30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آداب طعام کا بیان(1)
تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے کائنات کی بہترین تدبیر فرمائی ، زمین وآسمان کو پیدا فرمایا، بادلوں سے میٹھا پانی نازل فرماکر اس سے کھانا اور سبزہ اگایا، رزق و غذا کو مقدَّر فرمایا، غذا کے ذریعے حیوانات کے اجسام کی حفاظت فرمائی اور رزقِ حلال کے ذریعے نیکی اوربھلائی کے کاموں پر اعانت فرمائی اور روشن معجزات والے حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ہر لمحہ بار بار درود اور خوب سلام ہو۔
عقل مندوں کا مقصدِحقیقی جنت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات (اور اس کا دیدار)ہے اور اس سے ملاقات کے لئے علم وعمل کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں اور علم وعمل پر استقامت بدن کی سلامتی کے ساتھ ہی ممکن ہے اور جسم کی سلامتی مختلف اوقات میں بقدرِضرورت کھانے پر موقوف ہے،اسی لئے بعض بزرگوں نے فرمایا:’’ اِنَّ الْاَ کْلَ مِنَ الدِّیْن یعنی کھانا دین سے ہے۔‘‘اسی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ مجیدفرقانِ حمیدمیں اشارہ فرمایا: كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ- ( پ ۱۸، المؤمنون :۵۱، ترجمۂ کنزالایمان :پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔)پس جو علم وعمل اور تقویٰ پر قوت حاصل کرنے کے لئے کھانا چاہے تواسے چاہئے کہ اپنے نفس کو چراگاہ میں چرنے والے جانوروں کی طرح یونہی کھلا نہ چھوڑ دےکہ کھانے میں بالکل بے تکلف ہو جائے۔ چونکہ کھانا دین کے قیام کا ذریعہ و وسیلہ ہے تو چاہئے کہ اس پر دین کے انوار ظاہر ہوں اور اس کے انوار وہ آداب و احکام ہیں جن پر بندے کو عمل کا پابند بنایا جاتا ہےاور متقی و پرہیزگار ہی پابندی سے ان پر عمل کرتا ہے۔ پس جب خواہش کے وقت کھانے یا نہ کھانے کو شریعت کے ترازو میں تولا جاتا ہے تواس کے سبب کھانے کا بوجھ کم ہوجاتا اور اجر و ثواب کی صورت بن جاتی ہےاگرچہ اس میں نفس کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔
گھر والوں کو کھلانے پر اجر:
حضورنبیّ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اِنَّ الرَّجُلَ لَیُؤ ْجَرُ حَتٰی فِی اللُّقْمَۃِ یَرْفَعُہَا اِلٰی فِیْہٖ وَ ا ِلٰی فِی اِمْرَأَتِہٖ یعنی بندے کو اس لقمے پر بھی اجر ملتا ہے جو وہ خود کھاتا یا اپنی زوجہ کو کھلاتا ہے۔‘‘(2 )
اس پر اجر و ثواب کا استحقاق اسی صورت میں ہوگا کہ شرعی حدود اور سنن و آداب کی رعایت کرتے ہوئے کھانا کھایا جائے،لہٰذا ہم کھانے کے متعلق دین کے اَحکام یعنی کھانے کے فرائض،سنتیں، آداب، صفات اور اس کاطریقہ چار ابواب اور ایک فصل میں بیان کریں گے:
(۱)…تنہا کھانے کے آداب(۲)…مل کر کھانے کے آداب(۳)…ملاقات کے لئے آئے ہوئے اسلامی بھائیوں کو کھانا کھلانے کے آداب(۴)…ضیافت و مہمان نوازی وغیرہ کےآداب۔
باب نمبر1: تنہا کھانے کے آداب
تنہا کھانے والے کوتین امور پیش نظر رکھنے چاہئیں:(۱)…کھانے سے پہلے کے آداب (۲)…کھاتے وقت کے آداب (۳)…کھانے کے بعد کے آداب۔
(1)…کھانے سے پہلے کے سات آداب:
(1)…کھانا حلال ہو، کمانے کا طریقہ بھی جائز ہو: سنت اور تقویٰ و پرہیزگاری کے مطابق کمایا گیا ہو نہ کہ ناجائز طریقے سے،نیز خواہش نفس کی وجہ سے بھی نہ کمایا گیا ہو اور نہ ہی مُدَاہَنَت فِی الدِّیْن (3 )مقصود ہو جیسا کہ’’حلال وحرام کے بیان‘‘ میں آئے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ’’طیِّب‘‘یعنی حلال کھانے کا حکم دیا اور حرام کھانے کی ممانعت کو قتل کی ممانعت پر اس لئے مقدَّم کیا تاکہ حرام کھانے سے بچنے کی اہمیت اور رزقِ حلال کی عظمت ظاہر ہو جائے۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹) ( پ ۵، النسآء :۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو اوراپنی جانیں قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔
کھانے میں اصل حلت (یعنی حلال ہونا) ہے اور یہ بات فرائض و اصولِ دین میں سے ہے۔
کھانے کا وضو محتاجی دور کرتا ہے:
(2)…ہاتھ دھونا:حضورنبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اَ لْوُضُوْ ء ُ قَبْلَ الطَّعَامِ یَنْفِی الْفَقْرَ وَ بَعْدَہُ یَنْفِی اللَّمَم یعنی کھانے سے پہلے وُضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا)فقر کو دور کرتا اور بعد میں دھونا دیوانگی(یعنی پاگل پن) کو دور کرتا ہے۔‘‘(4 )
ایک روایت میں ہے:’’ یَنْفِی الْفَقْرَ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَہُ یعنی کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا)محتاجی کو دُور کرتا ہے۔‘‘(5 )
چونکہ کام کاج کی وجہ سے عموماً ہاتھ میلے ہوجاتے ہیں، لہٰذا کھانے سے پہلے انہیں دھو لینے میں صفائی سھترائی زیادہ ہے، نیز دینی امور پر مدد حاصل کرنے کی نیت سے کھانا عبادت ہے تو مناسب ہے کہ اس سے پہلے وہ کام کیا جائے جو نماز سے پہلے کیا جاتا(یعنی وضو وغیرہ کرکے طہارت حاصل کرنا)ہے۔
(3)…کھانا زمین پر بچھے دسترخوان پر رکھ کر کھایا جائے:یہ طریقہ میزپر کھانے کی بنسبت سنت سے زیادہ قریب ہے کہ جب کھانا حاضر کیا جاتا تو پیارے مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے زمین پر رکھتے(6 )
کہ یہ عاجزی و انکساری کے زیادہ قریب ہے اگر ایسا ممکن نہ ہو توایسے دسترخوان پر کھائے جسے سُفرہ کہا جاتا ہے کہ اس سے سفر کا تصور قائم ہو گا اورسفر کے تصوُّرسے سفر آخرت کی فکر اور اس کے لئے زادِ راہ (یعنی تقویٰ و پرہیزگاری اور اعمالِ صالحہ)ذخیرہ کرنے کا ذہن بنے گا۔
ٹیبل کرسی پر کھانا سنت نہیں:
حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خوان پرکھانا کھایا نہ ہی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں۔‘‘(7 )پوچھا گیا:’’ آپ حضرات کس چیز پر کھاتے تھے؟‘‘فرمایا:’’(زمین پر بچھے)دستر خوان پر(8 )۔‘‘
سب سے پہلی بدعتیں:
منقول ہے کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے پہلے چار بدعتیں ظاہر ہوئیں: (۱)…چھنی (۲)…اَشنان(ایک قسم کی بوٹی جو صابن کی مثل صفائی کا کام دیتی ہے)(۳)…اونچے دسترخوان(یعنی ٹیبل وغیرہ) اور(۴)…پیٹ بھر کر کھانا۔
٭…تنبیہ:یاد رہے!دستر خوان پر کھانا کھانا اگرچہ اَولیٰ ہے مگر ٹیبل، کرسی پر کھانا ناجائز یا مکروہ نہیں۔
یہ جو کہا گیا ہے کہ چار چیزیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد پیدا ہوئیں تو اس سے ان کا ممنوع ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ ’’وہ بدعت(نیا کام)منع ہے جو ثابت شدہ سُنَّت کے خلاف اور شریعت کے کسی کام کو ختم کرنے والا ہو جبکہ اس کا سبب باقی ہو۔‘‘بعض اوقات جب اَسباب بدل جائیں تو نیا کام شروع کرنا واجب ہوتا ہے اور میز پر کھانا صرف اس لئے رکھا جاتا ہے کہ کھانا اونچا ہوجائے تاکہ کھانے میں آسانی رہے اور اس طرح کے کاموں میں کراہِیَت نہیں ہوتی۔
مذکورہ اشیاء کا استعمال:
مذکورہ اشیاءجنہیں بدعت کہا گیاہےسب ایک سی نہیں بلکہ اَشنان کا استعمال اچھا ہے کیونکہ صفائی کے لئے دھونا مستحب ہے اور اشنان سے صفائی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔ رہا یہ کہ اس وقت اشنان استعمال نہ کیا جاتا تھا تو اس کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:٭…اس زمانہ میں اس کی عادت نہ تھی٭… یا مُیَسَّر نہ تھا٭…یاوہ ایسے کاموں میں مشغول تھے جو صفائی میں مبالغہ سے زیادہ اہم تھے اسی لئے وہ حضرات ہاتھ تلووں سے صاف کرلیا کرتے تھے اور ان کا ایسا کرنا دھونے کے مستحب ہونے کو مانع نہیں۔
آٹا چھان کر پکانے سے کھانے کو اچھا کرنا مقصود ہے اور یہ مباح ہے جب تک زیادہ عیش وعشرت کی طرف نہ جایا جائے۔ٹیبل پر کھانا بھی مباح ہے جبکہ غُرور وتکَبُّر سے نہ ہواورپیٹ بھر کر کھانا یہ ان میں سب سے سخت ہے کیونکہ یہ خواہشات میں ہیجان اور دوا کے اسباب پیدا کرتا ہے۔پس غوروفکر کرنے والا ان میں فرق کو جان لے گا۔
کھانا کھاتے وقت بیٹھنے کا سُنَّت طریقہ:
(4)…دسترخوان پر شروع سے آخر تک اچھے انداز پر بیٹھنا:مصطفٰے جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھتے،کبھی پاؤں کے بل، کبھی دایاں گھٹنا کھڑا کرکے بائیں پر بیٹھتے(9 )اور فرماتے: لَا اٰکُلُ مُتَّکِئًا اِنَّمَا اَنَا عَبْدٌ اٰکُلُ کَمَا یَاْکُلُ الْعَبْدُ وَاَشْرَبُ کَمَا یَشْرَبُ الْعَبْدُ یعنی میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا(10 )،میں بندہ ہوں، اسی طرح کھاتا ہوں جس طرح بندہ کھاتا ہے اور اسی طرح پیتا ہوں جس طرح بندہ پیتا ہے۔(11 )
ٹیک لگا کر کھانے پینے کا حکم:
لیٹ کر اور ٹیک لگا کر کھانا پینا مکروہ ہے اور معدہ کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔البتہ چند دانےکھانے میں حرج نہیں۔ منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے چِت لیٹے ڈھال پر رکھ کر کیک کھایا اور ایک قول ہے کہ پیٹ کے بل لیٹ کر کھایا اور اہل عرب ایسا کرتے تھے۔
کھانا کھانے کی نیت:
(5)…کھاناعبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت سے کھایاجائے:تاکہ کھانا بھی عبادت ہومحض لذت مقصود نہ ہو۔
حضرت سیِّدُناابرہیم بن شیبان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں:’’میں نے 80برس سے کوئی بھی چیز فقط لذتِ نفس کی خاطر نہیں کھائی۔‘‘
کم کھانے کی نیت بھی ہو کہ عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت جبھی سچی ہوگی کیونکہ پیٹ بھر کر کھانے سے عبادت میں الٹا رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، نیز اس سے قوت نہیں ملتی۔ پس نیت کا تقاضا یہ ہے کہ خواہشات کو ختم کیا جائے اور کم پر قَنا عَت کو ترجیح دی جائے۔
کھانا کتنا کھانا چاہئے؟
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ صحت نشان ہے:’’ آ دمی اپنے پیٹ سے زیادہ برا برتن نہیں بھرتا، انسان کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اگر ایسا نہ کرسکے تو تہائی (۱/۳) کھانے کے لئے، تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس کے لئے ہو۔‘‘(12 )
نیت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ بغیر بھوک کے کھانا شروع نہ کیا جائے، بھوک لگی ہو تبھی کھایا جائے اور ابھی بھوک باقی ہو تو ہاتھ روک لیا جائے کہ اس سے کبھی طبیب کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ کم کھانے کے فوائد اور بتدریج کھانے میں کمی کی کیفیت کا بیان اسی کتاب میں ’’کھانے کی خواہش توڑنے کے بیان‘‘ میں آئے گا(13 )۔
(6)…قناعت پسندی اختیار کی جائے:یعنی جوچیز موجود ہو اسی پر قناعت کی جائے لذیذ اور زیادہ کی خواہش نہ ہو۔ روٹی کی تعظیم اسی میں ہے کہ سالن کا انتظار نہ کیا جائے، نیز اس کی عزت و تعظیم کا ہی حکم ہے(14 )، بلکہ ہر وہ چیز جو عبادت پر قوت دے وہ سب سے بہتر ہے، لہٰذا اس کی بے حرمتی مناسب نہیں حتی کہ اگر نماز کے وقت میں کھانا آ جائے اور وقت میں وسعت ہوتو پہلے کھانا کھایا جائے۔
نماز اور کھانا دونوں جمع ہوجائیں تو کیا کریں؟
سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جب رات کا کھانا اور نمازِ عشا دونوں جمع ہوں تو پہلے کھانا کھا لو۔‘‘(15 ) (16 )
حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بعض اوقات رات کے کھانے کے دوران امام کی قراء َت سنتے لیکن کھانا چھوڑ کے نماز کے لئے تشریف نہ لے جاتے۔ البتہ اگر نفس کو کھانے کی خواہش نہ ہو اور کھانے میں تاخیر کرنے میں حرج بھی نہ ہو تو پہلے نماز پڑھنا بہتر ہے اور اگر کھانا حاضر ہو اور جماعت کھڑی ہو جائے اور وقت میں وسعت بھی ہو اور کھانا ٹھنڈا ہو جانے کاخطرہ یاکوئی اور تشویش ہو تو پہلے کھانا کھا لیا جائے خواہ بھوک زیادہ ہو یا کم کیونکہ حدیثِ پاک عام(یعنی بھوک زیادہ ہونے کی قید کے بغیر) ہے نیز عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اگر کھانا تیار ہوتو توجہ اسی جانب مبذول رہتی ہے(اس لئے پہلے کھانا کھا لیا جائے تاکہ نماز میں خشوع وخضوع حاصل رہے)۔
(7)…کھانا مل کر کھایا جائے: کوشش کرنی چاہئے کہ کھانے پر زیادہ ہاتھ پڑیں یعنی مل کر کھائے اگرچہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ کھائے۔
مل کر کھانے کی فضیلت پر مشتمل تین روایات:
)1(… اِجْتَمِعُوْا عَلٰی طَعَامِکُمْ یُبَارَکُ لَکُمْ فِیْہٖ یعنی مل کر کھایا کرو کہ کھانے میں برکت ہوگی۔(17 )
(2)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم لَا یَاْکُلُ وَحْدَہُ یعنی رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تنہا نہ کھاتے تھے۔(18 )
(3)… خَیْرُ الطَّعَامِ مَا کَثُرَتْ عَلَیْہِ الْاَ یْدِی یعنی بہترین کھانا وہ ہے جس پر کئی ہاتھ پڑیں(یعنی جو مل کر کھایا جائے)۔ (19 )
(2)…کھاتے وقت کے آداب:
کھانے والا ابتدا میں بِسْمِ اللّٰہ اور آخر میں اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھے،٭… ہر لقمے کے ساتھ بِسْمِ اللّٰہ کہنا اچھا ہے تاکہ کھانے کی حرص ذِکْرُاللہ سے غافل نہ کرے،٭…پہلے لقمہ کے ساتھ بِسْمِ اللّٰہ ،٭… دوسرے کے ساتھ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن ٭…اور تیسرے لقمہ کے ساتھ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے،٭… بِسْمِ اللہ بلند آواز سے پڑھے تاکہ دوسروں کو بھی یاد آ جائے،٭…دائیں ہاتھ سے کھائے،٭…اوّل وآخر نمک (یا نمکین چیز) کھائے،٭…چھوٹے چھوٹے لقمے لے اور اچھی طرح چبا کر کھائے،٭…جب تک پہلا لقمہ نگل نہ لے تب تک دوسرے لقمے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے کیونکہ کھانے میں جلدبازی حرص کی علامت ہے،٭… کھانے میں عیب نہ نکالے کہ مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھانے میں عیب نہ نکالتے اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے ورنہ ہاتھ روک لیتے۔(20 )
٭…اپنے سامنے سے کھائے، البتہ اگر (مختلف قسم کے)پھل ہوں تو اِدھر اُدھر ہاتھ بڑھانے میں حرج نہیں۔ چنانچہ، مروی ہے کہ رسولوں کے سالار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ کُلْ مِمَّا یَلِیْک یعنی اپنے آگے سے کھاؤ۔‘‘(21 )پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دَسْتِ پُر انوارپھلوں پر گھومنے لگا (یعنی مختلف اطراف سے پھل کھانے لگے)اس کے متعلق عرض کی گئی تو ارشاد فرمایا:’’ لَیْسَ ہُوَ نَوْعًا وَاحِدًا یعنی یہ ایک قسم کا کھانا نہیں۔‘‘(22 )
٭…پیالے میں کھانے کی بلندسطح اور درمیان سے نہ کھائے،٭…کنارے علیحدہ کرکے روٹی درمیان سے نہ کھائے بلکہ کناروں سمیت کھائے،٭…کھانے والے زیادہ ہوں اور روٹی کم ہو تو روٹی کے ٹکڑے کر لئے جائیں تاکہ کھانے میں آسانی رہے، ٭… روٹی اور پکے ہوئے گوشت کو چھری سے نہ کاٹے(23 ) کہ اس سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ،سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
’’گوشت کو دانتوں سے نوچ کر کھاؤ۔‘‘(24 )
٭…پیالہ یا کوئی اور چیز روٹی پرنہ رکھے، البتہ!جس چیز کے ساتھ کھا رہا ہو اسے روٹی پر رکھ سکتا ہے(جیسے اچار وغیرہ) کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اَکْرِمُوا الْخُبْزَ فَاِنَّ اللہَ تَعَالٰی اَنْزَلَہُ مِنْ بَرَکَاتِ السَّمَاءِ یعنی روٹی کی عزت کروکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے آسمانی برکات سے اتارا ہے۔‘‘(25 )
٭…ہاتھ روٹی سے نہ پونچھے کہ حضور نبیّ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اُٹھا لے اور اگر اس کے ساتھ کچھ لگاہوا ہو تو صاف کرے(اور کھا لے)، اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑ دے اورجب تک اُنگلیاں چاٹ نہ لے کپڑے وغیرہ سے صاف نہ کرے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔‘‘(26 )
٭…کھانا گرم ہو تو ٹھنڈا کرنے کے لئے پھونک نہ مارے کہ اس سے منع کیا گیا ہے(27 ) بلکہ کھانے کے قابل ہوجانے کا انتظار کرے،٭…کھجوریں وغیرہ کھائے تو طاق عدد میں کھائے:مثلاً سات یا گیارہ یا اکیس یا جتنی مُیَسَّر ہوں (لیکن ہوں طاق)، ٭…کھجوریں اور گٹھلیاں ایک ہی برتن میں نہ رکھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ میں جمع کرے بلکہ الٹے ہاتھ میں لے کرپھینک دے۔یہی طریقہ ہر اس چیز کاہے جس کا بیج یا ردّی حصہ بچ جائے، ٭…جس چیز کے کھانے کو اچھا نہ سمجھے اسے پیالے میں ہی نہ رہنے دے بلکہ ردّی حصے کے ساتھ رکھے تاکہ غلطی سے کوئی دوسرا نہ کھا لے۔
پانی پینے کے آداب:
کھانے کے دوران زیادہ پانی نہ پئے، ہاں!اگر لقمہ اٹک جائے یا واقعی پیاس ہو تو پی لے۔منقول ہے کہ یہ طب کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس سے معدہ کو تقویت ملتی ہے،٭… بِسْمِ اللہ پڑھ کردائیں ہاتھ سے پئے۔
جگر کی بیماری سے حفاظت:
پانی چوس کر پئے،٭…بڑے بڑے گھونٹ نہ بھرے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’پانی سانس لے کر پیؤ ،ایک سانس میں نہ پیؤ کہ اس سے جگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔‘‘(28 )
٭…کھڑے کھڑے اور لیٹ کر نہ پئے کہ حدیثِ مبارکہ میں اس سے منع کیا گیا ہے۔(29 ) اور جس حدیثِ پاک میں یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کھڑے ہوکر پانی نوش فرمایا تو وہ عذر پرمحمول ہے۔٭…ایسے برتن میں پانی پئے جس کے نچلے حصے میں کوئی سوراخ وغیرہ نہ ہو تاکہ پانی کے قطرے نہ ٹپکیں ،٭…پینے سے پہلے پانی کو اچھی طرح دیکھ لے،٭…گلاس ہی میں ڈکار یا سانس نہ لے بلکہ پانی کا برتن منہ سے ہٹا کرحمدِ الٰہی بجا لائے اور پھر بِسْمِ اللہ پڑھ کر پینا شروع کرے۔
پانی پینے کے بعد کی دُعا:
حضور نبی ّ کریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پانی نوش فرمانے کے بعد یہ دعا پڑھتے:’’ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَہٗ عَذْبًا فُرَ اتًا بِرَحْمَتِہٖ وَلَمْ یَجْعَلْہُ مِلْحًا اُجَاجًا بِذُنُوْبِنَا یعنی تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنی رحمت سے اسے (یعنی پانی کو) میٹھا،پیاس بجھانے والا بنایا اور ہماری خطاؤں کے سبب اسے کھاری اور کڑوا نہیں بنایا۔‘‘(30 )
دائیں ہاتھ والے کو مُقَدَّم کیا جائے:
جب پانی یا کوئی بھی مشروب دوسروں کو پلایا جائے تو دائیں طرف سے شروع کرنا چاہئے۔ چنانچہ، مروی ہے کہ ایک بارحضورنبیّ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دودھ نوش فرمایا،حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بائیں جانب تشریف فرماتھے جبکہ دائیں جانب ایک اَعْرابی بیٹھے تھے،حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی حاضر خدمت تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ابوبکر کو عطا فرمایئے۔‘‘ لیکن اِمامُ الْعادِلِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اَعْرابی کو عطا فرما کر ارشاد فرمایا:’’ اَلْاَ یْمَنُ فَالْاَ یْمَن یعنی پہلے دائیں کا حق ہے پھر اس کا دایاں۔‘‘(31 )
٭…پانی تین سانس میں پئے(32 )،٭… ہر سانس کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بجا لائے(33 )٭…اور ابتدا میں بِسْمِ اللہ شریف پڑھے۔(34 )٭…پہلی بار سانس لے تو اََلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے،٭…دوسری بار اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ٭… اور تیسری بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کہے۔
[1] کھانے کی سنتیں اور آداب سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صفحات پر مشتمل شیخ طریقت، امیر اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف فیضانِ سُنَّت جلد اوَّل کے باب آدابِ طعام کا مطالعہ کیجئے!
[2] صحيح البخاری ، کتاب الفرائض ، باب ميراث البنات ، ۳۱۶ / ۴، الحديث : ۶۷۳۳
[3] ’’ مُدَاہَنَت ‘‘سے مراد یہ ہے کہ کسی برائی کو دُور کرنے پر قادر ہونے کے باوجود اسے دُور نہ کرنا، نیز اس کی وجہ سے دینی معاملات میں سستی اور برائی کا ارتکاب کرنے والے کی حفاظت ہو۔( اتحاف السادةالمتقين ، ۷ / ۵۴)
[4] مسندالشهاب ، باب الوضوء قبل الطعام … الخ ۱ / ۲۰۵، الحديث : ۳۱۰
[5] المعجم الاوسط ۵ / ۲۳۱، الحديث : ۷۱۶۶
[6] الزهدللامام احمدبن حنبل ، الحديث : ۲۲، ص ۲۸
[7] صحيح البخاری ، کتاب الاطعمة ، باب ما کان النبیصلی الله عليه وسلم … الخ ۳ / ۵۳۲، الحديث : ۵۴۱۵
[8] دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلدسوم ، صفحہ369پر صَدْرُ الشَّرِیْعَہ ، بَدْرُ الطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّ ٰ ہ ِالْقَوِی مذکورہ حدیثِ مبارکہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : خوان تپائی کی طرح اونچی چیز ہوتی ہے، جس پر امراء کے یہاں کھانا چنا جاتا ہے تاکہ کھاتے وقت جھکنا نہ پرے، اس پر کھانا کھانا متکبرین کا طریقہ تھا۔ جس طرح بعض لوگ اس زمانہ میں میز پر کھاتے ہیں، چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھانا کھانا بھی امراءکا طریقہ ہے کہ ان کے یہاں مختلف قسم کے کھانے ہوتے ہیں، چھوٹے چھوٹے برتنوں میں رکھے جاتے ہیں۔
نیزمُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ13 پر اس کے تحت فرماتے ہیں : دستر خوان کپڑے کا، چمڑے کا اور کھجور کے پتوں کا ہوتا تھا۔ ان تینوں قسم کے دسترخوانوں پر کھانا حضور( صَلَّی اللّ ٰ ہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّم )نے کھایا ہے، دسترخوان بھی نیچے زمین پر بچھتا تھا، اور خود سرکار( صَلَّی اللّ ٰ ہ تَعَال ٰ ی عَلَیْہِ وَا ٰ لِہ ٖ وَسَلَّم )بھی زمین پر تشریف فرما ہوتے تھے، صحابۂ کرام( رِضْوَانُ اللّ ٰ ہ ِتَعَال ٰ ی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )کے ساتھ کھانا ملاحظہ فرماتے تھے، یہاں(صاحب)مرقاۃ نے فرمایا کہ میز پر کھانا بدعت جائزہ ہے، اور دسترخوان پر کھانا سنت ہے۔
[9] سنن ابن ماجه ، کتاب الاطعمة ، باب الاکل متکئا ، ۴ / ۱۱، الحديث : ۳۲۶۳ صحيح مسلم ، کتاب الاشربة ، باب استحباب تواضع الاکل وصفة قعوده ، الحديث : ۲۰۴۴، ص ۱۱۳۰
[10] صحيح البخاری ، کتاب الاطعمة ، باب الاکل متکئا ، ۳ / ۵۲۸، الحديث : ۵۳۹۸
[11] الزهدللامام احمدبن حنبل ، الحديث : ۲۲، ص ۲۸
[12] السنن الکبری للنسائی ، کتاب آداب الاکل ، باب ذکرالقدريستحب … الخ ، ۴ / ۱۷۷، الحديث : ۶۷۶۹
[13] کم کھانے کے فوائد اور زیادہ کھانے کے نقصانات سےمتعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548صفحات پر مشتمل شیخ طریقت، امیر اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی مَدَّظِلُّہُ الْعَا لِی کی مایہ ناز تصنیف فیضانِ سُنَّت جلد اوَّل کے باب پیٹ کا قفل مدینہ کا مطالعہ کیجئے!
[14] سنن ابن ماجه ، کتاب الاطعمة ، باب النهی عن القاء الطعام ، ۴ / ۴۹، الحديث : ۳۳۵۳ المعجم الکبير ، ۲۲ / ۳۳۵، الحديث : ۸۴۰
[15] صحيح مسلم ، کتاب المساجدومواضع الصلاة ، باب کراهة الصلاة بحضرة … الخ ، الحديث : ۵۵۷، ص ۲۸۰
[16] دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلداوَّل صفحہ 457پر صَدْرُ الشَّرِیْعَہ ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : جس بات سے(نمازی کا) دل بٹے اور دفع کرسکتا ہواسے بے دفع کئے ہر نماز مکروہ ہےمثلاً پاخانے یا پیشاب یا ریاح کا غلبہ ہو مگر جب وقت جاتا ہو تو پڑھ لے پھر پھیرے۔یوں ہیں کھانا سامنے آگیا اور اس کی خواہش ہو غرض کوئی ایسا امر درپیش ہو جس سے دل بٹے خشوع میں فرق آئے ان وقتوں میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
[17] سنن ابی داود ، کتاب الاطعمة ، باب فی الاجتماع علی الطعام ، ۳ / ۴۸۶، الحديث : ۳۷۶۴
[18] مکارم الاخلاق للخرائطی ، باب ماجاء فی اطعام الطعام … الخ ، ۱ / ۳۳۱، الحديث : ۳۱۷
[19] مسندابی يعلی الموصلی ، مسندجابربن عبدالله ، ۲ / ۲۸۸، الحديث : ۲۰۴۱
[20] صحيح البخاری ، کتاب الاطعمة ، باب ماعاب النبی طعاما ، ۳ / ۵۳۱، الحديث : ۵۴۰۹
[21] صحيح البخاری ، کتاب الاطعمة ، باب التسمية علی الطعام … الخ ، ۳ / ۵۲۱، الحديث : ۵۳۷۶
[22] سنن الترمذی ، کتاب الاطعمه ، باب ما جاء فی التسمية ، ۳ / ۳۳۵، الحديث : ۱۸۵۵
[23] المعجم الکبير ، ۲۳ / ۲۸۵، الحديث : ۶۲۴
[24] السنن الکبری للنسائی ، کتاب الصيام ، باب ذکرالاختلاف علی محمدبن ابی يعقوب … الخ ، ۲ / ۹۶، الحديث : ۲۵۵۱
[25] نوادرالاصول للحکيم الترمذی ، الاصل التاسع والتسعون والمائة ، ۲ / ۷۴۸، الحديث : ۱۰۱۹
[26] صحيح مسلم ، کتاب الاشربة ، باب استحباب لعق الاصابع … الخ ، الحديث : ۲۰۳۳، ص ۱۱۲۳
[27] المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندعبدالله بن العباس ، ۱ / ۲۶۲، الحديث : ۲۸۱۸
[28] السنن الکبری للبيهقی ، کتاب الصداق ، باب الشرب بثلاثة انفاس ، ۷ / ۴۶۴، الحديث : ۱۴۶۵۹
[29] صحيح مسلم ، کتاب الاشربة ، باب کراهية الشرب قائمًا ، الحديث : ۲۰۲۴، ص ۱۱۱۹
[30] کتاب الدعاء للطبرانی ، باب القول عندالفراغ من الطعام والشراب ، الحديث : ۸۹۹، ص ۲۸۰
[31] صحيح مسلم ، کتاب الاشربة ، باب استحباب ادارة الماء واللبن … الخ ، الحديث : ۲۰۲۹، ص ۱۱۲۰ مصنف ابن ابی شيبة ، کتاب الاشربة ، باب من کان اذاشرب ماء بدأ بالايمن ، ۵ / ۵۲۴، الحديث : ۳
[32] صحيح مسلم ، کتاب الاشربة ، باب کراهية التنفس فی نفس الاناء … الخ ، الحديث : ۲۰۲۸، ص ۱۱۲۰۔ صحيح البخاری ، كتاب المساقات ، باب فی الشرب ومن رای … الخ ، ۲ / ۹۵، الحديث : ۲۳۵۲
[33] المعجم الاوسط ، ۱ / ۲۴۵، الحديث : ۸۴۰
[34] المعجم الاوسط ، ۵ / ۱۹، الحديث : ۶۴۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع