30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب نمبر12 : جہنم، اس کی سختیوں اور عذاب کا ذکر
اے اپنے نفس سے غافل!اے فانی دنیاکے مشاغل سے دھوکاکھانے والے! اس چیز کی فکر چھوڑ دے جس کو تو چھوڑ جانے والا ہے اور اپنی توجہ اپنی منزل کی طرف لگا دے کیونکہ تجھے بتایاجاچکاکہ جہنم سب کے گزرنے کی جگہ ہے جیسا کہ تیرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے۔
وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱) ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا(۷۲) ( پ ۱۶، مریم : ۷۱، ۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزردوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔
تیرا جہنم پرگزرنا یقینی ہے جبکہ نجات میں شک ہے پس اپنے دل میں جہنم کی ہولناکیوں کاڈر پیدا کرتو امید ہے کہ تو جہنم سے نجات پانے کی کوشش کرے نیز مخلوق کے حال پرغور کر کہ انہوں نے قیامت کے مصائب کا اندازہ اپنے کمزور خیالات کے مطابق لگایا توان کاحال یہ ہوگا کہ وہ قیامت کی تکالیف اور ہولناکیوں کے مابین اس کی حقیقت کو جاننے اور سفارشیوں کی سفارش کے انتظار میں کھڑے ہوں گے کہ اچانک مجرموں کو ایسے اندھیرے گھیر لیں گے جن میں کانٹے دار شاخیں ہوں گی اور اوپر سے لپٹیں مارتی آگ ان پر چھا جائے گی، وہ اس کےغیظ وغضب کی شدت کی وجہ سے چنگھاڑنے کی آواز سنیں گے، اس وقت مجرموں کو اپنی ہلاکت کا یقین ہو جائے گا اور لوگ گھٹنوں پر اوندھے گر جائیں گے یہاں تک کہ باقی بچ جانے والوں کو برے انجام کا خوف ہوگا، پھرجہنم پر مقررایک فرشتہ پکارےگا : فلاں بن فلاں کہاں ہےجو خود کو لمبی امیدوں کے سہارے دلاسہ دیتا رہا اور اپنی عمر کو برے اعمال میں ضائع کردیا؟ پھر وہ فرشتےلوہے کے بڑے بڑے گرز لے کر اس کی طرف بڑھیں گے اور اس کو بہت ڈرائیں گے اور سخت عذاب کی طرف کھینچیں گے اور اسے منہ کے بل جہنم کی گہرائیوں میں ڈال دیں گے اور اس سےکہیں گے چکھ ہاں ہاں تو ہی بڑا عزّت والا کرم والا ہے، بالآخر وہ ایسے گھر میں قید کر دیں گے کہ جس کے کنارے تنگ اور راستے اندھیرے ہوں گے اور اس میں اسبابِ ہلاکت پوشیدہ ہوں گے قیدی ہمیشہ اس میں قید رہیں گے، اس میں آگ بھڑکائی جائے گی، ان کے پینے کو کھولتا پانی اور رہنے کو جہنم ہو گا،عذاب کے فرشتے ان کو گُرزوں سے ماریں گے اور آگ ان کو جمع کرے گی، وہاں ان کے خیالات ختم ہو جائیں گے اور ان کوجہنم سے آزادی نہ ملے گی،ان کےپاؤں پیشانی کے بالوں سے باندھ دئیے جائیں گےاورگناہوں کی کالک سے ان کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے،وہ دوزخ کے کناروں سے پکاریں گے اور اس میں اِدھر اُدھر یوں چلاتے پھریں گے : اے مالک(جہنم پرمامور نگران فرشتہ کا نام)! ہم پر عذاب کا وعدہ سچا ہو چکا،اے مالک!بیڑیاں ہم پر بہت بھاری ہیں،اے مالک! ہماری جِلدیں پک چکی ہیں،اے مالک! اب ہمیں اس سے نکال د ے ہم دوبارہ برے اعمال نہیں کریں گے۔ دوزخ کے فرشتے جواب دیں گے : ہائے افسوس! امان کا وقت جا چکا اب تمارے لئے اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پڑے رہو اسی میں دھتکارے ہوئے اور کلام مت کرو، اگر تمہیں ایک بار اس سے نکال بھی دیا جائے تو تم دوبارہ وہی کرو گے جس سے تم کو منع کیا جاتا ہے۔ تب وہ نا امید ہو جائیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمقابلے میں حد سے بڑھ جانے پر افسوس کریں گے مگر اب انہیں ندامت نجات نہ دلا سکے گی اور نہ ہی افسوس فائدہ دے گا بلکہ ان کو طوق پہنا کر منہ کے بل ڈال دیا جائے گا ان کے اوپر نیچے،دائیں بائیں ہر طرف آگ ہی آگ ہو گی غرض کہ وہ آگ کے اندر غرق ہوں گے یہاں تک کہ ان کاکھانا،پینا،پہننا،بچھونا سب آگ ہی ہوگا، وہ دوزخ کی آگ کے ٹکڑوں کے درمیان ہوں گے، ان کو تارکول کا لباس پہنایا جائے گا،گرزمارے جائیں گے اور بھاری بیڑیاں پہنائی جائیں گی،وہ جہنم کی تنگ وادیوں میں چیخیں گے اور اس کے گہرے طبقات میں لگاموں میں جکڑے پھریں گے اور اس کے اطراف میں مضطرب و پریشان ہوں گے، ان پر ہنڈیا کی طرح جوش مارتی آگ ڈالی جائے گی وہ واویلا کرتے اور آہ وزاری کرتے چلاتے پھریں گے، وہ جب بھی موت کو پکاریں گے ان کے سروں کے اوپر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جو ان کی کھال اور پیٹوں کے اندر کا سب کچھ پگھلا دے گا،ان کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے جو ان کی پیشانیوں کو چورا چورا کر دیں گے اور ان کے منہ سے خون ملی پیپ نکلے گی، شدتِ پیاس سے ان کے جگر پھٹ جائیں گے، ان کی آنکھوں کے ڈھیلے گالوں پر بہہ جائیں گے اور رخساروں کا گوشت جھڑ جائے گا، ان کے اعضاء سے بال بلکہ کھال تک گر جائے گی اور جب جب ان کے چمڑے پک جائیں گے تو دوسرے چمڑوں سے بدل دیے جائیں گے بالآخر ان کی ہڈیاں گوشت سے خالی رہ جائیں گی پس ان کی روحیں انکی رگوں اور پٹھوں میں اٹکی ہوں گی اورانکی رگیں جہنم کی جھلسا دینے والی آگ کی تپش سے خشک ہو جائیں گی ساتھ ہی وہ موت کی تمنا بھی کر یں گے مگر ان کو موت نہ آئے گی۔
اے بندے ! تیری کیا کیفیت ہوگی اگر تو ان کو اس حال میں دیکھے کہ ان کے چہرےکوئلے سے بھی زیادہ سیاہ ہوچکے ہوں گے، ان کی آنکھیں اندھی، زبانیں گنگ کردی جائیں گی،ان کی کمریں اور ہڈیاں ٹوٹ چکی ہوں گی،کان کٹے ہوئے،چمڑے پھٹے ہوئے،ہاتھوں کو گردنوں سے باندھ دیا جائے گا، پاؤں کو پیشانیوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا،الغرض وہ آگ پر منہ کے بل چلتے ہوں گے اور لوہے کے کانٹے اپنی آنکھوں کی پتلیوں سے روند تے ہوں گے،آگ کا شعلہ ان کے اعضاءکے اندر دوڑتا ہوگا اور جہنم کے سانپ اور بچھو ان کے ظاہری اعضاء سے لپٹے ہوں گے۔یہ ان کے بعض حالات ہیں۔اب تم ان کی ہولناکیوں کی تفصیل ملاحظہ کرو اور جہنم کی وادیوں اور گھاٹیوں کے بارے میں غوروفکرکرو۔
کافر اور منافق کا انجام :
مروی ہے کہ بے شک جہنم میں70ہزار وادیاں ہیں ہر وادی میں70ہزار گھاٹیاں ہیں ہر گھاٹی میں70 ہزار اژدہے اور70ہزار بچھو ہیں کافر اور منافق کےانجام کی انتہااسی وقت ہوگی جب وہ ان تمام وادیوں میں پہنچ جائیں گے۔(1 )
جُبُّ الْحُزْن کیا ہے؟
حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ” تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ اَوْ وَادِی الْحُزْنِ یعنی غم کے کنویں یا (فرمایا)غم کی وادی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگو۔“ عرض کی گئی : ” يَا رَسُولَ اللّٰہ وَمَا وَادِی اَوْ جُبُّ الْحُزْنِ ؟ یعنی یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! غم کی وادی یا کنواں کیا ہے؟“ ارشاد فرمایا : ” وَادٍ فِیْ جَهَنَّمَ تَعَوَّذَ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِيْنَ مَرَّةً اَعَدَّهُ اللّٰہُ تَعَالٰى لِلْقُرَّآءِ الْمُرَآئِيْنَ یعنی وہ جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ایک دن میں ستر بار پناہ مانگتا ہے، یہ وادی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عابد وزاہدبننے والے ریاکاروں کے لئے تیار کی ہے۔“(2 )
دوزخ کی سات وادیوں کے نام :
یہ دوزخ کی وسعت اور اس کی وادیوں کا شاخ در شاخ ہونے کا بیان ہے اور ان کی تعداد دنیا کی وادیوں اور خواہشات کے مطابق ہےاور اس کے دروازوں کی تعداد ان سات اعضاء کی گنتی کے مطابق ہے جن سے بندہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کے طبقات ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں، سب سے اوپر جَہَنَّم ہے اس کے بعد سَقَر ، پھر لَظٰی ، پھر حُطَمَہ ،پھر سَعِیْر پھر جَحِیْم اور اس کے بعد ہَاوِیَہ ہے۔
اب تم ہاویہ کی گہرائی ملاحظہ کرو کہ دنیاوی خواہشات کی گہرائی کی طرح اس کی گہرائی کی بھی کوئی حد نہیں جس طرح دنیا کی موجودہ آرزو اور خواہش ختم نہیں ہوتی جب تک اس سے بڑ ی آرزو کو نہ حاصل کرلے اسی طرح دوزخ کا ہاویہ بھی اپنے سے گہرے ہاویہ پہ ختم ہوتا ہے۔
جہنم کی گہرائی :
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں ہم بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے کہ ہم نے کسی شے کے گرنے کی آواز سنی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ہم نے عرض کی : ” اَللّٰہُ وَرَسُوْلُـہ ٗ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔“ارشاد فرمایا : یہ پتھر ہے جسے 70سال پہلے جہنم میں چھوڑا گیا تھا اب اس کی گہرائی تک پہنچاہے۔(3 )
لہٰذا طبقات کے اختلاف میں غور کرو کیونکہ آخرت میں بڑے درجات اور بڑی فضیلتیں ہیں۔جس طرح لوگوں کا دنیا کی طرف میلان اور جھکاؤ مختلف ہوتاہے کہ کچھ تو بالکل ہی اس میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ ایک خاص حد تک اسی طرح ان تک آگ کا پہنچنا بھی مختلف ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں فرماتا اسی لئے ہر جہنمی پرعذاب کے طریقے ایک جیسے نہ ہوں گے خواہ عذاب کسی طرح کا ہو بلکہ ہرایک کو اس کی نافرمانیوں اور گناہوں کے حساب سے ایک مُعَیَّنَہ وقت تک عذاب ہوگا مگر سب سے ہلکے عذاب والے کی حالت یہ ہوگی کہ اگر اسے سب کی سب دنیادے دی جائے تو وہ اس عذاب کی شدت سے جان چھڑانے کے لئے بطورِ فدیہ دے ڈالے۔
دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب :
شفیع محشر، ساقی کوثر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اِنَّ اَدْنٰى اَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَّوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَّغْلِیْ دِمَاغُه ٗ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهٖ یعنی قیامت کے دن دوزخیوں میں سب سے کم عذاب والا وہ ہوگا جسےآگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے جن کی گرمی سے اس کا دماغ کھولتا ہوگا۔(4 )
اب غور کرو کہ کم عذاب والے کی یہ حالت ہےتو جس پر زیادہ سختی ہوگی اس کا کیا حال ہوگا، اگر کبھی تمہیں آگ کے عذاب کی شدت میں شک ہو تو اپنی انگلی آگ کے قریب کرو اور اس سے اندازہ لگالو (کہ آگ میں کس قدر شدت ہے) مگریاد رہے کہ تمہارا یہ قیاس درست نہیں کیونکہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ سے کوئی نسبت نہیں رکھتی لیکن جب دنیا کا سخت ترین عذاب اس آگ کا عذاب ہےتو اس سے جہنم کے عذاب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر جہنمیوں کو دنیا کی آگ کی مثل ملے تو وہ جہنم کی آگ سے خوشی خوشی بھاگ کر اس آگ میں کود پڑیں گے۔دنیا کی آگ کے متعلق بعض روایتوں میں آیاہے کہ ’’دنیا کی آگ کو رحمت کے 70 پانیوں سے دھویا گیا تب کہیں اہل دنیا کو اس کے استعمال کی طاقت ہوئی‘‘(5 )بلکہ نبیّ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نارِ دوزخ کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےحکم پر اس آگ کو ہزار سال تک جلایا گیا حتّٰی کہ وہ سرخ ہوگئی، پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی حتّٰی کہ سفید ہوگئی، پھر اسے ایک ہزار سال جلایا گیا تو یہ سیاہ ہوگئی، اب وہ سیاہ اندھیری ہے۔(6 )
دوزخ کی سانس :
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزید ارشاد فرمایا : اِشْتَكَتِ النَّارُ اِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ اَكَلَ بَعْضِیْ بَعْضًا فَاَذِنَ لَهَابِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِی الشِّتَآءِ وَنَفَسٍ فِی الصَّيْفِ فَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَه ٗ فِى الصَّيْفِ مِنْ حَرِّهَا وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَه ٗ فِى الشِّتَآءِ مِنْ زَمْهَرِيْرِهَا یعنی آگ نے اپنے ربّ کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے عرض کی کہ اے میرے رب! میرے بعض نے بعض کو کھالیا ،تو اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی گئی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں، تو گرمیوں میں تم جو حرارت کی شدت اور سردیوں میں جو ٹھنڈک پاتےہو یہ وہی دو سانس ہیں۔(7 )
جنت اور عذابِ نار کی ایک جھلک :
حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن کفار میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جسے دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں ملی ہوں گی، حکم ہو گا اس کو آگ میں ایک غوطہ دو پھر اس سے کہا جائے گا : کیا تو نے کبھی کوئی نعمت دیکھی؟ وہ کہے گا : نہیں۔پھر اس شخص کو لایا جائےگا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف میں ہوگا، حکم ہوگا اسے جنت میں ایک غوطہ دو پھر کہا جائے گا : کیا تو نےکبھی کوئی تکلیف دیکھی؟ وہ کہے گا : نہیں۔(8 )
حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : اگر مسجد میں ایک لاکھ یا اس سے زائد آدمی ہوں پھر دوزخيوں میں سے کوئی شخص سانس لے تو یقیناًوہ سب مرجائیں۔(9 )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ ( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۰۴) ترجمۂ کنز الایمان : ان کے منہ پر آگ لپٹ مارے گی۔
بعض علما نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ ایک ہی مرتبہ لپٹ مارے گی تو کسی ہڈی پر گوشت نہیں چھوڑے گی بلکہ ان کی ایڑیوں پر گرادے گی۔
دوزخیوں کی پیاس :
جہنمیوں کی پیپ کی بدبو کو دیکھو جو ان کے بدنوں سے بہے گی حتّٰی کہ وہ اس میں ڈوب جائیں گے اور اسے غَسّاق کہتے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” لَوْ اَنَّ دَلْوًامِّنْ غَسَّاقِ جَھَنَّمَ اُلْقِیَ فِی الدُّنْیَا لَاَنْتَنَ اَھْلَ الْاَرْضِ یعنی اگر جہنم کی پیپ کا ایک ڈول دنیا میں ڈال دیا جائے تو تمام زمین والوں کو بدبو دار بنادے۔“ (10 ) یہی ان کے پینے کو ہو گی، جب وہ پیاس کی شدت سے پانی طلب کریں گے توان میں سے ایک کو یہ پیپ پلائی جائے گی تو بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی مگر وہ مَرے گا نہیں اور اگرپانی کے لئے فریاد کریں گےتو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دیئے ہوئے دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا،کیا ہی برا پینااور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ۔
دوزخیوں کی غذا کے متعلق آیاتِ قرآنیہ :
ذرا غور کرو کہ ان کا کھانا تھوہڑ(کڑوا پھل) ہوگا جیسا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
(1)…ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ(۵۱)لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ(۵۲)فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ(۵۳)
فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ(۵۴) ( پ ۲۷، الواقعة : ۵۱ تا ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان : پھر بے شک تم اے گمراہو جھٹلانے والو ضرور تھوہڑ کے پیڑ میں سے کھاؤ گے پھر اس سے پیٹ بھرو گے پھر اس پر کھولتا پانی پیوگے۔
(2)… اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُ جُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ(۶۴)طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ(۶۵)فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ(۶۶)ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ(۶۷)ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ(۶۸) ( پ ۲۳، الصّٓفّٰت : ۶۴ تا ۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان : بےشک وہ ایک پیڑ ہے کہ جہنم کی جڑ میں نکلتا ہے اس کا شگوفہ جیسے دیووں کے سر پھر بے شک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے پھر بے شک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہےپھر ان کی بازگشت (واپسی) ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے۔
(3)… تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ(۴)تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ(۵) ( پ ۳۰، الغاشية : ۴، ۵)
ترجمۂ کنز الایمان : جائیں بھڑکتی آگ میں نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں۔
(4)… اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ( پ ۲۹، المزمل : ۱۲، ۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں
وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ(۱۳) ( پ ۲۹، المزمل : ۱۲، ۱۳) اور بھڑکتی آگ اور گلے میں پھنستا کھانا اور دردناک عذاب۔
عذابِ دوزخ کے متعلق چارفرامین مصطفٰے :
(1)… لَوۡاَنَّ قَطۡرَةً مِّنَ الزَّقُّوۡمِ قُطِرَتۡ فِىۡ بِحَارِ الدُّنۡيَا اَفۡسَدَتۡ عَلٰى اَهۡلِ الدُّنۡيَا مَعَايِشَهُمۡ یعنی اگر زقوم (دوزخیوں کاکھانا یعنی تھوہر) کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں گرجائے تو دنیا والوں پر ان کے اسبابِ زندگی کو خراب کردے ۔تو اس بندے کا کیا حال ہوگاجس کا کھانا یہ ہوگا؟ (11 )
(2)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں جس چیز کی طرف رغبت دی ہے اس میں رغبت رکھو اور ڈرو اور بچو اس سے جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں ڈرایا ہے یعنی اس کا عذاب، اس کی پکڑ اور جہنم سے کیونکہ تمہاری اس دنیا میں جس میں تم رہتے ہواگر جنت کاایک قطرہ بھی تمہارے ساتھ ہو تو وہ اس دنیاکو تمہارے لئے اچھا کردے اور تمہاری اسی دنیا میں جس میں تم رہتے ہو اگر جہنم کا ا یک قطرہ بھی تمہارے ساتھ ہو تو وہ اس دنیاکو تمہارے اوپر خراب کر دے۔(12 )
(3)…جہنمیوں پر بھوک کا عذاب ڈالا جائے گا تاکہ جس عذاب میں وہ مبتلا ہیں ان پر پورا کر دیا جائے، پس وہ کھانا مانگیں گے تو ان کو آ گ کے کانٹے کھانے کو ملیں گے کہ نہ فربہی لائیں اور نہ بھوک میں کام دیں، وہ پھر کھانا مانگیں گے تو گلے میں پھنستا کھانا دیا جائے گا تو ان کو یاد آئے گا کہ دنیا میں گلے میں پھنسا ہوا کھانا پانی کے ذریعہ حلق سے اتارتے تھے لہٰذا لوہے کے آنکڑوں سے کھولتا ہوا پانی ان کی طرف بڑھایا جائے گا، جب وہ ان کے چہروں کے قریب ہو گا تو ان کے چہروں کو بھون کر رکھ دے گا اورجب وہ پانی ان کے پیٹوں میں جائے گاتو ان کے پیٹوں کی ہر چیزکو کاٹ دے گا، وہ کہیں گے : داروغَۂ جہنم کو بلاؤ۔ پس وہ داروغہ جہنم کو بلائیں گے ان سے کہیں گے جسے رب تعالیٰ بیان فرماتا ہے :
ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ(۴۹) ( پ ۲۴، المؤمن : ۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اپنے رب سے دعا کرو ہم پر عذاب کا ایک دن ہلکا کردے۔
داروغَۂ جہنم کہیں گے :
اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِؕ- ( پ ۲۴، المؤمن : ۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان : کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے۔
دوزخی بولیں گے :
بَلٰىؕ- ( پ ۲۴، المؤمن : ۵۰) ترجمۂ کنز الایمان : کیوں نہیں۔
داروغَۂ جہنم کہیں گے :
فَادْعُوْاۚ-وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠(۵۰) ( پ ۲۴، المؤمن : ۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان : تو تمہیں دعا کرو اور کافروں کی دعا نہیں مگر بھٹکتے پھرنے کو۔
پھر جہنمی(دارغَۂ جہنم) مالک سے التجا کریں گے :
یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَؕ- ( پ ۲۵، الزخرف : ۷۷) ترجمۂ کنز الایمان : اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے۔(13 )
وہ کہیں گے :
اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ(۷۷) ( پ ۲۵، الزخرف : ۷۷) ترجمۂ کنز الایمان : تمہیں تو ٹھہرنا ہے۔ (14 )
حضرت سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے خبر دی گئی ہے کہ جہنمیوں کا حضرت مالک کو پکارنے اور حضرت مالک کاانہیں جواب دینے کے درمیان ایک ہزار سال کا وقفہ ہوگا۔
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزید ارشاد فرمایا : پھر جہنمی کہیں گے اپنے ربّ کو پکارو کہ تمہارے ربّ کے سوا کوئی خیروالا نہیں پھر کہیں گے :
رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ(۱۰۶)رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ(۱۰۷) ( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۰۶، ۱۰۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ربّ ہمارے ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں۔
رب تعالیٰ ارشاد فرمائے گا :
قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ(۱۰۸) ( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۰۸)
ترجمۂ کنز الایمان : رب فرمائے گا دُتکارے (ذلیل ہوکر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔
پھر فرمایا : اس وقت وہ ہر بھلائی سے ما یوس ہوجائیں گے، چیخیں گے اور حسرت وواویلا کریں گے۔(15 )
(4)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان :
وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ(۱۶) یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ ( پ ۱۳، ابراھیم : ۱۶، ۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا بمشکل تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہو گی۔
کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ پانی جہنمی کے قریب کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا اور جب وہ اس کے قریب ہوجائے گا تو اس کے چہرے کو بھون کر رکھ دے گا، اس کے سر کی کھال گرپڑے گی اور جب وہ اسے پیئے گا تو وہ اس کی آنتوں کو کاٹ دے گا حتّٰی کہ اس کے پاخانہ کی جگہ سے نکلے گا۔(16 )
جہنمی کیا پئیں گے؟
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ(۱۵) ( پ ۲۶، محمد : ۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اور انھیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے۔
مزید ارشاد فرمایا :
وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ- ( پ ۱۵، الکھف : ۲۹) ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دیئے (پگھلے) ہوئے دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون (جلا) دے گا۔
ان کی بھوک اور پیاس کے وقت یہ ان کا کھانا اور پینا ہوگا۔
جہنمی سانپ اور بچھو :
اب جہنم کے سانپوں، بچھوؤں، ان کے زہر کی شدت ،بڑے بڑے جسموں اور بری صورتوں کے بارے میں فکر کرو جودوزخیوں پر مُسَلَّط کئے جائیں گے اور ان سانپوں اور بچھوؤں کو بھڑکایا جائے گا تو وہ ان کو کاٹنے اور ڈسنے میں گھڑی بھر بھی کوتاہی نہیں کریں گے۔
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ محسِنِ کائنات، فخْرِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن یہ مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں کردیا جائے گا، جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ سانپ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر اس کی باچھوں سے پکڑ کر کہے گا : میں تیرا مال ہوں،میں تیرا خزانہ ہوں۔(17 )پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےیہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۸۰) ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےیہ بھی ارشاد فرمایا : جہنم میں کچھ سانپ ہیں جو بُخْتی اونٹ کی گردن جیسے ہیں(یعنی موٹے اور لمبے ہیں) ان کے ایک مرتبہ ڈسنے کا درد 40سال تک محسوس کرے گا اور اس میں ایسے بچھو ہیں جو اس خچر کی طرح ہیں جس پر پالان پڑا ہوا ہو وہ بھی اس طرح ڈسیں گے کہ 40سال تک اس کی تکلیف محسوس ہوگی۔(18 )اور یہ سانپ اور بچھو ان لوگوں پر مُسَلَّط ہوں گے جودنیا میں بخل، بداخلاقی اور لوگوں کو تکلیف دیتے تھے اور جس شخص کو اس قسم کی بد اخلاقیوں سے بچایا گیا وہ ان سانپوں سے بھی محفوظ ہوگا اور اس کا مال ان کی شکل میں نہیں آئے گا۔
جہنمیوں کے اجسام :
پھر اس سب كے بعد دوزخیوں کے اجسام کے بارے میں غور كرو كہ وه کتنے بڑے ہوں گے اللہ عَزَّ وَجَلَّ لمبائی اور چوڑائی میں ان کے جسم بڑھا دے گا تاکہ اس کے سبب ان کے عذاب میں اضافہ ہوجائے اور آگ کی لپیٹ نیز جسم کے مختلف حصوں پر ایک ساتھ بچھوؤں اور سانپوں کے اچانک پے در پے کاٹنے کی وجہ سے وہ تڑپیں گے۔
حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ضِرۡسُ الۡکَافِرِ فِی النَّارِ مِثۡلُ اُحُدٍ وَّ غِلَظُ جِلۡدِہٖ مَسِیۡرَةُ ثَلَاثٍ یعنی جہنم میں کافر کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کے جسم کی جلد تین (دن) کی مسافت کے برابر ہو گی۔(19)
مزید ارشاد فرمایا : شَفَتُہُ السُّفۡلٰی سَاقِطَةٌ عَلٰی صَدۡرِہٖ وَالۡعُلۡیَا قَالِصَةٌ قَدۡغَطَّتۡ عَلٰی وَجۡھِہ یعنی اس (کافر)کا نیچے کا ہونٹ اس کے سینے پر گرا ہوا ہوگا اور اوپر والا ہونٹ اوپر کو چڑھ کر پورے چہرے کو ڈھانپےہوگا۔(20 )
ایک مرتبہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اِنَّ الۡــکَافِرَ لَیَجُرُّلِسَانَـہ ٗ فِیۡ سِجِّیۡنَ یَوۡمَ الۡقِیَامَةِ یَتَوَاطَاَہُ النَّاسُ یعنی بے شک کافربروز قیامت جہنم میں اپنی زبان کو کھینچے گا جسے لوگ پاؤں سے روند رہے ہوں گے۔(21 )
آگ ہردن70ہزار مرتبہ جلائے گی :
جسموں کے بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ آگ بھی ان کو کئی بار جلائے گی اور ان کے چمڑے اور گوشت بار بار تازہ ہوتے جائیں گے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے :
كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا ( پ ۵، النسآء : ۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان : جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے۔
اس آیت کے تحت حضرت سیِّدُناامام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ہر دن آگ ان کو 70ہزار مرتبہ کھائے گی،جب وہ ان کوکھائے گی تو ان سے کہا جائے گا دو بارہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ جاؤ پس وہ پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے۔
پھر جہنمیوں کے رونے ، چلانے اور واویلا کرنے کے متعلق غور کر کہ جب وہ ہائے بربادی! ہائے ہلاکت! پکارتے ہوں گے کیونکہ ان کو جہنم میں ڈالتے ہی یہ سب کچھ ان پر مُسَلَّط کر دیاجائے گا۔
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : یُؤۡتٰی بِجَھَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لَّھَا سَبۡعُوۡنَ اَلۡفُ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبۡعُوۡنَ اَلۡفُ مَلَــکٍ یعنی قیامت کے دن جہنم کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کی70ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ 70ہزار فرشتے ہوں گے،(22 )
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : جہنمیوں پر رونا مسلط کیا جائے گا تو وہ روئیں گے حتّٰی کہ آنسو ختم ہوجائیں گے پھر وہ خون کے آنسو روئیں گے حتّٰی کہ ان کے چہروں میں ایسے گڑھے دیکھے جائیں گے کہ اگر ان میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو وہ چل پڑیں(23 ) اور جب تک ان کو آہ وبکا کرنے، چیخنے چلانےاور ہلاکت و تباہی کی پکار کی اجازت ہوگی تو اس میں ان کے لئے راحت ہوگی لیکن ان کو اس سے بھی روک دیا جائے گا۔
دوزخیوں کی پکار :
حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : دوزخی پانچ مرتبہ پکاریں گے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی چار پکاروں کا جواب دے گا جب پانچویں بار پکارنا ہوگا تو اس کے بعد وہ کبھی گفتگو نہیں کرسکیں گے۔(اس کو ربّ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں یوں بیان فرمایا) :
قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ(۱۱) ( پ ۲۴، المؤمن : ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان : کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو بار مردہ کیا اور دو بار زندہ کیا اب ہم اپنے گناہوں پر مقر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمائے گا :
ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْۚ-وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْاؕ-فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ(۱۲) (پ۲۴، المؤمن : ۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان : یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے اور اس کا شریک ٹھہرایا جاتا تو مان لیتے تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا۔
پھر وہ کہیں گے :
رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ- نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَؕ- ( پ ۱۳، ابراھیم : ۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں اور رسولوں کی غلامی کریں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :
اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ(۴۴) ( پ ۱۳، ابراھیم : ۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان : تو کیا تم پہلے قسم نہ کھا چکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں۔
وہ کہیں گے :
رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُؕ- ( پ ۲۲، فاطر : ۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ہمارے رب ہمیں نکال کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :
اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُؕ-فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠(۳۷) ( پ ۲۲، فاطر : ۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور کیا ہم نے تمہیں وہ عُمْر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جس نے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا تمہارے پاس تشریف لایا تھا تو اب چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
پھر وہ کہیں گے :
قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ(۱۰۶)رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ(۱۰۷)
( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۰۶، ۱۰۷)
ترجمۂ کنز الایمان : کہیں گے اے ربّ ہمارے ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :
قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ(۱۰۸) ( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۰۸)
ترجمۂ کنز الایمان : رب فرمائے گا دُتکارے (ذلیل ہوکر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔
اس کے بعد وہ کبھی کلام نہ کریں گے اور یہ شدّتِ عذاب کی انتہا ہے۔
حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : جہنمی100سال تک صبر کریں گے پھر100سال آہ وبکا کریں گے اور فریاد کریں گے پھر 100سال تک صبر کریں گے پھر کہیں گے(جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ یوں بیان فرماتا ہے) :
سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠(۲۱) ( پ ۱۳، ابراھیم : ۲۱) ترجمۂ کنز الایمان : ہم پر ایک سا ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں۔
اب کبھی موت نہیں :
ساقی کوثر، شافع محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ” یُؤۡتٰی بِالۡمَوۡتِ یَوۡمَ الۡقِیَامَةِ کَاَنَّہ ٗ کَبۡشٌ اَمۡلَحُ فَیُذۡبَحُ بَیۡنَ الۡجَــنَّةِ وَ النَّارِ وَ یُقَالُ یَااَھۡلَ الۡجَــنَّةِ خُلُوۡدٌ بِلَا مَوۡتٍ وَّیَااَھۡلَ النَّارِ خُلُوۡدٌ بِلَا مَوۡتٍ یعنی بروزِ قیامت موت ایک سیاہ و سفید مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی پس اسے جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیاجائے گا اور کہا جائے گا اے اہل جنت! ہمیشہ جنت میں رہو اب کبھی موت نہ آئے گی اوراے دوزخیو! ہمیشہ دوزخ میں رہو اب کبھی موت نہ آئے گی۔(24 )
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ایک شخص جہنم سے ایک ہزار سال بعد نکلے گا اے کاش! کہ وہ شخص میں ہی ہوں۔
حضرت سیِّدُنا حسن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو ایک کونے میں بیٹھے رو تے ہوئے دیکھا گیا۔عرض کی گئی : آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے جہنم میں نہ ڈال دےاور میری پروا بھی نہ کی جائے۔
یہ عذابِ دوزخ کی چند جھلکیاں تھیں، رہی اس کے غموں اور حسرتوں کی تفصیل تو اس کی کوئی انتہانہیں اس قدر شدید عذاب کے ساتھ ساتھ دوزخیوں کے لئے جو سب سے تکلیف دہ بات ہوگی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا، اس کی ملاقات اور جنتی نعمتوں کے فوت ہوجانے کی حسرت ہوگی اوروہ یہ بھی جانتے ہوں گےکہ انہوں نے ان تمام نعمتوں کو کھوٹے داموں چند روپوں کے بدلے بیچ ڈالا کیونکہ انہوں نے یہ نعمتیں دنیا میں چند دن کی حقیر خواہشات کےلالچ میں گنوا دیں حالانکہ وہ خواہشات بھی بلا مشقت نہ تھیں بلکہ رنج وغم اور پریشانیاں ان میں شامل تھیں، اب وہ اپنے دلوں میں کہیں گے ہائے افسوس! ہم نے اپنے ربّ کی نافرمانی کرکے کس طرح خود کو ہلاک کرلیا اور ہم نے اپنے آپ کو چند دن صبر کا عادی کیوں نہ بنا یا اگر ہم نے صبر کیا ہوتا تو وہ دن گزر چکے ہوتے اور اب ہم تمام جہانوں کو پالنے والے مالک و مولا کی بارگاہ میں اس کی رضا اور رضوان کی نعمتوں سے شرف یاب ہورہےہوتے۔ ایسے لوگوں پر افسوس ہےکہ انہوں نے بہت نقصان اٹھایا اور وہ بڑی آزمائش میں ڈالے گئےاور اب ان کے پاس دنیا کی کوئی نعمت اور لذت باقی نہ رہی۔پھربھی اگر انہوں نے جنت کی نعمتوں کو نہ دیکھا ہوتا تو ان کی حسرت زیادہ نہ ہوتی لیکن یہ نعمتیں بھی انہیں دکھائی جائیں گی۔
کاش جنت دیکھتے ہی نہ :
حضورنبیّ اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جہنم سے جنت کی طرف لایا جائے گایہا ں تک کہ جب وہ اس کے قریب ہوں گے، اس کی خوشبو سونگھیں گے، اس کے محلّات اور ان نعمتوں کو دیکھ لیں گے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اہْلِ جنت کے لئے تیا رکی ہیں تو آواز دی جائے گی کہ ان کو یہاں سے ہٹا دو ان کے لئےاس میں کوئی حصہ نہیں، پس وہ ایسی حسرت سے لوٹیں گے کہ اگلوں اور پچھلوں میں سے کبھی کوئی ایسی حسرت سے نہ لوٹاہو گا۔ وہ عرض کریں گے : ”اے ہمارے ربّ! تو نے اپنے دوستوں کے لئے جو ثواب اورجنت کی نعمتیں تیار کی ہیں، یہ دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں ڈال دیتا تو یہ ہمارے لئے آسان ہوتا۔“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : ”میں نے تمہارے لئے یہی ارادہ کیا تھا، جب تم اکیلے ہوتے تومیرے سامنے بڑے بڑے گناہوں کے ساتھ میرے مقابل آتے تھے اور جب لوگوں کے سامنے آتے تو عاجزی کرتےہوئے لوگوں کو وہ کچھ دکھاتے تھے جو تم اپنے دلوں سے میرے لئے نہ کرتے تھے، تم لوگوں سے تو ڈرے لیکن میرا خوف نہ رکھا، تم نے لوگوں کو بڑا سمجھا اور مجھے بڑا نہ جانا، تم نے لوگوں کی خاطر گناہ چھوڑے لیکن میرے لئے ترک نہ کیے، آج میں تم کوہمیشہ کے لئے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ دردناک عذاب کا مزہ چکھاؤں گا۔“(25 )
کاش جنت دیکھتے ہی نہ :
٭…حضرت سیِّدُنااحمد بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص دھوپ کی نسبت سائے کو تو پسند کرتا ہے پھر جہنم کی نسبت جنت کو کیوں پسند نہیں کرتا!
٭…حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ ان کے جسم صحیح و سالم، چہرے روشن اور بولنا فصیح ہے مگر کل(بعد از قیامت) وہ مختلف طبقاتِ جہنم میں چیختے ہوں گے۔
٭…حضرت سیِّدُناداؤد عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : یا الہٰی! میں تیرے سورج کی گرمی پر صبر نہیں کر پاتا تو تیری آگ کی گرمی پر کیسے صبر کروں گا؟ مجھ میں تیری رحمت کی آواز پر صبرکرنے کی طاقت نہیں تو تیرے عذاب کی آواز پر کیسے صبرکروں گا؟
تو اے کمزور انسان! تو ان دہشت ناک مناظر پہ غور کر اور جان لے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنم کو اس کی ان تمام تَر ہولناکیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کچھ ایسے لوگ پیدا کئے ہیں جو اسی کےاہل ہیں ان کی تعداد میں نہ تو اضافہ ہوگااور نہ ہی کمی اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ جس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُۘ-وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۳۹) ( پ ۱۶، مریم : ۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہو چکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ نہیں مانتے۔
مجھے قسم ہے اس آیت میں قیامت کے دن کی طرف اشارہ کیاگیا ہے بلکہ زمانے کی ابتدا سے بھی پہلے (فیصلہ ہو چکا)ہے لیکن جو فیصلہ ہو چکا اسےقیامت کے دن ظاہر کیا جائے گا۔، تعجب ہے تجھ پر کہ تو ہنستا، کھیلتا اور دنیا کی حقیر چیزوں میں مصروف رہتا ہے اور حال یہ ہے کہ تیرے بارے میں جو فیصلہ ہواتو اسے جانتا ہی نہیں۔
اگر تیرے ذہن میں یہ سوال آئے کہ مجھے اس بات کا کیا شعور کہ میرا ٹھکانا کون سا ہوگا اور میرے لوٹنے کی جگہ کیا ہوگی اور وہ کونسی بات ہے جس کا میرے حق میں فیصلہ ہو چکا؟تو تیرے لئے ایک ایسی علامت ہے جس سے میلان اور انس پیدا کر کےاس کے سبب تو اپنی امید کی تصدیق کر سکتاہے اور وہ علامت یہ کہ تو اپنے حالات اور اعمال پر غور کر کیونکہ ہر ایک کے واسطے اس کے لئے پیدا کئے جانے والا کام آسان کردیا گیا ہے اگر تیرے لئے بھلائی کا راستہ آسان کردیا گیاہے تو تجھے خوش ہونا چاہئے کیونکہ تو جہنم سے دور ہے اور اگر تو اچھائی کرنا چاہتا ہے مگر تجھے رکاوٹیں گھیر لیتی ہیں اور تو ان کو دور کرنے لگتا ہے لیکن جب برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب تیرے لئے آسان ہوجاتے ہیں تو جان لے کہ تیرے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ پس یہ علامت انجام پر اسی طرح دلالت کرتی ہے جیسا کہ بارش سبزی پر اور دھواں آگ پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ(۱۳)وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ(۱۴) ( پ ۳۰، الانفطار : ۱۳، ۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک نکوکار ضرور چین میں ہیں اور بے شک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں۔
پس تو اپنے آپ کو ان دونوں آیتوں پر پیش کرتجھے معلوم ہو جائے گا کہ دونوں ٹھکانوں میں سے تیرا ٹھکانا کون سا ہے۔
1 معرفة الصحابة لابی نعیم الاصبھانی ، سفیان بن مجیب ، ۲ / ۵۰۳، حدیث :۳۵۲۴، عن سفیان بن مجیب موقوفًا
2 کتاب الدعاء للطبرانی ، باب مااستعاذ منہ النبی الخ ، ص ۴۱۱، حدیث :۱۳۹۰
3 مسلم ، کتاب الجنة ، باب فی شدة حر نار جھنم الخ ، ص ۱۵۲۳، حدیث :۲۸۴۴
4 مسلم ، کتاب الایمان ، باب اھون اھل النار عذابا ، ص ۱۳۴، حدیث :۲۱۱
5 صحیح ابن حبان ، کتاب اخبارہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، باب صفة النار واھلھا ، ۹ / ۲۷۶، حدیث :۷۴۲۰
6 ترمذی ، کتاب صفة جھنم ، باب ۸، ۴ / ۲۶۶، حدیث :۲۶۰۰ المعجم الاوسط ، ۲ / ۷۸، حدیث :۲۵۸۳
7 مسلم ، کتاب المساجد ، باب استحباب الابراد بالظھر الخ ، ص ۳۱۱، حدیث :۶۱۷
8 مسلم ، کتاب صفة القیامة والجنة والنار ، باب صبغ انعم اھل الدنیا الخ ، ص ۱۵۰۸، حدیث :۲۸۰۷
9 موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب صفة النار ، ۶ / ۴۳۰، حدیث :۱۴۶
10 سنن الترمذی ، کتاب صفة جھنم ، باب ما جاء فی صفة شراب اھل النار ، ۴ / ۲۶۳، حدیث :۲۵۹۳
11 سنن الترمذی ، کتاب صفة جھنم ، باب ما جاء فی صفة شراب اھل النار ، ۴ / ۲۶۳، حدیث :۲۵۹۴
مسند ابی داؤد الطیالسی ، ص ۳۴۴، حدیث :۲۶۴۳
12 البعث والنشور للبیھقی ، باب ما جاء فی طعام اھل النار وشرابھم ، ص ۳۰۳، حدیث :۵۴۶
13 یعنی دعا کرو رب تعالیٰ ہمیں موت دیدے۔( خزائن العرفان ، پ۲۵، الزخرف ، تحت الایہ :۷۷)
14 یعنی ہمیشہ عذاب پاؤگے۔( خزائن العرفان ، پ۲۵، الزخرف ، تحت الایہ :۷۷)
15 ترمذی ، کتاب صفة جھنم ، باب ما جاء فی صفة طعام اھل النار ، ۴ / ۲۶۳، حدیث :۲۵۹۵۱
16 ترمذی ، کتاب صفة جھنم ، باب ما جاء فی صفة شراب اھل النار ، ۴ / ۲۶۲، حدیث :۲۵۹۲
17 بخاری ، کتاب الزکاة ، باب اثم مانع الزکاة ، ۱ / ۴۷۴، حدیث :۱۴۰۳
18 المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عبد اللّٰہ بن الحارث ، ۶ / ۲۱۷، حدیث :۱۷۷۲۹
19 مسلم ، کتاب الجنة ، باب النار یدخلھا الجبارون الخ ، ص ۱۵۲۷، حدیث :۲۸۵۱
20 ترمذی ، کتاب صفة جھنم ، باب ما جاء فی صفة طعام اھل النار ، ۴ / ۲۶۴، حدیث :۲۵۹۶ ، بتغیر
21 البعث والنشور للبیھقی ، باب ما جاء فی طعام اھل النار وشرابھم ، ص ۳۱۵، حدیث :۵۶۷
ترمذی ، کتاب صفة جھنم ، باب ما جاء فی عظم اھل النار ، ۴ / ۲۶۱، حدیث :۲۵۸۹
22 مسلم ، کتاب الجنة ، باب فی شدة حر نار جھنم ، ص ۱۵۲۳، حدیث :۲۸۴۲
23 سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب صفة النار ، ۴ / ۵۳۱، حدیث :۴۳۲۴
24 مسلم ، کتاب الجنة ، باب النار یدخلھا الجبارون ا لخ ، ص ۱۵۲۶، حدیث :۲۸۴۹
25 المعجم الکبیر ، ۱۵، ۱۷ / ۸۶، حدیث :۱۹۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع