد فرمایا :
یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ(۲۱) ( پ ۳۰، المطففین : ۲۱) ترجمۂ کنز الایمان : کہ مقرب جس کی زیارت کرتے ہیں۔
جنت میں دنیا جیسا حال :
ان کے اعمال کی بلندی کی علامت یہ ہے کہ اتنی بلند ہوگی کہ مُقَرَّبِیْن اس کی زیارت کریں گےاور جس طرح ابرار دنیا میں مقربین کے قُرب اور مشاہدے سے اپنے حال اور معرفت میں زیادتی پاتے ہیں یہی حال ان کا آخرت میں ہوگا۔(درج ذیل تین فرامین میں اسی کے متعلق ارشاد ہوتا ہے : )
(1)…
مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ- ( پ ۲۱، لقمٰن : ۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان : تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا ۔
(2)…
كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ- ( پ ۱۷، الانبیآء : ۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان : ہم نے جیسے پہلے اسے بنایا تھاویسے ہی پھر کر دیں گے۔
(3)…
جَزَآءً وِّفَاقًاؕ(۲۶) ( پ ۳۰، النبا : ۲۶) ترجمۂ کنز الایمان : جیسے کو تیسا بدلہ۔
مطلب یہ ہے کہ جزا ان کے اعمال کے موافق ہوگی لہٰذاخالص اعمال کی جزا خالص شراب اور مخلوط اعمال کی جزا مخلوط شراب ہوگی اور محبَّتِ الٰہی اور اعمال میں جتنی مقدار آمیزش ہوگی اتنی مقدار شراب میں بھی آمیزش ہوگی۔(جیساکہ درج تین فرامین باری تعالٰی سے واضح ہے : )
(1)…
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ( پ ۳۰، ا لزلزال : ۷،۸)
ترجمۂ کنز الایمان : تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گااور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔
(2)…
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ- وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا ( پ ۵، النساء : ۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتااور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا۔
(3)…
وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ-وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ(۴۷) ( پ ۱۷، الانبیآء : ۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہوتم ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو ۔
جیسی نیت ویسی مراد :
پس جو شخص دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرے مگر اس کا مطلوب جنت کی نعمتیں اور جنتی حور و قصور ہو تو اسے جنت میں قدرت دے دی جائے گی کہ جہاں چاہے رہے تو وہ جنتی غِلمان کے ساتھ کھیلے گا اور جنتی عورتوں سے لطف اندوز ہوگا آخرت میں اس کی لذت اسی پر منتہی ہو جائے گی کیونکہ ہر انسان کو محبت میں وہی عطا کیا جائے گا جو اس کا نفس چاہتا ہو اور جس سے اس کی آنکھ کو لذت ملتی ہواورجس کا مقصود ربِّ آخرت اور تمام جہان کا مالک ہو گا اور اس کے دل پر خالص اور سچی محبَّتِ الٰہی کا غلبہ ہوگا اس کوسچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور اتارا جائے گا۔
اہل عقل مقامِ علیین میں :
حاصِلِ کلام یہ ہے کہ ابرار باغات میں سیر کریں گے اور حور وغلماں کے ساتھ جنت میں چین پائیں گے جبکہ مُقَرَّبِیْنِ بارگاہِ ربُّ العزت میں حاضر رہیں گے اور اسی کی طرف نظر جمائے ہوں گے اور اس لذت کے ایک ذرہ کے مقابلے میں تمام جنتوں کی نعمتوں کو حقیر جانیں گے لہٰذا پیٹ اور شرم گاہ کی شہوت کو پورا کرنے میں مشغول لوگ اور ہوں گے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بیٹھنے والے اور ہوں گے۔اسی لئے رسولِ اکرم، شفیع مُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اَکۡثَرُاَھۡلِ الۡجَنَّةِ الۡبُلۡہُ وَ عِلِّیُّوۡنَ لِذَوِی الۡاَلۡبَاب یعنی اکثر اہْلِ جنت بھولے بھالے ہیں اورمقامِ علیین کے مستحق عقل والے ہیں۔“(14 )
چونکہ علیین کا معنیٰ سمجھنے سے عقل قاصر تھی تواس کے معاملے کو عظیم بنایاجیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ(۱۹) ( پ ۳۰، المطففین : ۱۹) ترجمۂ کنز الایمان : اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے۔
یونہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : اَلْقَارِعَةُۙ(۱)مَا الْقَارِعَةُۚ(۲)وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) ( پ ۳۰، القارعة : ۱ تا ۳)
ترجمۂ کنز الایمان : دل دہلانے والی کیا وہ دہلانے والی اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی۔
آٹھویں علامت :
محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ بندہ محبَّتِ الٰہی میں خائف اور اس کی ہیبت و تعظیم کی وجہ سے ناتواں رہے اور بعض دفعہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ خوف محبت کی ضد ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ عظمت کا ادراک ہیبت کو لازم کرتا ہے جس طرح جمال کا ادراک محبت کو لازم کرتا ہے اور خاص محبین کو مقامِ محبت میں ایسے خو ف لاحق ہوتے ہیں جو دوسروں کو نہیں ہوتے اور ان کے بعض خوف بعض کی بَنِسْبَت سخت ہوتے ہیں۔جیسے سب سے پہلے اعراض کا خوف ہے اور اس سے بڑا خوف حجاب کا ہے اور اس سے بھی سخت تر قُربِ الٰہی سے دور کر دیئے جانے کا خوف ہے اور سورۂ ھود میں یہی معنی ہے جس نے سَیِّدُالۡمَحۡبُوبِیۡن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بوڑھا کر دیا اس وقت جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان سنا : ” اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠(۶۸) ‘‘(15 )اور یہ فرمان سنا : ” اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠(۹۵)۔‘‘ (16 ) دوری کی ہیبت اور دل میں اس کا خوف اسی کو ہو گا جو قُرب سے مانوس اور اس کے ذائقے سے لُطف اندوز ہو لہٰذا دور کئے گئے لوگوں کے حق میں بُعْد کی بات اہْلِ قُرب کے کان میں پڑ کر ان کو بوڑھا کردیتی ہے اور جو شخص دوری سے مانوس ہو وہ قرب کا مشتاق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ شخص دوری کے خوف سے روتا ہے جس کو بساطِ قُرب میسر نہیں۔ اس کے بعدوقوف اور زیادتِیٔ دَرَجات کے سلب ہونے کا خوف ہے ۔
قُرب میں اضافہ کی کوشش :
ہم یہ بات پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ قُرب کے دَرَجات کی کوئی انتہا نہیں اور بندے کا حق یہ ہے کہ ہر دم اس کوشش میں رہے کہ اس کے قُرب میں اضافہ ہو جائے ۔اسی لئے رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ مَنِ اسۡتَوٰی یَوۡمَاہٗ فَھُوَ مَغۡبُوۡنٌ وَّمَنۡ کَانَ یَوۡمُہٗ شَرًّا مِّنۡ اَمۡسِہٖ فَھُوَ مَلۡعُوۡنٌ یعنی جس کے دو دن برابر ہوں وہ خسارے میں ہے اور جس کا آج گزشتہ کل کے مقابلے میں برا ہے وہ ملعون ہے۔‘‘ (17 )
یوں ہی حضورنَبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : ’’میرے دل پر دن اور رات میں پردہ آتا رہتا ہے حتّٰی کہ میں70مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے استغفار کرتا ہوں۔‘‘ (18 )
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا استغفار پہلے قدم پر اس لئے تھا کیونکہ دوسرے قدم کی نسبت اس میں بُعد پایاجاتا ہے اور راہِ سلوک میں تھک جانے اور محبوب کے علاوہ کی طرف التفات کرنے پر سالکین کے لیے یہ ایک طرح کی سزا ہے۔حدیْثِ قُدسی میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ’’جب کوئی عالِم میری عبادت پر دنیاوی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے تو میں کم از کم اس کو یہ سزا دیتا ہوں کہ اپنی مناجات کی لذت اس سے سلب کر لیتا ہوں ۔‘‘ (19 )
معلوم ہواکہ خواہشات کے سبب دَرَجات کی زیادتی کا سلب ہوجانا عام لوگوں کے حق میں سزا ہے اور جہاں تک خواص کا تعلق ہے تو فقط دعوٰی کرنے یا خود پسندی میں مبتلا ہونے یا جو لُطف کے مبادی ظاہر ہوں ان کی طرف توجہ کرنے سے ہی وہ دَرَجات کی زیادتی سے محجوب کر دیئے جاتے ہیں اور یہ وہ خفیہ تدبیر ہے جس سے صرف وہ لوگ بچ سکتے ہیں جن کے قدم راہ سُلوک میں خوب راسخ ہوں ۔
اشعار سن ک رب ے ہوش ہوگئے :
پھر اس سے بڑا خوف اُس چیز کے فوت ہونے کا ہے جسے بعد میں حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم دورانِ سیاحت ایک پہاڑ پر تشریف فرما تھے تو کسی کہنے والے کو کہتے سنا :
کُلُّ شَیۡءٍ مِّنۡکَ مَغۡفُوۡ رٌ سِوَی الۡاِعۡرَاضِ عَنَّا
قَدۡ وَھَبۡنَا لَــکَ مَا فَا تَ فَھَبۡ مَا فَاتَ مِنَّا
ترجمہ : (۱)…ہم سے اعراض کرنے کے سوا تمہیں ہر شے کی معافی ہے۔
(۲)…فوت شدہ کو ہم نے چھوڑا اور جو ہماری طرف سے رُک گیااُسے بھول جا۔
یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تڑپ اٹھے اور بیہوش ہوگئے اور ایک رات دن آپ ہوش میں نہیں آئے اور بہت سے احوال آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر طاری ہوئے۔پھر فرمایا : میں نے پہاڑ سے ایک آواز سنی کہ’’اے ابراہیم عبد( بندہ)ہوجا۔‘‘تو میں عبد ہوگیا اور ہوش میں آگیا۔
محبت میں بے غمی کا خوف :
پھر محبوب سے بے غم ہوجانے کا خوف ہےکیونکہ شوق،طلب اور حرص ہمیشہ محب کے ساتھ رہتی ہے اس لئے وہ زیادتی طلب کرنے سے سستی نہیں کرتا اور لطفِ جدید سے ہی تسلی پاتا ہے ۔پس اگر وہ اس سے بے غم ہوجائے تو یہ اس کے ٹھہر جانے یا واپسی کا سبب بن جائے گااور بے غم ہونا بندے پر اس طرح داخل ہوجاتا ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں چلتا ۔جس طرح بعض اوقات محبت بندے پر اس طرح داخل ہوجاتی ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں چلتا ۔ان تبدیلیوں کے اسباب پوشیدہ وسماوی ہو تے ہیں جن پر مُطَّلَع ہونا بندے کے بس کی بات نہیں پس جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ساتھ اپنی خفیہ تدبیر فرمانا چاہتا ہے تو بندے پر وارد بے غمی کو اس سے مخفی رکھتا ہے اس طرح بندہ امید ہی امید میں ٹھہرا رہتا ہے اور حُسنِ ظن کی وجہ سے یا غفلت،خواہش اورنسیان کے غلبے کے باعث سستی کرتا ہےاور یہ سب(یعنی غفلت،شہوت اورنسیان)شیطان کے لشکر ہیں جو لشکرِملائکہ یعنی علم،عقل،ذِکْراوربیان پرغالب آجاتےہیں اورجس طرح اللہعَزَّ وَجَلَّ کےاوصاف جیسے لُطف، رحمت اور حکمت جب بندے میں ظاہر ہوتے ہیں توجوشِ محبت کا تقاضا کرتے ہیں اسی طرح اس کے ایسے اوصاف ہیں جیسے جبریت،عِزت اور استغنا کہ جو ظاہر ہوتے ہیں تو بے غمی کولازم کرتے ہیں۔
محبت میں بڑا خوف :
پھر ان تما م خوفوں سے بڑھ کر اس بات کا خوف ہے کہ دل محبَّتِ الٰہی سے غیر کی محبت کی طرف منتقل نہ ہو جائے اور اسی کا نام مَقت (ناراضی)ہے اور محبوبِ حقیقی سے بے غمی اس مقام کی ابتداہے اور اعراض و حجاب بے غمی کی ابتدا ہے اور نیکیوں سے دل تنگ ہونا، دائمی ذکر سے جی گھبرانا اوراوراد وظائف سے ملال محسوس کرنا اعراض اور حجاب کی ابتدا اور اسباب ہیں اور ان اسبا ب کا ظہور مقامِ محبت سے مقامِ مقت کی طرف منتقل ہونے کی دلیل ہےاور ان اُمور سے ہمیشہ خائف رہنا اور خالص مراقبہ کے ذریعے ان سے بچنا سچی محبت کی دلیل ہے کیونکہ جو کسی چیز سے محبت کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے جاتے رہنے سے ڈرتا ہے۔ پتا چلا کہ جب محبوب کا جاتے رہنا ممکن ہوتو محب کو ہمیشہ خوف رہتا ہے ۔
محبت وخوف ساتھ ساتھ :
بعض عارفین کا قول ہے : جو شخص محض محبت کی وجہ سے بغیر خوف کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہے وہ زیادہ پاؤں پھیلانے اور ناز کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوتا ہے اور جو بغیر محبت کے صرف خوف کی وجہ سے عبادت کرتا ہے وہ بُعد(دوری)اور وحشت کی وجہ سے اس سے مُنْقَطَع ہوجاتا ہے اور جو شخص خوف اور محبت دونوں کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہے اس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنا محبوب اور مُقَرَّب بنا لیتا ہے اور اس کو قدرت اور علم عطا فرماتا ہے ۔
حاصل یہ کہ محب خوف سے خالی نہیں ہوتا اور خائف محبت سے خالی نہیں ہوتا ،لیکن جس پر محبت غالب ہویہاں تک کہ اس میں خوب پھیل گئی ہو اور خوف تھوڑا ہو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ مقامِ محبت میں ہے اور اس کو محبین میں شمار کیا جائے گا اور خوف کی آمیزش محبت کے نشے کو کچھ ساکن کر ے گی اور اگر محبت غالب ہو اور معرفت بھی حاصل ہو تو طاقتِ بشری اس کی متحمل نہیں ہو سکتی ،خوف ہی اس کو اعتدال میں لاتا ہے اور دل پر اس کے اثر کو کم کرتا ہے ۔
معرفت کا ذرہ اور لاکھ سوالی :
منقول ہے کہ ایک ابدال نے کسی صدیق سے کہا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اپنی معرفت کا ایک ذرہ عطا فرما دے۔ انہوں نے دعا کی(اور وہ قبول ہوئی)تو وہ ابدال پہاڑوں میں سرگرداں پھرنے لگے اور ان کی عقل حیران اور دل پریشان تھا ۔سات دن تک بے قرار رہے اور انہوں نے کسی شے سے نفع اٹھایانہ کسی نے ان سے نفع اٹھایا۔ صدیق نے ان کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرتے ہوئے عرض کی : ’’الٰہی!اس کے ذرۂ معرفت میں سے کچھ کم کردے۔“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صدیق کے دل میں یہ بات اِلقا فرمائی کہ ہم نے اس کو معرفت کے ذرّے کا لاکھواں حصہ عطا فرمایا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جس وقت تم نے مجھ سے اس کے لئے دعا کی تھی اس وقت ایک لاکھ بندوں نے مجھ سے معرفت کے ایک ذرے کی دعا کی تھی اور میں نے ان کی دعا کو مؤخر کیا حتّٰی کہ تم نے اس کے لئے سفارش کی تو جب میں نے تمہاری دعا قبول کی ان کی دعا بھی قبول کی اور معرفت کے ایک ذرّے کو ایک لاکھ آدمیوں میں تقسیم فرما دیاتو اس ابدال کی یہ حالت اسی وجہ سے ہوئی ہے۔
صدیق نے پھر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : ” اے اَحْکَمُ الْحاکمین عَزَّ وَجَلَّ ! تو پاک ہے،تونے جو کچھ اس کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ کم فرمادے ۔“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ذرہ معرفت کے لاکھویں حصے کا دس ہزارواں حصہ رہنے دیا اور باقی تمام اجزا سلب کر لئے ۔یوں اس کا خوف ،محبت اور رجااعتدال پر آگئے اوروہ پُر سکون ہوکر دیگر عارفین کی طرح ہوگیا۔
عارفین کے احوال :
عارف کے حال کا وصف اس طرح بیان کیا گیا ہے :
قَرِیۡبُ الۡوَجۡدِ ذُوۡ مَرۡمَی بَعِیۡدٍ عَنِ الۡاَحۡرَارِ مِنۡھُمۡ وَالۡعَبِیۡد
غَرِیۡبُ الۡوَصۡفِ ذُوۡ عِلۡمٍ غَرِیۡبٍ کَاَنَّ فُؤَادُہٗ زُبَرَ الۡحَدِیۡد
لَقَدۡ عَزَّتۡ مَعَانِیۡہٖ وَجَلَّتۡ عَنِ الۡاَبۡصَارِ اِلَّا لِلشَّھِیۡد
یَرَی الۡاَعۡیَادَ فِی الۡاَوۡقَاتِ تَجۡرِیۡ لَہٗ فِیۡ کُلِّ یَوۡمٍ اَلۡفَ عِیۡد
وَ لِلۡاَحۡبَابِ اَفۡرَاحٌ بَعِیۡدٌ وَلَا یَجِدُ السَّرُوۡرَ لَہٗ بَعِیۡد
ترجمہ : (۱)…عارف کا وجد لوگوں سے قریب اوراس کا مقصد آزاد و غلام ہر ایک سے دور ہوتا۔
(۲)… اس کا انداز نرالا اور علم اجنبی ہے ۔ اس کا دل گویا کہ لوہے کی تختیاں ہیں۔
(۳)…اس کے مقاصد بڑے بلند اور صاحبِ بصیرت کے سوا ہر آنکھ سے اوجھل ہیں ۔
(۴)…وہ ہر وقت عیدوں کا نظارہ کرتا ہے۔اس کے لئے ہردن ہزاروں عیدیں ہیں۔
(۵)… لوگوں کی خوشیاں تو دور ہیں لیکن وہ خوشی کو دورنہیں پاتا۔
عارفین کے اسرار :
سیِّدُ الطّائفہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی احوالِ عارفین کے اَسرار و رُموز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے درج ذیل اشعار پڑھا کرتے تھے ۔صرف اشارہ کیا ہے کیونکہ ان اسرار کا اظہار جائز نہیں :
سِرۡتُ بِاُنَاسٍ فِی الۡغُیُوۡبِ قُلُوۡبُھُمۡ فَحَلُّوا بِقُرۡبِ الۡمَاجِدِ الۡمُتَفَضِّل
عِرَاصًا بِقُرۡبِ اللّٰہِ فِی ظِلِّ قُدۡسِہٖ تَجُوۡلُ بِہَا اَرۡوَاحُھُمۡ وَ تَنَقَّل
مَوَارِدُھُمۡ فِیۡھَا عَلَی الۡعِزِّ وَالنِّھی وَ مَصۡدَرُھُمۡ عَنۡھَا لِمَا ھُوَ اَکۡمَل
تَرُوۡحُ بِعِزِّ مُفۡرَدٍ مِّنۡ صِفَاتِہٖ وَ فِی حُلَلِ التَّوۡحِیۡدِ تَمۡشِی وَ تَرۡفَل
وَ مِنۡ بَعۡدِ ھٰذَا مَا تَدُقُّ صِفَاتُہٗ وَمَا کَتۡمُہٗ اَوۡلٰی لَدَیۡہِ وَ اَعۡدَل
سَاَکۡتُمُ مِنۡ عِلۡمِی بِہٖ مِا یَصُوۡنُہٗ وَ اَبۡذُلُ مِنۡہٗ مَا اَرَی الۡحَقَّ یَبۡذُل
وَ اُعۡطِی عِبَادَ اللّٰہِ مِنۡہٗ حَقُوۡقَھُمۡ وَ اَمۡنَعُ مِنۡہٗ مَا اَرَی الۡمَنۡعَ یَفۡضُل
عَلٰی اَنَّ لِلرَّحۡمٰنِ سِرًّا یَصُوۡنُہٗ اِلٰی اَھۡلِہٖ فِی السِّرِّ وَ الصَّوۡنِ اَجۡمَل
ترجمہ : (۱)… میں ایسے لوگوں کے ساتھ چلا جن کے دل عالَمِ غیب میں رہتے ہیں،جو بُزرگی وفضل والی ذاتِ اَقدس کے قریب اُترے۔
(۲)…وہ ایسے میدان میں اترتے ہیں جو اس کے سایَۂ اقدس میں ہیں ۔ان کی ارواح وہاں گھومتی اور ادھر ادھر جاتی ہیں۔
(۳)…یہ حضرات مقامِ عزت اور آخری حد پر اترتے ہیں اور اس حد سےآگےاکمل مقام کے لئے نکلتے ہیں۔
(۴)…یہ ہستیاں اپنی صفات میں یکتا ذات کے غلبہ کے ساتھ اور توحید کے لباس میں ناز سے چلتی ہیں۔
(۵)…اس کے بعد وہ مقام ہے جہاں بابِ صفات کو کھٹکھٹایاجاتا ہے اوراس کا چھپانا زیادہ مناسب اور قریْنِ انصاف ہے۔
(۶)…ابھی میں اُس کے متعلق اپنا علم چھپاؤں گا جس کا چھپانا ضروری ہے اور جس کا بتانا حق ہے اس کو ظاہر کردوں گا۔
(۷)…اس میں سے جوبندوں کا حق بنتا ہے انہیں دوں گا اور جس کا روکنا بہتر ہے اس کو روک لوں گا۔
(۸)…کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ راز چھپاکر ان کے اہل تک پہنچائے جاتے ہیں اور حفاظت اچھی چیز ہے۔
جن مَعارف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان جیسے مَعارف میں سب کا شریک ہونا ممکن نہیں اور یہ بھی جائز نہیں کہ جس کے لئے ان معارف میں سے کچھ منکشف ہو وہ اس کو ایسے شخص کے سامنے ظاہر کرے جس کے لئے ان میں سے کچھ منکشف نہیں ہوا بلکہ اگر تمام لوگ ان معارف میں شریک ہوجائیں تو نظامِ دنیا میں فساد برپا ہوجائے ۔لہٰذادنیا کے آباد رہنے کے لئے حکمتِ الٰہی کا یہی تقاضا ہے کہ غفلت طاری رہے بلکہ اگر تمام لوگ چالیس دن تک حلال کھائیں تو ان کے زُہد کی وجہ سے دنیاوی نظام خراب ہوجائے ۔بازار اور معیشت کے ذرائع بے کار ہوکر رہ جائیں بلکہ اگر علما حلال کھائیں تو وہ اپنے آپ میں ہی مشغول ہوجائیں اور علم کی کثیر نشر و اشاعت سے زبانیں اور قلم رک جائیں ۔پھر یہ کہ جو چیزیں بظاہر بُری لگتی ہیں ان میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے شمار حکمتیں اور اَسرار ہوتے ہیں جس طرح کہ اُمورِ خیر میں بے شمار اَسرار اور حکمتیں ہوتی ہیں اور اس کی قدرت کی طرح اس کی حکمتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں ۔
نویں علامت :
علاماتِ محبت میں سے یہ بھی ہے کہ محبت کو چھپائے اور محبوب کے اِجلال ، تعظیم، اس کی ہیبت اور اس کے راز پر غیرت کی وجہ سے دعوٰیٔ محبت سے اجتناب کرے اور اظہارِ وجد و محبت سے بچے کیونکہ محبت محبوب کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور یہ وجہ بھی ہے کہ دعوٰیٔ محبت میں ایسی بات بھی داخل ہو سکتی ہے جو زائد اور حد سے گزری ہوئی ہو تو یہ بہتان ہوگا جس کی وجہ سے آخرت میں سخت سزا اور دنیا میں آفات کا سامنا ہوگا ۔ہاں بعض دفعہ محب محبت کے نشے میں ایسا مدہوش ہوتا ہے کہ اس کا حال مُضْطَرِب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس پر محبت ظاہر ہوتی ہے۔ اگر یہ حالت بغیر تکلف اور اختیار کے ہو تو وہ معذور ہے کیونکہ وہ مجبور ہے اور بعض اوقات آتِشِ محبت اس طرح مشتعل ہوتی ہے کہ اس کی تاب کسی کو نہیں ہوتی اور کبھی دل پر اس کا ایسا فیضان ہوتا ہے کہ اس کو روکا نہیں جا سکتا تو جو رازِ محبت چھپانے پر قادر ہے وہ یوں کہتا ہے :
وَ قَالُوۡا قَرِیۡبٌ قُلۡتُ : مَا اَنَا صَانِعٌ بِقُرۡبِ شُعَاعِ الشَّمۡسِ لَوۡ کَانَ ِفیْ حَجۡرِیْ
فَمَا لِیْ مِنۡہُ غَیۡرُ ذِکۡرِ بِخَاطِرٍ یَھِیۡجُ نَارُ الۡحُبِّ وَالشَّوۡقِ فِیْ صَدۡرِیْ
ترجمہ : (۱)…لوگوں نے کہا : وہ قریب ہے ۔ میں نے کہا : سورج کی شعاعوں کے قرب کا میں کیا کروں اگرچہ میری گود میں ہوں۔
(۲)…میرے دل میں صرف اسی کی یاد ہے اور میرے سینے میں محبت اور شوق کی آگ بھڑکتی ہے۔
اورجورازِ محبت چھپانے سے عاجز ہووہ کہتا ہے :
یَخۡفٰی فَیُبۡدِیَ الدَّمْعُ اَسۡرَارَہٗ وَ یُظۡھِرُ الۡوَجۡدَ عَلَیۡہِ النَّفۡسُ
ترجمہ : وہ چھپاتا ہے مگر آنسو اس کے اسرار کو ظاہر کردیتے ہیں اور آہ بھرنا اس کے وجد کو ظاہر کر دیتا ہے۔
اوروہ یہ بھی کہتا ہے :
وَ مَنۡ قَلۡبُہٗ مَعَ غَیۡرِہٖ کَیۡفَ حَالُہٗ وَ مَنۡ سِرُّہٗ فِیۡ جَفۡنِہٖ کَیۡفَ یَکۡتُمُ
ترجمہ : جس کا دل غیرکے ساتھ ہو اس کا کیا حال ہوگا اور جس کا راز ا س کی پلکوں میں ہو وہ اس کو کیسے چھپائے گا؟
اللہ تعالٰی سے زیادہ دور :
ایک عارف نے ارشادفرمایا : لوگوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے زیادہ دور وہی شخص ہے جو اس کی طرف زیادہ اشارے کرے۔
مطلب یہ ہے کہ جو ہر چیز میں بکثرت تعریض سے کام لے اور جب کسی کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لے تو تَصَنُّع ظاہر کرے۔ایسا شخص محبین اور عارفین کے نزدیک ناپسندیدہ ہے ۔
اظہارِمحبت والے کی اصلاح :
حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے ایک مسلمان بھائی کے ہاں تشریف لے گئے جو لوگوں سے محبت کا ذکر کرتا تھا آپ نے اس کو آزمائشوں میں مبتلا دیکھا تو فرمایا : ’’جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے دی گئی تکلیف پر درد محسوس کرے وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔“ ا س نے کہا : ”میں کہتا ہوں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی لذّت نہیں پاتا وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔ “حضرت سیِّدُناذُوالنُّون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ”مگر میں کہتا ہوں جو خود کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محب مشہور کرتا ہے وہ اس سے محبت نہیں رکھتا۔“ اس نے کہا : میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے توبہ کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع لاتا ہوں۔
ایک سوال اور اس کا جواب :
اگر تم کہوکہ محبت تو مقامات کی انتہا کا نام ہے اور اس کا اظہار کرنا بھلائی کا اظہار کرنا ہے تو پھر یہ بُرا کیوں ہے؟میں جواب میں کہوں گا کہ محبت قابلِ تعریف شے ہے اور اس کا اظہار بھی اچھا ہے لیکن اس کو بناوٹ وتَصَنُّع کے ساتھ ظاہر کرنا بُرا ہے کیونکہ اس میں دعوٰی محبت اور تکبر پایا جاتا ہے اور عاشِقِ صادق کا حق یہ ہے کہ وہ اپنی مخفی محبت کو اپنے اَفعال اور اَحوال سے پورا کرے اپنے اَقوال سے نہیں ۔اسے چاہئے کہ اس کی محبت بغیر قصد اور ارادے کے ظاہر ہو اور کسی ایسے فعل کو ظاہر کرنے کا بھی قصد نہ کرے جو محبت پر دلالت کرتا ہو بلکہ محب کا مقصود صرف محبوب کو مُطلع کرنا ہو اور اگر دوسرے کو بتانے کا بھی اِردہ ہے تو یہ بات محبت میں شراکت اور باعثِ خلل ہے۔
انجیل مُقَدَّس کا درس :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ انجیل مقدس میں فرماتا ہے : جب تو صدقہ کرے تو اس طرح صدقہ کر کہ تیرے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ تیرے دائیں ہاتھ نے کیا کیا۔ غیبوں کوجاننے والا تجھے اس کا اعلانیہ بدلہ دے گا اور جب توروزہ رکھے تواپنا منہ دھواور اپنے سر پر تیل لگا تا کہ تیرے رب عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی کو اس کا علم نہ ہو ۔“
پتا چلا کہ قول و فعل دونوں سے اظہار مذموم ہے مگر یہ کہ جب محبت کا نشہ غالب ہو اور زبان چل پڑے اور اعضاء مضطرب ہوں تو اس وقت اس کو ملامت نہیں کی جائے گی۔
ایک مجنون کی باتیں :
منقول ہے کہ ایک شخص نے کسی مجنون سے ایسا عمل دیکھا جس کو اس نے جنون اور جہالت سمجھا۔یہ بات اس نے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے بیان کی تو آپ مسکرانے لگے اور فرمایا : بھائی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والے چھوٹے، بڑے،عقل منداور مجنون ہر طرح کے لوگ ہیں اور جو حالت تم نے دیکھی وہ مجنون محبین کی ہے۔
پھربناوٹ وتَصَنُّع کے ساتھ اظہارِ محبت کے ناپسندیدہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ محب اگر عارف ہو اور احوالِ ملائکہ یعنی ان کی دائمی محبت اور شوق سے واقف ہو کہ وہ رات دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی بیان کرتے ہیں نہ تھکتے ہیں اور نہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں جو ان کو حکم ہوتا ہے وہی کرتے ہیں تو وہ بندہ شرم کی وجہ سے اظہارِ محبت سے باز رہے گا اور یقینی طور پر جان لے گا کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سلطنت میں سب محبین سے کمتر ہے اور اس کی محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام محبین کی محبت سے کم ہے ۔
تین لاکھ سال سے عبادت :
ایک صاحبِ کشف و اہْلِ محبت نے بیان کیا کہ” میں نے تیس سال تک دل اور ظاہری اعضاء کے ساتھ حتَّی المقدور کوشش اور طاقت صَرْف کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کی حتّٰی کہ مجھے گمان ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں میرا کچھ مقام ہے۔“ پھر اسرار ِسماوی کے مکاشفات سے متعلق کچھ باتیں ذکر کیں اورایک طویل قصہ بیان کر کے آخر میں کہاکہ’’میں ملائکہ کی ایک صف تک پہنچا جن کی تعدا د تمام مخلوقات کی تعداد کے برابر تھی میں نے ان سے پوچھا : تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا : ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبین ہیں اور تین لاکھ سال سے یہاں اس کی عبادت کر رہے ہیں، ہمارے دلوں میں اس کے سوا کسی کا خیال نہیں آیا اور نہ ہم نے اس کے علاوہ کسی کا ذکر کیا ۔“وہ بزرگ فرماتے ہیں : مجھے اپنے اعمال سے بہت حیا آئی،لہٰذامیں نے تمام اعمال ان لوگوں کو بخش دیئے جن پر جہنم کا عذاب واجب ہوچکا تھا تا کہ ان پرجہنم میں تخفیف ہو۔
معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے نفس کو اور اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو پہچان لیتا ہے اور اس سے کما حقہ حیا کرتا ہے تو اس کی زبان دعوٰیٔ محبت کا اظہار کرنے سے گونگی ہو جاتی ہے ۔ہاں اس کی حرکات وسکنات اورکچھ کرنا نہ کرناوغیرہ اس کی محبت پر گواہی دیتے ہیں۔چنانچہ،
قارورے سے محبت کا ظہور :
سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُناجنیدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی بیان فرماتے ہیں کہ ہمارے اُستاد حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیمار ہوئے اور ہمیں ان کی بیماری کا نہ تو سبب معلوم ہو سکا اور نہ ہی اس کی دوا تو ہمیں ایک طبیْبِ حاذِق کے بارے میں بتایا گیا۔ ہم ان کا قارورہ(پیشاب) طبیب کے پاس لے گئے تواس نے قارورہ دیکھا اور دیر تک دیکھتا ہی رہا پھر مجھ سے کہنے لگا : ”یہ کسی عاشق کا قارورہ لگتا ہے۔“حضرت سیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : یہ سن کر میں گر پڑا اور بے ہوش ہوگیا اور قارورہ میرے ہاتھ سے گر گیا۔ ہوش آنے پرمیں اپنے استاذ حضرت سیِّدُناسَری سَقَطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ اَقدس میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بیان کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرائے پھر فرمایا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو مارے کیا خوب پہچان رکھتا ہے۔“میں نے عرض کیا : قبلہ استادِ مُکَرَّم! کیا قارورے سے بھی محبت ظاہر ہو جاتی ہے؟فرمایا : ہاں! ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : اگر چاہوں تو اس طرح کہہ دوں کہ اُسی کی محبت نے میری کھال کو میری ہڈیوں پر خشک کیا اور اسی کی محبت نے میرے جسم کو لاغر کیا۔ پھرآپ بے ہوش ہوکر گر پڑے اور بے ہوشی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ کلمات غلبَۂ وجد میں اس وقت فرمائے تھے جب بے ہوشی طاری ہونے والی تھی۔
یہ محبت اور اس کے ثمرات کی جامع علامات تھیں۔
د سویں علامت :
محبت کی علامات میں سے اُنْس و رضا بھی ہیں جیسا کہ عنقریب ان کی تفصیل آئے گی ۔حاصِلِ کلام یہ ہے کہ تمام محاسِنِ دین اور مکارمِ اخلاق محبت کا ثمرہ ہیں اور جو محبت ثمر آور نہ ہو وہ خواہِشِ نفس کی اِتِّباع ہے جو کہ اخلاقِ رَذیلہ میں سے ہے ۔البتہ بعض دفعہ انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس نے اس پر احسان کیا ہے اور بعض دفعہ اس کے جمال اور جلال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اگرچہ اس معاملے میں اس پر احسان نہ ہوا ہواور محبین ان دو اقسام سے خارج نہیں۔
محبَّتِ الٰہی میں لوگوں کی دواقسام :
حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں دو اقسام پر ہیں : (۱)… عام لوگ(۲)… خاص لوگ۔عام لوگوں نے اس مرتبے کو اس لئے پایا کہ وہ اس کا دائمی احسان اور کثرتِ نعمت دیکھتے ہیں تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کرنے سے اپنے آپ کو روک نہ سکے لیکن انعام واحسان کی بقدر ان کی محبت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔جہاں تک خاص لوگوں کا تعلق ہے تو انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدر، قدرت،علم اور حکمت کی عظمت اور سلطنت میں یکتائی کی وجہ سے محبت حاصل ہوئی ہے ۔جب انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفاتِ کاملہ اور اس کے اسمائے حُسنٰی کو پہچانا تو اس سے محبت کئے بغیرنہ رہ سکے کیونکہ ان کے نزدیک اس وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مستحق محبت ہے کیونکہ وہی اس کا اہل ہے اگرچہ ان سے تمام نعمتوں کو زائل فرما دے ۔البتہ بعض لوگ ایسے ہیں جو خواہش نفس اور دشمَنِ خدا ابلیس سے محبت کرتے ہیں اس کے باوُجود وہ دھوکے اور جہالت کو خَلْط مَلْط کر کے یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ محِبِّ الٰہی ہیں حالانکہ ان میں علاماتِ محبت مفقود ہوتی ہیں۔وہ نفاق،ریا کاری اور شہرت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دنیا کا حصہ پالیں اور اس کے خلاف ظاہر کرتے ہیں جیسے عُلَمائے سُوء اور بُرے قاری ہیں کہ یہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی زمین میں اس کے دشمن ہیں۔
شیطان کا حبیب :
حضرت سیِّدُنا سَہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جب کسی انسان سے مخاطِب ہوتے تو فرماتے : ’’اے دوست! یعنی اے حبیب!‘‘ایک بارآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا گیا کہ ہوسکتا ہے مخاطَب حبیب نہ ہو تو آپ اس کو کیسے دوست کہتے ہیں؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سوال کرنے والے کے کان میں آہستہ سے فرمایا کہ وہ دو حال سے خالی نہیں ہوگا یا تو مومن ہوگا یا منافق۔ اگر مومن ہے تو وہ رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا حبیب ہے اور اگر منافق ہے تو وہ شیطان لعین کا حبیب ہے ۔
علاماتِ محبت بصورتِ اشعار :
حضرت سیِّدُنا ابو تراب نَخۡشَبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے محبت کی علامات میں کچھ اشعار کہے ہیں :
لَا تُخۡدَعَنَّ فَلِلۡحَبِیۡبِ دَلَائِلٌ وَ لَدَیۡہِ مِنۡ تُحَفِ الۡحَبِیۡبِ رَسَائِلُ
مِنۡھَا تَنَعَّمُہُ بِمُرِّ بَلَائِہٖ وَ سُرُوۡرُہٗ فِی کُلِّ مَا ھُوَ فَاعِلُ
فَالۡمَنۡعُ مِنۡہُ عَطِیَّةٌ مَقۡبُوۡلَةٌ وَ الۡفَقۡرُ اِکۡرَامٌ وَ بِرٌّ عَاجِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرٰی مِنۡ عَزۡمِہٖ طَوۡعَ الۡحَبِیۡبِ وَ اِنۡ اَلَحَّ الۡعَاذِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ یُرٰی مُتَبَسِّمًا وَالۡقَلۡبُ فِیۡہِ مِنَ الۡحَبِیۡبِ بَلَابِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ یُرٰی مُتَفَھِّمًا لِکَلَامِ مَنۡ یُّحۡظٰی لَدَیۡہِ السَّائِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ یُرٰی مُتَقَشِّفًا مُتَحَفِّظًا مِنۡ کُلِّ مَا ھُوَ قَائِلُ
ترجمہ : (۱)…دھوکا میں نہ رہنا،ہر عاشق کی کچھ علامات ہیں اور اس کے پاس محبوب سے ملنے والے تحائف ہیں۔
(۲)…ان میں سے ایک یہ ہے کہ محبوب کی ہر کڑوی تکلیف سے لطف اندوز ہو اور محبوب کے ہرسلوک پرخوش رہے۔
(۳)…اس کے انعام و اکرام روک لینے کو مقبول عطیہ سمجھے اور فقر ومحتاجی کو اکرام اور فوری بھلائی جانے۔
(۴)…ایک علامت یہ ہے کہ تو محب کو محبوب کی اطاعت کے لئے پرعزم دیکھے گااگرچہ ملامت کرنے والا مسلسل ملامت کرے ۔
(۵)…ایک علامت یہ ہے کہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دکھائی دے گی اور دل یادِ محبوب میں سخت غمزدہ ہوگا۔
(۶)…ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اس شخص کی بات کو سمجھنے والا دکھائی دے گا جو اپنے ہاں سائل کو ترجیح دیتا ہے ۔
(۷)…اور ایک علامت یہ ہے کہ وہ بد حال نظر آئے گا مگر اپنے کلام میں احتیاط کرنے والا ہوتا ہے۔
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں :
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ مُشَمَّرًا فِیۡ خِرۡقَتَیۡنِ عَلٰی شُطُوۡطِ السَّاحِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ حُزۡنُہٗ وَ نَحِیۡبُہُ جَوۡفَ الظَّلَامِ فَمَا لَہٗ مِنۡ عَاذِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ مُسَافِرًا نَحۡوَ الۡجِھَادِ وَ کُلِّ فِعۡلٍ فَاضِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ زُھۡدُہٗ فِیۡمَا یَرٰی مِنۡ دَارٍ ذُلٍّ وَالنَّعِیۡمِ الزَّائِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ بَاکِیًا اَنۡ قَدۡ راٰہُ عَلٰی قَبِیۡحِ فَعَائِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ مُسَلِّمًا کُلَّ الۡاُمُوۡرِ اِلَی الۡمَلِیۡکِ الۡعَادِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ رَاضِیًـا بِمَلِیۡکِہٖ فِی کُلِّ حُکۡمٍ نَازِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ ضِحۡکُہٗ بَیۡنَ الۡوَرٰی وَ الۡقَلۡبُ مَحۡزُوۡنٌ کَقَلۡبِ الثَّاکِلِ
ترجمہ : (۱)…محب کی ایک علامت یہ ہے کہ تو اس کو لبِ ساحل دو چیتھڑوں میں کمر بستہ دیکھےگا۔
(۲)…ایک علامت یہ ہے کہ وہ رات کے اندھیرے میں روتااور فراق میں آہ و زاری کرتا ہے ۔
(۳)…ایک علامت یہ ہے کہ تو اس کو جہاد اور ہر باعِثِ فضیلت کام کے لئے تیار دیکھے گا ۔
(۴)…ایک علامت یہ ہے کہ وہ ذلت والے گھر اور نا پائیدارنعمتوں سے بے رغبت ہوگا۔
(۵)… ایک علامت یہ ہے کہ بُرے فعل کے ارتکاب پر تو اسے روتا ہوا دیکھے گا ۔
(۶)…ایک علامت یہ ہے کہ تو اس کو تمام اُمور عادل بادشاہ (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ )کے سپرد کرتا پائے گا۔
(۷)…ایک علامت یہ ہے کہ تو اسے اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے ہر حکم پر راضی دیکھے گا ۔
(۸)…ایک علامت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ہنستا ہے مگر اس کا دل گمشدہ بچے کی ماں کی مثل غمگین ہوتا ہے ۔
(… تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ …)
( صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد …)
1 بخاری ، کتاب الرقاق ، باب من احب لقاء اللّٰہ احب اللّٰہ لقاء ہ ، ۴ / ۲۴۹، حدیث :۶۵۰۷
2 المصنف لابن ابی شيبة ، کتاب الفتن ، باب من کرہ الخروج فی الفتنة وتعوذ عنھا ، ۸ / ۶۰۶، حدیث :۹۵
3 معرفة الصحابة لابی نعیم الاصبھانی ، ۳ / ۱۱۵، حدیث :۴۰۶۳، الرقم :۱۵۹۲: عبد اللّٰہ بن جحش
4 المصنف لعبد الرزاق ، کتاب الجھاد ، باب من سال الشھادة ، ۵ / ۱۷۷، حدیث :۹۶۱۵
5 قوت القلوب ، شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ، ۲ / ۸۵
6 بخاری ، کتاب المرضی ، باب تمنی المریض الموت ، ۴ / ۱۳، حدیث :۵۶۷۱
7 حلية الاولیاء ، سالم مولی ابی حذيفة ، ۱ / ۲۳۳، حدیث :۵۷۳، الرقم :۲۹، سالم مولی ابی حذیفة ، مفھومًا ، عن عمربن خطاب
قوت القلوب ، شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ، ۲ / ۸۵
8 قوت القلوب ، شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ، ۲ / ۸۶
9 بخاری ، کتاب الحدود ، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر وانہ لیس بخارج من الملة ، ۴ / ۳۳۰، حدیث :۶۷۸۰
10 تفسیر روح البیان ، پ ۱۱، سورة یونس ، تحت الاٰية :۳۵، ۴ / ۴۵
11 سنن الترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب اہل بیت النبی ، ۵ / ۴۳۴، الحدیث :۳۸۱۴
12 المعجم الکبیر ، ۹ / ۱۳۲، حدیث :۸۶۵۷، مفھومًا وبتغیر
13 المعجم الکبیر ، ۹ / ۱۳۲، حدیث :۸۶۵۷، مفھومًا وبتغیر
14 شعب الایمان ، باب التوکل باللّٰہ والتسلیم ، ۲ / ۱۲۵، حدیث :۱۳۶۶
قوت القلوب ، الفصل الثامن والعشرون : مراقبہ الموقنین من المقربین ، ۱ / ۱۸۸
15 ترجمۂ کنز الایمان :ارے لعنت ہو ثمود پر۔( پ ۱۲، ھود :۶۸)
16 ترجمۂ کنز الایمان : ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود۔( پ ۱۲، ھود :۹۵)
17 موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب المنامات ، ۳ / ۱۲۴، حدیث :۲۴۳
18 مسلم ، کتاب الذکر والدعاء ، باب استحباب الاستغفار والاستکثارمنہ ، ص ۱۴۴۹، حدیث :۲۷۰۲
سنن ابن ماجہ ، کتاب الادب ، باب الاستغفار ، ۴ / ۲۵۶، حدیث :۳۸۱۶
19 قوت القلوب ، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا وعلماء الاٰخرہ ، ۱ / ۲۴۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع