30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لے گئے اور اسے پکارا ۔ اس نے کہا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی( عَلَیْہِ السَّلَام )! میں حاضر ہوں ۔ ‘‘ فرمایا:’’مجھ سے ایک قصور سرزد ہوگیا ہے ۔ ‘‘اس نے کہا:” کیا میں نے آپ کو معاف نہیں کیا؟“ فرمایا:” کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ وہ قصور کیا ہے؟“ اس نے کہا:’’وہ کیا ہے؟‘‘چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس قصور کو بیان کیا ۔ یہ سن کر وہ خاموش ہوگیا ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:’’اے اوریا! تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘ اس نے کہا:”انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی یہ شان نہیں ہوتی، اب میرا اور آپ کا معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ہوگا ۔ “ یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بلند آواز سے آہ و بُکا شروع کردی یہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے وعدہ فرمالیا کہ بروزِقیامت آپ کےمدمقابل کو آپ سے راضی فرمادے گا ۔ (1 )
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بغیردل کی رِضامندی کے معاف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اوردلی رضامندی اس معاملہ کو پہچاننےکےبعدحاصل ہوتی ہے ۔ اسی طرح کسی کومعاف کرنے یا تحفہ وغیرہ دینے کے معاملہ میں دلی رضامندی کی اس وقت تک خبر نہیں ہوسکتی جب تک معاف کرنے والے اور تحفہ دینے والے کو مکمل اختیارات کے ساتھ آزاد نہ چھوڑ دیا جائےاور بغیر کسی حیلہ یا مجبوری کے خود ہی اس کے دل میں معاف کرنے یا تحفہ دینے کے اسباب پیدا نہ ہوجائیں ۔
مقصَدِ زکوٰۃ سے غافل شخص:
یوں ہی فُقہا کے اس گروہ کےحیلوں میں سے ایک حیلہ یہ ہے کہ اگر کسی نے سال کے آخر میں زکوٰۃ ساقط کرنے کےلئے اپنا مال بیوی کو تحفہ دے دیا تو مفتی کے نزدیک زکوٰۃ ساقط ہوجائے گی اگر مفتی کی مراد
[1] حضرت سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کے اس قصے کا پس منظر یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک عورت سے نکاح کا ارادہ فرمانا چاہا مگر چونکہ وہ شادی شدہ تھی اور اس کا شوہر ایک مہم میں مصروف جہاد تھا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے امیر لشکر کو پیغام بھیجا کہ اس شخص کو فلاں فوجی مہم پر روانہ کردو۔امیر نے اسے روانہ کردیا ، اسے وہاں فتح ہوئی توامیر نے اس کے بارے میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو خبر دی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسےلکھا : ”اسے فلاں دشمن کی طرف بھیجو۔“تیسری فوجی مہم میں وہ آدمی شہید ہوگیا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کی شہادت کے بعد اس کی بیوی سے شادی فرمالی۔اسی شادی کو اپنا قصور تعبیر فرمایا اور اس کی معافی کے لئے 40دن تک روتے رہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کے فریق کو جنت عطافرماکر اسے آپ سے راضی فرمادے گا۔(ماخوذ ازدُرِّمنثور ، ۷ / ۱۶۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع