30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
*…حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن مسعود رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا فرمان ہے: میں نے جس حال میں بھی صبح کی کبھی بہتر حالت کی آرزو نہ کی ۔
*…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں نے کبھی گانا گایا نہ کبھی جھوٹ بولا اور جب سے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی ہے کبھی اپنے سیدھے ہاتھ سے شرم گاہ کو نہیں چھوا ۔ (1 )
*…حضرت سیِّدُنا شَدَّاد بن اَوْس رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: جب سے اسلام لایا ہوں ہر بات خوب سوچ سمجھ کر کی ہے سوائے ایک بات کے کہ ایک مرتبہ اپنے غلام سے کہا: جاؤ دسترخواں لے آؤ تاکہ اسے بیچ کر کھانا منگوالیں ۔
*…حضرت سیِّدُنا ابوسفیان بن حارث رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بوقت وفات اپنے گھروالوں سے فرمایا: مجھ پر رونا مت! کیونکہ میں جب سے اسلام لایا ہوں اللہ عَزَّ وَجَلّ کی نافرمانی نہیں کی ۔
*… حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْعَزِیْز فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلّ نے میرے لئے جو کچھ مقدر فرمایا کبھی میں نے اس کے علاوہ کی خواہش نہ کی اور مجھے ہمیشہ اسی کی خواہش ہوتی جو اللہ عَزَّ وَجَلّ نے میرا مقدر فرمادیا ۔
ان تمام اقوال میں اچھی حالتوں کا اظہار ہے ۔ اگر ریاکارشخص ایسی باتوں کا اظہار کرے تو یہ انتہائی دَرَجہ کی ریاکاری ہوگی لیکن اگر ان باتوں کا ظہور ایسے نیک شخص سے ہو جس کی پیروی کی جاتی ہے تو یہ اعلیٰ دَرَجہ کی ترغیب ہوگی ۔ ذکر کردہ احتیاطوں کے ساتھ پختہ اخلاص والوں کے لئے اعمال ظاہر کرنا جائز ہے جبکہ نیت یہ ہو کہ لوگ اس کی پیروی کریں ۔
کبھی ریاکار کی ریاکاری بھی فائدہ دیتی ہے:
انسانی فطرت چونکہ غیر کی مُشابَہَت وپیروی کو پسند کرتی ہے تو اس پر پابندی لگانے کی حاجت نہیں بلکہ اگر کوئی شخص بطورِ رِیاکاری اپنا عمل ظاہر کرے اور لوگ اس کے ریاکار ہونے کو نہ جانتے ہوں تو اس میں بھی لوگوں کے لئے بہت سی بھلائی ہے اگرچہ ریاکار کے لئے برائی ہے ۔ کتنے ہی مُخْلِص بندے ہیں جنہیں ان لوگوں کی پیروی کرنے سے اخلاص حاصل ہوا جن کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلّ جانتا ہے کہ وہ ریاکار ہیں ۔
[1] سنن ابن ماجہ ، کتاب الطہارة وسننھا ، باب کراھة مس الذکر...الخ ، ۱ / ۱۹۸ ، حدیث : ۳۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع