حضرتِ علّامہ اَبُو الْفَرَج عَبْدُ الرَّحمٰن بِن جَوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی عُیُونُ الحکایات میں نقل کرتے ہیں : تین شامی گھڑسوار بہادر نوجوان بھائی اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد پرروانہ ہوئے لیکن وہ لشکر سے الگ ہو کر چلتے اور پڑاؤ ڈالتے تھے ۔ اور جب تک کفار کا لشکر ان پر حملہ میں پہل نہ کرتا وہ لڑائی میں حصہ نہیں لیتے تھے ۔ ایک مرتبہ رومیوں کا ایک بڑا لشکر مسلمانوں پر حملہ آورہوا اور کئی مسلمانوں کو شہیداور متعدد کوقیدی بنا لیا۔ یہ بھائی آپس میں کہنے لگے : مسلمانوں پر ایک بڑی مصیبت نازل ہو گئی ہے ہم پر لازم ہے کہ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر جنگ میں کود پڑیں ، یہ آگے بڑھے اورجو مسلمان باقی بچے تھے ان سے کہنے لگے: تم ہمارے پیچھے ہو جاؤ اور ہمیں ان سے مقابلہ کرنے دو۔ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو ہم تمہارے لئے کافی ہوں گے۔پھر یہ رومی لشکر پر ٹوٹ پڑے اور رومیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ رومی بادشاہ ( جو ان تینوں کی بہادری کا منظر دیکھ رہا تھا) اپنے ایک جرنیل سے کہنے لگا: ’’ جو ان میں سے کسی نوجوان کوگرفتار کر کے لائے گا میں اسے اپنا مقرب اور سپہ سالار بنا دوں گا۔‘‘ رومی لشکر نے یہ اعلان سن کر اپنی جانیں لڑا دیں اور آخر کار ان تینوں بھائیوں کو بغیر زخمی کئے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ رومی بادشاہ بولا: ان تینوں سے بڑھ کرکوئی فتح اور مال غنیمت نہیں ، پھر اس نے اپنے لشکر کو روانگی کا حکم دے دیااور ان تینوں بھائیوں کواپنے ساتھ اپنے دارالسلطنت قسطنطنیہ لے آیااور بولا: اگر تم اسلام ترک کر دو تو میں اپنی بیٹیوں کی شادی تم سے کر دوں گا ا ور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دوں گا۔ ان بھائیوں نے ایمان پرثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی یہ پیشکش ٹھکرادی اور سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پکارا اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے استغاثہ کیا(یعنی فریاد کی) بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پو چھا: یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ درباریوں نے جواب دیا: ‘‘ یہ اپنے نبی کو پکار رہے ہیں ‘‘ ، بادشاہ نے ان بھائیوں سے کہا: اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تین دیگوں میں تیل خوب کڑکڑا کر تینوں کو ایک ایک دیگ میں پھنکوا دونگا۔ پھر اس نے تیل کی تین دیگیں رکھ کر ان کے نیچے تین دن تک آگ جلانے کا حکم دیا۔ ہر دن ان تین بھائیوں کو ان دیگوں کے پاس لایا جاتا اور بادشاہ اپنی پیشکش ان کے سامنے رکھتا کہ اسلام چھوڑ دوتو میں اپنی بیٹیوں کی شادی بھی تم سے کردوں گا اور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دونگا۔ یہ تینوں بھائی ہر بار ایمان پر ثابت قدم رہے اور بادشاہ کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ تین دن کے بعد بادشاہ نے بڑے بھائی کو پکارا اور اپنا مطالبہ دُہرایا، اس مردِ مجاہد نے انکار کیا۔ بادشاہ نے دھمکی دی میں تجھے اس دیگ میں پھنکوا دونگا۔ لیکن اس نے پھربھی انکارہی کیا۔ آخر بادشاہ نے طیش میں آ کر اسے دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا جیسے ہی اس نوجوان کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا، آناً فاناً اس کا سب گوشت پوست جل گیا اور اس کی ھڈیاں اوپر ظاہر ہوگئیں ، بادشاہ نے دوسرے بھائی کے ساتھ بھی اسی طرح کیا اور اسے بھی کھولتے تیل میں پھنکوا دیا۔ جب بادشاہ نے ا س قدر کڑے وقت میں بھی اسلام پرانکی استقامت اور ان ہوشربا مصائب پر صبر دیکھا تو نادم ہو کر اپنے آپ سے کہنے لگا: میں نے ان (مسلمانوں ) سے زِیادہ بہادُر کسی کونہ دیکھا اور یہ میں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ پھر اس نے چھوٹے بھائی کو لانے کا حکم دیا اور اسے اپنے قریب کر کے مختلف حیلے بہانوں سے ورغلانے لگالیکن وہ نوجوان اس کی چالبازی میں نہ آیا اور اس کے پائے ثبات میں ذرہ برابرلغز ش نہ آئی ، اتنے میں اس کا ایک درباری بولا: اے بادشاہ اگر میں اسے پُھسلا دوں تومجھے انعام میں کیا ملے گا؟ بادشاہ نے جواب دیا: میں تجھے اپنی فوج کاسپہ سالار بنا دونگا۔ وہ درباری بولا : مجھے منظور ہے، بادشاہ نے دریافت کیا: تم اسے کیسے پھسلا ؤ گے؟ درباری نے جواباً کہا: اے بادشاہ تم جانتے ہو کہ اہل عرب عورتوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ بات سارے رومی جانتے ہیں کہ میری فلانی بیٹی حسن و جمال میں یکتا ہے او ر پورے روم میں اس جیسی حسینہ کوئی اور نہیں۔ تم اس نوجوان کو میرے حوالے کر دو میں اسے اور اپنی اس بیٹی کو تنہائی میں یکجا کر دونگا اوروہ اسے پھسلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بادشاہ نے اس درباری کو چالیس دن کی مدّت دی اور اس نوجوان کو اس کے حوالے کر دیا، وہ درباری اسے لیکر اپنی بیٹی کے پاس آیا اور سارا ماجرا اسے کہہ سنایا۔ لڑکی نے باپ کی بات پر عمل پیرا ہونے پر رضا مندی کا اظہار کیا، وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ اس طرح رہنے لگا کہ دن کو روزہ رکھتا رات بھر نوافل میں مشغول رہتا۔ یہاں تک کہ مقررہ مدت ختم ہونے لگی تو بادشاہ نے اس لڑکی کے باپ سے نوجوان کا حال دریافت کیا۔ اس نے آ کر اپنی بیٹی سے پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ میں اسے پھسلانے میں ناکام رہی یہ میری طرف مائل نہیں ہو رہا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دونوں بھائی اس شہر میں مارے گئے اور انکی یاد اسے ستاتی ہے لہٰذا بادشاہ سے مہلت میں اضافہ کروا لو اورہم دونوں کو کسی اور شہر میں پہنچا دو۔ درباری نے سارا ماجرا بادشاہ کو کہہ سنایا۔ بادشاہ نے مہلت میں اضافہ کر دیا اور ان دونوں کو دوسرے شہر پہنچانے کا حکم دے دیا۔ وہ نوجوان یہاں بھی اپنے معمول پر قائم رہا یعنی دن میں روزہ رکھتا اور رات بھر عبادت میں مصروف رہتا، یہا ں تک کہ جب مہلت ختم ہونے میں تین دن رہ گئے تو وہ لڑکی بے تابانہ اس نوجوان سے عرض گزار ہوئی: میں تمہارے دین میں داخِل ہونا چاہتی ہوں اور یوں وہ مسلمان ہو گئی۔ پھر انہوں نے یہاں سے فرار ہونے کی ترکیب بنائی وہ لڑکی اصطبل سے دو گھوڑے لائی اور اس پر سوار ہو کر یہ اسلامی سلطنت کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایک رات انہوں نے اپنے پیچھے گھو ڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی ۔ لڑکی سمجھی کہ رومی سپاہی ان کا پیچھا کرتے ہوئے قریب آ پہنچے ہیں۔ اس لڑکی نے نوجوان سے کہا: آپ اس ربّ عَزَّوَجَلَّ سے جس پر میں ایمان لاچکی ہوں دُعا کیجئے کہ وہ ہمیں ہمارے دشمنوں سے نجات عطا فرمائے، نوجوان نے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ اس کے وہ دونوں بھائی جو شہید ہو چکے تھے ، فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتھ ان گھوڑوں پر سوار ہیں۔ اس نے ان کو سلام کیا پھر ان سے ان کے احوال دریافت کئے وہ دونوں کہنے لگے: ہم ایک ہی غوطے میں جنت الفردوس میں پہنچ گئے تھے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں تمہارے پاس بھیجا ہے۔ اس کے بعد وہ لوٹ گئے اور وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ ملک شام پہنچا اور اس کے ساتھ شادی کر کے وہیں رہنے لگا۔ ان تین بہادرشامی بھائیوں کا قصہ ملک شام میں بہت مشہور ہوا اور ان کی شان میں قصیدے کہے گئے جن کا ایک شعر یہ ہے : ؎
سَیُعطِی الصَّادِقینَ بِفَضلِ صِدقٍ
نَجَاۃً فی الحَیَاۃِ وَ فِی المَمَاتِ
ترجمہ: عنقریب اللہ عَزَّوَجَلَّ سچوں کو سچ کی برکت سے زندگی اور موت میں نجات عطا فرمائے گا۔ ( عُیُونُ الْحکایات ص ۱۹۷، ۱۹۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ان تینوں شامی بھائیوں نے ایمان پر استقامت کا کیسازبردست مظاہرہ کیا، ان کے دلوں میں ایمان کس قدرراسخ ہو چکا تھا، یہ عشق کے صرف بلندبانگ دعوے کرنے والے نہیں حقیقی معنیٰ میں مخلص عاشقانِ رسول تھے۔ دونوں بھائی جامِ شہادت نوش کر کے جنت الفردوس کی سرمدی نعمتوں کے حقدار بن گئے اور تیسرے نے روم کی حسینہ کی طرف دیکھا تک نہیں اور دن رات رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مصروف رہا اور یوں جو بہ نیت شکار آئی تھی خود اسیر بن کررہ گئی ۔ اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشکلات میں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مدد چاہنا اور یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! پکارنااہلِ حق کاقدیم طریقہ رہا ہے۔
یا رسول اللہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے
جس نے یہ نعرہ لگایا اُس کا بیڑا پار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اُس شامی نوجوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عزم و استِقلال اوراس کی ایمان پر استِقامت مرحبا! ذراغور تو فرمایئے! نگاہوں کے سامنے دو پیارے پیارے بھائی جامِ شہادت نوش کر گئے مگر اس کے پائے ثَبات کو ذرا بھی لغزِش نہیں آئی ، نہ دھمکیاں ڈرا سکیں نہ ہی قید و بند کی صُعُوبتیں اپنے عزم سے ہٹاسکیں۔ حق و صداقت کا حامی مصیبتوں کی کالی کالی گھٹاؤں سے بالکل نہ گھبرایا، طوفانِ بلا کے سیلاب سے اس کے پائے ثَبات میں جُنبش تک نہ ہوئی، خداو مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا شیدائی دنیا کی آفتوں کو بالکل خاطر میں نہ لایا۔ بلکہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں پہنچنے والی ہر مصیبت کا اس نے خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم کیا، نیز دنیا کے مال اور حُسن وجمال کالالچ بھی اس کے عزائم سے اس کو نہ ہٹا سکا اور اس مردِ غازی نے اسلام کی خاطر ہر طرح کی راحتِ دنیا کے منہ پر ٹھوکر مار دی۔ ؎
یہ غازی یہ تیرے پُراَسرار بندے جنہیں تو نے بَخشاہے ذوقِ خُدائی
ہے ٹھوکر سے دو نِیم صحرا و دریا سِمَٹ کر پہاڑ ان کی ہیبَت سے رائی
دو عالَم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومِن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشوَر کُشائی
آخِر کا ر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رہائی کے بھی خوب اَسباب فرمائے۔ وہ رومی لڑکی مسلمان ہو گئی اور دونوں رِشتۂ اِزدِواج میں بھی منسلِک ہو گئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ بھی دونوں جہاں کی سر خروئی کے تمنائی ہیں تو عاشقان رسول کے ساتھ مدنی قافلوں میں سنتوں کی تربیّت کے لیے سفراور روزانہ فکر مدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرکے ہر مدنی ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنالیجئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قَطْعی جنَّتی ہونے کے باوُجُود زَبان کی آفتوں سے بے حد خوف زدہ رہا کرتے تھے چُنانچِہ فرماتے ہیں: کاش میں گونگا ہوتا مگر ذِکرُاللّٰہ کی حد تک گویائی (یعنی بولنے کی صلاحیّت) حاصل ہوتی۔ (مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۰ا ص۸۷ تحتَ الحدیث: ۵۸۲۶)