30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہلکا ہے(1 )اور پہلا مرتبہ تو ہر حال میں مذموم ہے اور دوسرے مرتبےپر حسد کا اطلاق مجازاً کیا گیا ہے(2 )لیکن یہ بھی اس فرمانِ باری تعالیٰ کی وجہ سے مذموم ہے:
وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ- (پ۵،النسآء:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ دوسروں جیسی نعمت کی تمناکرنا مذموم نہیں البتہ بعینہٖ اسی نعمت کی تمنا کرنا مذموم ہے ۔
تیسری فصل:حسد اورر شک کے اسباب
رشک کا سبَب قابِل رشک چیز کی محبت ہے ۔ اگراس کا تعلُّق دینی اُمُور سے ہے تو رشک کا سبَب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت اور اس کی اِطاعت کی چاہت ہےاور اگر دُنیاوی اُمُور سے ہے تو رشک کا سبَب دنیاکی مُباح اَشیاء کی محبت اور ان سے لُطْف اَندوز ہونے کی چاہت ہے ۔ اگر ہم مذموم حسد میں غور کریں تو اس کے راستے بہت زیادہ ہیں لیکن ان تمام کو سات ابواب میں جمع کیا گیا ہے: (۱)دشمنی (۲)تعزُّز (۳)تکبُّر (۴)تعجُّب (۵)محبوب مقاصد کے فوت ہونے کا خوف (۶)حکومت کی چاہت اور (۷)خُبثِ باطِن اور بخل نفس ۔
حسد کے سات اَسباب اور اُن کی تفصیل
ایک شخص جب دوسرے کے پاس نعمت کو ناپسند کرتا ہے تو اس کی ایک وجہ دشمنی ہوتی ہے جس کے سبب وہ اس کی بھلائی نہیں چاہتا اور حسد کا یہ سبب صرف ہم پلّہ لوگوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کبھی ادنٰی شخص بادشاہ سے حسد کرتا ہے اور اس سے زوالِ نعمت کی چاہت کرتاہے اور وہ بادشاہ سے اس وجہ سے بغض رکھتا ہے کہ اسے یا اس کے محبوب کو بادشاہ کی طرف سے تکلیف پہنچی ہوتی ہے ۔ کبھی حسد کا سبب یہ ہوتا ہے کہ حاسد جانتا ہےکہ صاحبِ نعمت اپنی نعمت کے ذریعے اس پر تکبر کرے گا اوروہ عزتِ نفس کی خاطر اس کے تکبر اور بڑائی
[1] صاحبِ اتحاف علامہ سیِّدمحمد بن محمد مرتضٰی زَبیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : دُرُست یہ ہے کہ یوں کہا جائے : تیسرا مرتبہ دوسرے کے مقابلےمیں ہلکا ہے۔(اتحاف السادة المتقين ، ۹ / ۵۰۳)
[2] اِحیاء کے نسخوں میں دوسرے مرتبے کا ذکر ہے لیکن صاحبِ اتحاف علامہ سیِّدمحمد بن محمدمرتضٰی زَبیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : یہاں چوتھا مرتبہ کہنا زیادہ اولیٰ ہے۔(اتحاف السادة المتقين ، ۹ / ۵۰۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع