30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طہارت کا بیان
سب خوبیاں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اپنے بندوں پر لطف وکرم فرماتے ہوئے انہیں پاکیزگی کا حکم فرمایا اور ان کے باطن کو پاک کرنے کے لئے ان پر مہربانیوں کا فیضان جاری کیا ان کے ظاہر کو پاک کرنے کے لئے رقیق اور بہنے والا پانی بنایا اور حضرتِ سیِّدُنا محمدمصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو جن کا نورِ ہدایت کائنات کے گوشے گوشے کو محیط ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاکیزہ آل پر ایسی رحمت ہو جس کی برکات محشر کے دن ہمیں نجات دلائیں نیز ہمارے اور ہر مصیبت کے درمیان ڈھال کا کام دیں ۔
طہارت کے متعلق حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیے:
طہارت کے متعلق تین فرامینِ مصطفٰی
{1}…’’ بُنِیَ الدِّ یْنُ عَلَی النَّظَافَۃ یعنی: دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے ۔ ‘‘ (1 )
{2}…’’ مِفْتَاحُ الصَّلٰو ۃِ اَلطُّہُوْر یعنی: نماز کی کنجی طہارت ہے ۔ ‘‘ (2 )
(پاگیزگی حاصل کرنے والوں کی فضیلت میں )ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(۱۰۸) ( پ ۱۱ ، التوبۃ :۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللّٰہ کو پیارے ہیں ۔
{3}…’’ اَلطَّہُوْرُ نِصْفُ الْاِیْمَان یعنی پاکیزگی آدھا ایمان ہے ۔ ‘‘ (3 )
قرآنِ پاک میں ارشادہوتاہے :
مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ ( پ ۶ ، ا لما 1 ئدۃ : ۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کر دے ۔
ان روایات کے ظاہر سے اہل بصیرت نے جان لیا کہ سب سے زیادہ اہمیت باطن کی صفائی کی ہے کیونکہ حضورنبی ٔکریم ، رء و ف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ظاہر کو تو پانی بہا کر پاک کر لیا جائے مگر باطن کو گندگیوں سے پاک نہ کیا جائے ۔
طہارت کے درجات:
طہارت کے چار درجات ہیں :(۱)ظاہر کوناپاکیوں ، نجاستوں اور پاخانے وغیرہ سے پاک کرنا(۲) اعضاء کو جرائم اور گناہوں سے پاک کرنا (۳)دل کو برے اخلاق اور ناپسندیدہ خصلتوں سے پاک کرنا(۴) باطن کو غیراللّٰہ سے پاک کرنا ۔
آخری درجے کی طہارت انبیا وصدیقین کی طہارت ہے ۔ ہر رتبہ میں طہارت اس عمل کا نصف ہے جس میں وہ پائی جاتی ہے ۔ مثلاً باطنی عمل (یعنی چوتھے درجے) میں مقصود یہ ہے کہ اس کے لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی جلالت وعظَمت ظاہر ہو جائے اور معرفت ِ الٰہی باطن میں اس وقت تک جاگزیں نہیں ہوسکتی جب تک کہ غیر خدا کا خیال دل سے نہ نکل جائے ۔ اسی لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
قُلِ اللّٰهُۙ-ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۱) ( پ ۷ ، الانعام :۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ کہو پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں کھیلتا ۔
کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں (اور کسی کے دو دل ہو نہیں سکتے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:)
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ- ( پ ۲۱ ، الاحزاب :۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے ۔
اور جہاں تک دل کی پاکیزگی(یعنی تیسرے درجے ) کا معاملہ ہے تو اس میں اصل مقصود دل کی طہارت ہے اور اس کے دودرجے ہیں :(۱)دل کو اچھے اخلاق اورشرعی عقائد سے آباد کرنااور (۲) برے عقائد اورناپسندیدہ خصلتوں سے پاک رکھناان میں سے ایک درجہ دوسرے کے لئے شرط ہے ۔ اس معنٰی کے اعتبار سے پاکیزگی نصف ایمان ہے ۔ دل کی طرح اعضاء کی طہارت کے بھی دو درجے ہیں :(۱)انہیں ممنوعات سے پاک رکھنا اور (۲) طاعات سے مزین کرنا ۔ اس میں پہلادرجہ دوسرے کے لئے شرط ہے ۔ یہ ایمان کے درجات ہیں اور ہر درجے کے لئے ایک طبقہ ہے ۔ بندہ اس وقت تک بلند درجے تک رسائی نہیں پاسکتا جب تک نچلے درجے سے اوپر نہ چلا جائے ۔
بلند مقام پر فائز ہونے سے مانع عمل:
بندہ اس وقت تک باطن کو مذموم صفات سے پاک اور اچھی عادات سے آباد نہیں _ کر سکتا جب تک کہ دل کو بری عادت سے پاک اور اچھے اخلاق سے مزین نہ کر لے اور جو شخص اعضاء کو ممنوعات(ناپسندیدہ امور) سے پاک اور عبادت سے معمور نہ کر لے وہ بلندمقام پر فائز نہیں ہوسکتا ۔ پس جب مطلوب قابلِ عز وشرف ہو تواس کا راستہ دشواراور طویل ہوتا ہے اور گھاٹیاں زیادہ ہوتی ہیں ۔ لہٰذایہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ چیز باآسانی حاصل ہو جائے گی ۔ البتہ! جو شخص ان درجات میں فرق کو نہیں سمجھ سکتا وہ طہارت کا آخری درجہ ہی سمجھ سکتا ہے(یعنی ظاہر کو گندگیوں اور نجاستوں سے پاک کرنا) جو کہ مطلوبہ مغز کے اعتبار سے آخری ظاہری چھلکا ہے وہ اس میں بہت غور و خوض کرتا اور اس کے طریقوں میں مبالغہ کرتا ہے ۔ نیزاپنے تمام اوقات استنجا کرنے ، کپڑے دھونے ، ظاہر کی صفائی کرنے اور بہنے والے وافر پانی کی طلب میں گزار دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے وسو سے اور عقلی گمان میں یہی سمجھتا ہے کہ طہارت جو مطلوب ہے وہ یہی ہے ۔ ایسا شخص اسلاف کی سیرت سے ناواقف ہے اور نہیں جانتا کہ اسلاف توظاہری امور کے مقابلے میں اپنی تمام فکر وہمت اور کوشش دل کی صفائی میں لگا دیتے تھے ۔ چنانچہ ،
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگراہل صفہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم بُھنا ہوا گوشت کھاتے پھر نماز کا وقت ہوجاتا توہم اپنی انگلیاں کنکریوں میں ڈال کر مٹی سے پونچھ لیتے اور تکبیر کہتے ۔ ‘‘ (4 )
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’زمانۂ رسالت میں ہم اشنان (ایک قسم کی بوٹی جو صابن کی مثل صفائی کا کام دیتی ہے) کے متعلق نہیں جانتے تھے ۔ ہمارے رومال ہمارے پاؤں کے تلوے ہی ہوتے تھے ۔ جب ہم چکنائی والی چیز کھاتے توہاتھوں کوتلووں ہی سے صاف کر لیتے تھے ۔ ‘‘ (5 )
سب سے پہلی بدعتیں :
منقول ہے کہ پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے پہلے چاربدعتیں ظاہر ہوئیں :
(۱)…چھلنی (۲)…اشنان (۳)…ٹیبل اور (۴)…پیٹ بھر کر کھانا ۔
جوتے پہن کرنماز پڑھنا کیسا؟
الغرض اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی تمام تر توجہ باطن کی صفائی کی طرف ہواکرتی تھی یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ ’’جوتے پہن کر نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام نے آقائے دوعالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو توجہ دلائی کہ نعلین پاک میں کچھ لگ گیا ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جوتے اتار دیئے ، صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بھی جوتے اُتار دیئے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’تم نے جوتے کیوں اُتارے (7 )؟‘‘ (8 )
حضرت سیِّدُنا امام نخعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (نماز میں )جوتے اتارنے کا رد کرتے ہوئے جوتے اتارنے والوں کے متعلق فرمایاکرتے تھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ کوئی حاجت مند آئے اور ان کے جوتے لے کر چلتا بنے ۔ ‘‘
نیز اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام (ظاہری)امور میں بہت کم توجہ دیتے تھے بلکہ گلی کوچوں کے کیچڑ سے ننگے پاؤں گزرجاتے ، اس پر بیٹھ جاتے ، مساجد میں زمین پر(کچھ بچھائے بغیر) نمازاداکر لیتے ، گندم اور جَو کاآٹا استعمال کر لیتے حالانکہ وہ جانوروں کے ذریعے گاہا جاتااوروہ اس پر چلتے ہیں ، وہ نجاست میں لوٹ پوٹ ہونے والے اونٹوں اور گھوڑوں کے پسینے سے نہیں بچتے تھے ۔ اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام میں سے کسی کے متعلق منقول نہیں کہ اس نے نجاست کی باریکیوں کے متعلق سوال کیا ہو ، اس معاملے میں وہ اس حد تک بے توجُّہ رہتے تھے ۔
برائی نیکی اور نیکی برائی بن گئی:
اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ایک گروہ نے جہالت کا نام پاکیزگی رکھ دیاہے اور اسے دین کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ ان کا زیادہ وقت ظاہر کو سنوارنے میں گزرتا ہے جیسا کہ دلہن کنگھی سے بالوں کوسنوارتی ہے ۔ جبکہ ان کا باطن خراب اور غرور وتکبر ، خودپسندی ، جہالت ، ریا اور نفاق سے بھرا ہوا ہے اور حد تو یہ ہے کہ وہ ان برائیوں کو ناپسند نہیں جانتے اور نہ ہی ان پر تعجب کرتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص صرف پتھر سے استنجا کرے یا زمین پر ننگے پاؤں چلے یا زمین پر نماز پڑھے یامصلّٰی بچھائے بغیر مسجد کی چٹائی پر نماز پڑھے یا چمڑے کا موزہ پہنے بغیر ننگے پاؤں چلے یا کسی بڑھیا یا بے پرواہ شخص کے برتن سے وضو کرے تو اس پر قیامت ڈھا دیتے اور اعتراض کرتے ہیں ۔ اسے ناپاک ٹھہراتے اور اپنے گروہ سے خارج کر دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ کھانا پینا اور میل جول رکھنا پسند نہیں کرتے اور وہ شکستہ حالی جو ایمان کا حصہ ہے اسے ناپاکی ٹھہراتے اور تکبر کو پاکیزگی کا نام دیتے ہیں ۔ غور کیجئے کہ کیسے برائی نیکی اور نیکی برائی بن گئی اور دین کے رسم و رواج ایسے مٹتے چلے گئے جیسے اس کی حقیقت وعلم مٹ گیا ۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگرآپ کہیں کہ صوفیانے اپنی شکل وصورت اور پاکیزگی کے معاملے میں جو عادات اپنارکھی ہیں کیا ہم انہیں ممنوعات ومنکرات کہہ سکتے ہیں ؟تو میں کہوں گا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں بغیر تفصیل کے مطلق ایسی بات کہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ حصولِ پاکیزگی ، تکلُّف ، برتن وآلات تیار کرنا ، جوتے استعمال کرنا ، گردوغبار سے بچنے کے لئے چادر اوڑھنا اور اس کے علاوہ اسباب کو اگر ذاتی طور پر دیکھا جائے کوئی دوسری چیز ملحوظ نہ ہو تو یہ چیزیں مباح ہیں ۔ بعض اوقات ان کے ساتھ کچھ احوال اور نیتیں ملحق ہوتی ہیں جو انہیں کبھی اچھے کاموں سے ملادیتی ہیں اور کبھی برے کاموں سے ۔
#**اشیاء کامباح ، مذموم اور محمود ہونا:
**#
جہاں تک ان مذکورہ چیزوں کے ذاتی طور پر مباح ہونے کا تعلق ہے تویہ بات مخفی نہیں کہ بندہ ان کے ذریعے اپنے مال ، بدن اور کپڑوں میں تصرُّف کرتا اور ان کے ساتھ جو چاہے کر تا ہے جب تک کہ اسراف اور مال کا ضیاع نہ ہو ۔
ان چیزوں کے مذموم ہونے کی دو صورتیں ہیں :(۱)یاتوانہیں اس فرمانِ رسول کی تفسیر قراردے کردین کی اصل قرار دیا جائے کہ ’’ بُنِیَ الدِّیْنُ عَلَی النَّظَافَہ یعنی: دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے ۔ ‘‘ (9 ) حتی کہ اسلاف کی طرح جو اس پر کم توجہ دے اس کا رد کیا جائے ۔ (۲)یا ان چیزوں کا مقصد مخلوق کے لئے ظاہری زیبائش اور ان جگہوں کو سنوارنا ہے جہاں لوگوں کی نظر پڑتی ہے اور یہ ریا ہے جو کہ ممنوع ہے ۔ پس ان دو وجہوں سے یہ چیزیں منکر یعنی بری ہیں ۔
جہاں تک اشیاء کا معروف(محمود ونیکی) ہونے کاتعلق ہے تو اس سے بھلائی مقصود ہونہ کہ زیب وزینت اور اسے ترک کرنے والے کا رد نہ کیا جائے ، نہ اس کے سبب اوّل وقت سے نماز کو مؤخر کیا جائے اور نہ ہی اس میں مشغول ہو کر اس سے افضل عمل یا علم وغیرہ کو ترک کیا جائے ۔ لہٰذا مذکورہ افعال میں سے کوئی چیز اس کے ساتھ ملی ہوئی نہ ہوتو یہ جائز ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ اچھی نیت سے عبادت بن جائے لیکن یہ چیزنکمے لوگوں کو حاصل ہے کہ اگر وہ نماز میں وقت صرف نہ کریں تو نیند یا فضول باتوں میں مشغول ہو جائیں گے تو ان کا اس میں مشغول ہونا بہتر ہے ۔ کیونکہ پاکیزگی کے حصول میں مشغولیت سے ذکر ِ الٰہی اور عبادات کی یاد تازہ ہوتی رہتی ہے ۔ لہٰذا جب یہ برائی یا اسراف کی طرف نہ لے جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
اہل علم و عمل کے اوقات قیمتی جوہر ہیں :
اہلِ علم وعمل کواپنے اوقات ان (یعنی طہارت و پاکیزگی کے)کاموں میں بقدرِ حاجت ہی صرف کرنے چاہئیں ۔ ان کے حق میں زیادہ وقت صرف کرنا برا اور اس عمر کو ضائع کرنا ہے جو قیمتی جوہر اور اس سے نفع اٹھانے پر قادر شخص کے لئے انتہائی عزیز ہے اور اس پر تعجب نہیں کرنا چاہئے(کہ ایک ہی چیز بعض کے حق میں بری ہے اور بعض کے حق میں اچھی) کیونکہ نیکوں کی نیکیاں مقربین کے لئے برائیاں ہوتی ہیں اور نکمے لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ پاکیزگی کا اہتمام نہ کریں اور صوفیا کارد کریں اور خود کو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی مشابہت کرنے والا گمان کریں کیونکہ ان کے ساتھ مشابہت تو تب ہے کہ اس سے اہم کام کے لئے فارغ ہوں ۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُناداؤد طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے پوچھا گیا کہ ’’ آپ داڑھی میں کنگھی کیوں نہیں کرتے؟‘‘ تو فرمایا: ’’میرے پاس اس کے لئے وقت کہاں ؟‘‘
(حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :) اسی وجہ سے میں عالم ، متعلم (طالب علم) اور عمل کرنے والے کے لئے جائز نہیں سمجھتا کہ وہ دھوبی کے دھوئے ہوئے کپڑوں سے احتراز کریں اور یہ گمان کریں کہ اس نے دھونے میں کوتاہی کی ہو گی(10 ) اور یوں خود کپڑے دھونے میں وقت ضائع کریں ۔ پہلے زمانے میں لوگ دباغت کئے ہوئے چمڑے پر نماز پڑھ لیتے تھے ان میں سے کسی کے بارے میں معلوم نہیں کہ اس نے طہارت ونجاست کے معاملے میں دُھلے ہوئے اور دباغت کئے ہوئے کپڑوں میں فرق کیا ہو بلکہ جب وہ خود نجاست دیکھتے تو اس سے اجتناب کرتے اور دقیق(یعنی گہرے اور مشکل)احتمالات کی تلاش میں نہیں رہتے تھے بلکہ ریا وظلم کی باریکیوں کے بارے میں سوچتے تھے ۔
فضول خرچی پر مددگار:
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے رفیقِ سفر نے ایک مکان کے بلند وبالادروازے کی طرف دیکھا تو آپ نے فرمایا: ’’ایسا نہ کر کیونکہ اگر لوگ اس مکان کی طرف نہ دیکھتے تو مکان والا اس پر اتنا اسراف نہ کرتا ۔ ‘‘ پس اس کی طرف دیکھنے والا بھی فضول خرچی پر مددگار ہے ۔
اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام اپنے ذہنوں کو اس طرح کی باریکیوں میں استعمال کرتے تھے ، نجاست کے احتمالات کے متعلق غور وفکر نہیں کرتے تھے ۔
دُنْیاوَمَافِیْہا سے افضل:
اگر کسی عالم کو کوئی ایساعام شخص ملے جو احتیاطا ًاس کے کپڑے دھوئے تو افضل ہے کہ یہ سستی کی بنسبت بہتر ہے اور وہ عام شخص اس دھونے کے سبب نفع حاصل کرتا ہے کیونکہ وہ برائیوں کا حکم دینے والے نفس کو فی نفسہٖ جائز کام میں مشغول رکھتا ہے ۔ لہٰذا اس حال میں وہ گناہوں سے رکا رہتا ہے کہ اگر نفس کسی کام میں مشغول نہ ہو تو وہ انسان کو (گناہوں میں ) مشغول کر دیتا ہے اور اگر اس عام شخص کا مقصد عالم کا قرب حاصل کرنا ہو تو یہ اس کے نزدیک افضل عبادت ہے اور عالم کا وقت اس طرح کے کاموں میں استعمال ہونے سے افضل ہے تو یوں یہ وقت محفوظ رہے گا اور عام شخص کا افضل وقت وہ ہے جو اس طرح کے کاموں میں صرف ہو اور اسے ہر طرف سے وافر بھلائی ملے گی ۔
اس مثال سے اس قسم کے دوسرے اعمال ، ان کے فضائل کی ترتیب اور بعض کے بعض پر مقدم ہونے کے متعلق معلوم کرنا چاہئے ۔ زندگی کے لمحات کو اچھے کاموں میں صرف کرنے کے لئے ان کا حساب کتاب کرنا امورِ دنیا اور اس کے تمام مال واسباب میں غور و فکرکرنے سے افضل ہے ۔
جب آپ نے ابتدائی کلام سمجھ لیا اور آپ کو معلوم ہو گیا کہ طہارت کے چار درجات ہیں تو یہ بھی جان لیجئے کہ ہم اس کتاب میں صرف چوتھے درجہ یعنی ظاہری طہارت پر کلام کریں گے اس لئے کہ کتاب کے پہلے حصے میں ہم صرف ظاہری طہارت کی بحث کریں گے ۔ چنانچہ ،
ظاہری طہارت کی اقسام:
ظاہری طہارت(پاکی حاصل کرنے) کی تین قسمیں ہیں : (۱)…نجاست سے طہارت (۲)…نجاست حکمی سے پاکی حاصل کرنا (۳)…بدن کے فضلات سے طہارت اور یہ ناخن کاٹنے ، (زیر بغل وزیرناف بال صاف کرنے کے لئے) اُسترا یا چُونا استعمال کرنے اور ختنہ سے حاصل ہوتی ہے ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
{…مزار پر حاضری کا طریقہ…}
بزرگوں کے پاس قدموں کی طرف سے حاضر ہونا چاہئے ، پیچھے سے آنے کی صورت میں انہیں مڑ کر دیکھنے کی زحمت ہوتی ہے ۔ لہٰذا مزارِاولیا پر بھی پائنتی (قدموں ) کی طرف سے حاضر ہو کر قبلہ کو پیٹھ اور صاحب ِ مزار کے چہرے کی طرف رخ کرکے کم از کم چار ہاتھ (دوگز) دور کھڑا ہو اور اس طرح سلام عرض کرے:
اَلسَّلَامُ عَلَـــیْکَ یَا وَلِیَّ اللّٰہ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ
ایک بار سورۂ فاتحہ اور 11بار سورۂ اخلاص (اول آخر ایک بار درود شریف) پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے ۔ ’’ اَحْسَنُ الْوِعَاء ‘‘ میں ہے ، ولی کے قرب میں دعا قبول ہوتی ہے ۔ (ماخوذا زمدنی پنج سورہ ، ص۴۱۳)
1 الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، الباب الثانی فی تکمیل محاسنہ ، فصل وامّانظافۃ جسمہ الخ ، ج۱ ، ص۶۱ ۔
2 سنن ابی داود ، کتاب الطہارۃ ، باب فرض الوضو ء ، الحدیث:۶۱ ، ج۱ ، ص۵۶ ۔
3 سن الترمذی ، کتاب الدعوات ، الحدیث:۳۵۳۰ ، ج۵ ، ص۳۰۸ ۔
4 سنن ابن ماجہ ، کتاب الاطعمۃ ، باب الشواء ، الحدیث:۳۳۱۱ ، ج۴ ، ص۳۱ ۔
5 قوت القلوب ، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ الخ ، ج۲ ، ص۲۳۹ ۔
6 مفسرشہیر ، حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجیْح ، ج 1 ، ص 469پر اس حدیث پاک کہ ’’ یہود کی مخالفت کرو وہ نہ جوتوں میں نمازپڑھتے ہیں نہ موزوں میں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :یعنی یہود جوتے یا موزے میں نماز جائز نہیں سمجھتے تم جائز سمجھو ، خیال رہے کہ موزوں میں نماز ادا کرنا سنت ہے لیکن جوتے اگر پاک ہوں اور اتنے نرم کہ سجدہ میں حرج واقعہ نہ ہو کہ پاؤں کی انگلیاں بخوبی مڑکر قبلہ رو ہوسکیں تو ان میں نماز جائز ہے ہمارے ملک کی جوتیاں نماز کے قابل نہیں نیز اب لوگ صحابۂ کرام (رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) جیسے با ادب نہیں اگر انہیں جوتوں میں نماز کی اجازت دی جائے ، تو مصلے اور مسجدیں گندگی سے بھردیں گے اس لیے اب جوتے اتار کر ہی مسجدوں میں آنا اور نماز پڑھنا چاہیے (از مرقاۃ و شامی) اس سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی مخالفت کے لیے جائز کام ضرور کرنا چاہئیں جیسے اس زمانے میں میلاد شریف اور گیارہویں ، (صاحب)مرقاۃ نے فرمایا کہ چونکہ اب یہود ہمارے علاقے میں رہے نہیں ، اس لیے اب جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ خیال رہے کہ مسجد یا نماز کے ادب کے لیے جوتا اتارنا قرآن شریف سے ثابت ہے ۔ رب(عَزَّوَجَلَّ) فرماتا ہے: فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَۚ-اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ(۱۲) (پ۱۶ ، طٰہٰ :۱۲) اے موسیٰ تم عزت والے جنگل میں ہو جوتے اتار دو ، بعض با ادب مرید اپنے شیخ کے شہر میں جوتے نہیں پہنتے ، امام مالک زمین مدینہ میں کبھی گھوڑے یا کسی اور سواری پر سوار نہ ہوئے ، ان کے آداب کا ماخذ یہ آیت ہے اور یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں ۔
7 سنن ابی داود ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ فی النعل ، الحدیث:۶۵۰ ، ج۱ ، ص۲۶۱ ۔
8 مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح ، ج 1 ، ص 470پر اس حدیث مبارکہ کے تحت ہے : یہ سب کچھ تھوڑی سی حرکت سے ہوا ، ور نہ عمل کثیر نماز کو فاسد کردیتا ہے ۔ حدیث کے جز’’جب قوم نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتاردیئے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم)کی پیروی بہرحال کی جائے وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے دیکھو صحابۂ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ) نے حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کو نعلین اتارتے دیکھا تو بغیر وجہ کی تحقیق کیے جوتے اتار دیئے اور سرکار نے اس اتباع پر اعتراض نہ فرمایا ، دوسرے یہ کہ صحابۂ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان )نماز میں بجائے سجدہ گاہ کے اپنے ایمان گاہ یعنی حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کو دیکھا کرتے تھے ورنہ انہیں آپ کے اس فعل شریف کی خبر کیسے ہوتی جیسے مسجد حرم شریف کا نمازی نماز میں کعبہ کو دیکھے ایسے ہی حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم) کے پیچھے نماز پڑھنے والا نماز میں حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کو دیکھے ۔ حدیث کے جز ’’ ان میں گندگی ہے ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : تھوک رینٹ وغیرہ گھن کی چیز نہ کہ پلیدی اور نجاست ورنہ نماز کا لوٹانا واجب ہوتا کیونکہ اگر گندے کپڑے گندے جوتے میں نماز شروع کردی جائے پھر پتا لگے تو نماز دوبارہ پڑھنی پڑتی ہے واقعہ یہ تھا کہ حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے خیال فرمایا یہ چیزیں پاک ہیں ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں مضائقہ نہیں رب(عَزَّوَجَلَّ) نے جبریل امین(عَلَیْہِ السَّلَام) کو بھیجا کہ پیارے تمہاری شان کے یہ بھی خلاف ہے تمہارے لباس پاک بھی چاہئیں ستھرے بھی لہٰذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم)نے نماز لوٹائی کیوں نہیں اور نہ یہ اعترا ض کہ حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم)کو اپنے نعلین کی بھی خبر نہیں اوروں کی کیا خبر ہوگی جو شہنشاہ زمین پر کھڑے ہو کر اندرون زمین کا عذاب دیکھ لے اور عذاب قبر کی وجہ جان لے اور جو یہ فرمائے کہ نماز صحیح پڑھا کر و مجھ پر تمہارے رکوع سجدے دل کا خشوع خضوع پوشیدہ نہیں اس پر اپنے نعلین کا حال کیسے چھپے گا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ اپنے حبیب کی ہر ادا کی نگرانی فرماتا ہے کیوں نہ ہو خود فرماتا ہے ۔ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا (پ۲۷ ، الطور: ۴۸) اے محبوب تم ہماری نظروں میں رہتے ہو ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)عین نماز میں حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کی ادائیں دیکھتے تھے اور حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کی نقل کرتے تھے ۔
9 الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، الباب الثانی فی تکمیل محاسنہ ، فصل وامّا نظافۃ جسمہ الخ ، ج۱ ، ص۶۱ ۔
10 فتاویٰ امجدیہ ، جلد اول ، جز 1 ، ص30تا31 پرصدرالشریعہ ، بدرالطریقہحضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے سوال ہوا کہ ’’ دھوبی کو اگر ناپاک کپڑا دیا جائے تو پاک ہو کر آتاہے یا نہیں ۔ ‘‘جواب میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’بہتر تو یہی ہے کہ پاک کرکے دھوبی کو کپڑے دیئے جائیں اور ناپاک کپڑا دیاتو دھل کر پاک ہو جائے گا ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع