30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)…اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًاؕ- (پ۲۲،فاطر:۸)
ترجمۂ کنز الایمان :تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا بُرا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اُسے بھلا سمجھا ۔
(2)…وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴) (پ۱۶،الکھف:۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان :وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں ۔
حضورنبیّ غیب داں،مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی ہے کہ اس اُمَّت کے آخری دور میں غَلَط رائے پر اِترانےکا رُجحان غالِب ہوگا،اسی رجحان کی بدولت پچھلی اُمتیں ہلاک ہوئیں،فرقوں میں بٹ گئیں اور ہر ایک اپنی رائے پر اِترانے لگا ۔ (1 )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ(۵۳) (پ۱۸،المؤمنون:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان :ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے ۔
تمام بِدْعَتِی اور گمراہ لوگ اپنی آراء پر اِترانے کے باعث اس پر ڈٹ جاتے ہیں اور بدعت پر اِترانے کا مطلب یہ ہے کہ جو بات خواہش نفس کے مطابق ہوانسان اسے اچھا سمجھے اور اپنے خیال میں اسے حق تصور کرے ۔
اس طرح کی خود پسندی کا علاج دوسری صورتوں کے مقابلے میں انتہائی دُشوار ہے کیونکہ غَلَط رائے رکھنے والا اپنی خطاسے بے خبر ہوتا ہے، اگر اسے اس بات کا علم ہوجائے تو فوراً اسے چھوڑدے اور جس مَرَض کے بارے میں معلوم نہ ہو اس کا عِلاج بہت مشکل ہوتا ہے اور جہالت ایک ایسامرض ہے جس کا پتا نہیں چلتا، لہٰذا اس کا علاج بھی انتہائی دشوار ہے ۔ عارف یہ تو کر سکتا ہے جاہل کو اس کی جہالت سے خبردار کرے اورجہالت کو اس سے دور کردے لیکن جب کوئی اپنی رائے اور جہالت پراِتراتا ہو تو وہ عارف کی بات پر کان نہیں دھرے گا بلکہ اُلٹااس پر تہمت لگائے گاکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس پر ایک ایسی آفت مُسَلَّط کی ہے جوہلاکت میں ڈالنے والی ہے اور وہ اسے نعمت سمجھ رہا ہے تو اس صور ت میں اس کا عِلاج کیسے ممکن ہوگا اور وہ اس بات سے کیسےچھٹکارا
[1] سنن الترمذی ، کتاب التفسیر ، باب ومن سورة المائدة ، ۵ / ۴۱ ، الحدیث : ۳۰۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع