30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گناہ نہیں اور بعض کے نزدیک مطلقاً جائز ہے بلکہ بہت سے اَکابرِ دِین سے نوافل کی جماعت ثابت ہے اور متأخرین فقہاء نے لوگوں کی نیکیوں کی طرف رغبت کم ہونے کی وجہ سے نوافل کی جماعت کے جواز ہی کا فتویٰ دیا ہے کہ عوام کو نماز سے دُور کرنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ انہیں نماز کی طرف راغب رکھا جائے اور اس سے بالکل منع نہ کیا جائے۔(1) سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’نفل غیر تراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی، چار کی نسبت کتبِ فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہیہ جس کاحاصل خلافِ اولیٰ ہے نہ کہ گناہ، حرام۔(2)اگر کوئی جماعت سے الگ پڑھنے کا کہے تو اس کا ذہن بنانے کے لئے اُسے بتایا جائے کہ اگرچہ جماعت کے بغیر پڑھنا، علمائے متقدمین ( پہلے کے بزرگ علما)نے افضل بتایا مگر علمائے متاخرین ( بعدکے بزرگ علما) نے اس کی اجازت عطا فرمائی ہے، اُسے جماعت کے فضائل بتائے جائیں،شیطان کے وسوسوں سے بچتے ہوئے اجتماعی عبادت کی حکمتیں بتائی جائیں، علیحدہ پڑھنے کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے جیسا کہ اس میں مستقل نہ ہونا، دل نہ لگنا، ریاکاری میں پڑنے کا خطرہ وغیرہ۔
سوال: کورسز والوں کا مسجد کی بجلی سے موبائل چارج کرنا کیسا؟
جواب: اس بارے میں حکم شرعی جاننے کے لئے دار الافتاء اہلِ سنّت کا فتویٰ ملاحظہ کیجئے:
سوال:مسجد کی بجلی چندے سے چلتی ہے، کیا اس میں امام یا مؤذن موبائل چارج کر سکتے ہیں، اور دوسروں کو بھی اجازت دے سکتےہیں ؟
جواب:امام و مؤذن حضرات تو مسجد کی بجلی سے اپنا موبائل چارج کرسکتے ہیں،کیونکہ مسجد
[1]...فیضانِ ریاض الصالحین، 2/200، مکتبۃ المدینہ، کراچی
[2]...فتاوی رضویہ،7/465
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع