30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیسری فصل: ارکانِ نمازپورا کرنے کی فضیلت
چھ فرامینِ مصطفٰی:
{1}…فرض نماز کی مثال ترازو کی سی ہے جس نے اسے پورا کیا اسے پورا اجر ملے گا ۔ (1 )
حضرت سیِّدُنا یزید بن ابان رقاشی حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نماز برابر ہوتی تھی گویا اس کا وزن کیا گیا ہو ۔ ‘‘(2 )
{2}…میری امت کے دو شخص نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ان کے رکوع وسجود ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ان دونوں کی نمازوں میں زمین وآسمان جتنا فاصلہ ہوتا ہے ۔ (3 )
اس سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خشوع وخضوع کی طرف اشارہ فرمایا (یعنی خشوع وخضوع کے سبب ایک کی نماز افضل ہوجاتی ہے) ۔
{3}… اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اس بندے کی طرف نظر نہیں فرمائے گا جس کی پیٹھ رکوع وسجود کے درمیان سیدھی نہیں ہوتی ۔ (4 )
{4}…جو شخص نماز میں چہرے کو اِدھر اُدھر پھیرتا ہے کیا وہ اس سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کا چہرہ گدھے کے چہرے سے نہ بد ل ڈالے ۔ (5 )
{5}…جس نے اچھی طرح وضو کرکے وقت پر نماز اداکی خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع وسجودکو پورا کیا تو اس کی نماز سفید چمکتی ہوئی بلندہوتی ہے اور کہتی ہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے میری حفاظت کی اور جو شخص کامل وضوکے ساتھ وقت پر نماز نہیں پڑھتا ، رکوع وسجود خشوع وخضوع سے ادا نہیں کرتا تووہ نماز سیاہ اور تاریک
ہوکربلندہوتی ہے اور کہتی ہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے برباد کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا یہاں تک کہ جب وہاں جاتی ہے جہاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا ہے تو اس کو بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر اس کے منہ پر مار دیا جاتا ہے ۔ (6 )
{6}…لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے(7 ) ۔ (8 )
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود اور حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ’’نماز پیمانہ ہے جس نے اسے پورا کیا اسے پورا بدلہ ملے گا اور جو اس میں کمی کرتا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کمی کرنے والوں کے متعلق کیا فرمایا ہے ۔ ‘‘ (9 )
{… تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہ اَسْتَغْفِرُاللّٰہ …}
{… صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تعالٰیعَلٰی مُحَمَّد …}
چوتھی فصل: نمازِ باجماعت کے فضائل
فضیلت جماعت پر مشتمل پانچ فرامینِ مصطفٰی:
{1}…باجماعت نماز تنہا نماز سے 27 درجے افضل ہے ۔ (10 )
{2}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعض نمازوں میں کچھ لوگوں کو غیر حاضر پایا تو ارشاد فرمایا: ’’میں چاہتاہوں کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز (باجماعت)سے پیچھے رہ جاتے ہیں(11 )اور ان پر ان کے گھرجلا دوں ۔ (12 )
{3}…ایک روایت میں ہے کہ پھر میں جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کی طرف جاؤں اور ان کے متعلق حکم دوں کہ ان پر ان کے گھروں کو لکڑیوں کے گٹھے سے جلا دیا جائے ۔ اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ چکنی ہڈی یا دو اچھے کھر پائے گا تو اس نماز (یعنی نمازِعشا) میں ضرور حاضر ہوتا ۔ (13 )
{4}…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جو نماز عشا جماعت سے پڑھے تو گویا وہ آدھی رات عبادت میں کھڑا رہا اور جو فجر جماعت سے پڑھے توگویا وہ ساری رات عبادت میں کھڑا رہا ۔ (14 )
{5}…جس نے باجماعت نماز پڑھی بے شک اس نے اپنے سینے کو عبادت سے بھر دیا ۔
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’20 سال سے میرا یہ معمول ہے کہ مؤذن کے اذان دینے سے پہلے ہی مسجد میں ہوتاہوں ۔ ‘‘(15 )
تین چیزوں کا شوق:
حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’مجھے دنیا میں فقط تین چیزوں کا شوق ہے: (۱) ایسا بھائی کہ جب میں ٹیڑھا ہوجاؤں تو وہ مجھے سیدھا کر دے (۲)اتنا رزق جو دوسرے کے حق سے خالی ہو اور (۳) باجماعت نماز جس میں بھولنا مجھے معاف کردیا جائے اور میرے لئے اس کی فضیلت لکھ دی جائے ۔ ‘‘ (16 )
مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ نے ایک مرتبہ امامت کروائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’ابھی شیطان مسلسل میرے ساتھ رہا یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ میں دوسرے لوگوں سے افضل ہوں اب میں کبھی امامت نہیں کروں گا ۔ ‘‘ (17 )
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو جو علما کی صحبت اختیار نہیں کرتا ۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا امام نخعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں : ’’جو شخص بغیر علم کے امامت کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سمندر میں پانی کو ماپتا ہے ، اس کی زیادتی یا کمی کو نہیں جانتا ۔
حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں : ’’ایک بار(کسی عذر کے باعث) میں باجماعت نماز کے لئے حاضر نہ ہوسکا تو اکیلے ابواسحاق بخاری نے مجھ سے تعزیت کی اور اگر میرا بیٹا فوت ہوجاتاتو دس ہزار سے زیادہ لوگ تعزیت کرتے کیونکہ لوگوں کے نزدیک دین کی مصیبت دنیا کی مصیبت سے زیادہ آسان ہے ۔ ‘‘ (18 )
حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’جو مؤذِّن کی آواز سن کر جواب نہ دے(یعنی باجماعت نماز میں حاضر نہ ہو) تو نہ اس نے بھلائی کا ارادہ کیا اور نہ اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا گیا ۔ ‘‘ (19 ) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’اگر ابن آدم کے کان کو پگھلے ہوئے سیسے سے بھر دیا جائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ اذان سنے اور جواب نہ دے ۔ ‘‘ (20 )
عراق کی بادشاہت سے زیادہ محبوب:
حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران مسجد میں حاضر ہوئے تو ان سے عرض کی گئی: ’’لوگ تو جا چکے ہیں ۔ ‘‘ تو آپ نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ( پ ۲ ، البقرۃ :۱۵۶)
پڑھا اور فرمایا: ’’باجماعت نماز پڑھنا مجھے عراق کی بادشاہت سے زیادہ پسند ہے ۔ ‘‘
نفاق اور آگ سے آزادی کا پروانہ:
مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک ، صاحب ِ لولاک ، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے 40 دن باجماعت نماز اس طرح پڑھی کہ اس کی تکبیرِ تحریمہ بھی فوت نہ ہوئی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے دوپروانے لکھے گاایک پروانہ نفاق سے آزادی کا اور دوسرا آگ سے آزادی کا ۔ ‘‘ (21 )
#**سورج ، چاند اور ستاروں کی مانند چمکتے چہرے:
**#
منقول ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو کچھ لوگوں کو لایا جائے گا جن کے چہرے ستاروں کی طرح چمکتے دمکتے ہوں گے فرشتے ان سے کہیں گے: ’’تم کیا عمل کرتے تھے؟‘‘ وہ کہیں گے: ’’ہم اذان سنتے ہی وضو کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے کوئی دوسری چیز ہمیں مشغول نہ کرتی تھی ۔ ‘‘ پھر ایک گروہ کو لایا جائے گا جن کے چہرے چاند کی مانند روشن ہوں گے (فرشتوں کے) پوچھنے پر وہ کہیں گے: ’’ہم (نماز کا)وقت شروع ہونے سے پہلے ہی وضو کر لیتے تھے ۔ ‘‘ پھر ایک گروہ لایا جائے گا جن کے چہرے سورج کی طرح روشن ہوں گے(فرشتوں کے پوچھنے پر) وہ کہیں گے: ’’ہم اذان مسجد میں سنتے تھے ۔ ‘‘ (22 )
منقول ہے کہ اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام میں سے کسی کی تکبیر اولیٰ فوت ہوجاتی تو تین دن افسوس کرتے اور اگر جماعت فوت ہوجاتی تو سات دن افسوس کرتے ۔
1 کتاب الزھد لابن المبارک ، الجزء التاسع ، الحدیث:۱۱۹۰ ، ص۴۱۹ ۔
2 کتاب الزھد لابن المبارک ، باب ماجاء فی فضل العبادۃ ، الحدیث:۱۰۳ ، ص۳۴ ۔
3 کشف الخفاء ، خاتمۃ یختم بھا الکتاب ، ج۲ ، ص۳۷۶ ۔
4 المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ ، الحدیث:۱۰۸۰۳ ، ج۳ ، ص۶۱۷ ۔
5 صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ ، باب تحریم سبق الامام برکوع الخ ، الحدیث:۴۲۷ ، ص۲۲۸ ۔
6 المعجم الاوسط ، الحدیث:۳۰۹۵ ، ج۲ ، ص۲۲۷ ۔
7 صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی نماز میں چوری کیسے کرے گا ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’رکوع اور سجدہ پورا نہ کرے ۔ ‘‘
مفسرشہیرحکیم الْاُمَّتحضرتِ مفتی احمدیارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح ، ج2 ، ص78 پر اس کے تحت فرماتے ہیں : واہ سُبْحَانَ اللّٰہکیا نفیس تمثیل ہے یعنی مال کے چور سے نماز کا چور بدتر ہے کیونکہ مال کا چور اگر سزا پاتا ہے تو کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نماز کا چور سزا پوری پائے گا نفع کچھ حاصل نہیں کرتا نیز مال کا چور بندے کا حق مارتا ہے نماز کا چور اللّٰہ کا حق ، نیز مال کا چور یہاں سزا پا کر عذاب آخرت سے بچ جاتا ہے مگر نماز کے چور میں یہ بات نہیں نیز بعض صورتوں میں مال کے چور کو مالک معاف کرسکتا ہے لیکن نماز کے چور کی معافی کی کوئی صورت نہیں خیال کرو کہ جب نماز ناقص پڑھنے والوں کا یہ حال ہے تو جو سرے سے پڑھتے ہی نہیں ان کا کیا حال ہے ۔ پھر جو کل یا بعض نمازوں کے منکر ہوچکے جیسے بھنگی پوستی فقیر اور چکڑالوی وغیرہ ان کا کیا پوچھنا ۔
8 المسندللامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی قتادۃ الانصاری ، الحدیث:۲۲۷۰۵ ، ج۸ ، ص۳۸۶ ۔
9 کنزالعمال ، کتاب الصلاۃ ، الحدیث:۲۲۵۳۸ ، ج۸ ، ص۹۵ ۔
10 صحیح البخاری ، کتاب الأذان ، باب فضل صلاۃ الجماعۃ ، الحدیث:۶۴۵ ، ج۱ ، ص۲۳۲ ۔
11 مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح ، ج2 ، ص168 پرہے:بلا عذر ، لہٰذا اس سے چھوٹے بچے عورتیں معذور بیمار علیحدہ ہیں ۔ یہاں روئے سخن منافقین کی طرف ہے کیونکہ کوئی صحابی بلاوجہ جماعت اور مسجد کی حاضری نہیں چھوڑتے تھے ۔ لہٰذا روافض کا یہ کہنا کہ صحابہ فاسق یا تارک جماعت تھے ، غلط ہے ، رب نے ان کے تقویٰ اور جنتی ہونے کی گواہی دی ۔ اگر یہاں صحابہ مراد ہوں تو حدیث قرآن کے خلاف ہوگی ۔
12 صحیح مسلم ، کتاب المساجد الخ ، باب کراھیۃ تأخیر الصلاۃ الخ ، الحدیث:۲۵۱ ۔ ۲۵۲ ، ص۳۲۷ ۔
13 المرجع السابق ، الحدیث:۲۵۲ ۔ المسندللام احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ ، الحدیث:۷۳۳۲ ، ج۳ ، ص۳۹ ۔
14 صحیح مسلم ، کتاب المساجد الخ ، باب فضل صلاۃ العشاء الخ ، الحدیث:۲۶۰ ، ص۳۲۹ ۔
15 المصنف لابن ابی شیبۃ ، کتاب الصلاۃ ، من کان یشھد الصلاۃ ، الحدیث:۴ ، ج۱ ، ص۳۸۶ ، فیہ:’’ثلاثین سنۃ‘‘ ۔
16 تاریخ دمشق لابن عساکر ، محمد بن واسع ، ج۵۶ ، ص۱۶۱ ، بتغیرِالفاظٍ ۔
17 کتاب الزھد لابن المبارک ، باب التواضع ، الحدیث:۸۳۴ ، الجزء السادس ، ص۲۸۷ ۔
18 الکبائرللذھبی ، الکبیرۃ الرابعۃ ، ص۳۳ ۔
19 المصنف لعبد الرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب من سمع النداء ، الحدیث:۱۹۲۱ ، ج۱ ، ص۳۷۰ ، عن عائشۃ ۔
20 المصنف لابن ابی شیبۃ ، کتاب الصلاۃ ، من قال اذاسمع المنادی فلیجب ، الحدیث:۴ ، ج۱ ، ص۳۸۰ ۔
21 سنن الترمذی ، کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء فی فضل التکبیرۃ الاولی ، الحدیث:۲۴۱ ، ج۱ ، ص۲۷۴ ۔
22 قوت القلوب ، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکر دعائم الاسلام الخ ، ج۲ ، ص۱۶۸ ، بتغیرٍ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع