30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گے ۔ اسی طرح جو چیزیں انسان کے لئے ضروری ہیں: مثلاً قمیص، تہبند، بستر اور برتن وغیرہ تو ان میں بھی اچھی نِیَّت ہونی چاہئے کیونکہ دین کے سلسلے میں ان تمام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جو کچھ ضرورت سے زائد ہو اس سے بندوں کو نفع پہنچانے کی نیت کرے اورکسی ضرورت مندکو انکار نہ کرے ۔ جو کوئی اس طرح کا عمل کرے گا اس نے مال کے سانپ سے اس کا جوہر اور تِریاق لے لیا اور اس کے زہر سے بچ گیا،لہٰذا اب اسے مال کی کثرت نقصان نہیں پہنچاتی لیکن یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جس کے قدم دین میں مضبوط اور علم زیادہ ہو ۔ عام آدمی جب زیادہ مال حاصل کرنے میں کسی عالِم سے مُشابَہَت اختیار کرتا ہے اوریہ خیال کرتا ہے کہ یہ تو مال دارصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مشابہت ہے تو اس کی مثال اس بچے کی طرح ہے جوکسی ماہر فن سپیرے کو سانپ قابو کرتے ہوئے اور اپنے عمل کے ذریعے اس میں سے تریاق نکالتے ہوئے دیکھتا ہے تو یہ بچہ اس کی پیروی و نقل کرتے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے اس کی صورت اور شکل کو اچھا سمجھ کر اور اس کی جلد کو نرم سمجھ کر پکڑا ہے تو یہ بھی اس کی نقل کرتے ہوئے سانپ کو پکڑتا ہے تو سانپ اسے اسی وقت ہلاک کردیتا ہے ۔ ان دونوں میں فرق صرف یہی ہے کہ سانپ کا کاٹا ہوا معلوم ہوجاتا ہے لیکن جو شخص مال سے ہلاک ہوتا ہے اس کی ہلاکت کی وجہ کبھی معلوم نہیں ہوتی ۔ اسی وجہ سے دنیا کو سانپ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے :
ھِیَ دُنْیَا کَحَیَّةٍ تَنْفُثُ السَّمَّ وَاِنْ کَانَتِ الْمَجَسَّةُ لَانَتْ
ترجمہ:یہ دنیا سانپ کی مثل زہر اگلتی ہے اگرچہ اس کی جلد نرم وملائم ہے ۔
جس طرح نابیناشخص کا بینا شخص کی طرح پہاڑوں کی چوٹیاں سرکرنا، دریاؤں کے کناروں تک پہنچنا اور کانٹے دار راستوں سے گزرنا ناممکن ہے اسی طرح مال حاصل کرنے میں عام آدمی کا کسی عالِمِ باعمل کے مشابہ ہونا ناممکن ہے ۔
بارہویں فصل: مال داری کی مَذَمَّت اور فَقْرکی تعریف
شکر گزار مال دار افضل ہے یا صَبْر کرنے والافقیر اس میں اِختلاف ہے،ہم نے یہ بات’’فَقروزُہْد‘‘ کے بیان میں ذکر کرکے وہاں اس کی تحقیق کردی ہے ۔ یہاں ہم صرف اس بات کی طرف رہنمائی کریں گے کہ بحیثیت مجموعی فقر مال داری سے افضل اور اعلیٰ ہے چاہےاحوال کی تفصیل کچھ بھی ہواور اس سلسلے میں ہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع