30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری فصل: بیوی پر شوہر کے حقوق
اس سلسلے میں قولِ شافی یہ ہے کہ نکاح غلامی کی ایک قسم ہے، اس میں عورت گویا شوہر کی لونڈی ہوتی ہے،لہٰذا عورت پر اس کے نفس کے معاملے میں گناہ کے علاوہ شوہرجس چیز کا مطالبہ کرے اس میں مطلقاً اس کی اطاعت لازم ہے، کہ عورت پر شوہر کے حقوق کی عظمت کے بارے میں کثیر احادیث مروی ہیں۔ چنانچہ،
شوہر کی اطاعت سے متعلق 12فرامین مصطفٰے:
(1)… اَیُّمَا اِمْرَأَۃٍ مَّاتَتْ وَزَوْجُھَا عَنْھَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّۃ یعنی جس عورت کا اس حال میں انتقال ہوا کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ (1 )
(2)…مروی ہے کہ ایک شخص نے سفر پر روانہ ہوتے وقت اپنی بیوی سے عہد لیا کہ وہ اوپر والی منزل سے نیچے نہیں اترے گی، نچلی منزل میں عورت کا باپ رہتا تھا، وہ بیمار ہوا تو عورت نے بارگاہِ رسالت میں پیغام بھیج کر باپ کے پاس جانے کی اجازت چاہی تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:’’اپنے شوہر کی اطاعت کر۔‘‘چنانچہ، باپ کا انتقال ہوگیا، اس نے پھر اجازت طلب کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےیہی فرمایا کہ’’اپنے شوہر کی اطاعت کر۔‘‘جب اس کے باپ کو دفنا دیا گیا تو حضور نبیّ رحمت،شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس عورت کی طرف پیغام بھیجا کہ’’تمہارے اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے والد کی مغفرت فرما دی ہے۔‘‘ (2 )
(3)… اِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَہَا وَصَامَتْ شَہْرَہَا وَحَفِظَتْ فَرْجَہَا وَاَطَاعَتْ زَوْجَہَا دَخَلَتْ جَنَّۃَ رَبِّہَا یعنی اگرعورت(پاپندی سے)پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان المبارک کے روزے رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو وہ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی جنت میں داخل ہو گی۔‘‘ (3 )
اس روایت کے مطابق خاوند کی اطاعت اسلام کے بنیادی امور میں سے ہے۔
(4)… حَامِلَاتٌ وَّالِدَاتٌ مُّرْضِعَاتٌ رَّحِیْمَاتٌ بِاَوْلَادِہِنَّ لَوْ لَا مَا یَاْتِیْنَ اِلٰی زَوْجِہِنَّ دَخَلَ مُصَلِّیَاتِہِنَّ الْجَنَّۃ یعنی حاملہ، بچے جننے والی، اپنی اولاد پر رحم کرنے والی عورتیں اگر شوہروں کے ساتھ بدسلوکی نہ کریں تو ان میں سے نمازی عورتیں جنت میں داخل ہوں گی(4 )۔‘‘ (5 )
(5)… اِطَّلَعْتُ فِی النَّارِفَاِذَا اَکْثَرُ اَہْلِہَاالنِّسَآءُ فَقُلْنَ لِمَ یَارَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ یَکْثُرْنَ اللَّعْنَ وَ یَکْفُرْنَ الْعَشِیْر یعنی میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثر عورتوں کو پایا۔عورتوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم ! کس سبب سے؟ ارشاد فرمایا:وہ لعن طعن زیادہ کرتی اور خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔(6 )
(6)… اِطَّلَعْتُ فِی الْجَنَّۃِ فَاِذَا اَقَلُّ اَہْلِہَا النِّسَآءُ فَقُلْتُ اَیْنَ النِّسَآءِ فَقُلْنَ شَغَلَہُنَّ الْاَحْمَرَانِ الذَّہَبُ وَ الزَّعْفَرَان یعنی میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں عورتوں کو کم پایا، تو پوچھا:عورتیں کہاں ہیں؟ بتایا گیا:انہیں دو سرخ چیزوں سونے اور زعفران نے غافل کر رکھا ہے۔(7 )
سونے سے مرادزیورات اورزعفران سے مرادزرد رنگ سےکپڑوں کا رنگنا ہے۔
(7)…ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: ایک عورت نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی:’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم !میں جوان ہوں، مجھے نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے لیکن میں نکاح کو ناپسند کرتی ہوں، (ارشاد فرمائیے کہ)عورت پر شوہر کا کیا حق ہے؟‘‘میرے سرتاج، صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’اگر شوہر کی سر کی چوٹی سے لے کر پاؤں تک پیپ ہو اورعورت اسے چاٹ لے تب بھی شوہر کا شکر ادا نہیں کرسکتی۔‘‘اس نے عرض کی:’’تو کیا میں شادی نہ کروں؟‘‘ارشاد فرمایا:’’کیوں نہیں، تم شادی کرو کہ یہ بہتر ہے۔‘‘(8 )
(8)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: قبیلہ خثعم کی ایک عورت نےبارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی:’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم !میں غیر شادی شدہ ہوں، میرا شادی کرنے کا ارادہ ہے، لہٰذا (ارشاد فرمائیے کہ عورت پر)شوہر کا کیا حق ہے؟‘‘مصطفٰے جان رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’شوہر کا عورت پر٭…ایک حق یہ ہے کہ شوہر عورت کا ارادہ کرے اور اس سے جماع کا طلب گار ہو وہ اسے منع نہ کرے اگرچہ اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو،٭… ایک حق یہ ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے کسی کو کئی چیز نہ دےاگراس نے ایسا کیا تو گناہ گار ہوگی جبکہ شوہر کو ثواب ملے گا،٭… ایک حق یہ ہے کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اگر اس نے ایسا کیا تو بھوکی پیاسی رہی لیکن اس کا روزہ قبول نہ ہوا اور٭… ایک حق یہ ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے اگر اس نے ایسا کیا تو واپس لوٹنے یا توبہ کرنے تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔‘‘(9 )
(9)… لَوْاُمِرْتُ اَحَداً اَنْ یَّسْجُدَ لِاَحَدٍ لَّاَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا مِنْ عَظَمِ حَقِّہٖ عَلَیْہَا یعنی اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ ( اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا) کسی کو سجدہ کرے تو عورت پر شوہر کا جوحق ہے اس کی عظمت کی وجہ سے عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔(10 )
)10(…عورت اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصے میں ہو(11 )اور عورت کا اپنے گھر کے صحن میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے(12 )اور کمرے میں نماز پڑھنا، صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اورکوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔(13 )
کمرے کے اندر سامان وغیرہ رکھنے کے لئے جو چھوٹا سا کمرہ بنایا جاتا ہے اسے مَخْدَع (کوٹھڑی) کہتے ہیں اوروہاں نماز پڑھنا کمرے میں نماز پڑھنے سے اس لئے افضل ہے کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
)11(… اَلْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ فَاِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَہَاالشَّیْطٰنُ یعنی عورت چھپانے کی چیز ہے جب وہ) گھرسے)نکلتی ہے تو شیطان اسے گھورتا(یا لوگوں کی نگاہ میں اسے بھلی کردیتا) ہے۔ (14 )
)12(… لِلْمَرْأَۃِ عَشَرُ عَوْرَاتٍ فَاِذَا تَزَوَّجَتْ سَتَرَالزَّوْجُ عَوْرَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا مَاتَتْ سَتَرَ الْقَبْرُ الْعَشَرَ یعنی عورت کے لئے دس بے پردگیاں ہیں، جب وہ شادی کرتی ہے تو شوہر ایک بے پردگی کو ڈھانپ لیتا ہے اور جب اس کا انتقال ہوتا ہے تو قبر 10 کی 10 بے پردگیوں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ (15 )
بیوی کے ذمہ دو اہم امور:
بیوی کے ذمہ شوہر کے کئی حقوق ہیں لیکن دو امور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں:(۱)…حفاظت وپردہ کرنا (کہ جہاں تک ہو سکےخودکو غیرمحرموں کی نظروں سے بچائے اور ان سے پردہ کرے)۔(۲)…غیر ضروری چیزوں کا مطالبہ کرنے سے بچنا اور اگر شوہر کی کمائی حرام ہو تو اس سے بھی بچے۔
جہنم کی آگ برداشت نہیں:
گزشتہ زمانے میں عورتوں کی یہی عادت تھی کہ مرد گھر سے نکلنے لگتا تو اس کی بیوی یا بیٹی اس سے کہتی: حرام کمائی سے بچتے رہنا، ہم بھوک وتکلیف تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن جہنم کی آگ برداشت نہیں کر سکتے۔
حکایت:مُتَوَکِّلَہ عورت:
منقول ہے کہ اسلاف میں سے ایک شخص نے سفر کا ارادہ کیا تو اس کے پڑوس کی عورتوں نے اس کے سفر کو ناپسند کرتے ہوئے اس کی بیوی سے کہا:’’تم اس کے سفر پر جانے میں کیوں راضی ہو گئی حالانکہ اس نے تمہارے لئے کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں چھوڑا؟‘‘ بیوی نے کہا:’’میں نے جب سے اپنے شوہر کو جانا ہے تو کھلانے والا ہی جانا ہے نہ کہ رزق دینے والا،رزق عطا کرنے والی ذات تو رب عَزَّوَجَلَّ کی ہے، کھلانے والا چلا گیا لیکن رزق عطا فرمانے والا موجود ہے۔‘‘
حکایت:سیِّدَتُنا رابعہ بنتِ اسماعیل
رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کی شان ولایت:
حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بنتِ اسماعیل عَلَیْہَا رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل نے حضرت سیِّدُنا احمد بن ابی حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کو نکاح کا پیغام دیا، چونکہ آپ عبادت میں مشغول رہتے تھے اس لئے اسے ناپسند کیا اوران سے فرمایا:
’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اپنی حالت میں مشغولیت کی وجہ سے میرا عورتوں سے نکاح کا کوئی ارادہ نہیں۔‘‘انہوں نے کہا:’’ میں اپنی حالت میں آپ سے زیادہ مشغول ہوں اور مجھے بھی کوئی خواہش نہیں ہے لیکن پہلے شوہر کی وراثت سے مجھے کثیر مال حاصل ہوا ہے، میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے اپنے بھائیوں پر خرچ کریں تاکہ آپ کے ذریعےنیک لوگوں کی معرفت حاصل کرکے میں بارگاہ الٰہی تک رسائی پالوں۔‘‘حضرت سیِّدُنااحمد بن ابی حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے فرمایا:’’میں اپنے استاذ محترم سے اجازت لے لوں پھر جواب دوں گا۔‘‘چنانچہ، آپ اپنے استاذ محترم حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی خدمت میں حاضرگئے۔ فرماتے ہیں:
میرے استاذ محترم مجھے شادی سے منع کیا کرتے تھےاورفرماتے تھے:’’ہمارے اصحاب میں سے جس نے بھی شادی کی اس کا حال تبدیل ہو گیا۔‘‘لیکن جب انہوں نے ان کا کلام سنا تو فرمایا:’’اس سے شادی کر لو کیونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ولیہ ہے اور ایسا کلام صدیقین کا ہوا کرتا ہے۔‘‘چنانچہ،میں نے ان سے شادی کر لی،ہمارے گھر میں چونے سے بنی ایک کوٹھڑی تھی جو کھانے کے بعد جلدی نکلنے والوں کے ہاتھ دھونے اور اشنان کے ساتھ ہاتھ دھونے والےلوگوں کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی۔ان سے نکاح کے بعدمیں نے تین اورعورتوں سے شادی کی تو حضرت رابعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا مجھے اچھا کھانا کھلا کر اورخوشبو لگا کر کہتی:’’نشاط اور قوت کے ساتھ اپنی ازواج کے پاس جاؤ۔‘‘حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بنتِ اسماعیل عَلَیْہَا رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل ملکِ شام میں ایسی تھیں جیسی حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ عَدَویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا بصرہ میں۔
بیوی شوہر کے مال کی محافظ ہو:
٭…بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کے مال کو کم نہ کرے بلکہ اس کی حفاظت کرے۔چنانچہ، مُعَلِّم کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ بلا اجازت شوہر کے گھر میں سے کسی کو کچھ کھلائے۔البتہ،تازہ کھانا جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اسے شوہر کی صریح اجازت کے بغیر صدقہ کرسکتی ہے،اس پر اگر شوہر نے رضا مندی کا اظہار کیا تو جتنا ثواب شوہر کو ہو گا اسے بھی ہو گااور ناراضی کی صورت میں شوہر تو ثواب کا مستحق ہوگا لیکن عورت پر گناہ ہوگا۔‘‘(16 )
دلہن کے لئے حکمت بھرے مدَنی پھول:
٭…والدین پر لازم ہے کہ اپنی بیٹیوں کو حسن معاشرت اور شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کے آداب سکھائیں۔ چنانچہ، مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا اسماء بن خارجہ فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت اس سے فرمایا: جس گھر میں تم پیدا ہوئی تھی اس سے ایسے بستر کی طرف جا رہی ہو جسے تم نہیں پہچانتی اور ایسے رفیق کے پاس جا رہی ہو جس سے تم مانوس نہیں ہو،لہٰذا تم اس کے لئے زمین بن جانا وہ تمہارے لئے آسمان بن جائے گا، تم اس کے لئے بستر بن جانا وہ تمہارے لئے ستون بن جائے گا، تم اس کی باندی(غلام) بن جانا وہ تمہارا غلام بن جائے گا۔ نہ تو اس سے اتنا زیادہ قریب ہونا کہ وہ تم سے نفرت کرنے لگے اور نہ ہی اتنا زیادہ دور ہونا کہ وہ تمہیں بھول جائے، اگر وہ تمہارے قریب ہو تو تم بھی اس کے قریب ہو جانا اور اگر تم سے دور ہو تو تم بھی اس سے دور رہنا، اس کے ناک، کان اور آنکھ کی حفاظت کرناکہ وہ تم سے صرف خوشبو ہی سونگھے، اچھی بات کے علاوہ کچھ نہ سنے اور خوبصورتی کے علاوہ کچھ نہ دیکھے۔
نصیحتوں بھرے اشعار:
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا:
خُذِی الْعَفْوَ مِنِّی تَسْتَدِیْمِیْ مَوَدَّتِیْ وَلَا تَنْطِقِیْ فِیْ سُوْرَتِیْ حِیْنَ اَغْضَب
وَلَا تَنْقِرِیْنِیْ نَقْرَکِ الدُّفَّ مَرَّۃً فَاِنَّکَ لَا تَدْرِیْنَ کَیْفَ الْمُغَیَّب
وَلَا تَکْثُرِی الشِّکْویٰ فَتَذْھَبُ بِالْھَویٰ وَیَاْبَاکِ قَلْبِیْ وَالْقُلُوْبُ تُقَلِّب
فَاِنِّیْ رَأَیْتُ الْحُبَّ فِی الْقَلْبِ وَالْاَذیٰ اِذَا اجْتَمَعَا لَمْ یَلْبِثِ الْحُبُّ یَذْہَب
ترجمہ:(۱)…مجھ سے درگزر کر کے میری دائمی محبت کو پا لے اور میرے غصہ کی حالت میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا۔
(۲)… مجھے کبھی بھی ڈھول کی طرح نہ بجانا کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ اندر کیا چھپا ہوا ہے۔
(۳)…زیادہ شکوہ و شکایت مت کرنا کہ اس سے دلی محبت چلی جائے گی اور میرا دل تمہارا انکار(یعنی تم سےنفرت) کرے گا اور دل بدلتے رہتے ہیں۔
(۴)…میرامشاہدہ ہے کہ جب ایک دل میں محبت واذیت(نفرت) دونوں جمع ہوجاتی ہیں تو محبت چلی جاتی(جبکہ نفرت باقی رہتی) ہے۔
عورت کے آداب کے متعلق جامع مضمون:
عورت کے آداب کے بارے میں ایک مختصر اور جامع قول یہ ہے کہ٭…عورت گھر کے اندرونی کمرے میں بیٹھ کر چرخہ کاتنے کو لازم پکڑ لے،٭…نہ تو کثرت سے چھت پر چڑھے اور نہ ہی(دوسروں کے) گھروں میں جھانکے،٭…پڑوسیوں سے بات چیت کم کرےاور سوائے ضرورت کے ان کے گھر نہ جائے،٭… خاوند کی موجودگی وغیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرے،٭… تمام امور میں اس کی خوشی و رضا کی متلاشی رہے، ٭…اپنے نفس اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرے،٭… شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے اوراگر اجازت سے نکلے تو بھی پردے میں معمولی وحقیر حالت میں نکلے،٭…بازاروں اور عام راستوں پر نہ چلے بلکہ خالی جگہوں کو تلاش کرے،٭…اس بات سے بچتی رہے کہ کوئی اجنبی اس کی آواز سنے یا حلیے سے اسے پہچانے،٭… اپنی حاجات کے وقت بھی شوہر کے دوست کو اپنی پہچان نہ کرائے بلکہ جس شخص کے بارے میں یہ گمان ہو کہ وہ اسے جانتا ہے یایہ اسے جانتی ہے تو اس کے سامنے اجنبی بن جائے،٭…اس کا مقصد اپنی حالت کی اصلاح اور گھر کی تدبیر کرنا ہو،٭…نماز وروزہ کی طرف متوجہ رہے،٭…اگر شوہر کا کوئی دوست گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت طلب کرے اور شوہر گھر پر نہ ہو توخود پراور شوہر پر غیرت کھاتے ہوئے نہ تو اس سے کچھ پوچھے اور نہ ہی جواب دے،٭… اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کےشوہر کو جوکچھ عطا فرمایا ہے اسی پر قناعت کرے،٭… شوہر کے حق کوخود پراور اپنے تمام عزیز واقربا کے حق پرمقدم جانے،٭… اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھے،٭…ہر حال میں اس بات کے لئے تیار رہے کہ اگر شوہر اس سے نفع اٹھانا چاہے تو اٹھا لے، ٭…اپنی اولاد پر شفقت کرے،٭…ان کے رازوں کی حفاظت کرے،٭…اولاد کو گالیاں دینے اور شوہر کو جواب دینے سے اپنی زبان کو روکے رکھے۔چنانچہ،
جنت میں پہلے جانے والی خوش نصیب عورت:
نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے(ایسی عورت کےبارے میں) ارشاد فرمایا:’’میں اور وہ عورت جس کے رخسار سرخی مائل سیاہ ہو گئے ہوں، جنت میں اتناقریب ہوں گے جیسے شہادت اور درمیان کی انگلی۔یہ وہ عورت ہے جس کا شوہر فوت ہو گیا اور اس نے اپنے بچوں کے لئےخود کو روکے رکھا حتی کہ وہ اس سے جدا ہوگئے یا مر گئے۔‘‘ (17 )
بِاذنِ پروَرْدْگار دوعالم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّ نے ہرشخص پر مجھ سے پہلے جنت میں داخل ہونا حرام فرما دیا ہے سوائے اس کے کہ میں نے اپنے سیدھی جانب ایک عورت کو دیکھا جو جنت کے دروازے کی طرف مجھ پر سبقت کر رہی تھی تو میں نے کہا:’’یہ مجھ پر سبقت کیوں کررہی ہے؟‘‘مجھےسےکہا گیا:’’اے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم !یہ حسین و جمیل تھی، اس کے پاس اس کی یتیم بچیاں تھیں، اس نے ان پر صبر کیا(اپنے نفس کو روکے رکھا) حتی کہ ان کا معاملہ جہاں پہنچنا تھا پہنچ گیاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اُس عمل کی یہ جزا عطا فرمائی ہے۔‘‘(18 )
عورت اپنے حسن وجمال پر فخر نہ کرے:
٭…ایک ادب یہ ہے کہ نہ تو اپنے حسن و جمال کی وجہ سے شوہر پر فخر کرے اور نہ ہی شوہر کی بدصورتی کی وجہ سے اسے حقیر جانے۔
خوبصورت و عقل مندصابرہ، شاکرہ عورت:
حضرت سیِّدُنا امام عبد الملک بن قریب اَصْمَعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:میں ایک قبیلہ میں گیا تو وہاں میں نےلوگوں میں سےسب سے خوبصورت عورت کوسب سے بدصورت شخص کے نکاح میں دیکھا، میں نے اس عورت سے کہا:’’ کیا تو اپنےلئے اس بات پر راضی ہے کہ تو اس طرح کے شخص کے نکاح میں ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا:’’ خاموش ہو جاؤ! تم نے غلط بات کی ہے، ہو سکتا ہے اس نے کوئی نیکی کی ہو جس کی جزا میں اللہعَزَّوَجَلَّ نے اس کا مجھ سے نکاح کر دیا،یا ہو سکتا ہے کہ میں نے کوئی گناہ کیا ہو جس کے عقاب میں اللہ عَزَّوَجَلَّ
نے میرا اس سے نکاح کر دیا ہو توکیا اب بھی میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی نہ رہوں؟‘‘اس طرح اُس عورت نے مجھے خاموش کرادیا۔
سرخ
قمیص اور ہاتھ میں تسبیح :
انہی سے منقول ہے، فرماتے ہیں: میں نے ایک دیہات میں سرخ رنگ میں ملبوس ایک عورت کو دیکھا،اس نے مہندی لگائی ہوئی تھی اور ہاتھ میں تسبیح پکڑرکھی تھی، میں نے اس سے کہا:’’سرخ لباس پہن کر اور مہندی کا خضاب کر کے ہاتھ میں تسبیح پکڑنا کتنا عجیب ہے؟‘‘تو اس نے جواب دیا:
لِلّٰہِ مِنِّیْ جَانِبٌ لَّا اُضِیْعُہٗ وَلِلَّھْوِ مِنِّیْ وَالْبَطَالَۃِ جَانِبٌ
ترجمہ:میری ایک جانب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے جسے میں ضائع نہیں کرتی اور دوسری جانب یعنی کھیل کودو زیبائش شوہر کے لئے ہے۔
فرماتے ہیں:’’یہ سن کر میں نے جان لیا کہ یہ نیک اورشادی شدہ عورت ہے اوراپنے شوہر کے لئے خود کو مُزَیَّن کئے ہوئے ہے۔‘‘
٭… ایک ادب یہ بھی ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں نیکی وسکون کو لازم پکڑے اور موجودگی میں کھیل کود، فرحت اور لذّت کے اسباب کی طرف رجوع کرےاور کوشش کرے کہ کسی بھی حال میں شوہر کو اس سے تکلیف نہ پہنچے۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّ کے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:جب بھی کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے تو حور عین میں سے اس کی بیوی(بننے والی) کہتی ہے:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، یہ تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے گا۔‘‘ (19 )
سوگ(20 )کا بیان
٭…نکاح کے سلسلے میں عورت پر لازم حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ اگر اس کا شوہر فوت ہو جائے تو اس پر چار مہینے دس دن سے زیادہ سوگ نہ کرے اور اس مدت میں خوشبو اور زینت سے اجتناب کرے۔
کسی کے مرنے پر کتنے دن سوگ کیا جائے؟
حضرت سیِّدَتُنا زینب بنت ابی سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں: جب ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے والد حضرت سیِّدُنا ابو سفیان بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس حاضر ہوئی، انہوں نے پیلے رنگ کی خوشبو منگوائی، اسے ایک لونڈی کے سر پر لگایا پھر اپنے رخساروں پر مل کر فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی مگر میں نے اللہعَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشادفرماتے سنا:جو عورت اللہعَزَّوَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کے مرنے پرتین دن سے زیادہ سوگ کرے۔البتہ،شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔ (21 )
٭…عورت کے لئے ضروری ہے کہ عدت ختم ہونے تک وہیں رہے جہاں اس کی سکونت تھی،نہ تو اپنے گھروالوں(میکے) کی طرف جائے اور نہ ہی بلاضرورت وہاں سے باہر نکلے۔
٭…عورت پر نکاح کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ حسب استطاعت گھر کے کام کاج کرتی رہے۔ چنانچہ،
سیِّدَتُنا اسماء
رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی گھریلو زندگی:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدَتُنا اسماء بنت ابی بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں:حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے نکاح کیاتو ان کے پاس ایک گھوڑے اور پانی لانے والی اونٹنی کے سوانہ تو کوئی مال تھا اور نہ ہی کوئی غلام، میں ان کے گھوڑے کو چارہ کھلاتی، ان کی خوراک کا انتظام کرتی، ان کی دیکھ بھال کرتی اور ان کی اونٹنی کے لئے کھجور کی گٹھلیاں کوٹتی، اسے چارہ کھلاتی، پانی پلاتی، ڈول سیتی، آٹا گوندھتی تھی اور میں دو فرسخ (ایک فرسخ تین میل کا فاصلہ ہوتا ہے،یعنی کم و بیش چھ میل کی مسافت )سے اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں اٹھا کر لاتی حتی کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے میرے پاس ایک باندی(خادمہ) بھیجی تو اس نے مجھے گھوڑے کی دیکھ بھال سے فارغ کر دیا گویا اس نے مجھے آزاد کر دیا۔‘‘ایک مرتبہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم سے میری اس حال میں ملاقات ہوئی کہ میرے سرپر کھجور کی گٹھلیاں تھیں، صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی ہمراہ تھے،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نےاونٹ سے اِخ،اِخ فرمایا تاکہ اونٹ بیٹھ جائے اور مجھے اپنے پیچھے سوار فرمالیں، تو میں نے مردوں کے ساتھ چلنے میں حیا محسوس کی اور مجھے حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اوران کی غیرت یاد آگئی،وہ لوگوں میں سب سے زیادہ غیرت مند تھے۔جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے محسوس کیا کہ میں شرما رہی ہوں تو تشریف لے گئے۔چنانچہ، میں نے حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آکر سارا ماجرا بیان کیا تو انہوں نے فرمایا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میرے لئے تمہارااپنے سر پر گٹھلیاں اٹھا کر لانا رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ سوارہونے سے زیادہ عار کا باعث ہے۔‘‘(22 )
اَلْحَمْدُلِلّٰہ!اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سےآدابِ نکاح کا بیان مکمل ہوا
) صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد (
کسب و معاش کے آداب کا بیان
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد ہم اس موحدکی طرح کرتے ہیں جو ہر شے سے جدا ہوکر واحد برحق کی یکتائی میں گم ہوگیااور اس کی بزرگی اس بندے کی طرح بیان کرتے ہیں جوبغیر کسی استثناء کے واضح طور پر کہتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر شے باطل ہے ۔بے شک زمین وآسمان کی تمام مخلوق مل کر بھی ایک مکھی یا پروانہ بھی پیدا نہیں کر سکتی۔ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے آسمان کواوپر اٹھا کر اپنے بندوں کے لئے چھت بنایا اور زمین کوبچھاکر ان کے لئے بستر کردیااور اُسی نے رات کو دن پر لپیٹ کر اسے پردہ بنادیا اور دن کو روزگار کا ذریعہ بنایا تاکہ بندے باری تعالیٰ کے فضل یعنی رزق کی تلاش میں پھیل جائیں اور اس کے ذریعے اپنی حاجتوں کو پورا کریں اورہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بکثرت درود وسلام بھیجتے ہیں کہ جن کے حوض کوثر پر مومن بندے آئیں گے تو پیاسےمگرجائیں گے سیراب ہو کر اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آل و اصحاب پر بھی درودبھیجتے ہیں کہ جنہوں نے ہر موقع پردین کی مددکی۔
حصولِ رزق میں لوگوں کی اقسام:
بے شک تمام پرورش کرنے والوں کو پالنے والے اور تمام اسباب کو پیدا فرمانے والے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آخرت کو ثواب اورعقاب کا گھر جبکہ دنیا کو مشقت وپریشانی اورعمل ومہلت کا گھر بنایاہے……دنیا میں صرف عمل ہی آخرت کے لئے خاص نہیں بلکہ معاش(یعنی روزی ورزق)بھی آخرت کی طرف ذریعہ اور اس پر مددگار ہے،لہٰذادنیا آخرت کی کھیتی اور اس تک پہنچے کا راستہ ہے۔دنیا میں لوگوں کی تین اقسام ہیں:(۱)…وہ جسےحصولِ روزق نے آخرت سے غافل کر رکھاہے۔ ایسا شخص ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔(۲)…وہ جسے آخرت نے طلب رزق سے غافل کر دیاہے۔ ایسا شخص کامیاب لوگوں میں سے ہے۔(۳)…وہ جو رزق کےحصول میں اپنی آخرت کی خاطرمشغول ہوتاہے۔ ایساشخص اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے والوں میں سے ہے اور اعتدال کا مرتبہ وہی شخص پا سکتا ہے جوروزی کی طلب میں درست راہ پر چلے اوردنیا کو وہی شخص آخرت کے لئے وسیلہ اور ذریعہ بنا سکتاہےجو اس کی طلب میں آدابِ شریعت کا خیال رکھے۔
کسب کی اقسام اور تجارت وکاریگری کے آداب
اب ہم تجارت وکاریگری کے آداب، کسب کی اقسام اور اس کے طریقے بیان کریں گے جن کی تفصیل وتشریح درج ذیل پانچ ابواب میں ہوگی:
(۱)…کسب کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان(۲)… خرید و فروخت اورمُعامَلات کے صحیح ہونے کا بیان(۳)… معاملات میں عدل کرنے کا بیان(۴)…معاملات میں احسان کرنے کا بیان(۵)…تاجر کا اپنے ساتھ خاص دینی امور میں ڈرنے کا بیان۔
باب نمبر1: کسب کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں کسب کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔چنانچہ،
کسب کی فضیلت پر مشتمل 5فرامین باری تعالیٰ:
(1)… وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) ( پ ۳۰، النبا :۱۱) ترجمۂ کنز الایمان :اور دن کو روزگار کے لئے بنایا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس آیتِ مبارکہ کواپنے عظیم احسانات اوراپنی بڑی نعمتوں کے بیان میں ارشادفرمایاہے۔
(2)… وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠(۱۰) ( پ ۸، الاعراف :۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان :اورتمہارے لئے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو ۔
اللہعَزَّوَجَلَّ نے اس آیتِ طیِّبہ میں رزق کے حصول اور زندگی کے اسباب کو نعمت قرار دیا اور اس پر شکر اداکرنے کا مطالبہ فرمایا۔
(3)… لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-ؕ( پ ۲، البقرة :۱۹۸)
ترجمۂ کنز الایمان : تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو ۔
(4)… وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ- ( پ ۲۹، المزمل :۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے ۔
(5)… فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ( پ ۲۸، الجمعة :۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان :توزمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔
کسب کی فضیلت پر مشتمل 13فرامین مصطفٰے:
(1)… مِنَ الذُّنُوْبِ ذُنُوْبٌ لَّا یُکَفِّرُھَا اِلَّا الْھَمُّ فِیْ طَلَبِ الْمَعِیْشَۃِ یعنی گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے ہیں جن کو حصولِ رزق میں پہنچنے والارنج وغم ہی مٹا سکتا ہے۔(23 )
(2)… اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ یُحْشَرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآء یعنی قیامت کے دن سچے تاجر کا حشر صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔(24 )
(3)… مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا وَّتَعَطُّفًا عَنِ الْمَسْئَلَةِ وَسَعْيًا عَلٰي عِيَالِهٖ وَتَعَطُّفًا عَلٰي جَارِهٖ لَقِيَ اللهَ وَوَجْهُهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ یعنی جس نے خود کو سوال سے بچانے ،اپنے بال بچوں کے لئے بھاگ دوڑکرنے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لئے حلال مال طلب کیا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گاکہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا۔(25 )
(4)…ایک دن صبح سویرےحضورسیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے ایک طاقتور اور مضبوظ جسم والےنوجوان کو روزگار کے لئے بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کر کہا: کاش!اس کی جوانی اور طاقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صرف ہوتی۔‘‘تورحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ایسا مت کہو! کیونکہ اگروہ محنت وکوشش اس لئے کرتا ہے کہ خودکو سوال کرنے سے بچائے اور لوگوں سے بے پرواہوجائے تووہ یقیناً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر وہ اپنے ضعیف والدین اور کمزور اولاد کے لئے محنت کرتا ہے تاکہ انہیں لوگوں سے بے پروا کر دے اورانہیں کافی ہوجائے تو بھی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر وہ فخر کرنے اور مال کی زیادہ طلبی کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے تووہ شیطان کی راہ میں ہے۔(26 )
(5)… اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْعَبْدَ یَتَّخِذُ الْمِہْنَۃَ لِیَسْتَغْنِیَ بِہَا عَنِ النَّاسِ وَیُبْغِضُ الْعَبْدَ یَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ یَتَّخِذُہٗ مِہْنَۃً یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو اس لئے کام کاج کرتا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں سے بے نیاز ہوجائے اور اس بندے کو ناپسند فرماتا ہے جو علم سیکھتا ہے تا کہ اسےپیشہ(یعنی مال کمانے کا ذریعہ)بنائے۔(27 )
(6)… اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِفَ یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ پیشہ ور(کام کاج کرنے والے )مومن کو پسند فرماتا ہے۔‘‘(28 )
(7)… اَحَلُّ مَااَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهٖ وَكُلِّ بَيْعٍ مَبْرُوْرٍ یعنی سب سےزیادہ پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی اوردھوکا وخیانت سے محفوظ تجارت سے کھائے۔(29 )
(8)… اَحَلُّ مَااَكَلَ الْعَبْدُ مِنْ یَدِ الصَّانِعِ اِذَا نَصَحَ یعنی سب سے زیادہ حلال کھانا وہ ہے جو بندہ اپنے ہنرکی کمائی سے کھائے جبکہ وہ دیانت داری سے کام کرے۔(30 )
(9)… عَلَیْکُمْ بِالتِّجَارَۃِ فَاِنَّ فِیْہَا تِسْعَۃَ اَعْشَارِ الرِّزْقِ یعنی تم تجارت کیا کروکہ رزق کے 10 حصوں میں سے9 حصے تجارت میں ہیں۔(31 )
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے ایک شخص کو دیکھ کر استفسار فرمایا:’’تم کیا کرتے ہو؟‘‘اس نے عرض کی:’’میں عبادت کرتا ہوں۔‘‘استفسارفرمایا:’’ تمہاری کفالت کون کرتا ہے؟ ‘‘عرض کی:’’میرا بھائی۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’ تمہارا بھائی تم سے بڑا عبادت گزار ہے۔‘‘
(10)…’’میں جس چیز کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ تمہیں جنت کے قریب اور جہنم سے دور کرنے والی ہےتو تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور جس چیز کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ تمہیں جنت سے دور اور جہنم کے قریب کرنے والی ہے تو تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ بے شک رُوح الامین حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرے گی جب تک وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے اگرچہ وہ اس کو دیر سے ملے ۔پس تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور رزق کا حصول اچھے طریقے سے کرو۔‘‘آخر میں ارشاد فرمایا:’’رزق میں سے کسی شے کا دیر سے ملنا تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کر کے رزق تلاش کرنے لگوکیونکہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے(یعنی ثواب وغیرہ)اس تک اس کی نافرمانی سے نہیں پہنچا جاسکتا۔(32 )
اس روایت میں حضورنبیّ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےرزق کےحصول میں اچھا طریقہ اختیار کرنے کا فرمایانہ کہ رزق کی طلب کو چھوڑنے کا۔
(11)… اَلْاَسْوَاقُ مَوَائِدُ اللّٰہِ تَعَالٰی فَمَنْ اَتَاہَا اَصَابَ مِنْہَا یعنی بازار اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دسترخوان ہیں تو جو ان میں آئے گا ان میں سے حصہ پائے گا۔(33 )
(12)… لاَِنْ یَّاْخُذَاَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَحْتَطِبَ عَلٰی ظَہْرِہٖ خَیْرٌ مِّنْ اَنْ یَّاْتِیَ رَجُلًااَعْطَاہُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہٖ فَیَسْئَلَہٗ اَعْطَاہٗ اَوْ مَنَعَہٗ یعنی تم میں سے کوئی شخص رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں جمع کر کے لائے یہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسےآدمی کے پاس جا کر دست ِسوال دراز کرے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے۔ وہ چاہے تواسے عطا کرے ،چاہے تو منع کر دے۔(34 )
(13)… مَنْ فَتَحَ عَلٰی نَفْسِہٖ بابامِّنَ السُّؤَالِ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہٖ سَبْعِیْنَ بابا مِّنَ الْفَقْرِ یعنی جو خود پر سوال (یعنی مانگنے)کا ایک دروازہ کھولے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر محتاجی کے 70 دروازے کھول دے گا۔(35 )
کسب کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے متعلق سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے کثیر اقوال وآثار مروی ہیں، چندملاحظہ ہوں۔چنانچہ،
کسب کی فضیلت پر مشتمل 15اقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے میرے بیٹے! حلال کمائی کے ذریعے محتاجی سے نجات حاصل کر کیونکہ جو بھی محتاج ہوتا ہے اسے تین باتیں پہنچتی ہیں:(۱)…اس کے دین میں نرمی اور(۲)…عقل میں کمزوری آجاتی ہے اور(۳)…مروت ختم ہوجاتی ہے ۔پھر ان تینوں سے بڑھ کر یہ کہ لوگ اسے حقیر جانتے ہیں۔
(2)…خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا: تم میں سے کوئی بھی رزق کی تلاش چھوڑکریہ نہ کہتا پھرے کہ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے رزق عطا فرما ۔‘‘کیونکہ تم جانتے ہو کہ آسمان سونا، چاندی نہیں برساتا۔
(3)…حضرت سیِّدُنا زید بن مسلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی زمین میں درخت لگا رہے تھے،خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےان سے فرمایا: تم ٹھیک کررہے ہو۔ لوگوں سے بے نیاز ہو جاؤ کہ یہ تمہارے دین کی زیادہ حفاظت کرنے والا اور لوگوں پر تمہارے لئے زیادہ شرف و عزت والاہے ۔ جیسا کہ تمہارے رفیق اُحَیْحَہ بن جُلاح نے کہا ہے:
فَلَنْ اَزَالَ عَلَی الزُّوْرَآءِ اَغْمَرُھَا اِنَّ الْکَرِیْمَ عَلَی الْاِخْوَانِ ذُوْالْمَالِ
ترجمہ:میں ہمیشہ مقامِ زوراء پر کام کرتا رہتا ہوں کیونکہ اپنے بھائیوں پر مہربان وہی ہوتا ہے جو مالدار ہو۔
(4)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں کسی شخص کو بھی فارغ دیکھناپسند نہیں کرتا کہ نہ تو وہ اپنے دنیوی معاملات میں مصروف ہو اور نہ ہی اپنی آخرت کے معاملات میں مشغول ہو۔
(5)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن یزید نَخَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا گیا کہ’’ آپ کے نزدیک سچا تاجر زیادہ پسندیدہ ہے یا پھر وہ شخص جس نے خود کو عبادت کے لئے فارغ کر رکھا ہے؟ ‘‘فرمایا:’’میرے نزدیک سچا تاجر زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ وہ جہادکررہاہوتا ہے کہ ناپ تول اور لین دین کے راستے میں اس کے پاس شیطان آتا ہے تویوں وہ اس کے ساتھ جہاد کرتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کااس معاملہ میں موقف دوسرا ہے(36 )۔
(6)…خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’ مجھے ایسی جگہ موت آنا زیادہ پسند ہے جہاں میں اپنے گھر والوں کے لئے خرید وفروخت کر رہا ہوں۔‘‘
(7)…حضرت سیِّدُنا ہَیْثَم بن جمیل بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:’’جب کبھی مجھے کسی شخص کے بارے میں پتاچلتا ہے کہ وہ میری برائی کرتا ہے تومیں اس سے اپنا بے نیازہونا یادکرتاہوں۔پس وہ معاملہ (برداشت کرنا) میرے لئے آسان ہوجاتاہے۔‘‘
(8)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:’’میرے نزدیک کام کاج کرکے کچھ مل جانا لوگوں سے سوال کرنے (یعنی مانگنے)سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘
(9)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔اچانک زور کی ہوا چلنے لگی تو کشتی والوں نے ان سے عرض کی:’’کیا آپ ہوا کی یہ سختی نہیں دیکھ رہے؟‘‘تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:’’یہ کیاسختی ہے ! سختی تو لوگوں کا محتاج ہوجانا ہے۔‘‘
(10)…حضرت سیِّدُنا ایوب سَخْتِیانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوقِلابہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا:’’بازار کو لازم پکڑ لو کیونکہ تَوَنگری عافیت سے ہے۔‘‘
یہاں تَوَنگری سے مراد لوگوں سے بے نیازی ہے۔
(11)…حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل سے عرض کی گئی:آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو اپنے گھر یا مسجد میں بیٹھ جائے اور یہ کہتا ہو:’’میں کوئی کام نہیں کروں گا حتی کہ میرا رزق خود میرے پاس آئے؟ ‘‘تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب دیا:ایساشخص علم سے کوراہے، کیا اس نے یہ فرمانِ مصطفٰے نہیں سناکہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرا رزق میرے نیزے کے سائے میں رکھا ہے۔‘‘(37 ) اورایک بار پرندے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’وہ صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتا ہے۔‘‘(38 )آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بات کو بیان فرمایا کہ پرندہ بھی صبح کے وقت رزق کی تلاش میں نکلتا ہے۔پھر یہ کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن خشکی اور سمندر میں تجارت کیا کرتے اور اپنے باغوں میں کام کیا کرتے تھے اور پیروی انہی کی ہے ۔
(12)…حضرت سیِّدُنا ابو قِلابہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک شخص سے فرمایا:’’میں تمہیں رزق کی تلاش میں دیکھنا مسجد کے کونے میں دیکھنے سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔‘‘
(13)…حضرت سیِّدُنا امام اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی گردن پر لکڑیوں کا گٹھادیکھ کر فرمایا:’’اے ابو اسحق!ایسا کب تک ہوگا؟ حالانکہ آپ کے بھائی آپ کو کافی ہیں۔‘‘توحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا:اے ابوعمرو!آپ اس بات کو رہنے دیجئے ! کیونکہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ’’جو رزقِ حلال کی تلاش میں ذلت کی جگہ کھڑا ہوتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔‘‘
(14)…حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:’’ہمارے نزدیک عبادت یہ نہیں کہ تم اپنے دونوں قدم ملائے رکھو اور دوسرے لوگ تمہیں روزی دیں، بلکہ پہلے تم دو روٹیاں جمع کرو پھر عبادت کرو۔‘‘
(15)…حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ قِیامت کے دن ایک منادی ندا دے گا:
’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی زمین میں اس کے ناپسندیدہ لوگ کہاں ہیں؟‘‘ تو مسجدوں میں مانگنے والےکھڑے ہوں گے۔
ان آیات،احادیث اور اقوال میں شریعت کی طرف سے مانگنے اور غیروں کی کفایت پر بھروسا کرنے کی مَذمت ہے اور جسے وراثت میں مال نہ ملا ہو تو اسے کام کاج اور تجارت ہی سوال کرنے سے نجات دے سکتی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
حضور نبیّ پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَز َّ وَجَلَّ نے مجھ پر اس چیز کی وحی نازل نہیں فرمائی کہ میں مال جمع کر کے تاجروں میں سے ہو جاؤں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پر یہ وحی فرمائی کہ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ(۹۸)وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠(۹۹) ( پ ۱۴، الحجر :۹۹،۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان : تواپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو۔(39 ) نیز حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے لوگوں نے عرض کی:’’ہمیں وصیت فرمائیے!‘‘ تو انہوں نےفرمایا:’’تم میں سے جس سے ہوسکےوہ حاجی، غازی یا اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی مسجد آباد کرنے کی حالت میں مرے اور تم ہرگز تجارت اور خیانت کرنے کی حالت میں نہ مرنا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ماقبل احادیث وروایات اور اِن احادیث واخبار میں تطبیق(مطابقت)حالتوں کی تفصیل کے اعتبار سے ہو سکتی ہے، لہٰذا ہم یہ نہیں کہتے کہ تجارت کرنا مطلقاً ہر شے سے افضل ہے بلکہ اس کے ذریعے یا تو بقدرِکفایت رزق طلب کیا جائے گا یا مالداری کے لئے طلب کیا جائے گا یا پھر بقدرِکفایت پر زیادتی مطلوب ہوگی………اگر تجارت سے بقدرِکفایت پر زیادتی مطلوب ہو،اس لئے نہیں کہ اسے خیرات وصدقات میں خرچ کرے بلکہ اس لئےکہ مال وذخیرہ اندوزی میں اضافہ ہوجائے تو یہ مذموم ہے کیونکہ یہ دنیا کی طرف متوجہ ہونا ہے جس کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے ۔پھر اگر اس کے ساتھ وہ ظالم اور خائن(یعنی خیانت کرنے والا)بھی ہو تو یہ ظلم و فسق ہے۔یہی وہ صورت ہے جو حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےاس قول سےمراد ہے کہ’’تم ہرگز تجارت اور خیانت کرنے کی حالت میں نہ مرنا۔‘‘اور یہاں وہ تاجر مراد ہے جوتجارت کے ذریعےمال میں زیادتی کو طلب کرتا ہے۔
اگر وہ تجارت کے ذریعے اپنے اور اپنی اولاد کے لئے بقدرِکفایت رزق طلب کرتا ہےحالانکہ مانگ کربھی بقدرِ کفایت کمانے پر قادر ہے تو اس صورت میں سوال سے بچتے ہوئے تجارت کرنا افضل ہےاور اگر اسے سوال کرنے کی حاجت نہ پڑتی ہو اور لوگ بغیر سوال کے ہی اسے دیتے ہوں تو بھی کمانا افضل ہے کیونکہ وہ اسے بغیر سوال کے اس لئے دیتے ہیں کہ وہ زبانِ حال سے سوال کرنے (یعنی مانگنے) والا اور اپنی محتاجی کے
ذریعے لوگوں کو پکارنے والا ہے،لہٰذااس کے لئے بیکار بیٹھنے بلکہ(نفلی) عبادات بدنیہ میں مشغول ہونے سے کام کاج کرکے اپنے فقر وتنگدستی پر پردہ ڈالنا بہتر ہے۔
کسب ترک کرنا کس کے حق میں افضل ہے؟
کسب ترک کرنا یعنی کام کاج نہ کرناچار طرح کے لوگوں کے لئے افضل ہے:(۱)…عابد جو بدنی عبادات میں مصروف رہتا ہے(40 )۔(۲)…وہ شخص جو احوال و مکاشفات کے علوم میں قلبی عمل و باطنی سیر میں مصروف ہو۔(۳)…وہ عالم جو ظاہری علم کی تربیت(یعنی دینی طالب علموں کوتعلیم دینے )میں مصروف ہو جس سے لوگوں کو ان کے دین کے سلسلے میں نفع ہوتا ہے جیسے مفتی،مُفَسِّراورمُحَدِّث وغیرہ۔(۴)…وہ شخص جو مسلمان کے مَصالح(مُعاملات کی اصلاح) میں مصروف ہو کہ اس نے مسلمانوں کے مُعاملات کی ذمہ داری لی ہوئی ہو جیسے بادشاہ، قاضی(جسٹس)اور گواہ۔
تارکینِ کسب کی کفالت کہاں سے ہو؟
مذکورہ لوگوں کی کفالت اس مال سے کی جائے جو مسلمانوں کے مصالح کے لئے مقرر ہے(یعنی بیتُ المال) یاپھر اوقاف کے اموال سے۔پس اس صورت میں ان لوگوں کا بیان کردہ اعمال میں مصروف رہنا کام کاج میں مشغولیت سے افضل ہے۔اسی وجہ سے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف وحی فرمائی گئی کہ”اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو۔‘‘ اور یہ وحی نہیں کی گئی کہ’’ تاجروں میں سے ہو۔“(41 )کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مذکورہ چاروں صفات کے جامع تھے بلکہ اس سے کہیں زیادہ صفات کے حامل تھے جنہیں بیان کرنا ممکن نہیں اور یہی وجہ تھی کہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب خلیفہ بنے توصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے انہیں تجارت ترک کرنے کاکہا کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں کے خلیفہ تھےاورتجارت کی مشغولیت آپ کو مسلمانوں کے مصالح سے ہٹا دیتی،لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے (اور اپنے اہل و عیال کے) لئے بقدرِکفایت مصالح عامہ کے مال سے لیا کرتے تھےاور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے لینا ہی بہتر سمجھا پھر جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو اتنا مال بیت المال میں جمع کرنے کی وصیت فرمائی لیکن ابتدا میں اسے لیناہی بہتر سمجھا۔
چارلوگوں کی دو حالتیں:
ماقبل مذکور چار قسم کے لوگوں کی دو حالتیں ہیں:
٭…پہلی حالت:یہ ہے کہ جب انہوں نے کام کاج ترک کر دیا ہو اور ان کی ضروریات لوگوں کے ہاتھوں اور ان کے زکوٰۃ وصدقات سے پوری ہوجاتی ہوں اور انہیں سوال کرنے (یعنی مانگنے) کی حاجت نہ پڑے تو ایسی صورت میں انہیں کام کاج چھوڑ کر اُن چیزوں(یعنی بدنی عبادات،قلبی اعمال وباطنی سیراورتعلیم دین وغیرہ)میں ہی مشغول رہنابہتر ہے کیونکہ یہ بھلائی کے کاموں پر لوگوں کی مدد کرنا ہے اوران کالوگوں سے کچھ قبول کرنا اس لئے ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے خود پر لازم فرائض کو انجام دیتے ہیں اوران پرفضل واحسان کرتے ہیں۔
٭…دوسری حالت:یہ ہے کہ انہیں سوال کرنے(یعنی مانگنے) کی حاجت پڑے۔یہ صورت محل نظر ہے۔ وعید اور مذمت پر مشتمل ہماری بیان کردہ روایات ظاہرمیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ سوال سے بچنا ہی بہتر ہے لیکن اس سلسلے میں احوال اور اشخاص کالحاظ کئے بغیر مطلقاً ’’بہتر ہونے‘‘ کا قول مشکل ہے بلکہ یہ معاملہ بندے کے اپنے گہرے غوروفکر اور اپنے نفس پر نگاہ رکھنے کے سپرد ہے ۔اس طرح کہ سوال کرنے میں جو ذلت، مروت کی پردہ دری اورگریہ وزاری اورسختی اُٹھانی پڑتی ہے اس کا مقابلہ اس کے ساتھ کرے جو اس کے علم وعمل میں مشغولیت کے سبب خود کو اور دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ان کے علم وعمل میں مشغول ہونے سے خود ان کو اور دوسروں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے اور سوال کے سلسلے میں تھوڑی سی توجُّہ کرنے سے انہیں بقدرِکفایت رزق حاصل ہو جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے اور بعض اوقات مطلوب اور ممنوع ایک دوسرے کے مقابل آ جاتے ہیں یعنی بعض لوگوں کے لئے دونوں طرف کا معاملہ برابر ہوتاہے،تو ایسی صورت میں بندے کو اپنے دل سے فتویٰ لینا چاہئے اگرچہ فتویٰ دینے والے اسے فتویٰ دیں۔ کیونکہ ظاہری فتاویٰ مختلف صورتوں کی تفصیلات اور احوال کی باریکیوں کا احاطہ نہیں کرتے ۔
اسلاف میں سے ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے360 دوست تھے،وہ ہر دوست کے گھر ایک رات قیام فرماتےتھے اورایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے30دوست تھے(وہ مہینے میں ہر دوست کے گھرایک رات ٹھہرتے)۔ یہ حضرات فکر معاش سے آزاد عبادت میں مصروف رہتے تھے کیونکہ جانتے تھے کہ”ان عبادات وبھلائیوں میں مشغولیت کے باعث ہمارا ان کی خدمت قبول کرلینا یہ لوگ اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔“پس ایسے لوگوں کا خدمت قبول کرنا بھی عبادات کے علاوہ ایک کارِ خیر ہے،لہٰذا ان امور میں باریک بینی سے کام لینا چاہئے کیونکہ لینے والے کا اجر دینے والے کی طرح ہے جبکہ لینے والا اس کے ذریعے دین پر مدد طلب کرے اور دینے والا خوش دلی سے دے۔
الغرض جو شخص ان معانی پر مطلع ہوجاتا ہے وہ اپنی حالت اور وقت کے اعتبار سے اپنے نفس کی حالت کو پہچان سکتا ہے اوراس کےدل سے ظاہرہو جائےگاکہ اس کے حق میں کون سی شے افضل ہے۔پس یہ حصولِ روزگار اورکام کاج کرنے کی فضیلت ہےمگر جس عقد کے ذریعے کمایا جاتا ہے اس کے لئے چارباتیں ضروری ہیں:(۱)…صحت (یعنی درستیٔ معاملہ)(۲)…عدل کرنا(۳)…احسان کرنا اور (۴)…دین پر شفقت (یعنی عمل)کرنا۔ ہم ان میں سے ہر ایک کے لئے الگ سےایک باب باندھیں گے اورآنے والے باب نمبر2میں خریدوفروخت وغیرہ کی درستی کے اسباب بیا ن کرنےکے ساتھ ان کاآغاز کرتے ہیں۔
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )
[1] سنن الترمذی ، کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی حق الزوج … الخ ، ۲ / ۳۸۶، الحديث : ۱۱۶۴
[2] المعجم الاوسط ، ۵ / ۳۷۲، الحديث : ۷۶۴۸
[3] المسندللامام احمدبن حنبل ، حديث عبد الرحمن بن عوف الزهری ، ۱ / ۴۰۶، الحديث : ۱۶۶۱، بتغيرقليل
[4] اس روایت سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ بے نمازی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی ۔ایسا نہیں ہے یہاں ’’مُصَلِّیَاتِہِنَّ‘‘زجر وتوبیخ کے طریقہ پر وارد ہوا ہے کیونکہ ہر وہ شخص کہ جس کا اسلام پر خاتمہ ہوبالآخروہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔(اتحاف السادة المتقين، ۶ / ۲۲۶)
[5] سنن ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب فی المراة توذی زوجها ، ۲ / ۴۹۸، الحديث : ۲۰۱۳، دون ذکر’’مرضعات‘‘
المعجم الکبير ، ۸ / ۲۵۲، الحديث : ۷۹۸۵
[6] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب کفران العشير … الخ، ۳ / ۴۶۳، الحديث : ۵۱۹۸، ۵۱۹۷
صحيح مسلم ، کتاب الايمان ، باب بيان نقصان الايمان بنقص الطاعات … الخ ، الحديث : ۷۹، ص۵۶
[7] المسندللامام احمدبن حنبل ، حديث ابی امامة الباهلی ، ۸ / ۲۸۹، الحديث : ۲۲۲۹۵، بتغير
قوت القلوب لابی طالب المکی۲ / ۴۱۶
[8] المستدرک ، کتاب النکاح ، باب حق الزوج علی زوجته ، ۲ / ۵۴۷، الحديث : ۲۸۲۲، بتغيرقليل ۔ قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۱۶
[9] مسندابی داودالطيالسی ، الحديث : ۱۹۵۱، ص۲۶۳
السنن الکبری للبيهقی ، کتاب القسم والنشور ، باب ماجاء فی بيان حقه عليها ، ۷ / ۴۷۷، الحديث : ۱۴۷۱۳
[10] سنن ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب حق الزوج علی المراة ، ۲ / ۴۱۱، الحديث : ۱۸۵۲، دون’’من عظم حقه عليها ‘‘
السنن الکبری للنسائی ، کتاب عشرة النساء ، باب حق الرجل علی المراة ، ۵ / ۳۶۳، الحديث : ۹۱۴۷
[11] مسندالبزار ، مسندعبدالله بن مسعود ، ۵ / ۴۲۷، الحديث : ۲۰۶۱
[12] المسندللامام احمدبن حنبل ، حديث ام حميد ، ۱۰ / ۳۱۰، الحديث : ۲۷۱۵۸
[13] سنن ابی داود ، کتاب الصلاة ، باب التشديدفی ذلک ( ای خروج النساء الی المسجد )، ۱ / ۲۳۵، الحديث : ۵۷۰، بتغيرقليل
قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۱۷
[14] سنن الترمذی ، کتاب الرضاع ، باب رقم : ۱۸، ۳۹۲ / ۲، الحديث : ۱۱۷۶
[15] فردوس الاخبار للديلمی ، باب اللام ، ۱۹۰ / ۲، الحديث : ۵۰۱۴
[16] مسندابی داودالطيالسی ، الحديث : ۱۹۵۱، ص۲۶۳ … قوت القلوب لابی طالب المکی۴۱۵، ۴۱۶ / ۲
[17] المسندللامام احمدبن حنبل ، حديث عوف بن مالک الاشجعی الانصاری ، ۹ / ۲۶۵، الحديث : ۲۴۰۶۳. سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب فی فضل من عال يتيما ، ۴ / ۴۳۵، الحديث : ۵۱۴۹
[18] جمع الجوامع ، حرف الحاء ، ۴ / ۲۰۰، الحديث : ۱۱۲۳۴
[19] سنن الترمذی ، کتاب الرضاع ، باب رقم : ، ۳۹۲، ۲ / ۱۹، الحديث : ۱۱۷۷
[20] سوگ سے متعلق تفصیلی مسائل جاننے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت، جلددوم، صفحہ240تا247کا مطالعہ کیجئے!
[21] صحيح البخاری ، کتاب الطلاق ، باب تحدالمتوفی عنهازوجهااربعة اشهروعشرا، ۳ / ۵۰۶، الحديث : ۵۳۳۴
[22] صحيح مسلم ، کتاب السلام ، باب جوازارداف المراة الاجنبية … الخ ، الحديث : ۲۱۸۲، ص۱۲۰۰، باختصار
[23] المعجم الاوسط ، ۱ / ۵۰۶، الحديث : ۱۰۲
[24] سنن الترمذی ، کتاب البيوع ، باب ماجاء فی التجاروتسمية النبی اياھم، ۳ / ۵، الحديث : ۱۲۱۳
[25] مصنف ابن ابی شيبة ، کتاب البيوع والاقضية ، باب فی التجارة والرغبة فيها ، ۵ / ۲۵۸، الحديث : ۷
[26] المعجم الاوسط ، ۵ / ۱۳۷، الحديث : ۶۸۳۵ … المعجم الصغير ، باب الميم ، ۲ / ۶۰
[27] موسوعة الامام ابن ابی الدنيا ، کتاب اصلاح المال ، باب عمل اليد ، ۷ / ۴۷۳، الحديث : ۳۱۶
[28] المعجم الاوسط ، ۶ / ۳۲۷، الحديث : ۸۹۳۴
[29] المسندللامام احمدبن حنبل ، حديث رافع بن خديج ، ۶ / ۱۱۲، الحديث : ۱۷۲۶۶
صحيح البخاری ، کتاب البيوع ، باب کسب الرجل وعمله بيده ، ۲ / ۱۱، الحديث : ۲۰۷۲
[30] المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندابی هريره ، ۳ / ۲۳۲، الحديث : ۸۴۲۰
[31] موسوعة الامام ابن ابی الدنيا ، کتاب اصلاح المال ، باب الاحتراف ، ۷ / ۴۵۱، الحديث : ۲۱۳، بتغير
[32] مصنف ابن ابی شيبة ، کتاب الزهد ، باب ماذکرعن نبيناصلی الله عليه وسلم فی الزھد، ۸ / ۱۲۹، الحديث : ۳۱
سنن ابن ماجه ، کتاب التجارات ، باب الاقتصادفی طلب المعيشه ، ۳ / ۹، الحديث : ۲۱۴۴
[33] عيون الاخبارلابن قتيبة الدينوری ، کتاب السؤدد ، التجارة والبيع والشراء ، ۱ / ۳۵۸، ، من قول حسن البصری
[34] الموطاامام مالک ، کتاب الصدقة ، باب ماجاء فی التعفف عن المسئلة ، ۲ / ۴۷۵، الحديث : ۱۹۳۴
[35] سنن الترمذی ، کتاب الزهد ، باب ماجاء مثل الدنيامثل اربعة نفر ، ۴ / ۱۴۵، الحديث : ۲۳۳۲، بتغير
الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ، ۹ / ۱۷۹، الرقم : ۲۱۸۳ : يغنم بن سالم بن قنبر
[36] حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’خود کو عبادت کے لئے فارغ کرنے والا بھی ہمیشہ جہاد میں رہتاہے۔شیطان اپنے وسوسوں کے ساتھ اس کے پاس ہر راستے سے آتاہے تو وہ اس سے جہاد کرتاہے۔‘‘یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ’’تجارتوں کے معاملات میں دین محفوظ نہیں رہتا۔‘‘(اتحاف السادة المتقين، ۶ / ۲۵۸)
[37] صحيح البخاری ، کتاب الجهادوالسير ، باب ما قيل فی الرماح ، ۲ / ۲۸۵
[38] سنن الترمذی ، کتاب الزهد ، باب فی التوکل علی الله ، ۴ / ۱۵۴، الحديث : ۲۳۵۱
[39] اخلاق النبی وآدابه لابی الشيخ الاصبهانی ، باب ذکرزهدهصلی الله عليه وسلم … الخ ، الحديث : ۸۰۷، ص۱۵۴
[40] یعنی ایسا عابد کہ اگرکسب میں مشغول ہوگا تو عبادت چھوڑ بیٹھے گا کیونکہ کسب تو صبح شام کی مشغولیت چاہتاہے۔(اتحاف السادة المتقين، ۶ / ۲۶۳)
[41] اخلاق النبی وآدابه لابی الشيخ الاصبهانی ، باب ذکرزھده صلی الله عليه وسلم … الخ ، الحديث : ۸۰۷، ص۱۵۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع