30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنہوں نے ان علوم کی گہرائی میں غوطہ زنی کی اور ان علوم کے حصول کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلیا اور جس قدر ان علوم کو حاصل کرنا ضروری تھا اس سے زیادہ حاصل کیا ۔
علوم کا مقصودِاصلی عمل ہے:
لوگوں کو سمجھنا چاہئےکہ اصْلِ مَغْزعمل ہے مگر اس سے پہلے عمل کی معرفت و پہچان ضروری ہے جبکہ مَعْرِفَت الفاظ سنے یا پڑھے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی جس کے لئے عِلْمِ نحو ولُغَت کی پہچان ضروری ہے مگر ان علوم سے پہلے عِلْمِ قِراءت جاننا لازم ہے ۔ ان میں سے بالترتیب ہر ایک پہلے کےلئے چھلکا اور دوسرے کے لئے مَغْز کی مانند ہے اوران دَرَجات کا بالترتیب جان لینا بھی دھوکے سے نہیں بچا سکتا جب تک کہ ان درجات کو سیڑھی سمجھ کر اور ہر سیڑھی پربَقَدْرِ ضرورت چڑھتے ہوئے اصل مغز یعنی عمل تک نہ پہنچاجائے اورجو لوگ اصْلِ مَغْز تک پہنچ جاتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کے دل اور اعضاء حقیقی عمل کے طلبگار ہوتے ہیں اور ان کی پوری زندگی نفس کے مُحاسَبے،اعمال کی اصلاح اور ان کی خرابیوں کو دور کرنے میں گزرجاتی ہے ۔
تمام علومِ شرعیہ کا مقصود اصلی عمل ہوتاہےدیگرعلوم اس کے لئے خادم، راستہ اورسیڑھی کی حیثیت رکھتے ہیں اور جو شخص اس مقصود تک نہ پہنچ سکےوہ ناکام ونامراد ہےچاہے وہ منزل کے قریب ہو یادور ۔
چونکہ مذکورہ عُلوم کا تعلق علومِ شرعیہ سے ہوتاہے لہٰذا ان علوم کو سیکھنے والے انہیں علومِ شرعیہ گمان کرکے مُغالَطے میں مبتلاہوجاتے ہیں البتہ عِلْم طِب، حساب اور مختلف مصنوعات کا علم رکھنے والےان علوم کو علومِ شرعیہ نہ جاننےاوراپنے لئےراہِ نجات نہ سمجھنے کی وجہ سے مذکورہ افراد کے مقابلے میں کم دھوکےکا شکار ہیں کیونکہ علوم شرعیہ دو قسم کے ہیں:(۱)…وہ جو کہ مقصودِ اصلی ہیں اور (۲)…وہ جو کہ مقصودِ اصلی تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں ۔ جس طرح چھلکا اور مغزدونوں میں رغبت ہوتی ہےلیکن مقصودِ اصلی مغز ہوتاہے اور چھلکا اس تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتاہے اور جو چھلکا کو مقصود اصلی قرار دیتے ہوئے اس میں رغبت رکھےوہ دھوکے کا شکار ہے ۔
فُقَہا کاحیلوں کے ذریعےدھوکےمیں پڑنا:
فُقہا کا ایک گروہ بہت بڑے دھوکے کا شکار ہےان کا خیال ہےکہ جو فیصلہ قاضی کرتا ہےوہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع