30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھانا کھلانے کی فضیلت
(153)… حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنزَّہٌ عن الْعُیُوْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینۂ منورہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاتشریف لائے تولوگ جلدی سے آپ کی طرف لپکے، میں بھی آیاتاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدار کروں ۔جب میں نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کو دیکھا تودیکھتے ہی پہچان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی وہ یہ ہے کہ’’ کھانا کھلاؤ اورسلام عام کرو اوراپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرو اورجب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤگے۔‘‘ (1)
(154)…حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض کی : ’’افضل اعمال کون سے ہیں ؟ ‘‘حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانا ۔اس کی تصدیق کرنا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا اور مقبول حج۔‘‘ جب وہ جانے لگا توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے بلا کر ارشاد فرمایا : ’’ ان سے زیادہ آسان کھانا کھلانا اور نرمی سے گفتگو کرناہے۔‘‘ (2)
(155)… حضرت سیِّدُنا عمرو بن عبسہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوااورعرض کی :
’’ اسلام کیا ہے ؟‘‘توخَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ کھاناکھلانا اور نرمی سے گفتگو کرنا۔ ‘‘میں نے عرض کی : ’’ایمان کیا ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’صبر کرنا اورسخاوت کرنا۔‘‘ (3)
(156)…حضرت سیِّدُنا صہیب بن سنان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’تم میں بہتر وہ ہے جو کھانا کھلاتا ہے ۔‘‘ (4)
(157)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّد عالَم، نُورِمُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مغفرت کے اَسباب میں سے ایک سبب بھوکے مسلمان کو کھانا کھلاناہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :
اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ(۱۴) (پ۳۰، البلد : ۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان : یا بھوک کے دن کھانا دینا۔ (5)
(158)…حضرت سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رحمتِِ عالَم، نُورِمُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مغفرت کے اسباب میں سے کھانا کھلانا اورسلام کو عام کرنابھی ہیں ۔‘‘ (6)
(159)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ مُکَرَّم، نُورِمُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کھانا کھلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا اورپانی پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کھلانے والے کوجہنم سے سات خندقوں کی مسافت دور کر دے گا۔ ہر دو خندقوں کے درمیان 100 سال کی مسافت ہے۔‘‘ (7)
(160)…ام المومنین حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تک بندے کا دسترخوان بچھارہتا ہے فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں ۔‘‘ (8)
(161)… حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو سب سے زیادہ پسند وہ کھانا ہے جسے کھانے والے زیادہ ہوں ۔‘‘ (9)
(162)… حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
نے ارشاد فرمایا : ’’جس گھرمیں مہمان ہوں بھلائی اس گھر کی طرف کوہان میں چھری چلنے سے بھی زیادہ تیز پہنچتی ہے ۔‘‘ (10)
(163)…حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو اپنے مسلمان بھائی کی بھوک کو مٹانے کا اہتمام کرے اوراسے کھانا کھلائے یہاں تک کہ وہ سیر ہوجائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی مغفرت فرما دے گا۔‘‘ (11)
(164)…حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھوکے کو کھانا کھلائے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔‘‘ (12)
(165)… حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھوکے جگرکو ٹھنڈا کرنے والے (یعنی اسے کھانا کھلانے والے)سے محبت فرماتا ہے ۔‘‘ (13)
(166)… حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے اپنے مسلمان بھائی کوکوئی میٹھی چیز کھلائی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے محشر کی سختیاں دور فرما دے گا۔‘‘ (14)
(167)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک جنت میں بالاخانے ہیں جن کا اندرونی منظر باہر سے اوربیرونی منظر اندرسے نظر آتاہے ۔‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی : ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !یہ کس کے لئے ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ یہ اس کے لئے ہیں جو اچھی گفتگو کرے۔ کھاناکھلائے اوررات کو جب لوگ سورہے ہوں تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں قیام کرے۔‘‘ (15)
(168)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی : ’’حج کی(مانند) کونسی نیکی ہے؟ ‘‘توسرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’کھانا کھلانااورنرمی سے گفتگو کرنا۔‘‘ (16)
(169)…حضرت سیِّدُنابُدَیْل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے اپنے بھائی کو ایک لقمہ کھلانا دس درہم صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے اور دس درہم صدقہ کرنا مجھے غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘(17)
(170)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا : ’’اے ابن آدم ! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت کیوں نہ کی؟‘‘ وہ عرض کرے گا : ’’ اے میرے ربعَزَّوَجَلَّ! میں تیری عیادت کیسے کرتاحالانکہ تُوتو رب العالمین ہے ؟‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : ’’کیا تجھے علم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمارہے پھربھی تو نے اس کی عیادت نہ کی اگرتو اس کی عیادت کرتا توضرورمجھے اس کے پاس پاتا۔‘‘ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا : ’’اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانامانگا تونے مجھے کھانا کیوں نہ کھلایا ؟‘‘ وہ عرض کرے گا : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ تُو توتمام جہانوں کو پالنے والاہے ۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : ’’ کیا میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانانہ مانگاتھالیکن تو نے اُسے نہ کھلایا کیا تونہ جانتا تھا کہ اگرتو اسے کھانا کھلا دیتا تو اس کا اجر میرے پاس پاتا۔‘‘
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا : ’’اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا تونے مجھے پانی کیوں نہ پلایا۔‘‘ وہ عرض کرے گا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا تُو تو رب العالمین ہے ۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : ’’ کیا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی نہ مانگاتھالیکن تُونے اسے نہ پلایا۔ اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو ضرور اس کا اجرمیرے پاس پاتا۔‘‘ (18)
(171)…امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا اپنے دوستوں کو ایک صاع کھانے پر جمع کرنا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں بازار جاؤں اورایک لونڈی خرید کر آزاد کردوں ۔‘‘ (19)
(172)…حضرت سیِّدُنا عمرورَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ امام عالی مقام حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نے ان کے پاس پیغام بھیجاکہ’’ہم نے آپ کے لئے لذیذ کھانااورخوشبوتیار کی ہے۔ آپ اپنے ہم پلّہ لوگ دیکھیں اورانہیں ساتھ لے کر ہمارے پاس تشریف لے آئیں ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجد میں گئے اوروہاں جو مساکین وسائلین تھے انہیں لے کر گھر تشریف لے گئے ۔ ہمسایہ خواتین بھی آپ کی زوجہ کے پاس آگئیں اورکہنے لگیں : ’’خدا کی قسم تمہارے گھر تو مساکین جمع ہوگئے۔‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا اما م حسینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی زوجہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’میں تمہیں اپنے اس حق کی قسم دیتاہوں جو میرا تم پر ہے کہ تم کھانا اورخوشبو بچاکر نہیں رکھو گی ۔‘‘پھر انہوں نے ایسے ہی کیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے مساکین کو کھانا کھلایاپھر انہیں کپڑے پہنائے اورخوشبو لگائی۔
(173)…حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن ابوخالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سواری پر سوار مساکین کے پاس سے گزرے جو بچے کھچے ٹکڑے کھار ہے تھے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں سلام کیا۔مساکین نے آپ کو کھانے کی دعوت دی توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت مبارک تلاوت کی :
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادً اؕ (پ۲۰، القصص : ۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان : جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اورنہ فساد ۔
پھرسواری سے اتر آئے اوراُن کے ساتھ کھانا کھایا ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا : ’’میں نے تمہاری دعوت قبول کی۔اب تم میری دعوت قبول کرو۔‘‘پھرانہیں اپنے گھر لے گئے اورکھاناکھلایااورکپڑے اوردراہم عطا فرمائے۔‘‘ (20)
(174)…حضرت سیِّدُنا عمرو بن دیناررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ حضرت سیِّدُناعبداللّٰہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا دسترخوان کشادہ اور گفتگو اچھی ہوتی تھی ۔‘‘
(175)…حضرت سیِّدُنا ابو بکرقرشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حجاج کے لئے مصری کا ایک بہت بڑا ٹکڑا بنایاگیا جسے لوگ چوپایوں پر بھی نہ لادسکتے تھے ۔ پھر اُسے ایک چھکڑے سے کھینچ کرخلیفہ عبدالملک کے پاس لایا گیا۔ وہ اپنے گھر سے باہر نکلااور اس کے حجم کو دیکھ کراس کی ہیئت کا اندازہ لگایا۔مگراسے نہ سمجھ آیاکہ اس کا کیاکیاجائے؟ چند لمحات سوچ کر اپنے غلام کو آواز دی اورکہا : ’’ اسے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لے جاؤ۔‘‘اُن دنوں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ کے پاس ہی ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جب مصری کااتنابڑا ٹکڑا ان کے پاس لایا گیاتووہ بڑے متعجب ہوئے اورلوگ اسے دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا : ’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ عرض کی گئی : ’’ یہ مصری کا ٹکڑا ہے جوخلیفہ نے آ پ کے لئے بھیجا ہے ۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے باہر نکل کرایک ایسی چیز دیکھی جس کی مثل لوگوں نے پہلے نہ دیکھی تھی کچھ دیر غور وفکر کرنے کے بعدغلام سے فرمایا : ’’چمڑے کے بچھونے اور کلہاڑیاں لے آؤ۔‘‘ چنانچہ، اسے توڑنے کے لئے کلہاڑیاں لائی گئیں اورساتھ ہی چمڑے کے بچھونے بھی پیش کردئیے گئے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’ جس کے ہاتھ جو آئے وہ اسی کاہے ۔‘‘پھرآپ وہیں کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ ٹکڑا تما م کا تما م توڑ لیا گیا۔ جب یہ خبر خلیفہ عبدالملک کو پہنچی تو وہ بڑا متعجب ہوااورکہنے لگا : ’’وہ اس معاملے میں ہم سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔‘‘
(176)… حضرت سیِّدُنا عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُناسعد بن عبادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملا تو ایک اعلان کرنے والا لوگوں کے درمیان اعلان کر رہا تھا کہ’’ جو کوئی گوشت وچربی کھانا چاہے وہ سعد بن عبادہ کے گھر آجائے۔‘‘آپ فرماتے ہیں : پھر میری ملاقات ان کے بیٹے قیس سے ہوئی تووہ بھی یہی اعلان کر رہے تھے ۔حضرت سیِّدُنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دعا کی :
’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے کامل تعریف کرنے کی توفیق عطا فرما۔ مجھے بزرگی عطا فرمااوربزرگی تونیک اعمال میں ہے اورنیک اعمال مال سے ممکن ہیں ۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !قلیل مال مجھے کفایت نہیں کرسکتااورمیں بھی اس پر تکیہ نہیں کر سکتا ۔‘‘ (21)
(177)…حضرت سیِّدُنا نافعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روزہ رکھا کرتے اورحضرت سیِّدتُنا صفیہ بنت عبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان کی افطاری کے لئے کچھ بنا دیا کرتی تھیں ۔ ایک دن ان کے پاس عمدہ قسم کاانار لایاگیاتو دروازے پرایک سائل نے سوال کیا ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’یہ اُسے دے دو۔‘‘ لیکن حضرت سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : ’’ اُس کے لئے اِس سے بہترہے۔‘‘ پھرحضرت سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مجھ سے کہاکہ ’’ اسے فلاں چیز دے دو۔‘‘پھر جب وہ انار حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے سامنے پیش کیا گیاتوانہوں نے فرمایا : ’’ اسے اٹھاؤ اور کسی دوسرے سائل کو دے دوکیونکہ میں اسے صدقہ کرنے کی نیت کرچکا ہوں ۔‘‘
(178)… حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیمار ہوئے تو میں نے ان کے لئے ایک درہم کے انگور خریدے۔ جب وہ انگور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے پیش کئے توایک سائل نے آکر سوال کیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرما یا : ’’یہ اسے دے دو۔‘‘(میں نے دے دیئے)پھرمیں نے اس سائل کے پیچھے کسی کو بھیجا کہ سائل سے یہ انگوراس طرح خریدے کہ حضرت سیِّدُناعبداللّٰہبن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو پتا نہ چلے ۔ جب انگور دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کئے گئے تووہ سائل پھر آگیا ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پھر فرمایا : ’’یہ اُسے دے دو۔‘‘ تین مرتبہ اسی طرح ہوا اورہرمرتبہ سائل سے انگورخرید کر آپ کو پیش کئے گئے لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہر بار انگور آ نے والے سائل کو دینے کا حکم فرمایاحتی کہ لوگوں نے سائل کو اس طرح روکاکہ حضرت سیِّدُناعبداللّٰہبن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو خبر نہ ہوئی ۔(22)
(179)… حضرت سیِّدُنا خیثمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے حواریوں میں سے کچھ لوگوں کو بلایاانہیں کھانا کھلایااورپھرکھڑے ہو کر ارشادفرمایا : ’’عبادت گزاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرو۔‘‘ (23)
(180)… حضرت سیِّدُنا ابوقبیصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا خیثمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمیشہ کھجو ر کے حلوے کی ٹوکری اپنے تخت کے نیچے رکھا کرتے تھے۔ جب ان کے پاس قراء (یعنی قرآن پڑھنے والے) آتے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ حلوا انہیں کھلایا کرتے ۔ (24)
(181)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ’’ ہم جب بھی حضرت سیِّدُنا محمد بن سرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے پاس جاتے تووہ ہمیں کھجورکا حلوہ اورفالودہ کھلایا کرتے تھے۔‘‘ (25)
(182)… حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا محمد بن سرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے پاس گئے توانہوں نے فرمایا : ’’ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں کیا چیز پیش کروں ؟ گوشت اورروٹی تو تم سب کے گھر میں ہے۔‘‘ پھرآ پ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی لونڈی کوآواز دی اور شہد لانے کا کہااورپھرخودشہد ہمیں کھانے کے لئے ڈال کر دیتے۔ (26)
(183)… حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ابی عبلہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بیت المقدس کے ’’باب الاسباط‘‘ میں حضرت سیِّدتُنا ام درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس حاضر ہوا کرتے تو وہ ہمیں حدیث بیان فرماتیں ۔ جب ہم ان کے پاس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تووہ ہمارے لئے حلوا اوردیگرکھانے کی چیزیں منگوا لیا کرتیں ۔‘‘
(184)… حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
نے ارشاد فرمایا : ’’جب تمہارے سامنے میٹھی چیز پیش کی جائے تو اس میں سے ضرورکچھ لے لواورجب تمہیں خوشبو پیش کی جائے تو اس میں سے بھی ضرورکچھ لگالیاکرو۔‘‘ (27)
(185)… حضرت سیِّدُنا ابراہیمجمحی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی(دیہات کارہنے والا) حضرت سیِّدُنا عباس بن عبدالمطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر میں داخل ہوا۔آپ کے گھر کے ایک جانب حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
فتوی دیا کرتے ان سے جو بھی سوال کیا جاتا اس کا جواب دیتے اوردوسری جانب حضرت سیِّدُناعبیداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہر آنے والے کو کھانا کھلاتے ۔یہ دیکھ کراس اعرابی نے کہا : ’’جو دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتا ہے وہ عباس بن عبدالمطلب کے گھرضرور آئے کیونکہ یہ فتوی دیتے، لوگوں کوفقہ سکھاتے اورکھانا بھی کھلاتے ہیں ۔‘‘ (28)
(186)…حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبید اللّٰہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قربان گاہ میں جانور ذبح کرواکروہیں لوگوں میں تقسیم فرمادیاکرتے تھے ۔اسی وجہ سے مکۂ مکرمہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کے بازارمیں وہ جگہ ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی قربان گاہ کے نام سے مشہورہوگئی۔(29)
(187)…حضرت سیِّدُنا علی بن محمد مدائنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ ’’حضر ت سیِّدُناعبیداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
کے لئے ہر روز ایک اونٹ یا اس کے گوشت کے برابر بکریوں کو ذبح کیا جاتاتھا۔‘‘ (30)
(188)… حضرت سیِّدُنا ابان بن عثمانعََلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو رسوا کر نے کا ارادہ کیااور لوگوں کے سامنے جا کر کہنے لگاکہ’’عبیدا للہ بن عباس نے تمہیں بلایا ہے کہ آج دوپہر کا کھانا میرے پاس کھاؤ ۔‘‘یہ سن کر لوگ جو ق درجوق آناشروع ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا گھر بھر گیا ۔حضرت سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے دریافت فرمایا : ’’ لوگوں کو کیا ہوگیاہے ؟‘‘ عرض کی گئی : ’’حضور! آپ کا بھیجا ہوا شخص آیا تھا(اس نے اس طرح کہاہے)۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سارا ماجرا سمجھ گئے اور ارشاد فرمایا : ’’ دروازہ بند کردو ۔‘‘پھراپنے خدام سے کہا کہ ’’بازار سے سارے پھل لے آؤ ۔‘‘(جب وہ پھل لے آئے تو)لوگوں نے پھل شہد سے ملا کر کھائے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دوبارہ اپنے چند خدام سے کہاکہ’’ بھنا ہوا گوشت اورروٹیاں لے آؤ ۔‘‘ خدام روٹیاں لے آئے تولوگوں کو پیش کر دی گئیں ۔ جب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : ’’کیا ہم نے جس چیز کاارادہ(یعنی جواعلان) کیا تھا اسے پوراکردیا؟‘‘تو لوگوں نے عرض کی : ’’جی ہاں ۔‘‘پھرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ اگر اور لوگ بھی آجائیں تو ہمیں پرواہ نہیں ۔‘‘ (31)
(189)…حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ’’ حضر ت سیِّدُنااشعث بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو حضرت سیِّدُنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف عاریۃًہانڈی لینے کے لئے بھیجاتو حضرت سیِّدُنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’ ہانڈی کو بھردو۔‘‘پھراسے حضرت سیِّدُنا اشعث بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف بھیج دیا ۔ حضرت سیِّدُنا اشعث بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے واپس لوٹا دیا اورفرمایا : ’’میں نے تو خالی ہانڈی مانگی تھی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ کہہ کر ہانڈی دوبارہ بھیج دی کہ’’ ہم خالی برتن نہیں دیتے ۔‘‘ (32)
(190)…حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’تین لوگ ایسے ہیں جن کی برابر ی کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں اورچوتھا وہ شخص ہے کہ جس کی کفایت مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کرواسکتاہے ۔وہ تین لوگ جن کی میں برابری کرنے کی طاقت نہیں رکھتا : ایک وہ شخص جو اپنی مجلس میں میرے لئے جگہ کشادہ کرے۔دوسرا وہ جو شدید پیاس میں مجھے پانی پلائے۔ تیسرا وہ جس کے قدم میرے دروازے پر آنے جانے میں غبار آلود ہوں اور چوتھاشخص جس کی مدد اللہ عَزَّوَجَلَّہی مجھ سے کروا سکتا ہے وہ ہے جسے کوئی حاجت لاحق ہو اوروہ ساری رات اس فکرمیں جاگ کرگزاردے کہ میری حاجت کون پوری کرے گاجب صبح ہوتو مجھے حاجت پوری کرنے والا پائے یہی وہ شخص ہے کہ جس کی مددمجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کرواسکتاہے اورمجھے اس بات سے حیاآتی ہے کہ کوئی (اپنی حاجت کے لئے) تین مرتبہ میرے گھر تک چل کرآئے اورمیں اس کی مدد نہ کروں ۔‘‘
مسلمان بھائی کو لباس پہنانے کی فضیلت
(191)…حضرت سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤ منین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک دن صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی موجودگی میں اپنی نئی قمیص منگواکراسے زیب تن فرمایا ۔میرا گمان ہے کہ انہوں نے قمیص پہننے سے پہلے یہ دعا پڑھی : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَ تَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَا تِیْ یعنی : تما م تعریفیں اس خدا کے لئے جس نے مجھے پہنایااورمیرے ستر کو ڈھانپااوراس سے میں اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتاہوں ۔‘‘پھر فرمایا : میں نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نیا لباس زیب تن فرمایااوریہی دعا پڑھی جو میں نے پڑھی۔ پھرآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جو بھی مسلمان نیا لباس پہنے اوریہ دعا پڑھے پھر اپناپرانا لباس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کسی مسلمان مسکین فقیر کو دے دے توجب تک اس پرکپڑے کا ایک دھاگا بھی باقی رہے گاوہ بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ وامان اورقرب میں رہے گا چاہے یہ(دینے والا ) زندہ ہویا مرجائے۔‘‘(33)
(192)…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھوکے مسکین کو کھانا کھلائے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنتی کھانا کھلائے گا۔جو پیاسے کو پانی پلائے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قیامت کے دن مہر لگائی ہوئی خالص شرابِ طہور سے سیراب فرمائے گااورجو کسی برہنہ کو لباس پہنائے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے سبز جنتی حلے پہنائے گا۔‘‘ (34)
1 سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب۴۲، الحدیث : ۲۴۹۳، ج۴، ص ۲۱۹.
2 مجمع الزوائد، کتاب الایمان، با ب ای العمل افضل…الخ، الحدیث : ۲۰۲۔ ۲۰۱ ، ج۱، ص۲۲۵۔۲۲۴.
3 مجمع الزوائد، کتاب الایمان، با ب ای العمل…الخ، الحدیث : ۲۱۰، ج۱، ص۲۲۷.
4 المسندللامام احمدبن حنبل، حدیث صہیب بن سنان، الحدیث : ۲۳۹۸۱، ج۹، ص۲۴۰.
5 المستدرک للحاکم، کتاب التفسیر، باب اطعام المسلم السغبان…الخ، الحدیث : ۳۹۹، ج۳، ص۳۷۲.
6 المعجم الکبیر، الحدیث : ۴۶۹، ج۲۲، ص۱۸۰.
7 شعب الایمان للبیہقی، باب فی الزکوٰۃ، فصل فی الطعام وسقی الماء، الحدیث : ۳۳۶۸، ج۳، ص۲۱۷.
المعجم الاوسط، الحدیث : ۴۷۲۹، ج۳، ص۳۲۴.8
1 المسندلابی یعلی الموصلی، مسندجابربن عبداللّٰہ، الحدیث : ۲۰۴۱، ج۲، ص۲۸۸.
10 سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الضیافۃ، الحدیث : ۳۳۵۶، ج۴، ص۵۱.
11 المسندلابی یعلی الموصلی، مسندانس بن مالک، الحدیث : ۳۴۰۷، ج۳، ص۲۱۴.
12 تمہیدالفرش فی الخصال موجبۃ لظل العرش للسیوطی، ذکرالسبعتین اللتین… الخ، ص۸.
1 الکنی والاسماء لدولابی، باب من کنیت ابویحیی، الحدیث : ۲۰۸۱، ج۳، ص۱۱۸۸، برد بدلہ یشبع،
14 الفردوس بماثورالخطاب، باب المیم، الحدیث : ۶۰۵۰، ج۲، ص۲۸۱.
15 المستدرک للحاکم، کتاب صلاۃ التطوع، باب صلاۃ الحاجۃ، الحدیث : ۱۲۴۰، ج۱، ص۶۳۱.
1 السنن الکبری للبیہقی، کتاب الحج، باب فضل الحج والعمرہ، الحدیث : ۱۰۳۹۰،
ج۵، ص۴۳۰، لین الکلام بدلہ طیب الکلام.
17 شعب الایمان للبیہقی، باب فی اکرام الضیف، فصل فی التکلف للضیف،
الحدیث : ۹۶۲۷، ج۷، ص۱۰۰.
1 صحیح المسلم، کتاب البروالصلۃوالآداب، باب فضل عیادۃ المریض، الحدیث : ۲۵۶۹، ص۱۳۸۹.
19 کنزالعمال، کتاب الضیافہ من قسم الافعال، الحدیث : ۲۵۹۶۷، ج۵، جز۹، ص۱۱۸.
1 تفسیرقرطبی، سورۃ القصص، تحت الآیۃ : ۸۳، ج۷، ص۲۴۰.
1 المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الادب، باب ماذکرفی الشح، الحدیث : ۱۴۔۱۳، ج۶، ص۲۵۴.
1 المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الادب، باب ماذکرفی الشح، الحدیث : ۱۴۔۱۳، ج۶، ص۲۵۴.
23 شعب الایمان للبیہقی، باب فی اکرام الضیف، فصل فی التکلف للضیف، الحدیث : ۹۶۲۷، ج۷، ص۱۰۰.
1 حلیۃ الاولیاء ، الرقم۲۵۴خیثمہ بن عبدالرحمن، الحدیث : ۴۹۷۴، ج۴، ص۱۲۱.
25 حلیۃ الاولیاء ، الرقم۱۹۳ابن سرین، الحدیث : ۲۳۲۱، ج۲، ص۳۰۵.
26 حلیۃ الاولیاء ، الرقم۱۹۳ابن سرین، الحدیث : ۲۳۲۳، ج۲، ص۳۰۵.
1 مجمع الزوائد، کتاب الاطعمہ، باب فی الحلوی، الحدیث : ۷۹۹۱، ج۵، ص۴۶، بتغیرٍقلیلٍ.
28 تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر، الرقم۴۴۵۶عبیداللّٰہ بن عباس، ج۳۷، ص۴۸۰.
29 تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر، الرقم۴۴۵۶عبیداللّٰہ بن عباس، ج۳۷، ص۴۷۲.
1 تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر، الرقم۴۴۵۶عبیداللّٰہ بن عباس، ج۳۷، ص۴۸۱، بدون اومثل ذلک من الجزورمن الغنم.
1 تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر، الرقم۴۴۵۶عبیداللّٰہ بن عباس، ج۳۷، ص۴۷۲.
32 اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن اثیر، الرقم۳۶۰۴عدی بن حاتم، ج۴ص۱۲.
1 کتاب الدعاء لطبرانی، باب القول عندلبس الثیاب، الحدیث : ۳۹۳، ص۱۴۲.
1 سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث : ۲۴۵۷، ج۴، ص۲۰۴.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع