30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسےکنویں میں پھنسا دیکھاجس کےاوپر ایک بڑا پتھر تھااور وہ لوگ اس پتھر کی وجہ سےاوپر چڑھنےسے عاجز تھےاس کا دل اپنے دوستوں کےلئے نرم ہوا اور اس پتھر کو اٹھانے کے لئے کنویں کے قریب آیاليكن وہ پتھر بھاری تھااتنے میں دوسرا شخص اس کی مدد کےلئے آگے بڑھااس نے اس کے ساتھ مل کر یا تن تنہا پتھر کو کنویں سے دورکردیا ۔ اب اس کی خوشی میں یقیناً اضافہ ہوناچاہئے کہ اس کا مقصد یہی تھا کہ اس کےدوست کنویں سے رہائی پائیں لیکن اس کے برعکس وہ اس عمل سے ناراض ہوگیاتو جس واعظ کا مقصد اپنے مسلمان بھائیوں کو دوزخ کی آگ سےبچاناہو اوریہ بات اس پر ظاہر ہوجائےکہ کوئی اور اس کی مدد کررہاہے یا وہ اکیلا ہی لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنے کےلئے کافی ہےتو اس پر ناراض نہیں ہونا چاہئے ۔ جس کی غرض لوگوں کو راہ ہدایت پر گامزن کرناہومگرتمام لوگ خود ہی راہ ِ ہدایت پر آجائیں تو کیا یہ بات اسے ناگوار گزرے گی؟بالکل نہیں، لہٰذا جب لوگ کسی دوسرے کے سبب راہ ِ ہدایت پر آجائیں تو اس پرکیوں ناراض ہوا جائے ۔ جب ایسےشخص کےدل میں ناگواری کا احساس پیدا ہوجاتا ہےتو شیطان اسے تمام بڑےگناہوں کی جانب بلاتا ہےاور بے حیائی کے کام کرواکر اسے ہلاکت میں ڈل دیتا ہے ۔ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں ہدایت پانے کے لئےدل کے سیدھی راہ سے ہٹ جانے سے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں نفس کے ٹیڑھے پن سے محفوظ رکھے ۔
لوگوں کو وَعْظ و نصیحت کب کی جائے…؟
اگر کوئی یہ کہےکہ جب ایسی بات ہے تو پھرآدمی لوگوں کو وعظ ونصیحت کب کرے ؟ اس کا جواب یہ ہےکہ جب لوگوں کی ہدایت سے اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی حاصل کرنا ہواوراگر کوئی دوسرا اس کام میں اس کی مدد کرےیا لوگ خود ہدایت پر آجائیں تو اسے اچھا جانے،لوگوں کے مال اور تعریف کو بالکل پسند نہ کرے، اس کے نزدیک تعریف اور مذمت دونوں برابر ہوں اور جب وہ یہ جانے کہ رب تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے تو لوگوں کی مذمت کا خیال نہ کرے اور جب سعادت مندی سے محروم ہونے کا اسے علم ہو تو لوگوں کی تعریف پر خوشی کا اظہار نہ کرے ۔ لوگوں کوبڑوں کی مثل یا جانوروں کی طرح خیال کرے کیونکہ بڑوں پر تکبر نہیں کیاجاتانیز ایمان پر خاتمہ معلوم نہ ہونےکے سبب تمام لوگوں کو اپنے سےبہتر جانےاور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع