30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب نمبر7: نوافل کا بیان
جان لیجئے! فرض کے علاوہ دیگر نمازوں کی تین اقسام ہیں : (۱)…سنت (۲)…مستحب اور (۳)…نفل ۔
{1}…سنت:سے وہ نمازیں مراد ہیں جنہیں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پابندی سے ادا فرمایا ۔ جیسے نمازوں کے بعد کی سنتیں ، نماز چاشت ، وتر اور تہجد وغیرہ کیونکہ سنت اس راستے کو کہتے ہیں جس پر چلا جائے ۔
{2}…مستحب: سے وہ نمازیں مراد ہیں جن کی فضیلت پر احادیث وارد ہوں لیکن حضورانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان پر ہمیشگی اختیار نہ فرمائی ہو ۔ جیسا کہ ہم عنقریب ہفتہ بھر کی دن رات کی نمازوں کے بیان میں نقل کریں گے ۔ مثلاً گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت کی اور اس جیسی دیگر نمازیں ۔
{3}… تطوُّع: سے مراد وہ نمازیں ہیں جن کے متعلق خاص طور پر کوئی حدیث وارد نہ ہوئی ہو لیکن لوگ خود انہیں پڑھتے ہوں کیونکہ شریعت میں نماز کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے مناجات کی ترغیب دی گئی ہے ۔ گویا لوگ خودانہیں پڑھتے ہیں کیونکہ یہ نماز معین طریقے پر مستحب نہیں اگرچہ مطلقاً مستحب ہے اور تطوع ، تبرع کو کہتے ہیں ۔
ان تینوں اقسام کو اس اعتبار سے نوافل کہا جاتا ہے کہ نفل کا معنی زائد ہے اور یہ تمام اقسام فرائض پر زائد ہیں ۔ انہی مقاصد کو بیان کرنے کے لئے ہم نے نفل ، سنت ، مستحب اور تطوع کی اصطلاح قائم کر لی ہے ، اگر کوئی اس اصطلاح کو بدلے توکوئی حرج نہیں کیونکہ مقاصد کو سمجھنے کے بعد الفاظ کی کوئی پابندی نہیں ہوتی ۔ ان میں سے ہر قسم کے درجات فضیلت کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔ اس سلسلے میں احادیث اور اقوالِ صحابہ مروی ہیں یا پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان پر ہمیشگی فرمائی یا اس کے متعلق مروی روایات صحیح اور مشہور ہیں ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے: جماعت کی سنتیں انفرادی سنتوں سے افضل ہیں ۔ باجماعت سنتوں میں سے افضل عیدین کی نماز ہے ، پھر سورج گرہن کی ، پھر نماز استسقا ۔ انفرادی سنتوں میں افضل وتر ، پھر فجر کی دو رکعتیں ، پھر اس کے بعد اپنے اپنے مرتبے کے مطابق باقی سنن مؤکدہ ہیں ۔
اضافت کے اعتبار سے نوافل کی تقسیم:
جان لیجئے! نوافل کی اپنے متعلقات کی طرف اضافت کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں : (۱)…جن کا تعلق اسباب سے ہوتا ہے جیسے نمازِ کسوف واستسقا ۔ (۲)…جن کا تعلق اوقات سے ہوتا ہے اور اوقات سے متعلقہ نوافل کی بھی کچھ اقسام ہیں : شب و روز کے نوافل ، ہفتہ وار نوافل اور سالانہ نوافل ۔ ان تمام کی چاراقسام ہیں ۔
{1}…وہ نمازیں جو ہردن رات پڑھی جاتی ہیں :
یہ آٹھ ہیں ۔ پانچ ان میں سے سنت مؤکدہ ہیں جو پانچ نمازوں کی سنتیں ہیں ۔ تین اس کے علاوہ ہیں اور وہ نمازِ چاشت ، مغرب وعشا کے درمیان(یعنی اوابین) کے نوافل اور نماز تہجد ہے ۔
(۱)…فجر کی سنتیں :
یہ دو رکعتیں ہیں ، ان کی فضیلت کے بارے میں مروی ہے کہ آقائے دو عالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’فجر کی دو رکعتیں دنیا وما فیہا سے بہتر ہیں ۔ ‘‘ (1 )
ان کا وقت صبح صادق کے طلو ع سے شرو ع ہوتا ہے ۔ صبح صادق کناروں میں پھیلنے والی روشنی ہوتی ہے نہ کہ لمبائی میں ۔ ابتدا میں مشاہدے کے ساتھ اس کا ادراک مشکل ہوتا ہے مگر یہ کہ چاند کی منازل کا علم ہو یایہ کہ فلاں ستارہ طلوع ہو گا تو صبح صادق اس کے ساتھ متصل ہو گی پس اس طرح ستاروں کے ذریعے اس پر رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔ مہینے کی دو راتوں میں چاند کے ذریعے یہ وقت معلوم ہوتا ہے کیونکہ چھبیسویں کی رات چاند فجر کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور مہینے کی بارہویں رات چاند کے غروب ہونے کے ساتھ فجر طلوع ہوتی ہے اکثر ایسا ہی ہوتا ہے ۔ بعض برجوں میں فرق بھی پڑتا ہے ، اس کی تشریح طویل ہے ۔ سالک کے لئے چاند کی منازل کا جاننا اہم امور میں سے ہے تاکہ وہ دن رات کے اوقات کی مقدار پر مطلع ہو سکے ۔
فجر کی فرض نماز کا وقت فوت ہوجانے سے فجر کی سنتیں فوت ہوجاتی ہیں اور وہ طلوعِ آفتاب کا وقت ہے ۔ لیکن سنت یہ ہے کہ انہیں فرض نماز سے پہلے ادا کیا جائے ۔ اگر جماعت کھڑی ہو جانے کے بعد مسجد میں داخل ہوا تو فرض نماز ادا کرے کیونکہ حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب نماز کھڑی ہوجائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز جائز نہیں ۔ ‘‘ (2 )
جب فرض نماز سے فارغ ہو تو اٹھ کر سنتیں ادا کر لے(3 )اور صحیح یہ ہے کہ یہ سورج طلوع ہونے سے پہلے ادا ہی ہوں گی کیونکہ یہ دونوں وقت میں فرض کے تابع ہیں ۔ تقدیم وتاخیر کے اعتبار سے ان میں ترتیب اس وقت سنت ہے جب جماعت نہ ہو رہی ہو اور جماعت ہو رہی ہو تو ترتیب بدل جائے گی لیکن ادائیگی باقی رہے گی (4 ) ۔
مستحب یہ ہے کہ سنتیں گھر میں مختصر طور پر ادا کرے ۔ پھر مسجد میں داخل ہو اوردو رکعت تَحِیَّۃُالْمَسْجِد ادا کرے اور بیٹھ جائے(5 ) پھر فرض نماز تک کوئی نماز نہ پڑھے ۔ نمازِ فجر اور طلوعِ آفتاب کے درمیانی وقت میں ذکروفکر ، فجر کی دو رکعتوں اور فرض نماز پر اکتفا کرے ۔
(۲)…ظہر کی سنتیں :
یہ چھ رکعات ہیں ۔ دو فرض کے بعد ہیں ، وہ بھی سنت مؤکدہ ہیں اور چار فرض سے پہلے ہیں ، وہ بھی سنت ہیں لیکن فرضوں کے بعد والی دو رکعتوں کے مقابلے میں کم اہم ہیں ۔
ظہر کی چار سنتوں کی فضیلت:
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھیں ان میں اچھی طرح قراء َ ت کی اور رُکوع وسُجود کیا اس کے ساتھ70ہزار فرشتے نماز پڑھتے اور رات تک اس کے لئے استغفار کرتے ہیں ۔ ‘‘ (6 )
ایک روایت میں ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زوال کے بعد چار طویل رکعتیں پڑھنا ترک نہ کرتے اور ارشاد فرماتے: ’’اس وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ اس گھڑی میرا عمل بلند ہو ۔ ‘‘(7 )
ہرروزبارہ رکعت سنت ادا کرنے کی فضیلت:
ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا ام حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ہر روز فرض نماز وں کے علاوہ 12 رکعتیں ادا کیں اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: دو رکعتیں نمازِ فجر سے پہلے ، چار ظہر سے پہلے ، دو ظہر کے بعد ، دو عصر سے پہلے اور دو مغرب کے بعد ۔ ‘‘ (8 )
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’میں نے حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہر روز کی دس رکعتیں یاد کیں ۔ ‘‘پھر انہوں نے فجر کی دو رکعتوں کے علاوہ وہ تمام ذکر کیں جو ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا ام حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بیان فرمائیں ۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ صبح کے وقت بارگاہِ رسالت میں کوئی نہیں جاتاتھا مگر میری بہن ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مجھے بتایا کہ ’’ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے گھر میں دو رکعت نماز ادا فرما کر باہر تشریف لے جاتے تھے ۔ ‘‘ (9 )
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ظہر سے پہلے دو رکعت سنت اور دو عشا کے بعد بیان کیں یوں ظہر سے قبل دو رکعتیں چار کے مقابلے میں زیادہ مؤکد ہوگئیں اور ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے ۔
زوال کے وقت کی پہچان:
زوال کی پہچان یہ ہے کہ کوئی شخص سیدھا کھڑا ہو کر مشرق کی طرف جھکے تو اس کا سایہ زیادہ ہو جائے ۔ کیونکہ طُل
کے وقت سایہ مغرب کی جانب ہوتا ہے اور لمبا ہوتا ہے جوں جوں سورج بلند ہوتا جاتا ہے سایہ کم ہوتا اور مغرب کی سمت سے ہٹتا جاتا ہے یہاں تک کہ سورج اپنی انتہائی بلندی تک پہنچ جاتا ہے اور وہ نصف النہار کی قوس ہے ۔ یہاں سایہ کم ہونا رُک جاتا ہے جب سورج انتہائی بلندی سے ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے تو سایہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ، جب یہ اضافہ محسوس ہونے لگے تو ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔
ابتدائے وقت عصر:
زوال کے وقت سائے کے سرے پر ایک علامت (مثلاً کوئی لکڑی) رکھی جائے جب سایہ اس لکڑی کی ایک مثل ہو جائے تو(ظہر کا وقت ختم اور) عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے(10 ) ۔
(۳)…عصر کی سنتیں :
یہ عصر سے پہلے چار رکعات ہیں ۔ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۔ ‘‘ (11 )
دعائے مصطفیٰ میں شامل ہونے کی امید پر یہ نماز پڑھنا نہایت مؤکد مستحب ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا بالیقین قبول ہوتی ہے ۔ لیکن جس طرح پابندی کے ساتھ ظہر سے پہلے دو سنتیں پڑھتے عصر سے قبل کی سنتوں پر اس طرح ہمیشگی اختیار نہیں فرمائی ۔
(۴)…مغرب کی سنتیں :
یہ فرض نماز کے بعد دو رکعتیں ہیں ان کے متعلق روایت میں اختلاف نہیں ۔ البتہ نمازِ مغرب سے پہلے یعنی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں جلدی جلدی پڑھنے کے بارے میں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی ایک جماعت جیسے حضرت سیِّدُنا اُبی بن کعب ، حضرت سیِّدُناعبادہ بن صامت ، حضرت سیِّدُناابو ذر اور حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم وغیرہ سے روایت منقول ہے ۔ چنانچہ ، حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت یا کوئی اور صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’جب مؤذن مغرب کی اذان دیتا تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم دو ستونوں کی طرف جلدی جلدی جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے ۔ ‘‘ (12 )
بعض صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن فرماتے ہیں : ’’ہم مغرب سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرتے حتی کہ داخل ہونے والا سمجھتا کہ ہم مغرب کی نماز پڑھ چکے ہیں تووہ پوچھتا کیا تم مغرب کی نماز پڑھ چکے ہو؟‘‘ (13 )
یہ اس عام فرمان مصطفیٰ کے تحت داخل ہے کہ ’’دو اذانوں (یعنی اَذان واِقامت) کے درمیان نماز ہے جو چاہے پڑھے(14 ) ۔ ‘‘ (15 )
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ لوگوں کے اعتراض کرنے پر چھوڑ دیں وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ’’میں نے دیکھا کہ لوگ نہیں پڑھتے اس لئے میں نے بھی ترک کر دیں ۔ ‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’اگر کوئی شخص یہ دو رکعتیں گھر میں پڑھے یا ایسی جگہ پڑھے جہاں لوگوں کی نظر نہ پڑے تو بہتر ہے ۔ ‘‘ (16 )
ابتدائے وقت مغرب:
ایسی ہموار زمینیں جو پہاڑوں کے پیچھے نہیں چھپی ہوتیں ان میں مغرب کا وقت سورج کے نگاہوں سے غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اگر وہ مغرب کی طرف سے پہاڑوں کے پیچھے چھپی ہوں تو توقف کیا جائے یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے اندھیرا آتا دکھائی دے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیب ِلبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب رات ادھر سے آجائے اور دن وہاں سے چلا جائے تو روزہ دار روزہ افطار کر لے ۔ ‘‘ (17 )
مغرب کی نماز خصوصاً جلدی جلدی پڑھنا پسندیدہ ہے اگر اسے شفقِ احمر (سرخی) غائب ہونے سے پہلے جلدی جلدی پڑھ لے تو ادا ہو گی لیکن (اتنی تاخیر) مکروہ ہے(18 ) ۔ کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ایک بار مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر ہوگئی کہ ایک ستارہ نکل آیا تو آپ نے ایک غلام آزاد کیا اور حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اتنی تاخیر ہوگئی کہ دو ستارے نکلنے آئے تو انہوں نے دو غلام آزاد کئے ۔
(۵)…عشاکی سنتیں :
یہ فرض نماز کے بعد چار رکعتیں ہیں ۔ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میرے سرتاج ، صاحب ِ معراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عشا کی نماز کے بعد چار رکعات پڑھتے پھر آرام فرماتے ۔ ‘‘(19 )
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے (مذکورہ)احادیث کے مجموعہ سے فرضوں کی تعداد کے مطابق 17 سنتوں کو اختیار فرمایا: ’’دو رکعتیں فجر سے پہلے ، چار ظہر سے پہلے دو بعد ، چار عصر سے پہلے ، دو مغرب کے بعد اور عشا کے بعد تین وتر ۔ ‘‘ (20 )
جب آپ اس سلسلے میں وارد روایات کی پہچان حاصل کرچکے تو ان کی تعداد معین کرنے کا کیا معنی حالانکہ حضور انور ، شافع محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’نماز جو مقرر کی گئی اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے تو جو چاہے زیادہ پڑھے اور جو چاہے کم پڑھے ۔ ‘‘ (21 ) لہٰذا راہ ِآخرت کا ہر مسافر نمازوں میں سے اسی قدر اختیار کرتا ہے جس قدر وہ بھلائی میں رغبت رکھتا ہے ۔ ہماری ذکر کردہ تفصیل سے واضح ہوا کہ بعض نوافل کی دیگر بعض سے زیادہ تاکید ہے اور مؤکد عمل کو ترک کرنا نامناسب ہے خصوصاً اس صورت میں کہ فرائض کی تکمیل نوافل کے ذریعے ہوتی ہے تو جو کثرت سے نوافل نہ پڑھے تو قریب ہے کہ اس کے فرائض پورے نہ ہوں اور ان کے نقصان کے تدارک کی بھی کوئی صورت نہ ہو ۔
(۶)…نمازِ وتر:
حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’مکی مدنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عشا کے بعد تین رکعات وتر پڑھتے ۔ پہلی رکعت میں ’’ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱) ‘‘ ، دوسری میں ’’ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) ‘‘ اور تیسری میں ’’ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) ‘‘ کی تلاوت فرماتے ۔ ‘‘ (22 )
حدیث ِ پاک میں ہے کہ ’’مکی مدنی مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے اور کچھ حصہ چارزانو پڑھتے تھے ۔ ‘‘ (23 )
بعض احادیث ِ مبارَکہ میں ہے کہ ’’جب بستر پر تشریف لے جانے کا ارادہ فرماتے توگھٹنوں کے بل اس کی طرف بڑھتے اور سونے سے پہلے اس پردو رکعتیں ادا فرماتے اور ان میں ’’ سورۂ زلزال ‘‘ اور ’’ سورۂ تکاثر ‘‘ پڑھتے ۔ ‘‘ (24 )
ایک روایت میں ہے کہ ’’ سورۂ تکاثر ‘‘ کی جگہ ’’ سورۂ کافرون ‘‘ پڑھتے ۔ (25 )
وتر موصولاً یعنی ایک سلام کے ساتھ اور مفصولاً یعنی دو سلاموں کے ساتھ بھی جائز ہے (26 ) ۔
نیزحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ، تین ، پانچ(27 ) اور اسی طرح گیارہ رکعات سے وتر بناتے تھے ۔ (28 ) تیرہ رکعتوں والی روایت میں اضطراب ہے ۔ (29 ) ایک غیر معروف روایت میں 17 رکعت وتر کا ذکر ہے ۔ (30 )
تمام رکعتیں جنہیں ہم نے وتر کا نام دیا ہے یہ حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شب کی نماز یعنی تہجدتھی اور رات کو تہجد پڑھنا سنت ِمؤکدہ ہے ۔ عنقریب کتاب الاوراد (یعنی وظائف کے بیان)میں اس کا ذکر آئے گا ۔
وتر کتنی رکعت پڑھنا افضل ہے؟
وتر کی فضیلت میں اختلاف ہے:(۱)… ایک رکعت وتر پڑھنا افضل ہے کیونکہ صحیح طور پر ثابت ہے کہ مدینے کے سلطان ، رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک رکعت وتر پر ہمیشگی اختیار فرماتے تھے ۔ (۲)…(وتر تین رکعت)ملا کر پڑھنا افضل ہے تاکہ اختلاف کا شبہ نہ رہے خصوصاً جب امام پڑھا رہاہو کیونکہ بعض اوقات اس کی اقتدا میں ایسا شخص بھی ہوتا ہے جوایک رکعت نماز کا قائل نہیں ہوتا(مثلاً کوئی حنفی مقتدی ہو) ۔ اگر ملا کر پڑھے تو تمام سے وتر کی نیت کرے ۔ اگر عشا کی دو سنتوں یا فرضوں کے بعد ایک رکعت وتر کی نیت سے پڑھے تو یہ بھی درست ہے ۔ کیونکہ نماز وتر میں شرط یہ ہے کہ وہ طاق ہو اور غیر کو بھی طاق بنا دے جیسے پہلے گزرا کہ اس نماز نے فرض نماز کو وتر بنا دیا ۔
عشا سے قبل وتر پڑھنا درست نہیں یعنی وتر کی فضیلت نہ پائے گا جو اس کے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔ جیساکہ حدیث میں وارد ہے ۔ (31 ) ورنہ جب بھی ایک رکعت پڑھے درست ہے (عندالشوافع) ۔ عشا سے پہلے صحیح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عملاً اجماع امت کے خلاف ہے ۔ نیز اس سے پہلے کوئی نماز نہیں جو اس کے ساتھ وتر بن سکے ۔
اگر تین وتروں کو علیحدہ علیحدہ پڑھے تو دو رکعتوں کی نیت میں تامل ہے کیونکہ اگر اس سے وہ تہجد یا عشا کی سنتوں کی نیت کرے تو وہ وتر نہ ہوں گے اور اگر وتروں کی نیت کرے تو وہ ذاتی طور پر وتر نہیں کہ وتر تو اس کے بعد ہیں ۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ وہ وتر کی نیت کرے جیسا کہ متصلاًتین رکعت میں وتر کی نیت کرتا ہے ۔
وتر کے معانی:
وتر کے دو معانی ہیں : ایک یہ کہ وہ فی نفسہٖ وتر ہیں اور دوسرا یہ کہ اسے بعد والی رکعت سے ملا کر وتر بنا دیا جائے اور تین کا مجموعہ وتر بن جائے ۔ تین رکعتوں میں سے دو رکعتوں کا وتر ہونا تیسری رکعت پر موقوف ہے ۔ اگر اس کا عزم ہو کہ تیسری رکعت کے ساتھ وتر بنا لے گا تو ان دونوں سے وتر کی نیت کرے کہ تیسری رکعت بنفسہٖ وتر ہے اور غیر کو وتر بنانے والی ہے ۔ دو رکعتیں نہ تو بذات خود وتر ہیں اور نہ ہی کسی اور کو وتر بناتی ہیں لیکن دوسری نماز کے ساتھ وتر بن جاتی ہیں ۔ نمازِ وتر رات کی نماز کے آخر میں ہونی چاہئے یوں یہ تہجد کے بعد واقع ہو گی ۔
نماز وتر و تہجد کے فضائل اور ان دونوں کے درمیان ترتیب کا طریقۂ کار اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّکتاب ترتیب الاوراد (وظائف کی ترتیب کے بیان) میں آئے گا ۔
(۷)…نماز چاشت:
نمازِ چاشت پر ہمیشگی اختیار کرنا اچھا اور باعث ِ فضیلت ہے ۔ اس کی زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں ہیں ۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بہن حضرت سیِّدَتُناام ہانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ ’’حضور انور ، شافع محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چاشت کی آٹھ رکعات پڑھیں ، انہیں نہایت طویل اور عمدگی سے پڑھا ۔ ‘‘ (32 )یہ تعداد کسی اور صحابی نے نقل نہیں کی بلکہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ تاجدارِ انبیا ، محبوب ِکبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چاشت کی چار رکعات پڑھتے تھے اور مزید جتنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا پڑھتے ۔ ‘‘ (33 ) زیادتی کی کوئی حد نہیں یعنی چار رکعات پر ہمیشگی اختیار فرماتے تھے اس سے کم نہ پڑھتے ، البتہ کبھی زیادہ پڑھ لیتے تھے ۔
ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چاشت کی چھ رکعتیں ادا فرماتے تھے ۔ (34 )
چاشت کا وقت:
جہاں تک اس کے وقت کا تعلق ہے تو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو وقتوں میں چاشت کی چھ رکعتیں پڑھتے تھے: (۱)…جب سورج روشن اور بلند ہو جاتا تو دو رکعتیں پڑھ لیتے ۔ یہ دن کے وظائف میں سے دوسرے وظیفے کا پہلا حصہ ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا ۔ (۲)…جب سورج مشرقی جانب آسمان کے چوتھے حصے میں پھیل جاتا توچار رکعت پڑھتے ۔ (35 )
پہلی (دو رکعت) اس وقت پڑھتے جب سورج نصف نیزہ بلند ہو جاتا اورباقی رکعات دن کا چوتھائی حصہ گزر جانے پر پڑھتے جو نماز عصر کا مقابل وقت ہوتا کیونکہ عصر کا وقت وہ ہے کہ جب دن کا چوتھائی حصہ باقی رہے ۔ ظہر کا وقت نصف دن سے شروع ہوتا ہے ۔ چاشت کا وقت طلوعِ آفتاب اور زوال کے نصف میں ہوتا ہے جیسا کہ عصر کا وقت زوال اور غروبِ آفتاب کے نصف میں ہوتا ہے ۔ یہ تمام اوقات میں افضل وقت ہے ۔ الغرض سورج بلند ہونے سے زوال سے پہلے تک چاشت کا وقت ہے ۔
(۸)…صلوۃ الاوّابین:
یہ نماز بھی سنت ِ مؤکدہ ہے(عند الشوافع) ۔ اس کی چھ رکعات منقول ہیں ۔ (36 ) اس نماز کی بہت زیادہ فضیلت ہے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ:
تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ( پ ۲۱ ، السجدۃ :۱۶) ترجمۂ کنزالایمان : ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے ۔
منقول ہے کہ ’’اس فرمانِ عالیشان سے یہی (یعنی صلوۃ الاوّابین)مراد ہے ۔ نیز مروی ہے کہ حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے مغرب وعشا کے درمیان نماز پڑھی تو یہ اوَابین کی نماز ہے ۔ ‘‘ (37 )
صلوۃ الاوابین پڑھنے کی فضیلت:
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیب ِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص خود کو مغرب وعشا کے درمیان مسجد میں روکے رکھے ، نماز وتلاوتِ قراٰن کے سوا کوئی گفتگو نہ کرے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کے لئے جنت میں دو ایسے محل بنا ئے کہ ہر محل کی لمبائی 100سال کی مسافت ہوگی اوراس کے لئے ان دونوں کے درمیان ایسا درخت لگائے کہ اگر تمام اہل زمین اس میں گھومیں تو سب کے لئے کافی ہو ۔ ‘‘ (38 )
باقی فضائل اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ کتاب الاوراد کے بیان میں آئیں گے ۔
{2}…ہفتہ وار شب و روز کے نوافل:
یہ ہفتے کے تمام دنوں اور راتوں کی نمازیں ہیں ۔ رہی دن کی نمازیں تو ہم ہفتے کے دن سے شروع کرتے ہیں :
اتوارکے نوافل
جنت میں خالص کستوری کا شہر:
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اتوار کے دن چار رکعت نماز پڑھی یوں کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات( امن الرسول سے آخر تک) پڑھیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے تمام نصرانی مردوں اور عورتوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھے گا ۔ اسے ایک نبی کے ثواب کے برابر ثواب عطا فرمائے گا ۔ اس کے لئے ایک حج و عمرے کا ثواب لکھے گا ۔ ہر رکعت کے بدلے ہزار نمازوں کا ثواب عطا فرمائے گا اور اسے ہر حرف کے بدلے جنت میں خالص کستوری کا شہر عطا فرمائے گا(39 ) ۔ ‘‘ (40 )
چار ر کعت پڑھنے کی فضیلت:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک ، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشا د فرمایا: ’’اتوار کے دن کثرتِ نماز سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت بیان کرو ۔ بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یکتا ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ پس جس نے اتوار کے دن نمازِ ظہر کے فرض و سنتوں کے بعد چار رکعت نماز پڑھی ، پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور تنزیل السجدہ پڑھی اور دوسری میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ ملک پڑھی پھر تشہد پڑھ کر سلام پھیرا پھر آخری دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا اور ان میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ جمعہ کی تلاوت کی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی حاجت طلب کی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پرہے کہ اس کی حاجت پوری فرما دے ۔ ‘‘ (41 )
پیرکے نوافل
تمام گناہ معاف:
حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص بروز پیر سورج بلند ہوتے وقت دو رکعتیں ادا کرے ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ ، ایک بار آیۃ الکرسی ، ایک بار سورۂ اخلاص اورایک ایک بارمعوَّذَتین(یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس) پڑھے پھر سلام پھیرکر دس بار استغفار کرے اور دس بار مجھ پردرودِ پاک پڑھے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے تمام گناہ معاف فرمادے گا ۔ ‘‘ (42 )
فرشتے استقبال کریں گے:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بروزپیر بارہ رکعتیں پڑھے ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور آیۃ الکرسی پڑھے ، سلام پھیرنے کے بعد بارہ بار سورۂ اخلاص پڑھے اور بارہ بار استغفار کرے تو بروز قیامت ندا دی جائے گی: ’’فلاں بن فلاں کہاں ہے؟وہ کھڑا ہو اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنا ثواب لے لے ۔ ‘‘ چنانچہ ، بطورِ ثواب اسے پہلے ہزار حُلِّے اور تاج عطا
کئے جائیں گے اور کہا جائے گا: ’’جنت میں داخل ہو جا ۔ ‘‘ پس ایک لاکھ فرشتے ایک لاکھ تحفوں سے اس کا استقبال کریں گے اور اسے تحفے پیش کریں گے حتی کہ وہ نور سے بنے ہوئے ہزار محلات پر جائے گا جو جگمگا رہے ہوں گے ۔ (43 )
منگل کے نوافل
شہادت کی موت:
حضرت سیِّدُنا یزید رقاشی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے منگل کے دن نصف دن کے وقت دس رکعت نماز پڑھی ۔ ‘‘ایک روایت میں ہے کہ ’’سورج بلند ہوتے وقت دس رکعت نماز پڑھی ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ ، ایک بار آیۃ الکرسی اورتین بار سورۂ اخلاص پڑھی تو70 دن تک اس کی کوئی برائی نہ لکھی جائے گی اگر 70 دن کے اندر مر گیا تو شہادت کی موت مرے گااور اس کے 70 سال کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔ ‘‘ (44 )
بدھ کے نوافل
عذاب قبر اور قیامت کی سختیوں سے نجات:
حضرت سیِّدُنا ابوادریس خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے بدھ کے دن سورج بلند ہوتے وقت بارہ رکعت نماز ادا کی ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ ، ایک بار آیۃ الکرسی ، تین بار سورۂ اخلاص اور تین تین بار معوذتین (یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس)پڑھیں توعرش کے پاس ایک منادی ندا دیتا ہے: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! نئے سرے سے عمل کر تیرے گزشتہ گناہ بخش دئیے گئے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھ سے قبر کا عذاب ، اس کی تنگی وتاریکی اور قیامت کی سختیوں کو اٹھا لیا ۔ ‘‘ اس دن ایک نبی کے عمل کے برابر اس کا عمل بلند ہو گا ۔ (45 )
جمعرات کے نوافل
مؤمنین و متوکلین کی تعداد کے برابر نیکیاں :
حضرت سیِّدُنا عکرمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ مدینے کے سلطان ، رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے جمعرات کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں پہلی رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ ، 100بارآیۃ الکرسی اور دوسری رکعت میں ایک بارسورۂ فاتحہ ، 100بار سورۂ اخلاص پڑھی اور 100بار مجھ پر درودِ پاک پڑھا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے رجب ، شعبان اور رمضان کے روزے رکھنے والے کا ثواب عطا فرمائے گااور اس کے لئے حج کرنے والے کی مثل ثواب ہے ۔ نیز اس کے لئے مؤمنین و متوکلین کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ ‘‘ (46 )
جمعہ کے نوافل
نیکیاں ہی نیکیاں :
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ آقائے دو عالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ کا پورا دن نماز کے لئے ہے ۔ جب سورج قرار پکڑ لے اور نیزے کی مقدار یا اس سے زیادہ بلند ہو جائے تو کوئی بندۂ مومن اچھی طرح وضو کرے پھر حالت ایمان اور ثواب کی امید پر دو رکعت نمازِچاشت پڑھے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 200 نیکیاں لکھتا ، اس کے 200 گناہ مٹاتا ہے اور جو چار رکعتیں پڑھے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جنت میں اس کے 400 درجات بلند فرماتا ہے اور جو آٹھ رکعتیں پڑھے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جنت میں اس کے 800 درجات بلند فرماتا اور اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جو بارہ رکعتیں پڑھے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 2200 نیکیاں لکھتا ، 2200 گناہ مٹاتا ہے اور جنت میں اس کے 2200 درجات بلند فرماتا ہے ۔ ‘‘ (47 )
حضرتِ سیِّدُنانافع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ اکرم ، رسول محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو جمعہ کے دن جامع مسجد میں داخل ہو اور جمعہ کی نماز سے پہلے چار رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور 50بار سورۂ اخلاص پڑھے وہ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لے گا یا اسے دکھا دیا جائے گا ۔ ‘‘ (48 )
ہفتہ کے نوافل
عرشِ الٰہی کے سائے میں انبیا و شہدا عَلَـیْہِمُ السَّلَام کا ساتھ:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا ، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص ہفتہ کے دن چار رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور تین بار سورۂ اخلاص پڑھے ، سلام پھیرنے کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہر حرف کے بدلے اس کے لئے ایک حج و عمرے کا ثواب لکھتا ، ہر حرف کے بدلے ایک سال کے روزوں اور رات کے قیام کا ثواب بڑھاتا ، ہر حرف کے بدلے ایک شہید کا ثواب عطا فرماتا ہے اور (بروزِ قیامت) وہ انبیائے کرام وشہدائے عظام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ عرشِ الٰہی کے سائے میں ہو گا ۔ ‘‘ (49 )
ہفتہ وار شب کے نوافل ۔
1 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب استحباب رکعتی سنۃ الفجر ، الحدیث:۷۲۵ ، ص۳۶۶ ۔
2 المرجع السابق ، باب کراہۃ الشروع فی نافلۃ بعد شروع الخ ، الحدیث:۷۱۰ ، ص۳۵۸ ۔
3 دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت جلد اول صفحہ 664 پر ہے: فجر کی سنت قضا ہوگئی اور فرض پڑھ لئے تو اب سنتوں کی قضا نہیں البتہ امام محمد رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں : کہ طلوع آفتاب کے بعد پڑھ لے تو بہتر ہے ۔ اور طلوع سے پیشتر(سورج نکلنے سے پہلے) بالاتفاق ممنوع ہے ۔ آج کل اکثر عوام بعد فرض فوراً پڑھ لیا کرتے ہیں یہ ناجائز ہے ، پڑھنا ہو تو آفتاب بلند ہونے کے بعدزوال سے پہلے پڑھیں ۔
4 بہارشریعت جلد اول صفحہ665پر ہے:جماعت قائم ہونے کے بعد کسی نفل کا شروع کرنا جائز نہیں سوا سنت فجر کے کہ اگر یہ جانے کہ سنت پڑھنے کے بعد جماعت مل جائے گی ، اگر چہ قعدہ ہی میں شامل ہوگا تو سنت پڑھ لے ۔
5 بہارشریعت جلد اول صفحہ455پر ہے:حدیث ِمبارکہ میں ہے کہ ’’جب فجر طلوع کر آئے تو کوئی (نفل) نماز نہیں سوا دو رکعت فجر کے ۔ ‘‘ (المعجم الاوسط لطبرانی ، الحدیث:۸۱۶ ، ج۱ ، ص۲۳۸)
لہٰذااحناف کے نزدیک: طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کہ اس درمیان میں سوا دو رکعت سنت فجر کے کوئی نفل نماز جائزنہیں ۔
6 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ فی الایام الخ ، ج۱ ، ص۵۲ ۔
7 المرجع السابق ۔ شرح معانی الآثار ، کتاب الصلاۃ ، باب التطوع بالیل والنہار ، الحدیث:۱۹۲۲ ، ج۱ ، ص۴۳۶ ۔
8 سنن النسائی ، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار ، باب ثواب من صلی فی الیوم الخ ، الحدیث:۱۸۰۰ ، ص۳۰۸ ۔
9 صحیح البخاری ، کتاب التھجد ، باب الرکعتان قبل الظھر ، الحدیث:۱۱۸۰ ۔ ۱۱۸۱ ، ج۱ ، ص۳۹۸ ، مفہومًا ۔
10 احناف کے نزدیک: عصر کا وقت (کسی چیز کے)سایۂ اصلی کے علاوہ دو مثل سایہ ہونے پر شروع ہوتا ہے ۔ (مختصر القدوری ، ص۳۴ ، ۳۵)
11 سنن ابی داود ، کتاب التطوع ، باب الصلاۃ قبل العصر ، الحدیث:۱۲۷۱ ، ج۲ ، ص۳۵ ، عن ابن عمر ۔
12 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب استحباب رکعتین الخ ، الحدیث:۸۳۷ ، ص۴۱۸ ، عن انس بن مالک ۔
13 المرجع السابق ، الحدیث:۸۳۷ ، ص۴۱۸ ، مفہومًا ۔
14 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب بین کل اذانین صلاۃ ، الحدیث:۸۳۸ ، ص۴۱۸ ۔
15 احناف کے نزدیک: غروب آفتاب سے فرضِ مغرب تک نفل نماز پڑھنا منع ہے ۔ (فتاویٰ عالمگیری ، ج۱ ، ص۵۳)
16 قوت القلوب ، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ الخ ، ج۲ ، ص۲۴۸ ۔
17 صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب بیان وقت انقضاء الصوم وخروج النہار ، الحدیث:۱۱۰۰ ، ۱۱۰۱ ، ص۵۵۴ ۔
18 احناف کے نزدیک: وقت مغرب: غروبِ آفتاب سے غروبِ شفق تک ہے ۔ شفق ہمارے مذہب میں اس سپیدی کا نام ہے ، جو جانب مغرب میں سرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے ۔ (بہارشریعت ، ج۱ ، ص۴۵۰ ، ۴۵۱)
19 سنن ابی داود ، کتاب التطوع ، باب الصلاۃ بعد العشاء ، الحدیث:۱۳۰۳ ، ج۲ ، ص۴۶ ، باختصارٍ ۔
20 سنن النسائی ، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار ، باب کیف الوتر بثلاث؟ ، الحدیث:۱۶۹۴ ، ص۲۹۳ ، ۲۹۴ ، مفہومًا ۔ المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا ، الحدیث:۲۵۲۷۸ ، ج۹ ، ص۴۹۸ ، مفہومًا ۔
21 المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند الانصار ، حدیث ابی ذرالغفاری ، الحدیث:۲۱۶۰۲ ، ج۸ ، ص۱۳۰ ، بتقدمٍ وتاخرٍ ۔
22 سنن ابن ماجہ ، کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء فیما یقرا فی الوتر ، الحدیث:۱۱۷۲ ، ج۲ ، ص۴۷ ، ملخصًا ۔
23 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین ، وقصرھا ، باب صلاۃ اللیل الخ ، الحدیث:۷۳۸ ، ص۳۷۲ ۔
24 حاشیۃ اعانۃ الطالبین ، فصل فی صلاۃ النفل ، ج۱ ، ص۴۳۱ ۔
قوت القلوب ، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ الخ ، ج۲ ، ص۲۴۷ ، دون’’یقرء‘‘ ۔
25 السنن الکبری للبیھقی ، کتاب الصلاۃ ، باب فی الرکعتین بعد الوتر ، ج۳ ، ص۴۸ ۔
حاشیۃ اعانۃ الطالبین ، فصل فی صلاۃ النفل ، ج۱ ، ص۴۳۱ ۔
26 احناف کے نزدیک: نماز وتر واجب ہے اور نماز وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدۂ اُولیٰ واجب ہے اور قعدۂ اُولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے ، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے جیسے (نمازِ) مغرب میں کرتے ہیں اسی طرح کرے اور اگر قعدۂ اُولیٰ بھول کر کھڑا ہوگیا تو لوٹنے کی اجازت نہیں بلکہ سجدۂ سہو کرے ۔ وتر کی تینوں رکعتوں میں مطلقاً قراء ت فرض ہے اور ہر رکعت میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب ۔ (ماخوذازبہارشریعت ، ج۱ ، ص۶۵۳ ، ۶۵۴)
27 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب صلاۃ اللیل الخ ، الحدیث:۷۳۶ ، ص۳۷۱ ۔
سنن النسائی ، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار ، باب کیف الوتر بثلاث؟ ، الحدیث:۱۶۹۴ ، ص۲۹۴ ۔ صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب صلاۃ اللیل الخ ، الحدیث:۷۳۷ ، ص۳۷۱ ۔
28 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب جامع صلاۃ اللیل الخ ، الحدیث:۷۴۶ ، ص۳۷۵ ۔
سنن ابی داود ، کتاب التطوع ، باب فی صلاۃ اللیل ، الحدیث:۱۳۶۲ ، ج۲ ، ص۶۶ ۔
29 سنن ابی داود ، کتاب التطوع ، باب فی صلاۃ اللیل ، الحدیث:۱۳۶۲ ، ج۲ ، ص۶۶ ۔
30 الزھد لابن المبارک ، الجزء العاشر ، الحدیث:۱۲۷۳ ، ص۴۵۱ ۔
31 سنن ابی داود ، کتاب الوتر ، باب استحباب الوتر ، الحدیث:۱۴۱۸ ، ج۲ ، ص۸۹ ۔
32 صحیح مسلم ، کتاب الحیض ، باب تسترالمغتسل بثوب ونحو ، الحدیث:۳۳۶ ، ص۱۸۶ ، دون’’اطالعن وحسنھن‘‘ ۔
قوت القلوب ، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ الخ ، ج۲ ، ص۲۴۶ ۔
33 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب استحباب صلاۃ الضحی الخ ، الحدیث:۷۱۹ ، ص۳۶۲ ۔
34 المعجم الکبیر ، الحدیث:۱۰۶۳ ، ج۲۴ ، ص۴۳۵ ۔
35 سنن النسائی ، کتاب الامامۃ ، باب الصلاۃ قبل العصر الخ ، الحدیث:۸۷۲ ، ص۱۵۲ ، مفہومًا ۔
36 المعجم الصغیر ، باب المیم ، ج۲ ، ص۴۸ ۔
37 الزھد لابن المبارک ، الجزء العاشر ، الحدیث:۱۲۵۹ ، ص۴۴۵ ۔
38 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۸ ۔
39 اس حدیث کو علما نے موضوع قرار دیا ہے لہٰذا اسے بیان نہ کیا جائے ۔
40 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۲ ۔
41 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۲ ۔ ۵۳ ۔
42 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۳ ۔
43 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۳ ، ’’یشیعونہ‘‘ بدلہ ’’یسعون بہ‘‘ ۔
44 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۳ ۔
45 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۳ ، لیس فیہ ذکر آیۃ الکرسی ۔
46 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۴ ، بتغیرٍ ۔
47 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۴ ، بتغیرٍ ۔
48 قوت القلوب ، الفصل الحادی عشرفیہ کتاب فضل الصلاۃ الخ ، ج۱ ، ص۵۴ ۔
49 المرجع السابق ، ص۵۵ ، ’’قل ھواللّٰہ احد‘‘ بدلہ ’’قل یاایھاالکفرون‘‘ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع