دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ihya ul Uloom jild 1 | احیاء العلوم جلد اول

ustad aur talib e ilm kay adab say mutalliq bayan

book_icon
احیاء العلوم جلد اول
            

باب نمبر5: شاگرد اور اُستاذ کے آداب

پہلی فصل: طالب علم کے ا ٓداب

شاگرد کے ظاہری آداب تو بہت زیادہ ہیں لیکن انہیں 10جملوں کی لڑی میں پرو دیا گیا ہے ۔ {1}…دل کو برے اخلاق اور بری صفات سے پاک کرنا:سب سے پہلے طالب ِعلم اپنے دل کو برے اخلاق اور بری صفات سے پاک کرے کیونکہ علم دل کی عبادت ، راز کی نماز اور باطن میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب کا نام ہے ۔ جس طرح وہ نماز جو ظاہری اعضاء کا عمل ہے ، بدن کو نجاستوں اور ناپاکیوں سے پاک کئے بغیر درست نہیں ہوتی اسی طرح باطن کی عبادت اور علم سے دل کی آبادکاری اسے گندے اخلاق اور ناپاک اَوصاف سے پاک کئے بغیر درست نہیں ہوسکتی ۔ چنانچہ ، خلق کے رہبر ، شفیعِ محشر ، محبوب دَاور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بُنِیَ الدِّیْنُ عَلَی النَّظَافَۃ یعنی دین کی بنیاد پاکی پر ہے ۔ (1 ) پاکی ظاہری بھی ہوتی ہے اور باطنی بھی ۔ چنانچہ ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ ( پ ۱۰ ، التوبۃ :۲۸) ترجمۂ کنزالایمان : مشرک نرے(بالکل) ناپاک ہیں ۔ اس میں عقل والوں کو تنبیہ ہے کہ طہارت ونجاست صرف ظاہر کے ساتھ خاص نہیں ۔ دیکھو! مشرک نے کبھی صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوتے اور غسل بھی کیا ہوتا ہے اس کے باوجود وہ اصلاناپاک ہے یعنی اس کا باطن ناپاکیوں سے آلودہ ہے ۔ نجاست اس چیز کا نام ہے جس سے اجتناب کیا جائے اور دوری اختیار کی جائے اور باطنی ناپاک صفات سے بچنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ وہ فی الحال ناپاک اور بالآخر ہلاک کرنے والی ہیں ۔ اسی لئے سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔ ‘‘ (2 )

بھونکنے والے کتے:

دل گھر ہے ، جائے نزول ملائکہ ، ان کے اثرات اور ان کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور گھٹیا عادات مثلاً غصہ ، شہوت ، بغض وکینہ ، حسد ، تکبر ، خودپسندی وغیرہ بھونکنے والے کتے ہیں تو فرشتے اس دل میں کیسے داخل ہوں گے جو ان کتوں سے بھرا ہو ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ علم کا نور فرشتوں کے ذریعے ہی دلوں میں داخل فرماتا ہے ۔ چنانچہ ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُؕ-( پ ۲۵ ، الشورٰی :۵۱) ترجمۂ کنزالایمان : اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللّٰہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پردہ عظمت کے ادھر ہویا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے ۔ اسی طرح دلوں میں بھیجی جانے والی علوم کی رحمت اس پر مقرر فرشتوں کے ذریعے ہی آتی ہے اور وہ فرشتے پاک ہیں ۔ بری صفات سے محفوظ ہیں ۔ اس لئے وہ پاک ہی کو دیکھتے ہیں اور ان کے پاس جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کے خزانے ہیں وہ ان سے پاک لوگوں کو ہی معمور فرماتے ہیں ۔

ایک شبہ کا ازالہ:

میں یہ نہیں کہتا کہ لفظ بیت(یعنی گھر) سے مراد دل اور کلب(یعنی کتے) سے مراد غصہ اور دیگر بری صفات ہیں بلکہ میں کہتا ہوں کہ یہ اس بات پر آگاہ کرنا اور ظاہری معنی کو برقرار رکھتے ہوئے ظاہر سے باطنی معنی مراد لینا ہے ۔ پس اسی قضیہ سے ہمارے اور فرقہ باطنیہ والوں کے درمیان فرق ہوگیا ۔ یہی عبرت حاصل کرنے کاطریقہ اور ائمہ ابرار (نیک ائمہ) کا مسلک ہے اورعبرت حاصل کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے نصیحت پکڑو جو کسی دوسرے کے لئے بیان کیا جائے اور اسے اس کے ساتھ خاص نہ سمجھو ۔ جیسا کہ عقل مند شخص کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھتا ہے تو وہ اس سے عبرت پکڑتا ہے کہ یہ مصیبت اسے بھی لاحق ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا تو جائے انقلاب ہے ۔ پس اس کا دوسرے کے حالات سے خود عبرت پکڑنا اور اپنی حالت سے دنیا کی حقیقت پر عبرت پکڑنا اچھا ہے ۔ اس لئے تم بھی لوگوں کے بنائے ہوئے گھر سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بنائے ہوئے گھر یعنی دل کا اندازہ لگاؤ اور وہ کتا جس کی برائی اس کی بری خصلت کی وجہ سے کی جاتی ہے نہ کہ صورت کی وجہ سے ، وہ اس میں موجود ناپاکی اور درندگی ہے اس سے اس روح کا اندازہ لگاؤ جس میں درندگی پائی جاتی ہے ۔

شکاری کتا ، ظالم بھیڑیا ، چیتا اور شیر:

یاد رکھو! جو دل غصے اور دنیا کی حرص سے لبریز ہو ، اس پر لڑتا ہو اور لوگوں کی عزتوں کو پامال کرنے کا حریص ہو وہ معنوی طور پر کتا ہے ۔ البتہ! صورت میں دل ہے پس نورِ بصیرت معانی کو دیکھتا ہے صورتوں کو نہیں ، دنیا میں صورتیں معانی پر غالب ہیں اور معانی ان میں پوشیدہ ہیں ۔ جبکہ آخرت میں صورتیں معانی کے پیچھے چلیں گی اور معانی غالب ہوں گے ۔ اسی وجہ سے ہر شخص کو اس کی معنوی صورت پر اُٹھایا جائے گا ۔ لہٰذا لوگوں کی عزتوں کو پاش پاش کرنے والا شکاری کتے کی شکل میں(3 ) ، لوگوں کے اموال کا حریص ظالم بھیڑیے کی شکل میں ، تکبر کرنے والا چیتے کی صورت میں اور حکومت کا طالب شیر کی شکل میں اٹھایا جائے گا ۔ اس مضمون کی احادیث وارد ہیں اور اہلِ بصیرت واہلِ بصارت کے نزدیک عبرت اس پر گواہ ہے ۔

ایک سوال اور اس کا جواب:

اگر تم کہو کہ کتنے گھٹیا اخلاق کے طلبہ ایسے ہیں جنہوں نے علوم حاصل کرلئے(تو اس کا جواب یہ ہے کہ ) افسوس! وہ حقیقی علم سے کتنے محروم ہیں جو آخرت میں نفع بخش اور سعادت وخوش بختی کا ذریعہ ہے کیونکہ علم کے آغاز میں سے یہ بات ہے کہ طالب ِ علم پر ظاہر ہوجائے کہ گناہ زہرِ قاتل ہیں اور کیا تم نے کبھی ایسا شخص دیکھا ہے جو یہ جانتے ہوئے زہر کھائے کہ یہ باعث ہلاکت ہے؟ اور جو تم نے رسمی لوگوں سے سنا ہے وہ تو ایک بات ہے جسے وہ ایک بار اپنی زبانوں سے بنا سنوار کر کہتے ہیں اور دوسری بار ان کے دل اس بات کا رد کردیتے ہیں ، اس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ۔ حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’علم کثرتِ روایت کا نام نہیں بلکہ علم تو ایک نور ہے جو دل میں رکھا جاتا ہے ۔ بعض علما نے فرمایا: علم خشیت(الٰہی کانام) ہے ۔ کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ- ( پ ۲۲ ، فاطر :۲۸) ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ گویا اس میں علم کے نتائج کی طرف اشارہ ہے اسی وجہ سے بعض محققین نے علما کے اس قول ’’ہم نے علم کو غیرِخدا کے لئے حاصل کیا تو علم نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کے لئے حاصل ہونے سے انکار کردیا‘‘ کا مفہوم یہ بیان کیا کہ علم نے انکار کردیا اور ہم سے کنارہ کشی اختیار کرلی پس ہم پر علم کی حقیقت آشکار نہ ہوئی ہمیں صرف اس کے الفاظ حاصل ہوئے ۔

ایک سوال اور اس کا جواب:

اگر تم کہو کہ میں نے محققین علما وفقہا کی ایک جماعت دیکھی جنہوں نے فروع واصول میں نمایاں مقام حاصل کیا اور وہ اکابرین میں شمار کئے جاتے ہیں حالانکہ وہ برے اخلاق کے حامل ہیں ، اتنے علم سے بھی وہ پاک نہ ہوسکے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تم مراتب علم اور علمِ آخرت کو پہچان جاؤگے تو تم پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جس چیز میں وہ مشغول ہیں اس کا علم ہونے کی حیثیت سے فائدہ کم ہے بلکہ اس کا فائدہ تورضائے الٰہی کے لئے عمل ہونے کے اعتبار سے ہے جبکہ اس سے مقصود قربِ الٰہی کا حصول ہو ۔ اس کی طرف پہلے اشارہ گزر چکا ہے اور اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ عنقریب اس کی مزید وضاحت آئے گی ۔ {2}…دنیوی مشغولیات سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرنا:طالب ِ علم اپنی دنیوی مشغولیات کو کم کرے ، اپنے گھروالوں اور وطن سے دور رہے کیونکہ یہ تعلقات اسے مشغول رکھتے اور طلب ِ علم سے پھیردیتے ہیں ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ- ( پ ۲۱ ، الاحزاب :۴) ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے ۔ اور جب خیالات منتشر ہوجائیں تو حقائق جاننے میں کمی آجاتی ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ علم تمہیں اپنا بعض اس وقت تک نہ دے گا جب تک تم اسے اپنا سب کچھ نہ دے دوگے اور جب تم اپنا سب کچھ اسے دے دوگے تو تمہیں اس کا بعض مل جائے گا لیکن اس میں بھی خطرہ ہوگا (کہ وہ مفید ہے یا نقصان دہ) اور مختلف کاموں میں بٹی ہوئی سوچ اس نالے کی طرح ہے جس کا پانی بکھرجائے ، پھر اس میں سے کچھ زمین خشک کردے ، کچھ ہوا میں مل جائے اور اتنا نہ بچے جو جمع ہوکر کھیت تک پہنچے ۔ {3}… علم پر تکبر نہ کرنا:طالب ِ علم ، علم پر تکبر نہ کرے ، استاذ پر حکم نہ چلائے بلکہ اپنے تمام معاملات کی لگام مکمل طور پر استاذ کے ہاتھ میں دے دے اور اس کی نصیحت کو ایسے قبول کرے جیسے جاہل بیمار ، شفیق وماہر طبیب کی نصیحت کومانتا ہے اور اسے چاہئے کہ ا پنے استاذ سے عاجزی وانکساری کے ساتھ پیش آئے اور اس کی خدمت کرکے ثواب و فضیلت کا طالب ہو

علما و اکابرین اور اہل بیت کا مقام ومرتبہ:

حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک شخص کی نمازِ جنازہ سے فارغ ہوئے اور ان کا خچرقریب لایا گیا تاکہ اس پر سوار ہوں ، اتنے میں حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تشریف لائے اور خچر کی رکاب تھام لی ۔ حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’ اے رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا زاد بھائی ! آپ زحمت نہ فرمائیے!‘‘ حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ’’ ہمیں علما واکابرین کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا: ’’ہمیں اہلِ بیت رسول کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ‘‘(4 ) حضور نبی ٔکریم ، رء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’خوشامد مسلمان کی صفات میں سے نہیں مگر طلب ِ علم میں ۔ ‘‘(5 ) طالب علم کو استاذ کے سامنے تکبر نہیں کرنا چاہئے اور یہ بھی تکبر ہے کہ وہ مشہور ومعروف علما کے علاوہ سے علم حاصل کرنے کو ناپسند کرے اوریہ عین حماقت ہے کیونکہ علم نجات اور سعادت کا ذریعہ ہے اور جو شخص چیر پھاڑدینے والے درندے سے بھاگنا چاہتا ہے وہ اس میں فرق نہیں کرے گا کہ بھاگنے کی راہ کوئی مشہور شخص بتائے یا گمنام اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے بے خبر لوگوں کے لئے آگ کی درندگی کا نقصان تمام درندوں کے نقصان سے زیادہ ہے ۔ حکمت مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں پائے غنیمت جانے اور جس نے اس کی طرف رہنمائی کی اس کا احسان مانے وہ جو بھی ہو ، اسی لئے کہا گیا ہے: اَلْعِلْمُ حَرْبٌ لِلْفَتَی الْمُتَعَالِی کَالسَّیْلِ حَرْبٌ لِلْمَکَانِ الْعَالِی ترجمہ: علم کو متکبر شخص سے عداوت ہوتی ہے جیسے سیلاب کو بلند جگہ سے عداوت ہوتی ہے ۔ پس علم تواضع اور توجہ کے ساتھ سنے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ(۳۷) ( پ ۲۶ ، ق :۳۷) ترجمۂ کنزالایمان :بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دل رکھتا ہو یا کان لگائے اور متوجہ ہو ۔ دل رکھنے والے سے مرادیہ ہے کہ وہ علم کو سمجھ سکتا ہو پھر سمجھنے کی قدرت اسے فائدہ نہ دے گی جب تک کہ وہ توجہ کے ساتھ کان لگاکر نہ سنے گاتاکہ جو کچھ اسے بتایا جائے اچھی توجہ ، انکساری ، شکریہ ، خوشی اور احسان ماننے کے ساتھ اسے قبول کرلے ۔ شاگرد کو استاذ کے سامنے نرم زمین کی طرح ہونا چاہئے جو موسلا دھار بارش کو جذب کرکے اسے مکمل طور پر قبول کرلیتی ہے اور جب استاذ اسے علم سیکھنے کا کوئی طریقہ بتائے تو اسے چاہئے کہ اپنی رائے کو چھوڑ کر استاذ کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کرے کیونکہ اس کے رہنما کی خطا اس کے لئے اپنی درستی سے زیادہ مفید ہے ۔ اس لئے کہ تجربہ ایسی باریکیوں پر مطلع کرتا ہے جن کو سننے سے تعجب ہوتا ہے حالانکہ ان کا نفع بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ کتنے گرم مزاج مریض ایسے ہیں کہ طبیب ان کا علاج گرم دواؤں کے ساتھ کرتا ہے تاکہ ان کی حرارت اس حد تک زیادہ ہوجائے کہ وہ علاج کا صدمہ برداشت کرسکے ، اس سے اس شخص کو تعجب ہوتا ہے جو فن طب سے نابلد ہوتا ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا خضر اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعہ میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے ، جب حضرت سیِّدُنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کہا: قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا(۶۷)وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا(۶۸) ( پ ۱۵ ، الکہف :۶۷ ، ۶۸) ترجمۂ کنزالایمان :آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے ، اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں ۔ پھر انہوں نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر چُپ چاپ مان لینے کی پابندی لگا دی اور کہا: قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْــٴَـلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠(۷۰) ( پ ۱۵ ، الکہف :۷۰) ترجمۂ کنزالایمان : تو اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں ۔ پھر حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صبر نہ کرسکے اور بار بار انہیں ٹوکتے رہے یہاں تک کہ یہ بات ان کے درمیان جدائی کا سبب بن گئی ۔ مختصر یہ کہ جو شاگرد استاذ کے سامنے اپنی رائے کو ترجیح دیتا ہے اس پر محرومی اور خسارے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔

ایک سوال اور اس کا جواب:

اگر تم کہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشاد ہے: فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷) ( پ ۱۴ ، النحل :۴۳) ترجمۂ کنزالایمان : تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ۔ یہاں تو سوال کرنے کا حکم ہے!؟یاد رکھو کہ بات ایسی ہی ہے لیکن اس چیز کے بارے میں سوال کرے جس کے متعلق سوال کرنے کی استاذ اجازت دے کیونکہ جو چیز تمہاری سمجھ میں نہ آ سکے اس کے بارے میں پوچھنا مذموم ہے ۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا خضر نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پوچھنے سے منع کردیا تھا یعنی اس کے وقت سے پہلے مت پوچھو ۔ استاذ زیادہ جانتا ہے کہ تم کس کے اہل ہو اور اس بات کو ظاہر کرنے کا کون سا وقت ہے؟ اور بلند درجات میں سے ہر درجہ میں جس چیز کو بیان کرنے کا وقت نہیں آیا اس کے بارے میں پوچھنے کا وقت بھی نہیں آیا۔

عالم کے حقوق :

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’عالم کے حقوق میں سے ہے کہ تم اس سے زیادہ سوال نہ کرو ، جواب میں اس پر سختی نہ کرو ، وہ تھک جائے تو اصرار نہ کرو ، جب وہ اٹھنے لگے تو اس کے کپڑے نہ پکڑو ، اس کے بھید نہ کھولو ، اس کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرو ، اس کے عیب نہ ڈھونڈو ، اگر لغزش کرے تو اس کا عذر قبول کرو ، جب تک وہ دین کی حفاظت کرے تب تک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تم پر اس کی تعظیم وتوقیر واجب ہے ، اس کے آگے نہ بیٹھو اور جب اسے کوئی حاجت ہو تو سب سے پہلے اس کی خدمت کرو ۔ ‘‘(6 ) {4}…ابتداء ً لوگوں کے اختلافات پر دھیان نہ دینا:طالب ِ علم ابتدا میں لوگوں کے اختلافات پر دھیان نہ دے خواہ وہ دنیوی علوم ہوں یا اُخروی ، کیونکہ یہ بات اس کی عقل کو پریشان ، ذہن کو حیران ، اس کی رائے کو سست اور مسائل کو جاننے سمجھنے سے مایوس کردے گی بلکہ اسے چاہئے کہ پہلے ایک اچھے اور منفرد طریقے کا یقین کرے جو اس کے استاذ کو بھی پسند ہو پھر اس کے بعد دوسرے مذاہب اور شبہات کی طرف توجہ دے ۔ اگر استاذ ایک رائے کو اختیار کرنے میں پختہ نہ ہو بلکہ اس کی عادت ہو کہ وہ محض مذاہب اور ان کی ابحاث کو نقل کرتا ہو تو اس سے بچے کیونکہ اس کی گمراہی رہنمائی سے زیادہ ہوگی کہ اندھا اندھوں کی قیادت ورہنمائی نہیں کرسکتا ۔ جس شخص کی یہ حالت ہو وہ خود جہالت وحیرت کے جنگل میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ ابتدائی طالب ِ علم کو شبہات سے روکنا ایسا ہے جیسے نومسلم کو کفار کے ساتھ میل جول سے منع کرنا اور قوی کو اختلافات میں نظر کرنے کی ترغیب دلانا ایسا ہے جیسے قوی کو کفار سے میل جول کی رغبت دلانا ۔ اسی وجہ سے بزدل کو لشکر ِکفار پر حملہ کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور بہادر کو اس کی رغبت دلائی جاتی ہے ۔ بعض ضعیف لوگوں نے اس باریک نکتہ سے غافل ہونے کی وجہ سے یہ گمان کیا کہ طاقت ور لوگوں سے جو کمزوریاں منقول ہیں ان میں ان کی پیروی جائز ہے اور یہ نہ جانا کہ ان کے معاملات کمزور لوگوں کے معاملات سے جداگانہ ہیں ۔ اسی کے بارے میں بعض بزرگوں نے فرمایا: ’’جس نے مجھے ابتدا میں دیکھا وہ صدیق ہو گیا اور جس نے مجھے انتہا میں دیکھا وہ زندیق ہوگیا ۔ ‘‘ کیونکہ انتہا میں اعمال باطن کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور ظاہری اعضاء فرائض کے علاوہ اعمال سے رک جاتے ہیں تو دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ سستی اور بے کاری ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ یہ تو عین حضوری میں دل کی نگرانی اور ہمیشہ ذکر کو اختیار کرنا ہے جو سب اعمال سے افضل ہے ۔

سمندر میں جو خاصیت ہے وہ کوزے میں نہیں :

طاقت ور کے ظاہر حال کو دیکھ کر اسے لغزش سمجھنے والا کمزور شخص اس شخص کی طرح عذر پیش کرتا ہے جو پانی کے کوزے میں معمولی سی نجاست ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نجاست سے کئی گنا زیادہ سمندر میں ڈالی جاتی ہے اور سمندر کوزے سے بہت بڑا ہے پس جو سمندر کے لئے جائز ہے وہ کوزے کے لئے بدرجہ اَولیٰ جائز ہوگا وہ بے چارہ یہ نہیں جانتا کہ سمندر اپنی قوت وطاقت سے نجاست کو پانی میں تبدیل کردیتا ہے تو نجاست کا عین پانی کے غلبے کی وجہ سے اس کی صفت سے بدل جاتا ہے اور قلیل نجاست کوزے پر غالب آ جاتی ہے اور اس میں موجود پانی کو اپنی صفت پر لے آتی ہے اسی وجہ سے حضور نبی ٔاکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے وہ باتیں جائز تھیں جو دوسروں کے لئے جائز نہ تھیں یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو (بیک وقت) نواَزواج(بیویاں ) رکھنے کی اجازت تھی ۔ (7 )کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسی قوت حاصل تھی جس سے عورتوں میں عدل وانصاف فرماتے اگرچہ وہ بہت ساری ہوں جبکہ کوئی دوسراکچھ عدل پر قادر نہیں بلکہ عورتوں کے درمیان کا نقصان اسے پہنچ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ عورتوں کی رضا جوئی میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا فرشتوں کو لوہاروں پر قیاس کرنے والا کیسے فلاح پاسکتا ہے ۔ {5}…عمدہ علم کے ہرفن اور ہرقسم کو جاننے کی کوشش کرنا: طالب ِ علم اچھے علوم کا کوئی فن اور اس کی کوئی قسم نہ چھوڑے ، اس میں اس قدر غور وفکر کرے کہ اس کی غرض و غایت معلوم ہوجائے پھر اگر زندگی وفا کرے تو اس میں مہارت حاصل کرے ورنہ اس سے زیادہ اہم میں مشغول ہوکر اسے پورا کرے اور بقیہ علوم میں سے تھوڑا تھوڑا حاصل کرلے کیونکہ علوم ایک دوسرے کے مددگار اور ایک دوسرے سے مربوط(جڑے ہوئے) ہیں ۔ فی الحال علم سے علیحدگی اختیار کرنے والا جہالت کے باعث اس علم سے عداوت رکھتا ہے ، کیونکہ لوگ جس سے جاہل ہوتے ہیں اس کے دشمن ہوتے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ(۱۱) پ ۲۶ ، الاحقاف :۱۱) ترجمۂ کنزالایمان : اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے ۔ شاعر کہتا ہے: وَمَنْ یَکُ ذَا فَمٍ مَرِیْضٍ یَجِدُ مُرًّا بِہِ الْمَاءَ الزُّلَالَا ترجمہ: کڑوے منہ والا مریض میٹھے پانی کو بھی کڑوا سمجھتا ہے ۔ علوم کے مختلف درجات ہیں یا تو وہ بندے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف لے جاتے ہیں یا اس میں کسی نہ کسی قسم کی اعانت کرتے ہیں اور مقصود سے قریبی ودوری میں ہر علم کا ایک مقرر مقام ہے ۔ ان علوم کو قائم کرنے والے ان کے محافظ ہیں جس طرح جہاد میں اسلامی سرحدوں کے محافظ ہوتے ہیں اور ہر ایک کے لئے ایک مرتبہ ہے اور اسی مرتبے کے اعتبار سے آخرت میں اس کے لئے اجر ہے جبکہ اس سے مقصود رضائے الٰہی ہو ۔ {6}… ترتیب علوم کا لحاظ رکھنا اور سب سے پہلے اہم کو شروع کرنا:طالب ِ علم دفعتاً علم کے فنون میں سے کسی فن میں مشغول نہ ہو بلکہ ترتیب کا لحاظ رکھے اور سب سے پہلے اہم کو شروع کرے کیونکہ عام طور پر زندگی تمام علوم سیکھنے کا موقع نہیں دیتی ۔ لہٰذا احتیاط یہی ہے کہ ہر فن میں سے عمدہ کو حاصل کرلے اور اس میں سے تھوڑے پر اکتفا کرے اور اس سے حاصل ہونے والی تمام قوت اس علم کی تکمیل میں صرف کرے جو سب سے افضل ہے اور وہ علم آخرت یعنی اس کی دونوں اقسام: علم معاملہ اور علم مکاشفہ ہے ۔ علم معاملہ کی انتہا مکاشفہ ہے اور علم مکاشفہ کی انتہا معرفت ِ الٰہی ہے ۔ اس سے میری مراد وہ اعتقاد نہیں جسے عوام باپ داداؤں سے سنتے آئے ہوں یا زبانی یاد کرلیا ہو اور نہ ہی تحریر کلام کا طریقہ اور مجادلہ مراد ہے جس کے ذریعے وہ اپنے کلام کو مخالف کی دھوکا بازیوں سے بچاتا ہے جیسا کہ علم کلام والے کی یہ غرض ہوتی ہے بلکہ مکاشفہ تو یقین کی ایک قسم ہے جو اس نور کا ثمرہ ہے جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے کے دل میں ڈالتا ہے جو مجاہدے کے ذریعے باطن کو خباثتوں سے پاک کرلیتا ہے یہاں تک کہ وہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایمان کے مرتبے کو پہنچ جاتا ہے ۔ وہ ایمان کہ اگر ساری کائنات کے ایمان سے تولا جائے تو بھی وزنی رہے ۔ جیسا کہ تاجدارِرسالت ، ماہ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بات کی گواہی دی ہے ۔ (8 ) اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تمام صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے اس راز کی وجہ سے افضل ہیں جو ان کے سینے میں راسخ تھا ۔ لہٰذا تم اس راز کی معرفت کے حریص بن جاؤ جو فقہا اور متکلمین کی ہمت سے خارج ہے اور اسے تلاش کرنے کی تمہاری حرص ہی اس کی طرف تمہاری رہنمائی کرے گی ۔ بہرحال تمام علوم سے افضل اور تمام علوم کی غرض وغایت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت ہے اور معرفت ِ الٰہی ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی تک نہیں پہنچا جاسکتا اس میں بندوں کے درجات میں سب سے افضل درجہ انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے پھر اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کاپھر ان سے متصل لوگوں کا ۔

پرحکمت تحریر:

منقول ہے کہ پہلے کے داناؤں میں سے دو کی تصویر ان کی عبادت گاہ میں دیکھی گئی ، ان میں سے ایک کے ہاتھ میں موجود ورق پرلکھاتھا کہ اگر تم ہر چیز کو اچھے طریقے سے سیکھ لو تو یہ نہ سمجھو کہ تم نے کسی چیز کو اچھے طریقے سے جان لیا ہے جب تک کہ تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل نہ کر لو اور یہ یقین نہ کر لو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب اور تمام چیزوں کا موجد ہے اور دوسرے دانا کے ہاتھ میں موجود ورق پر لکھا تھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل کرنے سے پہلے میں پانی پینے کے باوجود پیاسا رہتا تھا اور معرفت کے حصول کے بعدمیں بغیر پئے سیراب رہتا ہوں ۔ {7}…ایک فن کی تکمیل کے بعددوسرے فن کی طرف متوجہ ہونا:طالب ِ علم اس وقت تک دوسرے فن میں مشغول نہ ہو جب تک پہلے کو مکمل نہ کرلے کیونکہ علوم ترتیب ضروری پر مرتب ہیں اور ان میں سے بعض بعض کا ذریعہ ہیں اور توفیق یافتہ وہ ہے جو اس ترتیب اور درجہ بندی کی رعایت کرے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاارشاد ہے: اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ- ( پ ۱ ، البقرۃ :۱۲۱) ترجمۂ کنزالایمان : جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں ۔ یعنی وہ ایک فن سے اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے جب تک علم وعمل کے لحاظ سے اسے پختہ نہ کرلیں ۔ طالب ِ علم کو چاہئے کہ وہ جس علم کے حصول کا ارادہ کرے اس سے اس کا مقصد اس سے اعلیٰ علم کی طرف ترقی کرنا ہو اور کسی علم کے بارے میں اس علم کے جاننے والوں میں اختلاف واقع ہونے یا اس میں کسی ایک یا چند ایک سے غلطی ہوجانے یا لوگوں کے اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرنے کی وجہ سے اس علم کے فساد کا حکم نہ لگائے ۔ تم دیکھتے ہو کہ ایک جماعت نے عقلیات وفقہیات میں غور وفکر کرنا چھوڑ دیا اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اگر ان کی کوئی اصل ہوتی تو ان کے جاننے والے اسے ضرور پاتے ۔ اس اعتراض کا جواب معیار العلم کے بیان میں گزر چکا ہے اور تم دیکھتے ہو کہ ایک گروہ طبیب کی غلطی کو دیکھ کر طب کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے اور ایک گروہ کسی نجومی کی اتفاقیہ درست بات کو دیکھ کر علمِ نجوم کو صحیح گردانتا ہے اور کوئی گروہ کسی دوسرے نجومی کی اتفاقی غلطی کی وجہ سے اسے باطل بتاتا ہے حالانکہ یہ سب غلط ہے بلکہ چاہئے تو یہ کہ فی نفسہٖ شے کو جانا جائے کیونکہ ہر شخص ہر علم کا ماہر نہیں ہوتا اسی لئے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: ’’حق کو افراد سے نہ پہچانو بلکہ فی نفسہٖ حق کی پہچان حاصل کرو افراد کو خود ہی پہچان جاؤ گے ۔ ‘‘ (9 ) {8}…افضل علم تک پہنچانے والے سبب کی معرفت حاصل کرنا:طالب ِ علم اس سبب کو پہچانے جس کے ذریعے وہ تمام علوم سے افضل علم کو حاصل کرسکے اور کسی علم کا شرف دوچیزوں سے ہوتا ہے: (۱)…انجام کی فضیلت (۲)…دلیل کی مضبوطی وقوت سے ۔ اس کی مثال علم دین اور علم طب ہے کہ ان میں سے ایک کا نتیجہ حیاتِ سرمدی اور دوسرے کا حیاتِ فانی ہے ۔ لہٰذا علم دین افضل ہوا (کہ اس کانتیجہ حیاتِ سرمدی ہے) ۔ ایک مثال علم حساب اور علم نجوم کی ہے کہ علم حساب دلائل کی مضبوطی اور قوت کی وجہ سے افضل ہے ، اگر حساب کی نسبت طب کی طرف کی جائے تو نتیجے کے اعتبار سے طب افضل ہے جبکہ دلائل کے اعتبار سے حساب افضل ہے لیکن نتیجے کا اعتبار کرنا زیادہ بہتر ہے اس لئے طب افضل ہے اگرچہ اس کا اکثر حصہ ظنی ہے ۔ اس سے واضح ہوا کہ تمام علوم میں افضل علم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کا علم اور ان علوم تک پہنچانے والے راستے کا علم ہے ۔ اس لئے تمہیں اسی میں دلچسپی لینی چاہئے اور اسی کا حریص ہونا چاہئے ۔ {9}…باطن کی صفائی:طالب ِ علم کا مقصود یہ ہو کہ وہ پہلے اپنے باطن کی صفائی کرے گا اور اسے فضیلت سے آراستہ کرے گا اور آخر میں اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کا قرب حاصل کرے گا اور ملائکہ ومقربین کی بارگاہ کے قرب تک رسائی پائے گا ۔ یہ نیت نہ کرے کہ علم سے حکومت ، مال ودولت ، مقام ومرتبہ ، بیوقوفوں سے جھگڑا اور ہم عصروں پر فخر کرے گا ۔ اگراچھی نیت سے علم حاصل کیاتو اپنے مقصود سے قریب تر یعنی علم آخرت کو ضرور طلب کرے گا لیکن اس کے باوجود وہ باقی علوم کو بنظر حقارت نہ دیکھے یعنی علم فتاویٰ ، علم نحو وعلم لغت جو قرآن وحدیث سے متعلق ہو اور اس کے علاوہ دیگر فرض کفایہ علوم جنہیں ہم نے مقدمات اور متممات میں بیان کیا ہے ۔

علم آخرت کے مقابلے میں دیگر علوم کی حیثیت:

علم آخرت کی تعریف میں ہمارے مبالغہ کرنے سے تم یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ باقی علوم مذموم ہیں ۔ ان علوم کے حامل سرحدوں کی حفاظت کرنے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے غازیوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے کچھ لڑتے ہیں تو کچھ حملوں کو روکتے ہیں ۔ بعض مجاہدین کو پانی پلاتے ہیں تو بعض ان کی سواریوں کی حفاظت کرتے اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اجر و ثواب سے محروم نہ ہوگا بشرطیکہ اس کی نیت اعلائے کلمہ حق کی ہونہ کہ غنیمتیں اکٹھی کرنے کی ۔ علما کے بھی مختلف درجات ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- ( پ ۲۸ ، المجادلۃ :۱۱) ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیادرجے بلند فرمائے گا ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا: هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهؕ- ( پ ۴ ، اٰل عمرٰن :۱۶۳) ترجمۂ کنزالایمان : وہ اللّٰہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں ۔ فضیلت ایک اضافی چیز ہے ۔ ہمارا صرافوں کو بادشاہوں کی نسبت کم تر سمجھنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ بھنگیوں کی بنسبت بھی حقیر ہیں اس لئے تم یہ گمان نہ کرو کہ جو سب سے بلند مرتبہ سے کم درجہ ہے اس کا کوئی مرتبہ نہیں بلکہ سب سے بلند مرتبہ انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے پھر اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا پھر پختہ علم والے علما کا پھر صالحین کا ان کے درجات کے اعتبار سے ہے ۔ مختصر یہ کہ ، فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ( پ ۳۰ ، الزلزال :۷ ، ۸) ترجمۂ کنزالایمان : جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گااور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔ اور جو شخص علم سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل کرنے کا قصد کرے گا وہ علم خواہ کوئی سا بھی ہو اسے ضرور نفع ملے گا اور بلندی نصیب ہوگی ۔ {10}…مقصد کی جانب علم کی نسبت کو جاننے کی کوشش کرنا:طالب ِ علم علم کی طرف مقصد کی جونسبت ہے اسے جانے تاکہ قریب اور اعلیٰ کو بعید اور ادنیٰ پر اوراہم ( یعنی مقصود بالذات) کو غیرمقصود پر ترجیح دے سکے ۔ یہاں مُہِمّ (اہم)سے مراد وہ ہے ’’جو تجھے فکرمند کرے‘‘ اور تجھے صرف دنیا وآخرت کا معاملہ ہی فکرمند کرتا ہے اور جب دنیا کی لذّتوں اور آخرت کی نعمتوں کو اکٹھا کرنا ممکن نہیں جیسا کہ قرآنِ حکیم نے اس بات کو بیان کیا اور نورِ بصیرت جو مشاہدے کے قائم مقام ہے وہ بھی اس پر گواہ ہے تو حقیقت میں اہم وہ ہے جس کا نفع ہمیشہ باقی رہے ۔

منزل ، سواری اور مقصد حقیقی:

دنیا گویا ایک منزل ہے (جہاں کچھ دیر قیام کیا جاتا ہے) اور یہ بدن ایک سواری ہے (جس پر سوار ہو کر مراد تک پہنچا جاتا ہے) اور اس سے صادر ہونے والے اعمال مقصد کی طرف دوڑ ہے اور مقصدحقیقی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات ہے اسی میں تمام نعمتیں ہیں اگرچہ دنیا میں بہت تھوڑے لوگ اس علم کی قدر جانتے ہیں ۔

مراتب ِ علم مثال کے آئینے میں :

لقاء ِالٰہی اور بلاحجاب دیدارِالٰہی کی سعادت کی طرف نسبت کے اعتبار سے علم کے تین درجے ہیں ۔ دیدار سے مراد وہ ہے جس کے طالب انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور وہ اسے سمجھتے ہیں ۔ وہ دیدار مراد نہیں جس کی طرف عوام اور متکلمین کا ذہن جاتا ہے ۔ ان تین درجات کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی غلام کو کہا جائے کہ اگر تم مکمل حج کرلو تو تمہیں غلامی سے آزادی کا پروانہ بھی ملے گا اور بادشاہی بھی عطا کی جائے گی اور اگر حج کے راستے پر چلنا شروع کردیا اور وہاں تک پہنچنے کی کوشش بھی کی مگر کوئی سخت رکاوٹ آڑے آ گئی اور حج نہ کرسکا تو صرف غلامی کی شقاوت سے رہائی ملے گی ، بادشاہی کی سعادت نصیب نہ ہوگی تو اس پر تین قسم کے کام لازم ہوں گے ۔ پہلا یہ کہ اسباب تیار کرے مثلاً اونٹنی خریدے ، مشک سیئے ، زادِراہ اور کجاوہ تیار کرے ۔ دوسرا یہ کہ وطن کو چھوڑ کر کعبہ شریف کی طرف منزل بہ منزل چلے ۔ تیسرا یہ کہ افعالِ حج میں مشغول ہوکر ایک ایک رکن ادا کرے پھر ارکانِ حج کی ادائیگی سے فراغت کے بعد اور حالت احرام اور طواف وداع سے نکلنے کے بعد وہ (غلامی سے رہائی اور) بادشاہی کا مستحق ہوجائے گا ۔ اس کے لئے ان مقامات میں سے ہر مقام پر منزلیں ہیں ۔ اسباب کی تیاری کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک ۔ جنگلوں کا سفر شروع کرنے سے ختم کرنے تک ۔ ارکانِ حج کے شروع سے آخر تک اور ارکانِ حج شروع کرنے والا شخص سعادت کے جتنا قریب ہے اتنا قریب وہ نہیں جو ابھی زادِراہ اور کجاوہ کی تیاری میں مشغول ہے اور نہ ہی وہ جس نے سفر شروع کر دیا بلکہ ارکانِ حج شروع کرنے والا ان دونوں سے زیادہ سعادت کے قریب ہے ۔ اسی طرح علوم کی بھی تین اقسام ہیں : ایک قسم زادِراہ جمع کرنے ، کجاوہ تیار کرنے اور اونٹنی خریدنے کے قائم مقام ہے اور وہ علم طب ، علم فقہ اور دنیا میں مصالح بدن سے متعلقہ علوم ہیں ۔ دوسری قسم جنگلوں میں چلنے اور گھاٹیاں طے کرنے کی طرح ہے اور وہ یہ ہے کہ باطن کو بری صفات سے پاک وصاف کرنا اور ان اونچی گھاٹیوں پر چڑھنا جن پر چڑھنے سے توفیق یافتہ لوگوں کے علاوہ تمام اوّلین وآخرین عاجز ہیں ۔ اس راستے پر چلنا اور اس کا علم حاصل کرنا ایسے ہے جیسے راستے کی سمتوں اور اس کی منزلوں کا علم حاصل کرنا اور جس طرح منزلوں اور جنگلی راستوں کا علم اس وقت تک نفع مند نہیں جب تک ان پر چلا نہ جائے اسی طرح اچھے اخلاق کا علم انہیں اپنائے بغیرمفید نہیں لیکن عمدہ اخلاق سے خود کو آراستہ کرنا ان کا علم حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ۔ تیسری قسم نفس حج اور اس کے ارکان کے قائم مقام ہے اور یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات وصفات ، اس کے فرشتوں اور اس کے افعال نیز ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہم نے علم مکاشفہ کے ضمن میں بیان کیں ۔ یہ علم ہلاکت سے نجات اور سعادت کے حصول میں کامیابی کا ذریعہ ہے اور نجات ہر سالک کو حاصل ہوتی ہے جبکہ اس کا مقصد حق ہو اور سعادت کے حصول میں کامیابی صرف اہل معرفت کو نصیب ہوتی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مقرب بندے ہیں اس کے حضور روح وریحان اور جنتی نعمتوں سے سرفراز ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو درجۂ کمال تک نہیں پہنچ پاتے انہیں عذاب سے نجات اور سلامتی ہی حاصل ہوتی ہے ۔ جیسا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے: فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۸۸)فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ ﳔ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ(۸۹)وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ(۹۰)فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ(۹۱) ( پ ۲۷ ، الواقعۃ :۸۸ تا ۹۱) ترجمۂ کنزالایمان : پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے ، تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ ، اور اگر دہنی طرف والوں سے ہو ، تو اے محبوب تم پر سلام دہنی طرف والوں سے ۔ اور ہر وہ شخص جو مقصد کی طرف توجہ نہ کرے ، اسے پانے کی کوشش نہ کرے یا اس کی طرف متوجہ ہو لیکن حکم الٰہی کی بجا آوری اور عبادت کی نیت سے نہیں بلکہ کسی دنیوی غرض سے تو وہ بائیں طرف والوں اور گمراہوں میں سے ہے ۔ کھولتے پانی سے اس کی مہمانی ہوگی اور اسے جہنم کی آگ میں دھنسا دیا جائے گا ۔ پس سعادت علم مکاشفہ کے بعد حاصل ہوتی ہے اور علم مکاشفہ علم معاملہ کے بعد حاصل ہوتا ہے اور علم معاملہ راہِ آخرت پر چلنے کا نام ہے ۔ صفات کی گھاٹیوں کو پار کرنا اور برے اخلاق کے خاتمہ کی راہ پر چلنا صفات کا علم سیکھنے کے بعد ہوتا ہے ۔ طریقہ علاج اور اسے اختیار کرنے کی کیفیت کا علم بدن کی سلامتی کے علم اور اسبابِ تندرستی کی تیاری کے بعد حاصل ہوتا ہے اور بدن کی سلامتی اکھٹے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور باہمی تعاون کے ذریعے اشیائے خورد ونوش ، کپڑے اور رہائش کے انتظامات ہوتے ہیں اور اس کام کا تعلق بادشاہ کے ساتھ ہے اور عدل وحکمت کے ساتھ لوگوں کو منضبط رکھنے کا قانون فقیہ سے متعلق ہے اور رہے اسبابِ صحت تو وہ طبیب کی ذمہ داری ہے اور جس نے کہا کہ علم دو ہیں :علم الابدان اور علم الادیان اور اس سے فقہ کی طرف اشارہ کیا تواس نے اس سے مروجہ ظاہری علوم مراد لئے باطنی نادر علوم مراد نہیں لئے ۔

ایک سوال اور اس کا جواب:

اگر تم یہ کہو کہ علم طب اور علم فقہ کو زادِراہ اور کجاوہ کی تیاری کے ساتھ کیوں تشبیہ دی تو اس کا جواب یہ ہے کہ معرفت الٰہی کے لئے دل کوشش کرتا ہے تا کہ اس کا قرب حاصل ہو بقیہ بدن اس کی کوشش نہیں کرتا اور دل سے میری مراد محسوس ہونے والا گوشت نہیں بلکہ وہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کا اِدراک کرنے سے حس قاصر ہے اور اس کے لطائف میں سے ایک لطیفہ ہے جسے کبھی روح سے اور کبھی نفس مطمئنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ شریعت میں اسے دل سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

حاصل کلام:

ہر وہ علم جس کا مقصد بدن کی مصلحت ہو وہ سواری کے مصالح میں سے ہے اور ظاہر ہے کہ طب کا بھی یہی معاملہ ہے کیونکہ صحت بدن کی حفاظت کے لئے اس کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر بالفرض ایک ہی انسان ہوتا تو اسے بھی اس کی ضرور حاجت ہوتی جبکہ فقہ کا معاملہ اس سے جدا ہے کہ اگر بالفرض صرف ایک انسان ہوتا تو کبھی اسے فقہ کی ضرورت نہ بھی ہوتی ۔ لیکن انسان کی پیدائش اس انداز پر کی گئی ہے کہ وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا کیونکہ کھیتی باڑی کرنے ، روٹی پکانے ، آٹا گوندھنے ، لباس اور رہائش حاصل کرنے اور اس کے تمام آلات تیار کرنے کے لئے تنہا انسان ناکافی ہے وہ مل کر رہنے اور تعاون حاصل کرنے پر مجبور ہے اور جب لوگ اکٹھے رہتے اور ان کی خواہشات جوش مارتی ہیں تو وہ اپنی خواہشات واسباب کو ایک دوسرے سے کھینچتے ہیں ، لڑتے جھگڑتے ہیں اور اس وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ یہ ہلاکت کا ظاہری سبب ہے جس طرح باطنی اخلاط کے اختلاف کی وجہ سے وہ ہلاک ہوتے ہیں ۔ طب کے ذریعے ایک دوسرے کی مخالف ان باطنی اخلاط میں اعتدال پیدا کیا جاتا ہے جبکہ حکمت عملی اور عدل وانصاف کے ذریعے خارجی جھگڑوں میں اعتدال کی فضا قائم کی جاتی ہے ۔ لہٰذا اندرونی اخلاط میں اعتدال کا طریقہ جاننا علم طب اور معاملات وافعال میں لوگوں کو راہِ اعتدال پر رکھنے کا علم علم فقہ کہلاتا ہے ۔ یہ دونوں علوم بدن کی حفاظت کرتے ہیں جو سواری ہے ۔ پس جو علم فقہ اور علم طب کے حصول ہی میں کوشاں رہتا ہے ، مجاہدہ کرکے اپنے نفس کی اصلاح نہیں کرتا وہ اس شخص کی طرح ہے جو اونٹنی خریدتا ہے ، اس کے لئے گھاس خریدتا ہے اور مشکیزہ خرید کر تیار کرتا ہے لیکن حج کے راستے پر نہیں چلتا اور فقہی جھگڑوں میں جاری ہونے والے دقیق کلمات کے سیکھنے میں زندگی بسر کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو زندگی بھر ان اسباب کی تیاری میں مصروف رہتا ہے جن کے ذریعے سفرحج میں لے جانے والے مشکیزے کو سینے کے لئے دھاگا مضبوط کیا جاتاہے ۔ ان فقہائے کرام کو ان لوگوں سے جو اصلاحِ قلب کے اس راستے کے راہی ہیں جس کی منزل علم مکاشفہ ہے وہ نسبت ہے جو مشکیزہ درست کرنے والوں کو حج کے راستے پر چلنے والوں یا اس کے ارکان کی ادائیگی کرنے والوں سے ہے ۔ تو پہلے اس بات پر غور کرو اور اس شخص کی طرف سے مفت نصیحت قبول کرو جو اس کام میں اکثر وقت گزار چکا اور سخت محنت کے بعد اس تک پہنچا ہے اور اس نے عام و خاص لوگوں میں امتیاز کے لئے بڑی جرأت سے کام لیا اور ان کی تقلید سے گریز کرتے ہوئے اپنی خواہش کو کچل دیا ۔ مُتَعَلِّم (طالب علم) کے آداب کے سلسلے میں اتنی ہی بات کافی ہے ۔ {… تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہ اَسْتَغْفِرُاللّٰہ …} {… صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد …}


1 جمع الجوامع ، حرف التائی ، التاء مع النون ، الحدیث:۱۰۶۲۴ ، ج۴ ، ص۱۱۵ ۔ 2 صحیح البخاری ، کتاب اللباس ، باب التصاویر ، الحدیث:۵۹۴۹ ، ج۴ ، ص۸۷ ۔ 3 فیض القدیر ، حرف اللام ، تحت الحدیث:۷۳۷۱ ، ج۵ ، ص۳۸۰ ۔ 4 جامع بیان العلم وفضلہ ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم ، الحدیث:۵۷۶ ، ص۱۷۴ ۔ عیون الاخبارللدنیوری ، کتاب السؤدد ، التواضع ، ج۱ ، ص۳۸۰تا۳۸۱ ۔ 5 جامع بیان العلم وفضلہ ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم ، الحدیث:۵۸۷ ، ص۱۷۸ ۔ 6 جامع بیان العلم وفضلہ ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم ، الحدیث:۵۸۵ ، ص۱۷۵ ۔ 7 صحیح البخاری ، کتاب النکاح ، باب کثرۃ النسآء ، الحدیث:۵۰۶۸ ، ج۳ ، ص۴۲۳ ۔ 8 الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ، عبداللّٰہ بن عبدالعزیز:۱۰۱۲ ، ج۵ ، ص۳۳۵ ۔ 9 صید الخاطر لابن الجوزی ، فصل ولاتنس نصیبک من الدنیا ، ص۲۱ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن