30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انسانی پیشوں کی تقسیم :
اس کے تحت مختلف صنعتیں اور پیشے آتے ہیں ۔ پھر ان پیشوں کے لئے مختلف آلات کی حاجت ہوتی ہے جیسے کپڑا بُننے،زراعت،عمارت کی تعمیراور شکار کرنے کے لئے آلات کی حاجت ہوتی ہے اور یہ آلات یا تو نباتات سے حاصل ہوتے ہیں یعنی لکڑی سےیامعدنیات سے یعنی لوہے اور سیسے وغیرہ سےیا پھر حیوانات کی کھالوں سے حاصل ہوتے ہیں،لہٰذا مزید تین پیشوں کی حاجت پیش آئی اور وہ پیشے یہ ہیں:(۱)بڑھئی (۲)لوہار اور (۳)چمڑا سینے کا کام ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آلات بناتے ہیں ۔ بڑھئی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو لکڑی کا کام کرتا ہے چاہے وہ کسی بھی نوعیت کا ہو ۔ لوہار سے مرادہر وہ شخص ہے جو لوہے اور دیگر معدنیات یعنی تانبے وغیرہ کو بنانے اور جوڑنے کا کام کرے ۔ ہماری غرض یہاں پیشوں کی اَجناس کا ذکر کرنا ہے ورنہ پیشے تو بہت ہیں ۔ چمڑا سینے والے سے ہماری مراد ہر وہ شخص ہے جو حیوانات کے چمڑوں اور ان کے اجزا کا کام کرتا ہے ۔ یہ تین پیشے تمام پیشوں کی اصل ہیں ۔
انسان اورفلفسۂ اجتماعیت:
انسان کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کہ وہ اکیلے زندگی نہیں گزارسکتابلکہ وہ اپنی جنس کے دوسرے فرد کے ساتھ مل کر رہنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ اس کے دو سبب ہیں:(۱)جنس انسان کو باقی رکھنے کے لئے نسل بڑھانے کی حاجت ہوتی ہےاور یہ چیز مردوعورت کےاجتماع اور ملاپ کے بغیر نہیں ہوسکتی ۔ (۲)کھانے، لباس اور تربیت اولاد کے سلسلے میں وہ دوسرے کے تعاون کی ضرورت محسوس کرتا ہےاور مردوعورت کے ملاپ سے لامُحالہ بچہ پیدا ہوتا ہےاور اکیلا شخص بچے کی حفاظت وتربیت سے لے کر غذا ولباس کی فراہمی تک تمام امور کامُتَحَمِّل نہیں ہوسکتااور پھر اہل وعیال کے ساتھ گھر میں بیٹھے رہنے سے بھی گزارہ نہیں ہوسکتا جب تک بہت سارے لوگوں کے ساتھ اجتماعیت نہ ہواور ہر ایک مخصوص پیشہ اختیار نہ کرے ۔ ایک شخص کھیتی باڑی کے کام تن تنہاانجام نہیں دے سکتا کیونکہ ان کاموں کو انجام دینے کے لئے اسے آلات کی حاجت ہوتی ہے تو اسے پھر لوہاراوربڑھئی کی حاجت پڑتی ہے نیز کھانے کے لئے آٹا پیسنے والے اورروٹی پکانے والے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح تن تنہا انسان لباس حاصل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع