30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وتوصیف جاری فرما دے گا اگرچہ ان کی تعریف سے نہ کمال حاصل ہوتا ہے نہ ان کی مذمت نقصان دیتی ہے ۔ روایت میں ہے کہ بَنُوتَمِیْم کے ایک شاعر نے کہا: میرا تعریف کرنا (لوگوں کے حق میں) زینت ہے اور میرا برائی بیان کرنا عیب ہے ۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تو نے جھوٹ کہا، یہ شان تو خدا تعالیٰ کی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ “ (1 )
جب زینت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے تعریف کرنے اور عیب اس کے مذمت کرنے میں ہے تو لوگوں کی تعریف کےسبب تیرے لئے بھلائی کیسے ممکن ہےجبکہ تورب تعالیٰ کے ہاں قابلِ مذمَّت اور دوزخی ہے اور اگرتو رب تعالیٰ کےہاں مقبول بندوں میں سے ہے تو پھر لوگوں کی مذمت تجھے کیسے برائی پہنچا سکتی ہے؟
جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے ملنے والے اعلیٰ مراتب، آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی اور اس کی لازوال نعمتوں کا یقین دل میں بٹھا لےتودنیاوی زندگی میں وہ مخلوق کی ہر شے کو حقیر اور غموں سے بھرپور گمان کرتا ہے، اپنی تمام ہمت جمع کر کے اپنے دل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف پھیر کر لوگوں کی سخت دلی اور ریاکاری کی ذلت سے خود کو بچا لیتا ہے، پھر اس کے اخلاص کے باعث کچھ نورانی تَجَلِّیات اس کے دل کی طرف متوجہ ہوتی ہیں جن سے اس کا سینہ کشادہ ہوجاتا ہے اور اس پر ایسے اَسرار و رُمُوز کھلتے ہیں جن کے سبب اس کے دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت اور مخلوق سے وَحْشَت مزید بڑھ جاتی ہے، اس کی نظر میں آخرت عظیم تر اور دنیا حقیر ہوجاتی ہے، اس کے دل سے مخلوق کا جاہ ومنصب مٹ جاتا ہے، ریاکاری کے اسباب منہ پھیر لیتے ہیں اور اخلاص کی راہ اس کے لئےآسان ہو جاتی ہے ۔
مذکورہ بیان اور کچھ جو ہم نے پہلے حصے میں بیان کیا سب ریاکاری کی جڑوں کو اکھاڑنے والی علمی دوائیں ہیں ۔
ریاکاری کی عملی دوا:
ریاکاری کی عملی دوا یہ ہے کہ بندہ اپنے نَفْس کو عبادات چھپانے کا عادی بنائے اور اس کی خاطر دروازہ ایسے بند رکھے جیسے گناہ چھپانے کی خاطر رکھتا ہے حتّٰی کہ اس کے دل میں یہ بات قرار پکڑ جائے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عبادات سے باخبر ہے اور نفس غیرُ اللہ کے سامنے عبادات ظاہر کرنے کی چاہت نہ کرے ۔
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوحَفْص عُمَر بن مسلم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں بیٹھنے والے کسی شخص نے دنیا اور
[1] سنن الترمذی ، کتاب ا لتفسیر ، باب ومن سورة الحجرات ، ۵ / ۱۷۸ ، حدیث : ۳۲۷۸ ، دون قول : کذبت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع