دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ihya ul Uloom Jild 2 | اِحْياءُ الْعُلوم جلد دوم

miyan biwi kay huqooq say mutalliq bayan

book_icon
اِحْياءُ الْعُلوم جلد دوم
            

باب نمبر3: مرد و عورت پر لازم اُمُور کا بیان

(یہ دوفصلوں پر مشتمل ہے)

پہلی فصل: آداب معاشرت اورشوہر پر بیوی کے حقوق

شوہر پر 12امور میں میانہ روی اور ادَب کا خیال رکھنا ضروری ہے:(۱)…ولیمہ(۲)…اچھا برتاؤ کرنا (۳)…خوش طبعی کرنا(۴)…سیاست(یعنی معاملات چلانا اور تدبیرو انتظام کرنا)(۵)…غیرت(۶)…نفقہ(۷)… تعلیم (۸)…تقسیم(۹)…نافرمان عورت کو ادب سکھانا(۱۰)…جماع(۱۱)…بچوں کی پیدائش اور(۱۲)…طلاق کے ذریعے جدائی۔

(1)…ولیمہ:

ولیمہ کرنا مستحب ہے۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبیّ اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر زرد رنگ کا اثر دیکھ کر استفسار فرمایا:’’یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی:’’میں نے ایک گٹھلی کھجور برابر سونے پر ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا سے نوازتے ہوئے ارشادفرمایا:’’ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ اَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں برکت عطا فرمائے! ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری کے ساتھ ہو۔‘‘(1 ) نیر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح فرمایا تو کھجور اور ستو کے ساتھ ولیمہ فرمایا۔ (2 )

ولیمےکا کھانا:

پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’(ولیمہ میں شبِ زفاف کے بعد) پہلے دن کا کھانا حق، دوسرے دن کا سنت اور تیسرے دن کا ریاکاری اور دکھاوا ہے اور جو شخص شہرت کے لئے ایسا کرےگا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے رسوا کرے گا۔‘‘(3 )

دولہا کو مبارک باد دینے کا طریقہ:

دولہا کو مبارک باد دینا مستحب ہے، لہٰذا جو دولہا کے پاس آئے وہ اس طرح کہے:’’ بَارَکَ اللَّہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں برکت عطا فرمائے اور تم پر برکت نازل فرمائے اور تم دونوں کو بھلائی پر اکٹھا رکھے۔‘‘(4 ) حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔

علانیہ نکاح کرنا:

علانیہ نکاح کرنا مستحب ہے۔چنانچہ، مُعَلِّمِ کائنات،شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ فَصْلُ مَا بَیْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ اَلدُّفُّ وَالصَّوْت یعنی(نکاح میں)حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے والی شے آواز اور دف ہے۔‘‘(5 ) ایک روایت میں ہے:’’ اَعْلِنُوْا ہٰذَا النِّکَاحَ وَاجْعَلُوْہٗ فِیْ الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوْا عَلَیْہِ بِالدُّفُوْف یعنی نکاح کا اعلان کرو، اسے مساجد میں منعقد کرو اور اس موقع پر دف بجاؤ(6 )۔‘‘ (7 ) حضرت سیِّدَتُنا رُبَیِّع بنتِ مُعَوِّذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری رخصتی کی صبح میرے پاس تشریف لائے اورمیرے بستر پر بیٹھ گئے، کچھ نابالغہ بچیاں دف بجاتے ہوئے میرے آباء و اَجداد کا ذکر کرنے لگیں جو بدر میں شہید ہوگئے تھے، ان میں سے ایک نے یہ پڑھا: وَ فِیْنَا نَبِیٌ یَّعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ ترجمہ:ہم میں وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں۔توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے ارشاد فرمایا: یہ نہ کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں وہی کہو(8 ) ۔‘‘(9 )

(2)…اچھا برتاؤ کرنا:

عورتوں کے ساتھ حسن اَخلاق سے پیش آئے، ان کی طرف سے اذیت پہنچنے پر شفقت ومہربانی کرتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے کیونکہ وہ ناقص العقل ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ- ( پ ۴، النسآء :۱۹) ترجمۂ کنز الایمان :اور ان سے اچھا برتاؤ کرو۔ اورعورتوں کے حق کی عظمت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا: وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا(۲۱) ( پ ۴، النسآء :۲۱) ترجمۂ کنز الایمان :اوروہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں۔ (اور وہ کلمۂ نکاح ہے جس سے فرج(یعنی عورت سےوطی) حلال ہوتی ہے۔) وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ ( پ ۵، النسآء :۳۶) ترجمۂ کنز الایمان :اور کروٹ کے ساتھی۔ منقول ہے کہ ’’کروٹ کے ساتھی سے مرادبیوی ہے۔

عورتوں کے معاملے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو!

اللہعَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آخری وصیت تین باتوں پر مشتمل تھی اور باربار انہیں ہی دہرا رہے تھے حتی کہ زبان میں تتلاہٹ اور کلام مبارک میں آہستگی آگئی،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ ارشاد فرما رہے تھے:’’نماز کو لازم پکڑو!نماز کو لازم پکڑو! اور جن کے تم مالک ہو(یعنی لونڈی غلام) ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو!عورتوں کے معاملے میں اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرو! عورتوں کے معاملے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو کہ یہ تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہیں،تم نے انہیں اللہعَزَّوَجَلَّ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلمہ کے ساتھ ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔‘‘(10 )

صبر اَیُّوب و آسیہ عَلَیْہِمَا السَّلَام کے اَجَر کی مثل ثواب:

نبیوں کے سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے اپنی بیوی کے برے اخلاق پر صبر کیاتو اللہعَزَّوَجَلَّ اسے حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کے مصیبت پر صبر کرنے کی مثل اجر عطا فرمائے گا اور اگر عورت اپنے شوہر کے برے اخلاق پر صبر کرےتو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے فرعون کی بیوی آسیہ کے ثواب کی مثل اجر عطا فرمائے گا۔‘‘(11 )

عورتوں کے ساتھ حُسْنِ اَخْلاق کیا ہے؟

جاننا چاہئے کہ عورت کے ساتھ حسن اخلاق یہ نہیں کہ اس سے اذیت وتکلیف کو دُور کر دیا جائے بلکہ مصطفٰے جان رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرتے ہوئے بیوی کی طرف سے اذیت برداشت کرنا اور اس کی حالتِ طیش وغضب میں بردباری اختیار کرنا حسن اَخلاق ہے۔چنانچہ، مروی ہے کہ بعض ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ گفتگو کے دوران آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جواب دے دیا کرتی تھیں، ایک زوجہ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے تو ایک باررات تک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گفتگو نہ کی۔(12 )

بیٹی کو بارگاہِ رسالت کے آداب سکھائے:

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجۂ محترمہ نے ایک مرتبہ دورانِ گفتگو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جواب دیا تو آپ نے فرمایا:اے لَئِیْمَہ !تم مجھے جواب دیتی ہو۔‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ مطہرات بھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کبھی جواب دے دیاکرتی ہیں،حالانکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےبہتر ہیں۔‘‘امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’حفصہ خائب و خاسر ہو اگر وہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جواب دے۔ پھر آپ نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا:سیِّدہ عائشہ صدیقہ طَیِّبَہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آجانا کیونکہ ان سے تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم محبت فرماتے ہیں۔‘‘(13 )یوں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی بیٹی کو بارگاہِ اقدس میں جواب دینے سے خوف دلایا۔ مروی ہے کہ ایک زوجۂ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سینۂ مبارکہ پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کی جانب ہٹایا تو ان کی والدہ نے انہیں جھڑکا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اسے چھوڑ دو کہ بیویاں تو اس سے بھی زیادہ(برا برتاؤ) کرتی ہیں۔‘‘(14 )

عاشقِ اکبر کا عشق رسول :

ایک مرتبہ حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّ یْقَہ طَیِّبَہ طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے درمیان کسی بات پر بحث ہو گئی تو انہوں نےحضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے درمیان حَکَم(یعنی جج)بنا کرفیصلہ کرنے کو کہا، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اے عائشہ!تم گفتگو کرو گی یا میں کروں؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی:’’ آپ ہی کیجئے! مگر سچ کہئے گا۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے منہ پر اس زور کا طمانچہ مارا کہ آپ کا چہرہ خون آلودہوگیااورفرمایا:’’اے اپنی جان کی دشمن!کیا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خلاف واقع بات کرتے ہیں؟‘‘ام المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے خَلْق کے حاجت رَوا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پناہ لی اور پیٹھ کے پیچھے جا کر بیٹھ گئیں،تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:’’ہم نے تمہیں اس لئے نہیں بلایا اور نہ ہی ہم تم سے یہ چاہتے تھے۔‘‘ (15 ) مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے غصہ کی حالت میں کہا:’’ آپ ہی ہیں کہ نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہایت بردباری وشفقت سے اسے برداشت کیا اور مسکرا دئیے۔(16 )

سیِّدَہ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی رضامندی وناراضی کی علامت:

حضورانور، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا:میں تمہاری غصہ اور رضامندی کی حالت کو جان لیتا ہوں۔‘‘ عرض کی:’’ کیسے جان لیتے ہیں؟‘‘ارشادفرمایا:’’جب تم راضی ہوتی ہو تویوں کہتی ہو: محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے رب کی قسم! نہیں۔ جب ناخوش ہوتی ہو(17 ) تویوں کہتی ہو:ابراہیم( عَلَیْہِ السَّلَام )کے رب کی قسم!نہیں۔‘‘ عرض کی:’’ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سچ فرمایا، میں صرف آپ کا نام مبارک ہی ترک کرتی ہوں۔‘‘(18 )

محبوبۂ محبوبِ خدا:

منقول ہے کہ اسلام میں(ہجرت کے بعد)حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب سے پہلی محبت ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کی۔ (19 ) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سےفرمایا کرتے تھے:’’اے عائشہ!میں تمہارے ساتھ ایسے ہوں جیسے ابوزَرْع، اُمِّ زَرْع کے لئے تھا لیکن میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔‘‘(20 ) ایک روایت میں ہے کہ شبِ اسرا کے دولہا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے فرمایا کرتے تھے:تم عائشہ کے معاملے میں مجھے تکلیف نہ دو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!عائشہ کے سواتم میں سے کسی کے بستر میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی۔‘‘(21 ) حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’حضورنبیّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عورتوں اور بچوں پر سب سے زیادہ رحم فرمانے والے تھے۔‘‘(22 )

(3)… خوش طبعی کرنا:

(شوہر)عورتوں کی طرف سے اذیت برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ کھیل کود اور خوش طبعی بھی کرے کہ اس سے عورتوں کے دل خوش ہوتے ہیں کہ سرورِ ذیشان، محبوبِ رحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے ساتھ خوش طبعی فرمایا کرتے تھےاور اعمال و اخلاق میں کبھی کبھاران کی عقلوں کے مرتبہ میں اتر آتے۔ چنانچہ،مروی ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دوڑمیں مقابلہ کیاتو ایک دن وہ سبقت لے گئیں اور ایک دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سبقت لے گئے اور فرمایا:’’یہ اس کا بدلہ ہو گیا۔‘‘(23 )مروی ہے کہ مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی ازواج کے ساتھ تمام لوگوں سے زیادہ خوش طبعی فرمانے والے تھے۔(24 ) ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طَیِّبَہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:میں نے عاشورا کے روز حبشہ کے کچھ لوگوں کی آوازیں سنیں جو کھیل رہے تھے توحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:’’ کیا تم ان کاکھیل دیکھنا پسند کرو گی؟‘‘ میں نے عرض کی:’’جی ہاں!‘‘چنانچہ،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں بلوا لیا،وہ حاضر ہو گئے،آپ دونوں دروازوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور اپنی ہتھیلی مبارک دروازے پر رکھ کر ہاتھ پھیلا دیا، میں اپنی ٹھوڑی ہاتھ مبارک پر رکھ کر ان کا کھیل دیکھنے لگی، (کچھ دیر بعد) مجھ سے فرمانے لگے:’’ کافی ہے۔‘‘تو میں نے دو یا تین مرتبہ عرض کی:’’ آپ خاموش رہئے۔‘‘ (کچھ دیر بعد) پھر ارشاد فرمایا:’’اے عائشہ!کافی ہے؟‘‘میں نے عرض کی:’’جی ہاں!‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُنہیں اشارہ کیا تو وہ واپس چلے گئے۔ (25 )

کامل مومن کون؟

حسن اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُہُمْ خُلُقًا وَّاَلْطَفُہُمْ بِاَہْلِہٖ یعنی مؤمنین میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اور وہ اپنے گھر والوں پر زیادہ مہربان ہو۔‘‘(26 ) ایک روایت میں ہے:’’ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِـنِسَآئِہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِـنِسَآئِیْ یعنی تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والا ہےاوراپنی ازواج کے ساتھ میں تم سب سے زیادہ بھلائی کرنے والا ہوں۔‘‘(27 )

گھر میں بچے اور قوم میں مرد بن کر رہو!

خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سخت مزاج ہونے کے باوجود فرمایا:’’ آدمی کو اپنے گھر میں بچے کی طرح رہنا چاہئے اور جب اس سے دینی امور میں سے کوئی چیز طلب کی جائے جو اس کے پاس ہو تو اسے مرد پایا جائے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’عقل مند کو چاہئے کہ گھر میں بچے کی طرح اور لوگوں میں مردوں کی طرح رہے۔‘‘ مروی ہے: اِنَ اللہَ یُبْغِضُ الْجَعْظَرِیَّ الْجَوَّاظ یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ سخت مزاج متکبرکوناپسندفرماتا ہے۔(28 ) اس کی شرح میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جومتکبراور اہل وعیال پر سختی کرنے والا ہو۔ نیز فرمانِ باری تعالیٰ:عُتُـلٍّ( پ ۲۹، القلم :۱۳)کا ایک معنی یہی کہ عُتُـلٍّوہ شخص ہے جواپنے اہل و عیال کے لئے سخت زبان اور سخت دل ہو۔ سرکارِمدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:’’ ہَلَّابِکْراً تُلَاعِبُہَاوَتُلَاعِبُکَ یعنی تم نے کسی باکرہ سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔‘‘(29 ) ایک اَعرابیہ(دیہات کی رہنے والی) کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو اس نے اپنے شوہر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ ایسا شخص تھا کہ جب گھر میں داخل ہوتا تو اہل و عیال کے ساتھ ہنستا مسکراتا رہتا، جب گھر سے نکلتا تو خاموش رہتا، جو کچھ موجود ہوتا کھا لیتا اور جو نہ ہوتا اس کے بارے میں سوال نہ کرتا۔‘‘

(4)… سیاست(مُعامَلات و امور کاانتظام):

(مرد)خوش طبعی، حُسنِ اَخلاق اور عورت کی خواہشات کی پیروی میں اس حد تک بھی بے تکلُّف نہ ہو جائے کہ عورت کے اَخلاق خراب ہو جائیں اور اس کے نزدیک شوہر کی ہیبت بالکل ہی ختم ہو جائے بلکہ اس سلسلے میں میانہ روی کی رعایت رکھے کہ جب کسی برائی کو دیکھے تو ہیبت اور اظہارِ ناراضی کو بالکل ہی ترک نہ کر دے اور نہ ہی برائیوں پر تعاوُن کرنے کا دروازہ کھولے بلکہ جب کوئی خلافِ شرع اور خلافِ مروت کام دیکھے تو غضب ناک ہو جائے۔

اوندھے منہ جہنم میں:

حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!جو شخص بھی اس حال میں صبح کرے کہ عورت کی خواہشات میں اس کا فرمانبردار ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالے گا۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’عورتوں کی مخالفت کرو کیونکہ ان کے خلاف میں برکت ہے۔‘‘ کہا گیا ہے کہ عورتوں سے مشورہ کرو، پھر ان کی مخالفت کرو۔

بیوی کا غلام ہلاک ہوا:

سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ تَعِسَ عَبْدُالزَّوْجَۃ یعنی بیوی کا غلام ہلاک ہوا۔‘‘(30 )

شرحِ حدیث:

یہ بات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس لئے ارشادفرمائی کہ جب بندے نے بیوی کی خواہشات میں اس کی اطاعت کی تو وہ اس کا غلام بن گیا اور ہلاک ہو گیا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تو اسے عورت کا مالک بنایا لیکن اس نے عورت کو اپنا مالک بنا لیا تو اس نے معاملے کو الٹ دیا اور قضیے کو پلٹ دیا اور شیطان کی پیروی کی کہ اس نے کہا تھا(جسے قرآن مجید میں بیان کیا گیا): وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ- ( پ ۵، النسآء :۱۱۹) ترجمۂ کنز الایمان :اورضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز بدل دیں گے۔

گھر کا افسر:

مرد کا حق تو یہ ہے کہ عورت اس کی پیروی کرے نہ کہ یہ عورت کی پیروی کرنے لگے۔ نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مردوں کو عورتوں کا افسر و حاکم قرار دیااور شوہر کوسیِّد‘‘(یعنی سردار) کا نام دیا ہے۔ چنانچہ،ارشاد ہوتا ہے: وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِؕ- (31 )تو جب مالک مملوک(یعنی غلام) بن جائے تو اس نے نعمت الٰہی کی ناشکری کی۔ عورت کا نفس تمہارے نفس کی مثل ہے کہ اگر تم اس کی لگام کو تھوڑی دیر کے لئے ڈھیلا چھوڑو گے تو وہ لمبے عرصے تک تم سے سرکشی کرے گی، اگر تم اس کی لگام کو ایک بالشت ڈھیلا کرو گے تو وہ تمہیں ایک ہاتھ کھینچ لے گی لیکن اگر تم نے اس کی لگام کھینچ کر رکھی اور سختی کے مقام میں اس پر اپنی گرفت مضبوط رکھی تو تم اس کے مالک بن جاؤ گے۔

سیِّدُناامام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کا فرمان:

حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں:’’تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اگر تم ان کی عزت کرو گے تو وہ تمہاری اہانت کریں گے اور اگر تم ان کی اہانت کرو گے تو وہ تمہاری عزت کریں گے:(۱)…عورت(۲)…خادم اور(۳)…نَبَطِی(کھیتی باڑی کرنے والا دیہاتی)۔‘‘یعنی اگر تم صرف اور صرف ان کی عزت کروگے اور نرمی کے ساتھ سختی اور ڈھیل کے ساتھ غصہ نہیں ملاؤ گے تو وہ تمہاری اہانت کریں گے۔

عورت کا گدھا:

عرب کی عورتیں اپنی بیٹیوں کو شوہروں کو آزمانے کے طریقے سکھایا کرتی تھیں۔ایک عورت اپنی بیٹی سے کہا کرتی تھی: شوہر پر پیش قدمی اورجرأت کرنے سے پہلے اسے اس طرح آزما لو کہ اس کے نیزے کا پھل اتار دو اگر وہ خاموش رہے تو اس کی ڈھال پر گوشت کاٹو اگر پھر بھی چپ رہے تو اس کی تلوار کے ساتھ ہڈیاں توڑو اگر پھر بھی نہ بولے تو اس کی پیٹھ پر پالان رکھ کر اس پر سوار ہو جاؤ کہ وہ تمہارا گدھا ہے۔ بہرحال عدل کے ساتھ آسمان وزمین قائم ہیں توجو کوئی اپنی حدود سے تجاوز کرے گا اس کا مُعامَلہ الٹ جائے گا، لہٰذا مخالفت اور موافقت میں تمہیں درمیانی راہ اختیار کرنی چاہئے اور تمام معاملات میں حق کی پیروی کرنی چاہئے تاکہ عورتوں کے شر سے سلامت رہو کیونکہ ان کا مکر وفریب بہت بڑا اور ان کا شر ظاہر ہے اور بداخلاقی و کمزوریٔ عقل ان پر غالب ہے۔ ان سے میانہ روی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ان کے ساتھ ایسی نرمی کی جائے جو سیاست و تدبیر سے مخلوط ہو۔

عورتوں میں نیک عورت کی مثال:

حضورنبیّ اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ مَثَلُ الْمَرْأَۃِ الصَّالِحَۃِ فِی النِّسَآءِ کَمَثَلِ الْغُرَابِ الْاَعْصَمِ بَیْنَ مِائَۃِ غُرَابٍ یعنی عورتوں میں نیک عورت کی مثال ایسے ہے جیسے100 کوّوں میں سفید پیٹ والا ایک کوّا۔‘‘(32 )

بد اخلاق عورت بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے:

حضرت سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی کہ’’اے بیٹے!بداخلاق عورت سے بچنا کیونکہ وہ تمہیں بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دے گی اور شریر(فسق و فجور میں مبتلا اور شوہروں کے آگے زبان درازی کرنے والی) عورتوں سے بھی بچنا کہ وہ بھلائی کی طرف نہیں بلاتیں اور نیک عورتوں سے بھی خوف زدہ رہنا۔‘‘ حضورنبیّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:ریڑھ کی ہڈی توڑ دینے والی تین مصیبتوں سے پناہ طلب کرو۔(33 ) ان میں سے ایک بداخلاق عورت ہے کہ یہ بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔(34 ) ایک روایت میں ہے کہ’’اگر تم ان کے پاس جاؤ تو وہ تمہیں اذیت پہنچائیں اور اگر ان کے پاس سے چلے جاؤ تو تمہارے معاملے میں خیانت کریں۔‘‘(35 ) حضور نبیّ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی بہترین ازواج سےارشاد فرمایاکہ’’ تم حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانے کی عورتوں کی طرح ہو۔‘‘([36])یعنی تمہارا ابو بکر صدیق کو امامت کے مصلیٰ پر کھڑا کرنے کے لئے کہنے سے منع کرنا تمہارا حق سے خواہش کی طرف میلان ہے۔ ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے جب رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے راز کو ظاہر کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا: اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ- ( پ ۲۸، التحريم :۴) ترجمۂ کنز الایمان :نبی کی دونوں بیبیو!اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔ یعنی حق سے خواہش کی طرف مائل ہو گئے اور یہ اللہعَزَّوَجَلَّ نے پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہترین ازواج(حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ اور حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا )کے بارے میں ارشاد فرمایا۔(37 )

ناکام و نامراد قوم:

خير خواهِ امت،محبوبِ ربُ الْعزت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ لَایُفْلِحُ الْقَوْمُ تَمْلِکُہُمْ اِمْرَأَۃٌ یعنی وہ قوم کبھی کامیاب نہ ہوگی جن کی حکمران عورت ہو۔‘‘(38 ) (39 ) امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نے آپ کو جواب دیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا:’’ تم گھر کے کونے میں پڑے ہوئے کھلونے کے سوا کچھ نہیں، اگر ہمیں تم سے کوئی حاجت ہوئی تو ٹھیک ورنہ جیسی ہو ویسے ہی بیٹھی رہو۔‘‘

ماہر طبیب کی نشانی:

پس جب عورتوں میں شر اور کمزوری دونوں چیزیں ہیں تو شر کا علاج تدبیر وحکمت عملی اور سختی جبکہ کمزوری کا علاج خوش طبعی اور شفقت ہے۔ ماہر طبیب وہ ہوتا ہے جو بیماری کے مطابق علاج تجویز کرتا ہے، لہٰذا آدمی کو چاہئے کہ پہلے تجربہ کے ذریعہ عورت کے اخلاق کو جانچے پھر اس کی حالت جس کا تقاضا کرتی ہے اسی کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرے۔

(5)… غیرت میں اعتدال:

اس سے مراد یہ ہے کہ ان ابتدائی اُمور میں غفلت نہ برتے جن کے باعث عورت کے فساد کا اندیشہ ہو۔ نیز بدگمانی، عیبوں کی تلاش اور باطنی حالات کے تجسس میں پڑنے میں مبالغہ نہ کرے کہ نبیوں کے سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کے پوشیدہ معاملات کی ٹوہ میں پڑنے سے منع فرمایا۔(40 ) ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کے عیوب تلاش کرنے سے منع فرمایا۔ مروی ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں داخل ہونے سے پہلےارشادفرمایا:’’(سفر سے واپسی پر)عورتوں کے پاس رات کے وقت مت جاؤ۔‘‘(41 )دو افراد نے اس فرمان عالی کی مخالفت کی اور پہلے ہی چلے گئے تو دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے گھر میں ناپسندیدہ بات دیکھی۔

عورت پسلی کی طرح ٹیڑھی ہے:

مشہورحدیث میں ہے: اَلْمَرْأَۃُ کَالضِّلَعِ اِنْ قَوَّمْتَہُ کَسَرْتَہُ فَدَعْہُ تَسْتَمْتِعْ بِہٖ عَلٰی عِوَجٍ یعنی عورت پسلی کی طرح (ٹیڑھی) ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے، لہٰذا اسے چھوڑ دو اور ٹیڑھے پن کی حالت میں ہی اس سے فائدہ اٹھاؤ۔‘‘(42 )اس میں عورت کے اخلاق کو سنوارنا بھی ہے۔

ناپسندیدہ غیرت:

حضور نبیّ اکرم،رسول محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ایک غیرت ایسی ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ ناپسند فرماتا ہےاور وہ مرد کا اپنی بیوی پر بغیر کسی شک و شبہ کے غیرت کھانا ہے۔‘‘(43 ) کیونکہ یہ غیرت بدگمانی کے تحت داخل ہے اور بدگمانی سے منع کیا گیا ہے کہ’’بے شک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:’’اپنی زوجہ پر اتنی زیادہ غیرت بھی نہ کھاؤ کہ تمہاری وجہ سے اسے برائی کی تہمت لگائی جائے۔‘‘ بہرحال جو غیرت اپنے محل میں ہو وہ ضروری اور قابل تعریف ہے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے زیادہ غَیُور ہے:

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَغَارُوَ الْمُؤْمِنُ یَغَارُوَغَیْرَۃُ اللہِ اَنْ یَّاْتِیَ الرَّجُلُ مَاحُرِّمَ عَلَیْہِ یعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ غیرت فرماتاہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہےاور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی غیرت یہ ہے کہ بندہ وہ کام کرے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس پر حرام کئے ہیں(44 )۔‘‘ (45 ) سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں سعد سے بڑھ کر غیرت مند ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے،غیرت ہی کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نےظاہرو باطن فحش چیزیں حرام فرما دیں(46 )اور اللہعَزَّوَجَلَّ سے زیادہ کسی کو معذرت پسند نہیں اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ڈرانے والے اور بشارت دینے والے بھیجے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ تعریف بھی کسی کو پسند نہیں اسی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنّت کا وعدہ فرمایا۔‘‘(47

سیِّدُنافاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا جنتی محل:

شب اسریٰ کے دولہا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:معراج کی رات میں نے جنت میں ایک محل دیکھا، اس کے صحن میں ایک عورت تھی، میں نے پوچھا:’’یہ محل کس کے لئے ہے؟‘‘ بتایا گیا:’’عمر کے لئے۔‘‘چنانچہ،میں نے صحن میں موجود عورت کی طرف دیکھنے کاارادہ کیا تو اے عمر!مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے روتے ہوئے عرض کی:’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا میں آپ پر بھی غیرت کروں گا؟‘‘(48 حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’ کیا تم اپنی عورتوں کو ایسے ہی چھوڑ دو گے کہ وہ بازاروں میں کافروں کے ساتھ تنگ ہو کر گزریں،(اس معاملے میں) غیرت نہ کرنے والے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ ناپسند فرماتا ہے۔‘‘

پسندیدہ و ناپسندیدہ غیرت و ناز:

تاجدار انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’بعض شرم وہ ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے اور بعض وہ ہیں جنہیں ناپسند فرماتا ہے۔ بعض ناز(تکبر) وہ ہیں جنہیں اللہعَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے اور بعض وہ ہیں جنہیں ناپسند فرماتا ہے۔وہ شرم جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے وہ مشکوک چیزوں میں شرم ہے اور جسے ناپسند فرماتا ہے وہ غیر مشکوک چیز میں شرم ہے۔ وہ ناز(تکبر) جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے وہ بندے کا جہاد اور پہلے صدمہ(و صدقہ) کے وقت ناز کرنا( اترانا) ہے اور وہ ناز جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ ناپسندفرماتا ہے وہ بندے کا باطل پر اترانا ہے۔‘‘(49 ) (50 مصطفٰے جان رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اِنِّیْ لَغَیُوْرٌ وَّمَا مِنْ اِمْرَئٍ لَّا یُغَارُ اِلَّا مَنْکُوْسُ الْقَلْب یعنی بے شک میں غیور ہوں اور جو شخص غیرت مند نہیں اس کا دل اُلٹا ہوا ہے۔‘‘(51 )

عورتوں کی بہتری کس میں ہے؟

غیرت سے بے پروا کر دینے والا طریقہ یہ ہے کہ نہ تو مرد عورت کے پاس آئیں اور نہ ہی عورت بازار جائے کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےشہزادیٔ کونین حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے استفسارفرمایا:’’عورت کے لئے کونسی چیز بہتر ہے؟‘‘عرض کی:’’نہ تو عورت غیرمردوں کو دیکھے اور نہ ہی غیرمرد اسے دیکھیں۔‘‘ توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے جواب کو پسند فرماتے ہوئے انہیں سینے سے لگالیا اور یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍؕ- ( پ ۳، اٰل عمرٰن :۳۴) ترجمۂ کنز الایمان :یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے ۔(52 ) مروی ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن دیواروں میں سوراخ اور روشن دان بنانے سے منع فرماتے تھے تاکہ عورتیں مردوں کی طرف نہ جھانکیں۔ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی زوجہ کو روشن دان سے جھانکتے دیکھا تو انہیں سزا دی۔ ایک بار دیکھا کہ زوجہ نے تھوڑا سا سیب کھانے کے بعد بقیہ غلام کو دے دیا تو اس پر بھی انہیں سزا دی۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:عورتوں کو (لباس زینت وفخر) سے خالی رکھو تو وہ گھروں کو لازم پکڑ لیں گی۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ بات اس لئے فرمائی کیونکہ عورتیں پرانے کپڑوں میں گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتیں(لہٰذا گھر میں ہی بیٹھی رہیں گی)۔ نیزآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’اپنی عورتوں کو ’’نہ‘‘ کہنے کی عادت بناؤ۔‘‘

عورتوں کی مسجد میں حاضری:

مروی ہے کہ حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےعورتوں کو مسجد میں حاضری کی اجازت عطا فرمائی تھی(53 )۔حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں:اب(یعنی میرے زمانہ میں) درست یہی ہے کہ بوڑھی عورتوں کے سوا بقیہ تمام کو مسجد کی حاضری سے منع کیا جائے بلکہ زمانۂ صحابہ میں ہی اسے درست سمجھا جانے لگا تھا،حتی کہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا:’’جو باتیں عورتوں نےاب پیدا کی ہیں اگر رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان باتوں کوملاحظہ فرماتے تومسجدمیں آنے سے انہیں ضرورمنع فرمادیتے۔‘‘(54 ) (55 ) مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے جب یہ حدیثِ پاک بیان فرمائی کہ’’ لَا تَمْنَعُوْا اِمَاءَاللّٰہِِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی باندیوں کو مسجدوں سے نہ روکو۔‘‘(56 ) تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے (حضرت سیِّدُنا بلال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ )نے عرض کی:’’کیوں نہیں! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!ہم ضرور روکیں گے۔‘‘تو حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے انہیں سزا دی اور غضبناک ہو کرفرمایا:’’ میں حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نہ روکو اورتم کہتے ہو کہ روکیں گے۔‘‘بیٹے نے مخالفت کی جرأت تغیر زمانہ کی وجہ سے کی تھی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ناراضی کا اظہار اس وجہ سے فرمایاکہ انہوں نے ظاہری طور پر کسی عذر کا اظہار کئے بغیر مطلقاًمخالفت کی تھی۔ اسی طرح سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو خاص عید کے موقع پر عیدگاہ کی طرف نکلنے کی بھی اجازت عطا فرمائی تھی۔(57 )اس کے باوجودوہ شوہروں کی اجازت کے بغیر باہر نہیں نکلاکرتی تھیں۔ اب بھی پاکدامن عورت کو شوہر کی اجازت سے نکلنا جائز ہے لیکن گھربیٹھے رہنے میں ہی زیادہ سلامتی ہے اور چاہئے کہ کسی اہم کام کے علاوہ باہر نہ نکلے کیونکہ نظارے(سیروتفریح) اورغیراہم کاموں کے لئے باہر نکلنا مقام و مرتبہ کو گرا دیتا ہے اور بعض اوقات فساد کی طرف بھی لے جاتا ہے۔

عورت کاغیرمرد کو دیکھنا:

عورت گھر سے باہر نکلے تو اسے چاہئے کہ اپنی نظروں کو جھکائے رکھے، ہم یہ نہیں کہتے کہ مرد کا چہرہ عورت کے حق میں عورت (یعنی چھپانے کی چیز) ہے جیسا کہ عورت کا چہرہ مرد کے حق میں عورت ہے بلکہ مرد کا چہرہ عورت کے حق میں ایسے ہے جیسے امرد (یعنی قابل شہوت لڑکے) کا چہرہ مرد کے حق میں کہ اسے دیکھنا صرف اس وقت حرام ہے جب فتنہ کا اندیشہ ہو، اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو حرام نہیں(یوں ہی عورت کا مرد کی طرف دیکھنا اس وقت حرام ہے جب فتنہ کا اندیشہ ہو ورنہ نہیں) (58 )۔کیونکہ مردوں کے چہرے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں جبکہ عورتیں چہروں پر ہمیشہ نقاب رکھتی ہیں اور اگر مردوں کا چہرہ بھی عورتوں کے حق میں عورت (چھپانے کی چیز) ہوتا تو ان کو بھی نقاب کا حکم دیا جاتا یاعورتوں کی طرح انہیں بھی بغیر ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا جاتا۔

)6(…نفقہ میں اعتدال:

مرد کو چاہئے کہ نہ تو تنگی کرے اور نہ اسراف کرے (کہ حد سے تجاوز کر جائے) بلکہ میانہ روی اختیار کرے۔چنانچہ،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ- ( پ ۸، الاعراف :۳۱) ترجمۂ کنز الایمان :اورکھاؤ اور پیواور حد سے نہ بڑھو۔ ایک مقام پر ارشادفرمایا: وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ ( پ ۱۵، بنی اسرآئيل :۲۹) ترجمۂ کنز الایمان : اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے۔ حضورنبیّ کریم،رَءُ وْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ یعنی تم میں سے بہتروہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہے۔‘‘ (59 )

گھر والوں پر خرچ کرنے میں دگنا اجر:

ایک روایت میں ہے، ارشاد فرمایا:’’ایک دینار وہ ہے جسے تم نے راہِ خدا(یعنی حج و جہاد وغیرہ) میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تم نے کسی غلام کو آزاد کرنے میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تم نے کسی مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا، ان تمام میں سب سے زیادہ اجر والا وہ ہے جسے تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا(60 )۔‘‘ (61 ) منقول ہے کہ خلیفۂ چہارم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی چارازواج تھیں،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان میں سے ہر ایک کے لئے ہر چار دن میں ایک درہم کا گوشت خریدا کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام گھریلومُعامَلات میں(گھر والوں پر)وُسْعَت فرماتے اور اثاثہ جات ولباس وغیرہ کے معاملے میں کمی فرماتے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:’’مرد کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر جمعہ اپنے گھر والوں کے لئے فالودہ بنائے اور اسی طرح حلوہ اگرچہ یہ چیزیں ضروری نہیں لیکن انہیں بالکل ہی ترک کر دینا تنگی کی عادت میں شامل ہے۔‘‘

گھر امن کا گہوارہ:

شوہر کو چاہئے کہ گھروالوں کو بچا ہوا کھاناصدقہ کرنے کا کہے، اسی طرح وہ کھانا بھی جو زیادہ دیر پڑا رہنے سے خراب ہوسکتا ہے،یہ بھلائی کا سب سے کم درجہ ہے،حالات کے اعتبارسے(جب تک شوہر کی طرف سے حکم ممانعت نہ آئے تو)عورت شوہر کی صریح اجازت کے بغیر بھی ایسا کھانا صدقہ کرسکتی۔شوہر کو چاہئے کہ عمدہ کھانے پر خود کو ترجیح نہ دے کہ انہیں اس میں سے کچھ نہ کھلائے کیونکہ یہ چیز سینوں میں کینہ اور مل جل کر اچھی زندگی گزارنے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے، لیکن اگر اس نے ایسا کرنا ہی ہے تو ایسی جگہ چھپ کر کھائے کہ گھر والوں کو معلوم نہ ہو سکے اورجو کھانا وہ انہیں کھلانا نہ چاہے ان کے سامنے اس کا تذکرہ بھی نہ کرے۔نیز کھانے کےوقت گھر کےتمام افراد دسترخوان پر جمع ہوکر کھائیں۔چنانچہ،

مل کر کھانا باعثِ برکت و رحمت ہے:

حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’ہمیں خبرپہنچی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے فرشتے اُن گھر والوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو جماعت کی صورت میں(اکٹھے ہو کر) کھاتے ہیں۔‘‘ شوہر پر سب سے اہم، واجب نفقہ کا خیال رکھنا ہے کہ انہیں حلال مال سے کھلائے اور ان کی وجہ سے بری اور تہمت کی جگہوں میں نہ جائےکہ یہ ان کی وجہ سے گناہ میں پڑنا ہے نہ کے ان کے حق کی رعایت کرنا، اس کے متعلق مروی روایات ہم آفاتِ نکاح کے بیان میں ذکر کرچکے ہیں۔

)7(…تعلیم و تَعَلُّم:

نکاح کرنے والے کو چاہئے کہ حیض(62 )کے احکام اور جن چیزوں سے احتراز کرنا واجب ہے، ان کا علم سیکھے اور اپنی زوجہ کو نماز کے احکام سکھائے اور یہ بتائے کہ ایامِ حیض میں کس نماز کی قضا کی جائے گی اور کس کی نہیں(63 )کیونکہ شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ وہ اپنی زوجہ کو بھی جہنم کی آگ سے بچائے۔ چنانچہ،فرمانِ باری تعالیٰ ہے: قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا ( پ ۲۸، التحريم :۶) ترجمۂ کنز الایمان :اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔

شوہر بیوی کو صحیح عقائد کی تلقین کرے:

شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو عقائد ِ اہلسنّت کی تلقین کرے اور اگر بیوی نے کسی بدعت پر کان لگائے ہوں تو اسے اس کے دل سے ختم کرے،اگر وہ دین کے معاملے میں سستی کرے تو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دلائے۔ شوہربیوی کو حیض واِستحاضہ کے وہ اَحکام سکھائے جن کی اسے حاجت ہو اور اِستحاضہ کے احکام بَہُت زیادہ ہے۔ بہرحال حیض کے معاملات میں سے عورتوں کو جن چیزوں کا علم سکھانا ضروری ہے وہ پانچوں نمازوں کا بیان ہے جن کی قضا کی جائے گی۔ چنانچہ، ٭…مسئلہ:اگرمغرب سے تھوڑی دیر پہلے خون منقطع ہو جائے جس میں ایک رکعت پڑھ سکتی ہو تو اس پر ظہر وعصر کی قضا بھی لازم ہے اور اگرنمازِ فجر سے پہلے منقطع ہوا جس میں ایک رکعت پڑھی جا سکتی ہے تو اس پر مغرب وعشا کی قضا بھی لازم ہے(64 )۔یہ وہ چیز ہے جس کی عورتیں بہت کم رعایت کرتی ہیں۔

مسائل سیکھنے کے لئے عورت کا گھر سے باہر نکلنا:

٭…مسئلہ:اگر شوہر عورت کو ضروری مسائل سکھا سکتا ہو تو عورت کو مسائل پوچھنے کے لئے علما کے پاس جانے کی اجازت نہیں، اگر نہیں سکھا سکتا لیکن اس کا قائم مقام ہو سکتا ہے کہ اس کی طرف سے مفتی سے پوچھ کر عورت کو جواب بتا دے تو تب بھی اسے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں، اگر ان میں سے کوئی بھی صورت نہ ہو تو مسائل پوچھنے کے لئے باہر نکل سکتی ہے بلکہ اس پر لازم ہے(کہ گھر سے باہر جا کر ان مسائل کا علم سیکھے) اور اگر شوہرمنع کرے گا تو گناہ گار ہو گا۔البتہ،جب وہ اتنا علم سیکھ لے جو اس پر فرض تھا تو پھر شوہر کی اجازت کے بغیر علم کی مجلس میں جانے کے لئے نہیں نکل سکتی اور نہ ہی مزید علم سیکھنے کے لئے جا سکتی ہے اور اگر عورت نے حیض واستحاضہ کے احکام میں سے کوئی حکم نہ سیکھااور نہ ہی شوہر نے اسے سکھایا توعورت کے ساتھ ساتھ شوہربھی سیکھے کہ گناہ میں وہ بھی برابر کا شریک ہے۔

)8(…تقسیم:

٭…مسئلہ:اگر کسی شخص کی متعدد بیویاں ہوں تو اسے چائے کہ ان سب میں عدل قائم کرے(بظاہر) کسی ایک کی طرف مائل نہ ہو۔ ٭…مسئلہ: اگر سفر میں جاتےہوئے کسی ایک کو اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ کرے تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کرے کہ اِمامُ الْعادِلِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔(65 )

باری کے معاملے میں بیویوں سے عدل کا حکم:

٭…مسئلہ:اگر کوئی شخص عورت پر ظلم کرے بایں طور کہ اس کی رات دوسری کے پاس گزارے تو اگلی رات اس کی قضا کرے (یعنی پہلی کے پاس گزارے ) کیونکہ اس پر قضا واجب ہےکہ معلم کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس شخص کی دو بیویاں ہوں پھر وہ ان میں سے ایک کی طرف مائل ہو جائے۔ (66 )ایک روایت میں ہے کہ پھر وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب جھکی ہوئی ہو گی۔(67 )

کس میں عدل ضروری ہے اور کس میں نہیں؟

عدل و مساوات صرف عطا(کچھ دینے) اور رات گزارنے میں ہے محبت اور جماع میں نہیں کیونکہ یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ چنانچہ،فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ ( پ ۵، النسآء :۱۲۹) ترجمۂ کنز الایمان :اورتم سے ہرگزنہ ہوسکے گاکہ عورتوں کو برابر رکھوچاہے کتنی ہی حرص کرو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دلی خواہش(و محبت) اور میلانِ نفس میں برابر نہیں رکھ سکتے، جماع کے سلسلے میں بھی اس تفاوت کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ، امامُ الْعادِلِین، محبوب ربِّ الْعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو عطا کرنے اور رات گزارنے میں انصاف فرماتےتھے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے:’’ اَللّٰہُمَّ ہٰذَا جُہْدِیْ فِیْمَا اَمْلِکُ وَلَا طَاقَۃَ لِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا اَمْلِکُ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !یہ میری کوشش ہے اس میں جس کا میں مالک ہوں اور جس کا تو مالک ہے، میں مالک نہیں(یعنی محبت) اس میں میری کوئی طاقت نہیں(68 )۔‘‘ (69 )ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طَیِّبَہ طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام ازواجِ مُطَہَّرات سے زیادہ محبوب تھیں اوریہ بات تمام ازواج کو معلوم تھی۔(70 )

حضور نے آخری راتیں سیِّدہ عائشہ کے پاس گزاریں:

مروی ہے کہ مرضِ وصال میں ہر دن اور رات حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اٹھا کر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے پاس لے جایا جاتا تو ہر زوجہ مطہرہ کے پاس رات گزارتے اور فرماتے:’’کل میں کہاں ہوں گا؟‘‘ ایک زوجہ مطہرہ سمجھ گئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دن کے بارے میں استفسار فرماتے ہیں۔چنانچہ،ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نےعرض کی:’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہماری طرف سے اجازت ہے کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ہی رہیں کیونکہ ہر رات اٹھانے کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے تو حضور نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’کیا تم سب اس پر راضی ہو؟‘‘انہوں نے عرض کی:’’جی ہاں!‘‘ارشادفرمایا:’’ تو پھر مجھے عائشہ کے گھر لے چلو۔‘‘(71 ) ٭…مسئلہ:اگر ایک بیوی اپنی باری کی رات دوسری کو ہبہ کردے اور شوہر بھی راضی ہوتو دوسری کا حق ثابت ہو جائے گا۔چنانچہ، مروی ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ازواجِ مطہرات میں باریاں مقرر فرمایا کرتے تھے۔آپ نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا سَودہ بنتِ زَمْعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا وہ کبر سنی کو پہنچ چکی تھیں تو انہوں نے اپنی باری کی رات ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ہبہ کر دی اوربارگاہِ رسالت میں عرض کی:’’مجھے اپنی زوجیت میں رکھیں تاکہ بروزِ قیامت مجھے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج کے زمرے میں اٹھایا جائے۔‘‘(72 ) پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُسنِ عدل اور قوت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نفس کسی زوجہ کی خواہش کرتا اور اس کی باری نہ ہوتی تو اس سے مقاربت فرماتے اور اس دن یا رات بقیہ تمام ازواج کے پاس بھی تشریف لے جاتے۔چنانچہ، ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ’’نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک رات اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے گئے۔‘‘ (73 ) حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ’’حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (ایک مرتبہ) چاشت کے وقت اپنی نو ازواج کے پاس تشریف لے گئے۔‘‘ (74 )

)9(…نافرمان عورت کوادب سکھانا:

شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑا ہوجائے اور معاملہ درست نہ ہو تو اگر جھگڑا دونوں کی طرف سے ہو یا صرف شوہر کی طرف سے تو عورت شوہر پر مُسَلَّط نہیں ہو سکتی اور ایسی کوئی صورت نہ ہوکہ شوہر اصلاح کرسکے تودو حَکَم(یعنی فیصلہ کرنے والوں) کا ہونا ضروری ہے،ایک بیوی کی طرف سے اور ایک شوہر کی طرف سے تاکہ وہ ان کے معاملے میں غورو خوض کرکے ان کی صلح کرادیں۔چنانچہ،فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ- ( پ ۵، النسآء :۳۵) ترجمۂ کنز الایمان :یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل(موافقت پیدا) کر دے گا۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دور خلافت میں ایک شخص کو میاں بیوی کی طرف حَکَم بنا کر بھیجا، وہ شخص واپس لوٹ آیا اور ان کے درمیان صلح نہ ہو سکی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس پر درّہ اٹھا لیااورفرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ- ( پ ۵، النسآء :۳۵) ترجمۂ کنز الایمان :یہ دونوں اگرصلح کرانا چاہیں گےتو اللہ ان میں میل(موافقت پیدا) کر دے گا۔ چنانچہ،وہ شخص دوبارہ اچھی نیت کے ساتھ گیا اور دونوں سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی تو ان میں صلح ہو گئی۔

بیوی نماز نہ پڑھتی ہو تو…!

اگرسرکشی خاص طور پر عورت کی طرف سے ہو تو مرد افسر ہے عورت پر،اسے اختیار ہے کہ وہ اس کو ادَب سکھائے اور زبردستی اسے اطاعت پر مجبور کرے،اسی طرح اگرعورت نماز نہ پڑھتی ہوتو بھی مرد کو اختیار ہے کہ اسے زبردستی نماز پڑھنے پر مجبور کرے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے بتدریج(یعنی آہستہ آہستہ) ادَب سکھائے۔

ادب سکھانے کا احسن طریقہ:

پہلے اسے وعظ و نصیحت کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دلائے، اگر نفع نہ ہو تو لیٹنے میں اس کی طرف چہرہ نہ کرے یا اس سے بستر الگ کر لے اور اس سے قطع تعلق کر لے لیکن گھر کے اندر ہی ہو اورایسا زیادہ سے زیادہ تین رات تک کرے اگرپھر بھی معاملہ نہ سلجھے تو اسے ہلکا پھلکا مارے یوں کہ صرف تکلیف پہنچے نہ تو ہڈی ٹوٹے اور نہ ہی جسم سے خون نکلے اور چہرے پر بھی نہ مارے کہ اس سے منع کیا گیا ہے۔چنانچہ،

شوہر پر بیوی کا حق:

کسی نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:’’بیوی کا شوہر پرکیا حق ہے؟‘‘ارشاد فرمایا:’’جب کھائے تو اسے بھی کھلائے، لباس پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کی برائی بیان نہ کرے، ہلکی پھلکی مار ہی مارے،چہرے پر نہ مارے اور قطع تعلقی بھی گھر کے اندر ہی کرے(نہ کہ باہر)۔ (75 )

تین دن سے زیادہ بیوی سے قطع تعلقی کرنا:

اگر بیوی کسی امر شرعی کی مخالفت کرے تو شوہر کو اختیار ہے کہ اس پر غضبناک ہو اوراس سبب سے دس بیس دن یا پورا مہینہ اس سے قطع تعلقی کرلے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی ایسا کیا تھا جب آپ نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنتِ جَحْشرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف کوئی تحفہ بھیجا توانہوں نے اسے لوٹا دیا۔ اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس زوجہ مطہرہ کے گھر میں تھے انہوں نے عرض کی:’’زینب نے ہدیہ واپس لوٹا کر بےادبی کی ہے۔‘‘توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ میری بے قدری کرنے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں تم سب کی کوئی قدر وقیمت نہیں۔‘‘(76 )چنانچہ،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سب پر ناراضی کا اظہار فرمایااورایک ماہ بعدان کے پاس تشریف لائے۔

(10)…آدابِ جماع:

٭…مستحب ہے کہ ’’ بِسْمِ اللہ ‘‘ شریف سے ابتدا کرےاور٭…پہلے’’ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) ‘‘(سورۂ اخلاص) پڑھے،٭…پھر اَللّٰہُ اَکْبَر اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھے۔

جماع سے پہلے کی دعا:

٭…پھر یہ دعا پڑھے:’’ بِسْمِ اللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ، اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا ذُرِّیَّۃًطَیِّبَۃًاِنْ کُنْتَ قَدَّرْتَ اَنْ تَخْرُجَ ذٰلِکَ مِنْ صُلْبِیْ یعنی عظمت و بلندی والے رب عَزَّوَجَلَّ کے نام سے شروع، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !اگر توکسی کو میری پشت سے پیدا کرنے کا فیصلہ فرماچکا ہے تواسے پاک و صالح پیدا فرما۔‘‘(یہ دعائیں برہنہ ہونے سے پہلے پڑھے)

اولاد کو شیطان کے ضرر سےمحفوظ رکھنے کی دعا:

٭…حضور نبیّ کریم،رَءُ وْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جاتے ہوئے یہ کلمات پڑلے: اَللّٰہُمَّ جَنِّبْنِیِ الشَّیْطٰنَ وَجَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَـنَا یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو اس سے دور رکھ جو تو ہمیں عطا فرمائے۔تو اگر ان سے کوئی اولاد ہوئی تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘(77 )

اِنزال کے وقت کی دعا:

٭…انزال کے وقت ہونٹوں کو حرکت دئیے بغیردل میں یہ پڑھے:’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَراً یعنی سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جس نے پانی(یعنی نطفہ)سے بنایا آدمی۔‘‘ بعض مُحَدِّثِیْن کِرام (جماع سے پہلے)اتنی بلند آواز سے تکبیر کہتے کہ گھرکے تمام افرادسن لیتے۔ ٭…پھر قبلہ کی طرف سے شمالا ًیا جنوباً رخ پھیر لے کہ قبلہ کی تعظیم وتکریم کی وجہ سے جماع کرتےوقت اس کی طرف رخ نہ ہو(اور نہ پیٹھ ہو)اور٭…دورانِ جماع خود کو اور اہلیہ کو کسی کپڑے سے ڈھانپ لے کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب صحبت کا ارادہ فرماتے تو اپنے سرِ انور کو چادر سے ڈھانپ لتے، آواز کو پست فرمالیتے اور زوجہ مطہرہ سے فرماتے:’’ تم پر سکون اختیار کرنا لازم ہے۔‘‘(78 )

جماع کے وقت بالکل برہنہ نہ ہوں:

٭…ایک روایت میں ہے: اِذَا جَامَعَ اَحَدُکُمْ اَہْلَہُ فَلَا یَتَجَرَّدَانِ تَجَرُّدَ الْعَیْرَ یْن یعنی جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ سے جماع کرے تو دونوں، گدھوں کی طرح بالکل برہنہ نہ ہوں۔‘‘ (79 )

جماع سے پہلے کے افعال:

٭…جماع سے پہلے گفتگو اور بوس وکنار کے ذریعے لطف اندوز ہوکہ حضورنبیّ پاک،صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ پر جانوروں کی طرح نہ جا پڑے بلکہ پہلے دونوں میں کچھ پیغام رساں ہونے چاہئے۔‘‘عرض کی گئی:’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !پیغام رساں کیا ہیں؟‘‘ارشاد فرمایا:’’بوس وکنار اور گفتگو۔‘‘(80 )

مرد کے عاجز ہونے کی تین علامات:

نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:’’مرد میں تین خصلتیں اس کے عاجز ہونے کی علامت ہیں:(۱)…وہ ایسے شخص سے ملاقات کرے جس سے جان پہچان اسے پسند ہے، پھر اس کا نام ونسب پوچھنے سے پہلے ہی اس سے جدا ہو جائے(۲)…کوئی شخص اِس کی عزّت کرے اور یہ اُس کی عزت کو اُسے واپس لوٹا دے اور(۳)…(صحبت کے ارادے سے)اپنی لونڈی یا بیوی کے پاس جائے اور گفتگو، موانست اور اس کے ساتھ لیٹنے سے پہلے ہی اس سے جماع کر لے اور عورت کی حاجت پوری ہونے سے پہلے ہی اس سے اپنی حاجت پوری کر لے۔‘‘ (81 )

کن راتوں میں جماع کرنا مکروہ ہے؟

مہینے میں تین راتیں ایسی ہیں جن میں جماع کرنا مکروہ ہے:(۱)…مہینے کی پہلی رات(۲)…مہینے کی آخری رات اور(۳)…مہینے کی پندرھویں رات۔منقول ہے کہ’’ان راتوں میں(جماع کرنے سے)جماع کے وقت شیطان مردود موجود ہوتا ہے۔‘‘ایک قول یہ بھی ہے کہ’’ان راتوں میں شیاطین جماع کرتے ہیں۔‘‘ کراہت کا یہ قول امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ،امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے مروی ہے۔ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے شب جمعہ اور روزِ جمعہ جماع کرنے کو مستحب جانا ہے اور ایسا اس فرمانِ عالیشان کی ایک تاویل کی بنا پر فرمایا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ رَحِمَ اللہُ مَنْ غَسَّلَ وَ اغْتَسَلَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جو نہائے اور نہلائے(82 )۔‘‘ (83 ) ٭…شوہر جب اپنی حاجت پوری کر لے تو کچھ دیر ٹھہرا رہے حتی کہ بیوی بھی اپنی حاجت پوری کر لے کیونکہ بعض اوقات عورت کو اِنزال دیر سے ہوتا ہے تو اس کی شہوت جوش مارتی ہے ایسی صورت میں اس سے ہٹنا اسے ایذادینا ہے۔اِنزال میں طبعی طور پر اختلاف باہمی نفرت کا باعث ہے جبکہ مرد کو عورت سے پہلے انزال ہو اور وقتِ انزال میں موافقت عورت کے لئے زیادہ لذّت کا باعث ہے تاکہ مرد خودبخود اس سے الگ ہو جائے کیونکہ بعض اوقات عورت حیا کرتی ہے(اورانزال ہونے یا نہ ہونے کا اظہار نہیں کرتی)۔

بیوی سے جماع میں عدل:

٭…مرد کو چاہئے کہ ہر چار راتو ں میں ایک مرتبہ عورت سے صحبت کرے اس میں زیادہ عدل ہے کیونکہ بیویوں کی(ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ)تعداد چار ہے تو اس حد تک تاخیر جائز ہے اور اس مدت میں عورت کی حاجت کے مطابق کمی بیشی بھی کی جا سکتی ہے تاکہ اسے پاکدامنی حاصل رہے کیونکہ مرد پر اسے پاکدامن رکھناواجب ہے، اگرچہ جماع کا مطالبہ کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کیونکہ اس کا مطالبہ اور پھر اسے پورا کرنا مشکل ہے۔

کس حالت میں جماع کرنا جائز نہیں؟

٭… حالت حیض میں جماع نہ کرے اور ایام حیض گزر جانے کے بعد عورت کےغسل کرنے سے پہلے بھی جماع نہ کرے(84 ) کیونکہ اس کی حرمت پر نص وارد ہے۔منقول ہے کہ حالت ِ حیض میں جماع کرنے سے اولاد میں جذام(85 )کا مرض پیدا ہوتا ہے۔

حائضہ کے بدن سے نفع اٹھانا:

٭…شوہرکے لئے حائضہ عورت کے تمام بدن سے نفع اٹھانا جائز ہے(86 )مگر لواطت(بچھلے مقام میں دخول) نہ کرے کہ جب حائضہ سے اذیت کی وجہ سے جماع حرام ہے تو لواطت میں تو اذیت ہمیشہ ہوتی ہے، لہٰذا اس کی حرمت حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بھی زیادہ سخت ہو گی اور اس فرمانِ باری تعالیٰ: فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ٘- (87 )سے مراد یہ ہے کہ جس وقت چاہو آؤ(یہ مراد نہیں ہے کہ قُبل و دُبُر میں جہاں چاہو جماع کرو)۔ (حالتِ حیض میں)شوہر کے لئے عورت کے ہاتھ سے مادۂ منویہ خارج کرانا جائز ہےاور تہبند کے نیچے سے اس سے جو چاہے نفع اٹھائے مگر جماع نہیں کرسکتا(88 )۔عورت کو چاہئے کہ حالت حیض میں کوکھ سے لے کر گھٹنوں تک ازار بند باندھے رہے کہ یہ آداب میں سے ہے۔مرد حائضہ عورت کے ساتھ کھا پی سکتا اوراس کے ساتھ لیٹ بھی سکتا ہے ،ایسی حالت میں اس سے اجتناب کرنا(یعنی دور رہنا) ضروری نہیں۔ ٭…اگر ایک مرتبہ جماع کے بعد(اسی وقت) دوسری مرتبہ جماع کا ارادہ ہو تو پہلے اپنی شرم گاہ کو دھو لے اور اگر احتلام ہوا ہو تو شرم گاہ کو دھونے اور پیشاب کرنے سے پہلے جماع نہ کرے۔

رات کے ابتدئی حصہ میں جماع کرنا مکروہ ہے:

٭…رات کے ابتدائی حصے میں جماع کرنا مکروہ ہے تاکہ پوری رات بغیر غسل کے ہی نہ سویا رہے،٭… اور (جماع کے بعد)اگر سونے یا کھانا کھانے کا ارادہ ہو تو پہلے نماز کاسا وضو کر لے کہ یہ سنت ہے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:’’کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’ہاں!جب وضو کر لے۔‘‘ (89 ) البتہ! حالتِ جنابت میں وضو وغیرکئے بغیر سونے کی رخصت بھی ہے۔چنانچہ، اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طَیِّبَہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حالتِ جنابت میں آرام فرما ہو جاتے اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگاتے(یعنی وضو غیرہ کئے بغیر ہی آرام فرماہوجا تے)۔ (90 ) ٭…(بعدجماع)جب اپنے بستر کی طرف لوٹے تو بسترپر ہاتھ پھیر لے یا اسے جھاڑ لے اس لئے کہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس کے بستر میں کیا ہوا ہے۔ ٭…حالتِ جنابت میں سر منڈانا، ناخن کاٹنا، موئے زیر ناف مونڈنا، خون نکالنا یا جسم کا کوئی حصہ جدا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ آخرت میں یہ تمام اجزا اس کی طرف لوٹیں گے تو حالت جنابت میں ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر بال اپنی جنابت کا مطالبہ کرے گا۔

عزل(91 )کا بیان

جماع کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ مرد عزل نہ کرے بلکہ پانی کو اس کی کھیتی کی جگہ بہائے اور وہ ’’رحم‘‘ہے کیونکہ اللہعَزَّوَجَلَّ نے جس جان کے وجود کا ارادہ فرمایا ہے وہ ہر صورت میں پورا ہوگا رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسی طرح فرمایا ہے۔(92 )

عزل کا حکم:

عزل کے جائز و ناجائز ہونے میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَّام کا اختلاف ہے اور اس بارے میں چار مذہب ہیں:(۱)…بعض اسے مطلقاً ہر حال میں جائز کہتے ہیں۔(۲)…بعض ہر حالت میں حرام کہتے ہیں۔(۳)…بعض کے نزدیک اگر عورت بھی راضی ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز،گویاان حضرات کے نزدیک عزل حرام نہیں بلکہ عورت کو تکلیف دینا حرام ہےاور(۴)…بعض لونڈی سے جماع کی صورت میں جائز کہتے ہیں اورآزاد عورت سے ناجائز (93

فیصلۂ امام غزالی:

ہمارے نزدیک درست یہ ہے کہ یہ مباح ہے اور جہاں تک مکروہ کا تعلق ہے تو اس کا اطلاق تین معانی پر ہوتا ہے:(۱)… مکروہ تحریمی(۲)… مکروہ تنزیہی اور(۳)… ترکِ فضیلت اور یہاں پرمکروہ تیسرے(یعنی ترکِ فضیلت کے)معنی میں ہے یعنی اس کا ارتکاب کرنے سے صرف فضیلت ترک ہو گی۔جیسے کہا جاتا ہے کہ جو شخص مسجد میں ہو اس کے لئے نماز یا ذکر وغیرہ میں مشغول ہوئے بغیر فارغ بیٹھنا مکروہ ہے اور مکہ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں رہنے والے کے لئے ہر سال حج نہ کرنا مکروہ ہے۔ان مثالوں میں بھی مکروہ سے مراد صرف اولیٰ کو چھوڑنا اور فضیلت کو ترک کرنا ہے اور یہ بات ثابت ہے جیسا کہ ہم اولاد کی فضیلت کے بیان میں ذکر چکے ہیں۔چنانچہ،

عزل نہ کرنے کا فائدہ:

مروی ہے کہ حضورنبیّ اکرم، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:’’جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے تو اس کے لئے اس جماع کے بدلے ایک بچے کا ثواب لکھا جاتا ہے جوراہِ خدا میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے۔‘‘ (94 ) یہ بات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس لئے ارشاد فرمائی کہ اگر اس کے ہاں اس طرح کا کوئی بچہ پیدا ہو تو اس شخص کو اس بچہ کی پیدائش کا سبب ہونے کی وجہ سے ثواب ملے گا اگرچہ اسے پیدا کرنے والی، زندہ رکھنے والی اور جہاد پر قدرت دینے والی ذات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہے لیکن چونکہ اس کا فعل یعنی جماع کرنا اس بچہ کی پیدائش کا سبب بنا (اس لئے اسے ثواب ملے گا)اور یہ اسی صورت میں ہو گا جبکہ یہ شخص مادۂ منویہ کو عورت کے رحم میں ڈالے۔

مکروہ کو خلاف اولٰی پر محمول کرنے کی وجہ:

اور ہم نے مکروہ سے خلاف اولیٰ اس لئے مراد لیا ہے کہ مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی صرف اس وقت ثابت کیا جاسکتا ہے جب اس کے بارے میں کوئی نص وارد ہویا پھر اسے کسی منصوص علیہ(95 )مسئلے پر قیاس کیا گیا ہواور یہاں پر نہ تو کوئی نص ہے اور نہ ہی کوئی ایسامنصوص علیہ مسئلہ ہے جس پر اسے قیاس کیا جائے۔بلکہ یہاں ایک اصل ہے جس پر اسے قیاس کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یا تو سرے سے نکاح ہی نہ کیا جائے یا نکاح کرنے کے بعد جماع نہ کیا جائے یا پھر جماع تو کیا جائےلیکن دخول کے بعد انزال نہ ہواوریہ تینوں اُمُورمحض ترکِ فضیلت وخلاف اولیٰ ہیں،ان سے کسی ممنوعہ فعل کا ارتکاب نہیں ہوتا اور ان تینوں امور میں کوئی فرق نہیں کیونکہ بچہ اس وقت بنتا ہے جب نطفہ رحم میں جائے اور اس کے چار اسباب ہیں: نکاح،پھر جماع،پھر جماع کے بعد انزال ہونے تک صبراورپھر ٹھہرے رہنا تاکہ نطفہ رحم میں چلا جائے۔ان میں سے بعض اسباب بعض کی نسبت زیادہ قریب ہیں، لہٰذا چوتھے سبب سے باز رہنا ایسے ہی ہے جیسے تیسرے سبب سے باز رہا، ایسے ہی تیسرے سبب سے باز رہنا دوسرے سبب سے باز رہنے کی طرح ہے اور دوسرے سے باز رہنا پہلے سے باز رہنے کی مثل ہے۔

عزل اِسقاطِ حمل اور زندہ درگور کرنے کی مثل نہیں:

یہ(یعنی عزل وغیرہ کا عمل)زندہ درگور کرنے اوراِسقاطِ حمل کی مثل نہیں کیونکہ یہ دونوں امور حاصل و موجود شے کو قتل کرنے کی طرح ہیں اورموجود وحاصل شے پر ظلم کرنے کی متعدد صورتیں ہیں:وجودکی سب سے پہلی صورت یہ ہے کہ٭… نطفہ رحم میں جا کر عورت کے نطفہ سے مل جائے اور زندگی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے تو اب اسے خراب کرنا جرم ہے۔٭…اگرنطفہ خون اور گوشت کا لوتھڑا بن گیا ہو تو یہ پہلے جرم سے بڑا جرم ہے۔٭…اگر اس میں جان پڑ گئی ہو اور اعضاء بھی بن گئے ہوں تو یہ پہلے دونوں جرموں سے بڑا جرم ہے۔٭…اس جرم کی آخری حد یہ ہے کہ بچہ زندہ حالت میں پیدا ہو چکا ہو(اور پیدا ہوچکنے کے بعد تلف کرنا سب سے بڑا گناہ ہے)۔ ہم نے جو یہ کہا ہے کہ ’’وجود کے سبب کی ابتدا نطفہ کے رحم میں داخل ہونے سے ہوتی ہے نہ کہ عضوِ تناسل سے نکلنے سے‘‘اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ صرف مرد کے نطفہ سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ مردو عورت دونوں سے پیدا ہوتا ہےاس طرح کہ یا تو مرد و عورت کے پانی(منی) سے پیدا ہوتا ہے یا پھر مرد کے نطفہ اور حیض کے خون سے۔

حیض کاخون جمنے کے لئے مرد کانطفہ شرط ہے:

بعض شارحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے کہا ہے کہ’’مضغہ (گوشت کاٹکڑا) تقدیرِ الٰہی سے حیض کے خون سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے لئے خون کی حیثیت ایسے ہے جیسے دہی کے لئے دودھ کی اورحیض کے خون کے گاڑھا ہونے اور جمنے کے لئے مرد کا نطفہ شرط ہے جیسے دودھ کےلئے (دہی کی) جاگ ہوتی ہے کہ دودھ اسی کے ساتھ جمتا ہے۔‘‘ خیر کوئی بھی صورت ہو عورت کی منی نطفہ کے جمنے کے لئے رکن ہے، لہٰذا مردو عورت کا نطفہ عقود میں وجودِ حکمی کے اعتبار سے ایجاب وقبول کے قائم مقام ہے کہ ایجاب کرنے والے نے اگر قبول کرنے سے پہلے ہی رجوع کر لیاتووہ عقد توڑنے اور فسخ کرنے والامجرم نہیں کہلائے گا۔ البتہ،ایجاب و قبول جمع ہونے کے بعد رجوع کرنا عقد کو توڑنا اور فسخ کرنا ہو گا، لہٰذا جس طرح نطفہ جب تک مرد کی پیٹھ میں رہتا ہے تب تک اس سے بچہ پیدا نہیں ہوتا اسی طرح عضوِتناسل سے نکل کر جب تک عورت کے نطفہ یا خون سے نہیں ملتا تب تک اس سے بچہ پیدا نہیں ہوتا(لہٰذاثابت ہواکہ عزل،زندہ درگورکرنے اور اسقاط حمل کی طرح نہیں)۔ یہ روشن و واضح قیاس ہے۔

ایک سوال اور اس کا جواب:

اگر اولاد سے بچنے کی وجہ سے عزل مکروہ نہ بھی ہو تو بھی کچھ بعید نہیں کہ یہ اس نیت کی وجہ سے مکروہ ہو جواس(یعنی اولاد سے دور رہنے)پر اکساتی ہے کیونکہ اس پر اکسانے والی نیت’’نیتِ فاسدہ‘‘ہے اور اس میں شرک خفی کا شائبہ پایا جاتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ عزل پر اکسانے والی نیتیں پانچ ہیں(تفصیل ملاحظہ ہو)۔

عزل پر اُکسانے والی 5 نیتیں:

(1)…لونڈیوں سے عزل کرنا:اس صورت میں عزل کرنے سے مقصود اپنی مملوکہ شے کو ہلاکت سے بچانا ہے کہ(بچہ پیدا ہونے کی صورت میں) وہ آزادی کی مستحق ہو جائے گی جبکہ اس کی نیت اسے آزاد نہ کر کے اپنی ملک میں باقی رکھنا ہے، لہٰذا اس کے اسباب کو دور کرنا منع نہیں۔ (2)…یا پھر عورت کے حسن وجمال اور موٹاپے کو قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس سے دائمی فائدہ اٹھاسکے اور دردِ زِہ کے خطرے سے ڈرتے ہوئے عورت کو زندہ رکھنا چاہتا ہے، یہ صورت بھی ممنوع نہیں۔ (3)…یاپھرکثرتِ اولاد کے سبب زیادہ حرج کے خوف، کسب معاش میں تھکنے کی حاجت اور بری جگہوں میں جانے سے بچتے ہوئے عزل کرتا ہے۔ یہ صورت بھی ممنوع نہیں کہ حرج کی کمی دینی معاملات میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ البتہ، فضل وکمال اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرنے اور اس کے ذمہ پر اعتماد رکھنے کی صورت میں ہی حاصل ہو گا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا ( پ ۱۲، هود :۶) ترجمۂ کنز الایمان :اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذِمّۂ کرم پر نہ ہو۔ اور کمال کے درجے سے اترنے اور فضیلت ترک کرنے میں کوئی جرم نہیں۔اسی طرح امور کے انجام، مال کی حفاظت اور اسے ذخیرہ کرنے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ امور مکروہ ہیں، حالانکہ یہ سب توکل کے خلاف ہے۔ (4)…یا پھر مؤنث اولاد(لڑکی کی پیدائش) کے خوف سے عزل کرتا ہے کہ ان کی شادی کرنے میں عار کا اعتقاد رکھتا ہے جیسا کہ اہل عرب کی عادت تھی کہ وہ بچیوں کوزندہ درگور کر دیا کرتے تھے تو یہ نیت ’’نیتِ فاسدہ‘‘ ہے، اگر اس نیت کی وجہ سے سرے سے نکاح ہی کو ترک کرے یاجماع ہی نہ کرے تو بھی گناہ گار ہو گا،نکاح اور وطی کو ترک کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نیت فاسدہ کی وجہ سے گناہ گار ہو گا اور عزل میں بھی یہی صورتیں ہیں۔ (یاد رکھیئے!)سنتِ رسول یعنی نکاح میں(مؤنث اولاد کو) عار جاننے کی اعتقادی خرابی بہت ہی بری ہے اور یہ ایسی عورت کی طرح ہے جو اس بات کو عار جانتے ہوئے نکاح نہ کرے کہ کوئی مرد اس سے جماع کرے گا گویا وہ مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہے تو اس نیت سے نکاح نہ کرنا عورت کے حق میں برا ہے،نکاح نہ کرنا ہی برا ہو ایسا نہیں ہے(یعنی بغیر کسی نیت فاسدہ کے اگر مطلقاً کوئی نکاح نہ کرے تو کوئی برائی نہیں بلکہ بری نیت کی وجہ سے برا ہے)۔ (5)…یا پھر عورت خود تفاخر وصفائی میں مبالغہ کرتی اور دردِ زہ، نفاس اور دودھ پلانے سے بچتے ہوئے انزال سے منع کرتی(اور عزل کا کہتی) ہے، یہ خارجی(96 ) عورتوں کی عادت تھی کیونکہ وہ پانی کے استعمال میں بہت زیادہ مبالغہ کرتی تھیں حتی کہ حیض کے دنوں کی نمازیں بھی قضا(یعنی بعدفراغت ادا) کرتی تھیں،یہاں تک کہ وہ بیت الخلا میں بھی ننگی ہو کر جاتی تھیں۔یہ بدعت ہے جو خلافِ سنت ہے اور یہ نیت’’نیت ِ فاسدہ‘‘ہے۔

سیِّدَہ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی خوارج سے نفرت:

مروی ہے کہ’’ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا جب بصرہ تشریف لائیں تو خارجی عورتوں میں سے ایک عورت نے خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اجازت نہ دی۔‘‘پس خرابی نیت میں ہے نہ کہ اولاد سے بچنے میں۔

چند سوالات و جوابات:

سوال:حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ’’جس نے اولاد(یا محتاجی)کے خوف سے نکاح نہ کیا وہ ہم میں سے نہیں،یہ بات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین بار ارشاد فرمائی۔‘‘(97 ) (عزل بھی تو گویا نکاح نہ کرنا ہی ہے؟)۔ اس کاجوابیہ ہے کہ عزل نکاح نہ کرنے ہی کی طرح ہے لیکن حدیثِ پاک کے الفاظ کہ ’’وہ ہم میں سے نہیں‘‘سے مراد یہ ہے کہ وہ سنت پر عمل کرکے ہماری موافقت نہیں کر رہااور ہمارا طریقہ و سنت یہ ہے کہ افضل کام کیا جائے۔ سوال:صحیح حدیث میں ہے کہ حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عزل کے بارے میں ارشاد فرمایا: ذَاکَ الْوَأْدُ الْخَفِیُّ یعنی یہ زندہ درگور کرنے کی پوشیدہ صورت ہے اوریہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) ( پ ۳۰، التکوير :۸) ترجمۂ کنز الایمان :اورجب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے ۔(98 ) اس کاجوبیہ ہے کہ عزل کے جواز کے بارے میں بھی صحیح حدیث مروی ہے۔(99 ) نیزیہ فرمان: اَلْوَاْدُ الْخَفِیُّ ایسے ہی ہے جیسے یہ فرمانِ عالیشان: اَلشِّرْکُ الْخَفِیُّ (100 )اوراس سے کراہت بمعنی خلافِ اَولیٰ ثابت ہوتی ہے نہ کہ تحریمی۔ سوال: حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا:’’عزل، زندہ درگور کرنے کا چھوٹا درجہ ہے کیونکہ اس سے اَولاد کے وجود کو روکا جاتا ہے، لہٰذا یہ زندہ دفن کرنے کا چھوٹا درجہ ہوا۔‘‘اس کاجواب یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے وجود کے روکنے کو وجود کے ختم کرنے پر قیاس فرمایا ہے جوکہ ضعیف ہے، اسی وجہ سے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جب یہ بات سنی تو انکار کرتے ہوئے فرمایا:’’زندہ دفن کرنا سات امور یعنی بچہ کے سات مراحل سے گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ آیتِ مقدسہ تلاوت فرمائی جس میں ان سات مراحل کا ذکر ہے اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان ہے: وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ(۱۲)ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪(۱۳)ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ(۱۴) ( پ ۱۸، المؤمنون :۱۲ تا ۱۴) ترجمۂ کنز الایمان :اوربیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا پھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں اُٹھان دی۔ یعنی اس میں روح پھونکی۔پھریہ آیتِ طیبہ تلاوت کی: وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) ( پ ۳۰، التکوير :۸) ترجمۂ کنز الایمان :اورجب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے۔‘‘ پس جب تم قیاس کے طریقے کے سلسلے میں ہمارے گزشتہ بیان میں غور کرو گے تو معانی میں غوطہ خوری اور علوم و معارف کی پہچان کے معاملے میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے منصب میں موجود فرق تم پر ظاہر ہو جائے گا اور عزل کیونکر جائز نہ ہوحالانکہ مُتَّفَق عَلَیْہ (یعنی بخاری و مسلم کی) حدیث میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’ہم زمانۂ رسالت میں عزل کیا کرتے تھے حالانکہ قرآنِ کریم نازل ہو رہا تھا۔‘‘(101 ) (لہٰذا اگر یہ حرام وناجائز ہوتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حرمت کا حکم نازل فرما دیتا۔) ایک روایت میں ہے کہ’’ہم عزل کیا کرتے تھے، رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک اس کی خبر پہنچی لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں اس سے منع نہ فرمایا۔‘‘ (102 )

جس نے پیدا ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا:

حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:’’میری ایک لونڈی ہے، وہ ہمیں پانی پلاتی اور ہمارے درختوں کو سیراب کرتی ہے، میں اس سے جماع کرتا ہوں لیکن اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا۔‘‘ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’اگر چاہو تو اس سے عزل کرو، جو اس کی تقدیر میں ہے عنقریب وہ ہوکر رہے گا۔‘‘چنانچہ،جتنا عرصہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا پھر حاضر خدمت ہوا اور عرض کی:’’میری لونڈی حاملہ ہو گئی ہے۔‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’میں نے تم سے کہا تھا کہ جو تقدیر میں ہے عنقریب وہ ہو کر رہے گا۔‘‘ (103 )
[1] صحيح مسلم ، کتاب النکاح ، باب الصداق ، الحديث : ۱۴۲۷، ص۷۴۱ [2] سنن ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب الوليمة ، ۲ / ۴۴۳، الحديث : ۱۹۰۹ [3] سنن الترمذی ، کتاب النکح ، باب ماجاء فی الوليمة ، ۲ / ۳۴۹، الحديث : ۱۰۹۹ [4] سنن ابی داود ، کتاب النکاح ، باب مايقال للمتزوج ، ۲ / ۳۵۱، الحديث : ۲۱۳۰ [5] سنن الترمذی ، کتاب النکاح ، باب ماجاء فی اعلان النکاح ، ۲ / ۳۴۶، الحديث : ۱۰۹۰ [6] مُفَسِّر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ39پراس کے تحت فرماتے ہیں : فقہا فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ جامع مسجد میں تمام نمازیوں کے سامنے ہو تاکہ نکاح کا اعلان بھی ہو جائے اور ساتھ ہی جگہ اور وقت کی برکت بھی حاصل ہو جائے نیز نکاح عبادت ہے اور عبادت کے لئے عبادت خانہ یعنی مسجد موزوں ہے۔ نکاح کے وقت نکاح کی جگہ دف بجانا بہتر ہے لیکن اگر نکاح مسجد میں ہو تو مسجد کے دروازے کے باہر دف بجائی جائے یا خارج مسجد میں نہ کہ داخل مسجد میں لہٰذا اس حدیث کی وجہ سے مسجدوں میں دف وغیرہ بجانے کی حلت کا قول بالکل درست نہیں(مرقاتفقہا فرماتے ہیں کہ باجوں میں جھانج حرام بعینہٖ ہے کہ کسی طرح جائز نہیں اس کے سوا دوسرے باجے اگرکھیل کود کے لئے ہوں تو حرام، اگر اعلان وغیرہ صحیح مقصد کے لئے ہوں ، تو حلال۔ نیز دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت، جلدسوم، صفحہ510پر شادی بیاہ کے موقع پر دف بجانے کے جواز کی شرائط ذکر کرتے ہوئے صَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینقل فرماتے ہیں : عید کے دن اور شادیوں میں دف بجانا جائز ہے جبکہ سادے دف ہوں، اس میں جھانج نہ ہوں اور قواعدِموسیقی پر نہ بجائے جائیں یعنی محض ڈھپ ڈھپ کی بے سری آواز سے نکاح کا اعلان مقصود ہو۔ [7] سنن الترمذی ، کتاب النکاح ، باب ماجاء فی اعلان النکاح ، ۲ / ۳۴۷، الحديث : ۱۰۹۱ [8] مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ31پرحدیثِ مبارکہ کے جز’’میرے بستر پر بیٹھ گئے‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ آپ( رَضِیَ اللہ تَعَال ٰ ی عَنْہَا ) اس وقت باپردہ ہوں گی اور گھر مہمانوں سے بھرا ہوگا کیونکہ رخصت کا دن تھااور اگر بے پردہ بیٹھی ہوں تو یا یہ واقعہ پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے یا حضور( صَلَّی اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّم )کی خصوصیات سے ہے کہ عورتوں پر آپ( صَلَّی اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّم ) سے پردہ نہیں۔‘‘اور ’’بچیاں دف بجانے لگیں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہ بچیاں نابالغہ اور غیر مراہقہ تھیں اور صرف دف بجا کر گاتی تھیں جھانج وغیرہ کوئی باجہ نہ تھا اشعار گندے نہ تھے اس سے معلوم ہوا کہ نکاح یا رخصت پر ننھی بچیوں کا ایسا گانا درست ہے۔‘‘اور’’ہم میں وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہ شعر نہ تو کسی کافر کا ہے، کہ کافر کو حضور( صَلَّی اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّم ) کی نعت سے کیا تعلق نہ ان بچیوں کا کہ بچیاں اشعار بنانا نہیں جانتیں یقیناً کسی صحابی کا ہے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام( رِضْوَانُ اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) حضور( صَلَّی اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّم ) کے علم غیب کے مُعْتَقِد تھے، حضور( صَلَّی اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّم )کی ازواج پاک نے پوچھا تھا کہ آپ کے بعد ہم میں سب سے پہلے کون آپ کے پاس پہنچے گی، شہیدوں کی مائیں پوچھتی تھیں کہ میرا بچہ کہاں ہے، کس حال میں ہے؟بہر حال صحابہ(کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ) علم غیب کے مُعْتَقِد(اعتقاد رکھنے والے)تھے حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس شاعر کو مشرک یا کافر نہ فرمایا نہ اس شعر کو برا کہا۔‘‘اور’’یہ چھوڑ دو‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’کیوں چھوڑ دو یا اس لئے دف اور کھیل کے دوران نعت شریف نہ چاہئے کہ اس میں نعت کی بے ادبی ہے(اشعہ) یا اس لئے کہ مرثیہ کے دوران نعت نہ پڑھو نعت و مرثیہ ملانا اچھا نہیں، یا اس لئے کہ ہمارے سامنے ہماری تعریف کیوں کرتی ہو یا علم غیب کی نسبت ہماری طرف نہ کرو اگرچہ ہم کو رب تعالیٰ نے علم غیب دیا مگر ہم کو عالِمُ الْغَیب وغیرہ نہ کہو(ازمرقات)۔‘‘ [9] سنن الترمذی ، کتاب النکاح ، باب ماجاء فی اعلان النکاح ، ۲ / ۳۴۷، الحديث : ۱۰۹۲ [10] سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب فی حق المملوک ، ۴ / ۴۳۷، الحديث : ۵۱۵۶ المسندللامام امام احمدبن حنبل ، حديث عم ابی حرة الرقاشی عن عمه ، ۳۷۶ / ۷، الحديث : ۲۰۷۲۰ شعب الايمان للبيهقی ، باب فی الامانات ، ۴ / ۳۲۲، الحديث : ۵۲۶۲ [11] الکبائرللذهبی ، الکبيرة السابعة والاربعون ، ص۲۰۶ [12] صحيح مسلم ، کتاب الطلاق ، باب فی الايلاء واعتزال النساء الخ ، الحديث : ۱۴۷۹، ص۷۸۸ [13] صحيح البخاری ، کتاب التفسير ، سورة التحريم ، باب تبتغی مرضاة ازواجک ، ۳ / ۳۵۹، الحديث : ۴۹۱۳، دون’’يالئيمة‘‘ صحيح مسلم ، کتاب الطلاق ، باب فی الايلاء واعتزال النساء وتخييرهن ، الحديث : ۱۴۷۹، ص۷۸۶تا۷۸۸ [14] التاريخ الکبيرللبخاری ، باب الياء ، ، ۳۰۲۰ / ۱۲۳۵۸ : يحيی بن عبدالله بن ابی قتادة السلمی الانصاری ، ۸ / ۱۶۶ قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۱۷ [15] تاريخ بغداد ، الرقم : ۵۹۸۵ : عمربن عبدالعزيزبن محمدبن دينار ، ۱۱ / ۲۳۹ موسوعة الامام ابن ابی الدنيا ، کتاب العيال ، باب ملاعبة الرجل اهله ، الجزء الثانی ، ۸ / ۱۲۶، الحديث : ۵۶۲ [16] مسندابی يعلی الموصلی ، مسندعائشة ، ۴ / ۱۸۱، الحديث : ۴۶۵۱، دون’’حلمًاوکرمًا‘‘ [17] مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمدیارخانعِلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ90پر اس کے تحت فرماتے ہیں : یہ ناراضی ناز کی ہے نہ کہ نفرت کی ورنہ حضورانورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے ناراض ہونا تو کفر ہے، محبوبوں کی یہ ناراضی بھی پیاری ہوتی ہے : ناز برداری تمہاری کیوں نہ فرمائے خدا نازنین حق نبی ہیں تم نبی کی نازنین [18] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب غيرة النساء ووجدهن ، ۳ / ۴۷۱، الحديث : ۵۲۲۸ [19] تاريخ بغداد ، الرقم : ۱۹۵۲احمدبن اسحاق بن ابراهيم ، ۴ / ۲۵۴ [20] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب حسن المعاشرة مع الاهل ، ۳ / ۴۵۹، الحديث : ۵۱۸۹ المعجم الکبير ، ۲۳ / ۱۷۳، الحديث : ۲۷۰ [21] صحيح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب فضل عائشة ، ۲ / ۵۵۲، الحديث : ۳۷۷۵ [22] صحيح مسلم ، کتاب الفضائل ، باب رحمته الصبيان والعيال الخ ، الحديث : ۲۳۱۶، ص۱۲۶۷ تاريخ دمشق لابن عساکر ، باب ذكرتواضعه لربه ورحمته لأمته ورأفته بصحبه ، ۴ / ۸۸ [23] سنن ابی داود ، کتاب الجهاد ، باب فی السبق علی الرجل ، ۳ / ۴۲، الحديث : ۲۵۷۸ [24] قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۱۸ [25] صحيح البخاری ، کتاب العيدين ، باب الحراب والدرق يوم العيد ، ۱ / ۳۲۷، الحديث : ۹۵۰، دون’’ذکريوم العاشوره ‘‘ بتغيرقليل [26] سنن الترمذی ، کتاب الايمان ، باب استکمال الايمان وزيادته ونقصانه ، ۴ / ۲۷۸، الحديث : ۲۶۲۱ السنن الکبری للنسائی ، کتاب عشرة النساء ، باب لطف الرجل اهله ، ۵ / ۳۶۴، الحديث : ۹۱۵۴ [27] سنن الترمذی ، کتاب المناقب ، باب فضل ازواج النبی ، ۵ / ۴۷۵، الحديث : ۳۹۲۱ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ، ۵ / ۱۰۵، الرقم : ۹۱۸ : صالح بن موسی الطلحی [28] صحيح ابن حبان ، کتاب العلم ، باب الزجرعن العلم بامرالدنيا الخ ، ۱ / ۱۴۵، الحديث : ۷۲ [29] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب تستحدالمغيبة وتمتشط ، ۳ / ۳۷۶، الحديث : ۵۲۴۷ [30] قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۲۰ [31] ترجمۂ کنز الایمان : اور دونوں کو عورت کا میاں دروازے کے پاس ملا۔(پ۱۲، يوسف : ۲۵) [32] المعجم الکبير ، ۸ / ۲۰۱، الحديث : ۷۸۱۷ قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۳ / ۳۹۷ [33] شعب الايمان للبيهقی ، باب فی اکرام الجار ، ۷ / ۸۲، الحديث : ۹۵۵۴۔ التاريخ الکبير للبخاری ، باب العين ، باب عمارة ، ۶ / ۲۷۸، الرقم : ۳۰۹۶ / ۹۱۶۷ : عمارة بن قيس مولی ابن الزبير [34] المعجم الاوسط ، ۴ / ۳۴۱، الحديث : ۶۱۸۰، فيه ذكردعاء داؤدعليه السلام [35] شعب الايمان للبيهقی ، باب فی اکرام الجار ، ۷ / ۸۲، الحديث : ۹۵۵۴ التاريخ الکبير للبخاری ، باب العين ، باب عمارة ، ۶ / ۲۶۷، الرقم : ۳۰۹۶ / ۹۱۶۷ : عمارة بن قيس مولی ابن الزبير [36] صحيح البخاری ، کتاب الاذان ، باب الرجل ياتم بالامام الخ ، ۱ / ۲۵۵، الحديث : ۷۱۳ [37] صحيح مسلم ، کتاب الطلاق ، باب فی الايلاء واعتزال النساء الخ ، الحديث : ۱۴۷۹، ص۷۸۸ [38] صحيح البخاری ، کتاب المغازی ، باب کتاب النبی الی کسری وقيصر ، ۳ / ۱۵۱، الحديث : ۴۴۲۵ المسندللامام احمدبن حنبل ، حديث ابی بکرة نفيع بن الحارث بن کلدة ، ۷ / ۳۱۹، الحديث : ۲۰۴۶۰ [39] مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ355پراس کے تحت فرماتے ہیں : جس قوم کی سلطان یا حاکم عورت ہو وہ قوم ناکام نامراد رہے گی، یہاں(صاحب)اشعہ نے فرمایاکہ عورت ولایت اور اَمارت کے لائق نہیں، (صاحب)مرقات نے فرمایا کہ عورت امام یا قاضی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ عہدے کامل عقل اور آزادی چاہتے ہیں عورت ناقص العقل بھی ہے اور گھر میں مقید بھی، خیال رہے کہ احناف کے نزدیک جن چیزوں میں عورت کی گواہی درست ہے ان میں عورت کی قضا بھی درست ہے، قضا سے مراد پنچ ہے نہ کہ جج یعنی عورت خاص شخصوں کی پنچ بن سکتی ہے وہ ناقص کہ جہاں اس کی گواہی درست نہیں وہاں وہ پنچ نہیں بن سکتی لہٰذا احناف کا یہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں، ۱۳۸۴؁ ھ ۱۹۶۵ ؁ء کے جنوری کے پاکستانی صدر کے انتخاب میں اس حدیث کا معجزہ دیکھا گیا کہ یہاں تمام وہابی روافض وغیرہ بدمذہبوں نے ایک عورت کو صدارتِ پاکستان کے لئے کھڑا کیا اور ان تمام جماعتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا صرف اہل سنت اس کے خلاف رہے، اہل سنت کی دلیل یہی حدیث تھی اللہ تعالیٰ نے صرف اس حدیثِ پاک کی برکت سے اہل سنت کو فتح مبین عطا فرمائی کہ ملک عورت کی صدارت اور مخالفین ملک کی شرارت سے محفوظ رہا اور عورت کامیاب نہ ہوسکی اَلْحَمْدُلِلّ ٰ ہِ عَل ٰ ی ذ ٰ لِکَ وَصَلَّی اللہ تَعَال ٰ ی عَل ٰ ی حَبِیْبِہ ٖ صَاحِبِ اللِّوَاءِ الْمَعْقُوْدِ وَصَاحِبِ الْمَقَامِ الْمَحْمُوْدِ وَا ٰ لِہ ٖ وَاَصْحَابِہِ وَسَلَّم بہر حال اسلام میں سلطان اور حاکم کے لئے مرد ہونا شرط ہے چنانچہ شرح عقائد نسفی ص۲۲۴میں فرماتے ہیں کہ حاکم مسلمان آزاد عاقل بالغ اور مرد چاہئے عورتیں ناقص العقل بھی ہیں اور ناقص دین بھی، تفسیرات احمدیہ میں مولانا احمد جیون فرماتے ہیں کہ نبوت، خلافت، اذان، خطبہ مردوں کے لئے خاص ہے، بلقیس کا زمانۂ سلیمان میں بادشاہ ہونا ایسا ہی تھا جیسے عیسائیوں میں ملکہ وکٹوریہ یا ملکہ الزبتھ بادشاہ ہوئیں، اسلام کے یہ خلاف ہے، سرکار کے لَنْ یُفْلِحَ قَوْم ٌفرمانے میں دو عجیب اشارے ہیں ایک یہ کہ تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ہوگی مگر عورت کو حاکم بنانے کی سزا دنیا میں بھی ملے گی آخرت میں بھی، دوسرے یہ کہ دوسرے گناہوں کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہوتا ہے کہ احکامِ اسلامی ان پر ہی جاری ہوتے ہیں مگر عورت کو سرداری دینے کی شامت ایسی ہے کہ کفار بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں غرض کہ یہ جرم بہت سخت ہے۔ [40] المعجم الاوسط ، ۱ / ۴۹۶، الحديث : ۱۸۳۳، بتغيرقليل صحيح مسلم ، کتاب الامارة ، باب کراهة الطروق الخ ، الحديث : ۱۸۴ـ (۷۱۵)، ص۱۰۶۵، بتغير [41] سنن الدارمی ، المقدمة ، باب تعجيل عقوبة من بلغه عن النبی ، ۱ / ۱۲۹، الحديث : ۴۴۵، دون ذکر : غزوة تبوك کتاب المغازی للواقدی ، ذکرعائشة واصحاب الافک ، ۲ / ۴۴۰، دون ذکر : غزوة تبوك [42] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب المداراة مع النساء ، ۳ / ۴۵۷، الحديث : ۵۱۸۴ [43] سنن ابی داود ، کتاب الجهاد ، باب فی الخيلاء فی الحرب ، ۳ / ۶۹، الحديث : ۲۶۵۹ [44] مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ135پر اس کے تحت فرماتے ہیں : بندہ گناہ کرتا ہے رب( عَزَّوَجَلَّ ) کو اس سے غیرت آتی ہے جیسے غلام کی بری حرکتوں سے مولیٰ کو غیرت آتی ہے لہٰذا بندہ ہرگز گناہ پر دلیری نہ کرے۔ [45] صحيح مسلم ، کتاب التوبة ، باب غيرة الله وتحريم الفواحش ، الحديث : ۲۷۶۱، ص۱۴۷۶ [46] مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ134پر اس کے تحت فرماتے ہیں : ربّ تعالی ٰ کی غیرت کے یہ ہی معنی ہیں(یعنی ظاہر و باطن فحش چیزوں کو حرام فرمانا) ورنہ اللہ تعالی ٰ شرم غیرت کے ظاہری معنی سے پاک ہے ایسے الفاظ میں ربّ تعالی ٰ کے لئے ان کے نتائج مراد ہوتے ہیں۔ [47] صحيح مسلم ، کتاب اللعان ، الحديث : ۱۴۹۹، ص۸۰۵ [48] صحيح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب عمربن الخطاب ، ۲ / ۵۲۵، الحديث : ۳۶۸۰، ۳۶۷۹ ، بتغيرقليل [49] سنن النسائی ، کتاب الزکاة ، باب الاختيال فی الصدقة ، الحديث : ۲۵۵۵، ص۴۲۰ [50] مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ142، 143پر حدیثِ مبارکہ کے جز’’بعض شرم وہ ہیں جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ ناپسند فرماتا ہے‘‘کے تحت فرماتے ہیں : یعنی مومن کی بعض شرم و حیا رب ( عَزَّوَجَلَّ ) کو پیاری ہیں اس پر اسے ثواب ملے گا اور بعض غیرتیں رب تعالیٰ کو ناپسند ہیں جن سے بندہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے کہ حیاء ایمان کا رکن ہےیعنی رب تعالیٰ کو پیاری حیاء رکن ایمانی ہے۔‘‘اور ’’پسندیدہ شرم مشکوک چیزوں میں شرم ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’تہمت و شک کی جگہ جانے سے غیرت کرنااس کا انجام اعلیٰ درجہ کا تقویٰ ہے مثلاً غیر مرد کا گھر میں آنا اپنی بیوی کو اس سے کلام کرتے دیکھنا اس پر غیرت کھا جانا قوت ایمانی کی دلیل ہے اسی طرح خود اجنبی عورت سے خلوت کرنے پر غیرت کرنا کہ اس سے دوسروں کو ہم پر شبہ ہوسکتا ہے یہ غیرت خدا کی پیاری ہے۔‘‘ اور’’ناپسندیدہ شرم غیر مشکوک چیزوں میں شرم ہے‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی بلاوجہ کسی پر بدگمانی کرنا غیرت نہیں بلکہ فتنہ و فساد کی جڑ ہے بعض خاوندوں کو اپنی بیویوں پر بلاوجہ بدگمانی رہتی ہے جس سے ان کے گھروں میں دن رات جھگڑے رہتے ہیں یہ غیرت رب تعالیٰ کو ناپسند ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶، الحجرات : ۱۲، ترجمۂ کنزالایمان : بے شک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے)۔‘‘ اور ’’وہ کسی کا ناز کرنا ہے جہاد کے وقت‘‘کے تحت فرماتے ہیں : اس طرح کے کفار کے مقابل جہاد میں اپنے کو بہت بہادر سمجھے اور اپنے مقابل کافر کو حقیر و ذلیل و کمزور جانے اور اس کے سامنے اپنی بہادری قول و عمل سے ظاہر کرے(امیرالمؤمنین) حضرت علی رَضِیَ اللہ عَنْہ جہاد میں کفار سے فرماتے تھے : اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ اُمِّیْ حَیْدَراً میں وہ جس کا نام اس کی ماں نے حیدرِکرار رکھا ہے حیدر معنی شیر کرّار معنی پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والا، حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے غزوہ حنین میں کفار کو للکار کر فرمایا : اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبَ اَنَا اِبْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں یہ ناز و فخر رب تعالیٰ کو پیارا ہے۔ خیرات خصوصاً چندہ دیتے وقت اپنے کو بہت امیر سمجھنا اور جو کچھ دے رہا ہے اسے کم سمجھنا اور خوش ہوکر شکر کرتے ہوئے دینا یہ صدقہ کے وقت کا فخر ہے رب تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ- (پ۱۱، يونس : ۵۸، ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں اللہ ( عَزَّوَجَلَّ )کے فضل و رحمت پر خوب خوشیاں مناؤ یہ خوشی شکر کی ہے نہ کہ گھمنڈ کی، گھمنڈکے لئے فرماتا ہے : لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ(۷۶) (پ۲۰، القصص : ۷۶) شیخی نہ مارو اللہ تعال ٰ ی شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘ [51] مصنف ابن ابی شيبة ، کتاب النکاح ، باب فی غيرة وما ذکرفيها ، ۳ / ۴۶۷، الحديث : ۷ [52] مسندالبزار ، مسندعلی بن ابی طالب ، ۲ / ۱۵۹، الحديث : ۵۲۶ قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۱۸ [53] صحيح البخاری ، کتاب الاذان ، باب استئذان المراة زوجهابالخروج الی المسجد ، ۱ / ۳۰۱، الحديث : ۸۷۵ [54] صحيح البخاری ، کتاب الاذان ، باب انتظارالناس قيام الامام العالم ، ۱ / ۳۰۰، الحديث : ۸۶۹ [55] اب تو عورتوں کی عریانیت اور ان کی آزادی بہت بڑھ چکی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّ ٰ ہ تَعَال ٰ ی عَنْہ نے عورتوں کا حال دیکھ کر انہیں مسجد میں آنے سے منع فرمادیا حالانکہ اِس زمانہ میں اگر ایک عورت نیک ہے تو اُن کے زمانۂ مبارکہ میں ہزاروں عورتیں نیک تھیں اور اُن کے زمانہ میں اگر ایک عورت فاسِقہ تھی تو اب ہزاروں عورتیں فاسقہ ہیں اور حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّ ٰ ہ تَعَال ٰ ی عَنْہ فرماتے تھے کہ عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کے قریب اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے اور جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے اور حضرت سیِّدُنا عبداللّٰ ہ بن عمر رَضِیَ اللّ ٰ ہ تَعَال ٰ ی عَنْہُمَا جمعہ کے دن کھڑے ہو کر کنکریاں مار مار کر عورتوں کو مسجد سے باہر نکالتے اور حضرت سیِّدُناامام ابراہیم نَخَعِی تابعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِی اپنی مستورات کو جمعہ اور جماعت میں نہیں جانے دیتے تھے اور حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہ اور دیگر متقدمین نے اگرچہ بوڑھی عورتوں کو فجر، مغرب اور عشاء کی جماعتوں میں شرکت کو جائز ٹھہرایا تھا لیکن متاخرین نے بوڑھی ہو یا جوان ہر عمر کی عورتوں کو سب نمازوں کی جماعت میں دن کی ہو یا رات کی شرکت سے منع فرمادیا اور ممانعت کی وجہ فتنہ کا خوف ہے جو حرام کا سبب ہے اور جو چیز حرام کا سبب ہوتی ہے وہ بھی حرام ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب فساد زمانہ کے سبب اب سے سیکڑوں برس پہلے مسجدوں میں حاضر ہونے اور جماعتوں میں شرکت کرنے سے عورتیں روک دی گئیں حالانکہ ان دونوں باتوں کی شریعت میں بہت سخت تاکید ہے تو اس زمانہ میں جب کہ فتنہ و فساد بہت بڑھ چکا ہے بھلا عورتوں کا بے پردگی کے ساتھ سڑکوں، پارکوں اور بازاروں میں گھومنا پھرنا اور نامحرموں کو اپنا بناؤسنگار دکھانا کیونکر جائز و درست ہوسکتا ہے۔(ماخوذ ازفتاویٰ فيض الرسول، ۲ / ۶۳۵تا۶۳۶) [56] صحيح البخاری ، کتاب الجمعة ، باب رقم : ۱۳، ۱ / ۳۱۰، الحديث : ۹۰۰ [57] صحيح مسلم ، کتاب صلاة العيدين ، باب ذکر اباحة خروج النساء الخ ، الحديث : ۸۹۰، ص۴۴۰ [58] دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ : 397صفحات پر مشتمل کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب صفحہ 24تا25پر شیخ طریقت، امیراہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں : سوال : عورت غیرمرد کو دیکھ سکتی ہے یا نہیں؟ جواب : نہ دیکھنے میں عافیت ہی عافیت ہے۔ البتّہ دیکھنے میں جواز کی صورت بھی ہے مگر دیکھنے سے قبل اپنے دِل پر خوب خوب اور خوب غور کر لے کہیں یہ دیکھنا گناہوں کے غار میں نہ دھکیل دے۔ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام جواز کی صورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’عورت کا مردِاجنبی کی طرف نظرکرنے کا وہی حکم ہے جو مرد کا مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اُس وقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کی طرف نظر کرنے سے شہوت نہیں پیدا ہوگی اور اگر اس کا شُبہ بھی ہو تو ہرگز نظر نہ کرے۔‘‘ [59] سنن الترمذی ، کتاب المناقب ، باب فضل ازواج النبی ، ۵ / ۴۷۵، الحديث : ۳۹۲۱ [60] مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ117پر اس کے تحت فرماتے ہیں : گھر والوں پر خرچ ان سب خیراتوں سے یا تو اس لئے بہتر ہے کہ وہ خیراتیں نفل تھیں اور یہ خرچ فرض ہے، اکثر فرض نفل سے بہتر ہوتا ہے یا اس لئے کہ اس خرچ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی اہل قرابت کے حق کی ادائیگی، اور دونیکیاں ایک نیکی سے افضل ہے۔ [61] صحيح مسلم ، کتاب الزکاة ، باب فضل النفقة علی العيال والمملوک الخ ، الحديث : ۹۹۵، ص۴۹۹ [62] بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ پیدا ہونے کے سبب سے نہ ہو تو اُسے حَیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نِفاس کہتے ہیں۔(بہارشریعت، ۱ / ۲۷۱) [63] احناف کے نزدیک : ان (یعنی حیض کے) دنوں میں نمازیں مُعاف ہیں ان کی قضا بھی نہیں اورروزوں کی قضا اور دنوں میں رکھنا فرض ہے۔(بہارِشريعت، ۱ / ۳۸۰) نوٹ : حیض و نفاس سے متلعق تفصیلی معلومات کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت، جلداول، حصہ دوم، صفحہ369تا384 کا مطالعہ کیجئے! [64] احناف کے نزدیک : حیض پورے دس دن پر اور نفاس پورے چالیس دن پرختم ہوا اور نماز کے وقت میں اگر اتنا بھی باقی ہو کہ اللّ ٰ ہ اَکْبَر کا لفظ کہے تواس وقت کی نماز اس پر فرض ہو گئی، نہا کر اس کی قضا پڑھے اور اگر اس سے کم میں بند ہوا اور اتنا وقت ہے کہ جلدی سے نہا کر اور کپڑے پہن کر ایک بار اللّ ٰ ہ اَکْبَر کہہ سکتی ہے توفرض ہو گئی قضا کرے ورنہ نہیں(بہرصورت صرف اُسی وقت کی نماز فرض ہو گی، اس سے پہلے والی نماز کی قضالازم نہیں)۔(بہارِشريعت، ۱ / ۳۸۱) [65] صحيح مسلم ، کتاب فضائل الصحابة ، باب فی فضل عائشة ، الحديث : ۲۴۴۵، ص۱۳۲۷ [66] سنن النسائی ، کتاب عشرة النساء ، باب ميل الرجل الی بعض نسائه دون بعض ، الحديث : ۳۹۴۸، ص۶۴۴ [67] سنن الترمذی ، کتاب النکاح ، باب ماجاء فی التسوية بين الضرائر ، ۲ / ۳۷۵، الحديث : ۱۱۴۴ [68] مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ84پر اس کے تحت فرماتے ہیں : یعنی برتاوے میں تو ہرطرح برابری کرتا ہوں رہا میلان قلبی اور دلی محبت وہ حضرت عائشہ صدیقہ سے زیادہ ہے، دل تیرے قبضہ میں ہے اور زیادتی میلان تیری طرف ہے، اس میں مجھ پر عتاب نہ فرمانا۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند پر برتاوے اور ادائے حقوق میں برابری کرنا لازم ہے، میلانِ قلبی اگر کسی بیوی کی طرف زیادہ ہو تو اس کا گناہ نہیں۔ [69] سنن النسائی ، کتاب عشرة النساء ، باب ميل الرجل الی بعض نسائه الخ ، الحديث : ۳۹۴۹، ص۶۴۴، بتغيرقليل [70] صحيح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی : لوکنت متخذاخليلا ، ۲ / ۵۱۹، الحديث : ۳۶۶۲، باختصار [71] صحيح البخاری ، کتاب المغازی ، باب مرض النبی ووفاته ، ۳ / ۱۵۷، الحديث : ۴۴۵۰ قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۰۸، ۴۰۷ [72] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب المراة تهب يومهامن زوجها الخ ، ۳ / ۴۶۶، الحديث : ۵۲۱۲ سنن ابی داود ، کتاب النکاح ، باب فی القسم بين النساء ، ۲ / ۳۵۳، الحديث : ۲۱۳۵۔ السنن الکبری للبيهقی ، کتاب النکاح ، باب مايستدل به علی ان النبی فی سوی الخ ، ۷ / ۱۱۹، الحديث : ۱۳۴۳۵ [73] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب کثرة النساء ، ۳ / ۴۲۳، الحديث : ۵۰۶۸ [74] المسندللامام احمد بن حنبل ، مسندانس بن مالک ، ۴ / ۴۷۶، الحديث : ۱۳۵۰۵ [75] سنن ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب حق المراة علی الزوج ، ۲ / ۴۰۹، الحديث : ۱۸۵۰ [76] الطبقات الکبری لابن سعد ، ذکرالمراتين اللتين تظاهرتاعلی رسول الخ ، ۸ / ۱۵۳، ۱۵۲ [77] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب مايقول الرجل اذا اتی اهله ، ۳ / ۴۵۲، الحديث : ۵۱۶۵ [78] المعجم الکبير ، ۸۳ / ۲۲، الحديث : ۲۰۰ تاريخ بغداد ، ۵ / ۳۷۰، الرقم۲۹۲۳ : احمد بن محمويه [79] سنن ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب التسترعندالجماع ، ۲ / ۴۴۹، الحديث : ۱۹۲۱ مصنف ابن ابی شيبة ، کتاب النکاح ، باب ماقالوافی الاستتاراذاجامع الرجل اهله ، ۳ / ۴۵۶، الحديث : ۲ [80] حياة الحيون الکبری للدميری ، باب العين المهملة ، العير ، ۲ / ۲۲۹، بتغيرقليل [81] تزيين الاسواق فی اخبارالعشاق للداودالانطاکی ، خاتمة ، فصل فی النوادرالحکم ، فائدة ، ص۱۹۵ علل الحديث لابن ابی حاتم ، علل اخباررويت فی الادب والطب ، ۲ / ۳۰۸، الحديث : ۲۴۳۷، بتغيرقليل [82] مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد2، صفحہ337پرفرماتے ہیں : یعنی نمازسے پہلے بیوی سے صحبت کرے تاکہ وہ بھی نہائے اور یہ بھی نہائے اور جمعہ کے وقت دل میں سکون رہے نگاہیں نیچی رہیں۔ [83] سنن ابی داود ، کتاب الطهارة ، باب فی الغسل يوم الجمعة ، ۱ / ۱۵۸، الحديث : ۳۴۵، بتغير [84] احناف کے نزدیک : اس مسئلہ کی تین صورتیں ہیں : (۱) … (اگر حیض) پورے دس دن پر ختم ہوا تو پاک ہوتے ہی اس سے جماع جائز ہے، اگرچہ اب تک غسل نہ کیا ہو، مگر مستحب یہ ہے کہ نہانے کے بعد جماع کرے۔(۲) دس دن سے کم میں پاک ہوئی مگرعادت کے دن پورے ہوگئے تو تاوقتیکہ غسل نہ کر لےیا وہ وقت ِنماز جس میں پاک ہوئی گزر نہ جائے جماع جائز نہیں اور اگر وقت اتنا نہیں تھا کہ اس میں نہا کر کپڑے پہن کر اللّ ٰ ہ اَکْبَر کہہ سکے تو اس کے بعد کا وقت گزر جائےیا غسل کر لے تو جائز ہے ورنہ نہیں۔(۳) عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تو اگرچہ غسل کر لے جماع ناجائز ہے تاوقتیکہ عادت کے دن پورے نہ ہو لیں، جیسے کسی کی عادت چھ دن کی تھی اور اس مرتبہ پانچ ہی روز آیا تو اسے حکم ہے کہ نہا کر نماز شروع کر دے مگر جماع کے لئے ایک دن اور انتظار کرنا واجب ہے۔(بہارشريعت، ۱ / ۳۸۳) [85] جذام(کوڑھ) ایک مرض جس میں بدن سفید ہوجاتا ہےمرض کی شدت میں اعضا بھی گل جاتے ہیں۔(اردولُغت، ۶ / ۵۵۴) [86] احناف کے نزدیک : اس(یعنی حیض کی) حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن کو مرد کا اپنے کسی عضو سے چھونا جائز نہیں، جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شہوت سے ہو یا بے شہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہو گی تو حرج نہیں۔ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں۔یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے۔ (بہارشريعت، ۱ / ۳۸۲) [87] ترجمہ ٔ کنزالایمان : تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو۔(پ۲، البقرة : ۲۲۳) [88] یہ شوافع کے نزدیک ہے احناف کا موقف ماقبل حاشیہ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ [89] صحيح البخاری ، کتاب الغسل ، باب الجنب يتوضاثم ينام ، ۱ / ۱۱۸، الحديث : ۲۸۹، فيه : استفتی عمررضی الله عنه [90] سنن الترمذی ، کتاب الطهارة ، باب ماجاء فی الجنب ينام قبل ان يغتسل ، ۱ / ۱۶۸، الحديث : ۱۱۸ [91] جماع کرتے وقت جب منی نکلنے لگے تو بیوی سے علیحدہ ہو کر مادہ منویہ کو باہر خارج کردینے کو عزل کہتے ہیں۔ [92] صحيح البخاری ، کتاب العتق ، باب من ملک من العرب رقيقا الخ ، ۲ / ۱۵۷، الحديث : ۲۵۴۲ صيح البخاری ، کتاب البيوع ، باب بيع الرقيق ، ۲ / ۵۳، الحديث : ۲۲۲۹ [93] احناف کے نزدیک : عزل اور فیملی پلاننگ کا حکم : آپریشن کے ذریعے بچہ دانی نکلوا دینا ناجائز و حرام ہے کہ اس میں ایک عضوکوضائع کردیا جاتاہے اوریہ مُثلہ ہے اورمُثلہ حرام، (کیونکہ)سرکاردو عالمصَلَّی اللہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا ہے۔چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے : ’’سِیْرُوْابِسْمِ اللہ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللہ قَاتِلُوْامَنْ کَفَرَ بِ اللہ وَلَاتَمْثُلُوْا وَلَاتَغْدِِرُوْا وَلَاتَغُلُّوْا وَ لَا تَقْتُلُوْا وَلِیْداً ‘‘یعنی چلو خدا ( عَزَّوَجَلَّ )کا نام لے کر ، خدا( عَزَّوَجَلَّ ) کی راہ میں جہاد کرو خدا ( عَزَّوَجَلَّ )کے منکروں سے اور نہ مثلہ کرو نہ بد عہدی نہ خیانت نہ بچے کا قتل۔( سنن ابن ماجه ، کتاب الجهاد ، باب وصية الامام ، ۳ / ۳۸۸، الحديث : ۲۸۵۷، دارالمعرفة بيروت) بچہ دانی کا منہ رِنگ کے ذریعہ بند کرنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اس عمل میں عورت کی شرم گاہ غیر کے سامنے کھولنا اور اس کا چھوناضروری ہوتا ہے اگرچہ وہ غیر عورت ہی کیوں نہ ہو اور بلا ضرورتِ شرعیہ عورت کا اپنی شرم گاہ کسی غیر مرد خواہ عورت کو دکھانا ناجائزو حرام ہے، ہاں!اگر عورت کا شوہر یہ کام انجام دے تو حرج نہیں یونہی مانع حمل ادویات اور غبارے کا استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ یہ دونوں عزل(مرد کا اپنی منی عورت کی شرم گاہ سے باہر خارج کرنے)ہی کے حکم میں ہے اور یہ عورت کی اجازت سے جائز ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے : ’’نَھٰ ی رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم اَنْ یُّعْزَلَ عَنِ الْحُرَّۃِ اِلَّابِاِذْنِھَا ‘‘ یعنی رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّمنے آزادعورت کی اجازت کے بغیراس سے عزل کرنے سے منع فرمایاہے۔‘‘( مشك ٰ وة المصابيح مع مرقاة المفاتيح ، ۶ / ۳۵۱، دارالفکربيروت)بعض فقہا نے عورت کی اجازت کے بغیر بھی عزل کی اجازت دی ہے۔نیزیہ یاد رہے کہ جہاں جہاں منصوبہ بندی کی اجازت ہے وہاں اگرفقر کے خوف کی وجہ سے ہے توممنوع ہے۔(دارالافتااہلسنت کراچی پاکستان) [94] صحيح ابن حبان ، کتاب النکاح ، باب العزل ، ۶ / ۱۹۷، الحديث : ۴۱۸۰، بتغير [95] یعنی مطلوبہ مسئلہ کے بارےمیں تو کوئی نص نہ ہو لیکن کسی دوسرے مسئلے پر قیاس کرکے اس کا مکروہ تحریمی وغیرہ ہونا ثابت کیا جائےاور اس دوسرے مسئلہ میں کوئی نص وارد ہو۔ [96] خارجی : وہ فرقہ ہے جو اپنے سینوں میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَال ٰ ی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور نوجوانان جنت کے سردار حضرت سیِّدُنا امام حسن اور حضرت سیِّدُنا امام حسینرَضِیَ اللہ تَعَال ٰ ی عَنْہُمَا سے بغض و کینہ رکھتے ہیں۔(بہارشريعت، ۱ / ۲۶۱، حاشیہ) [97] فردوس الاخبارللديلمی ، باب الميم ، ۲ / ۲۵۷، الحديث : ۵۷۶۵ [98] صحيح مسلم ، کتاب النکاح ، باب جوازالغيلة الخ ، الحديث : ۱۴۴۲، ص۷۵۸ [99] صحيح مسلم ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل ، الحديث : ۱۴۳۸، ص۷۵۴ [100] سنن ابن ماجه ، کتاب الزهد ، باب الرياء والسمعة ، ۴ / ۴۷۰، الحديث : ۴۲۰۴ [101] صحيح البخاری ، کتاب النکاح ، باب العزل ، ۳ / ۴۶۶، الحديث : ۵۲۰۹ [102] صحيح مسلم ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل ، الحديث : ۱۴۴۰، ص۷۵۷ [103] صحيح مسلم ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل ، الحديث : ۱۴۳۹، ص۷۵۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن