30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیکیاں ہو چکیں اور حق باقی ہیں تو اُن (حق والوں ) کے گناہ لے کر اس پر ڈالے گئے پھر جہنَّم میں پھینک دیا گیا ۔
والعیاذ باللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔
غرض حقوق العباد بے اُن کی معافی کے معاف نہ ہوں گے (جب تک بندے اپنے حقوق معاف نہیں کریں گے اس وقت تک حق تلفی کرنے والے کومعافی نہیں ملے گی) ولہٰذا مروی ہوا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ((الغیبۃ أشدّ من الزنا)) ۔
کسی نے عرض کی : یہ کیونکر؟ فرمایا : ((الرجل یزني ثم یتوب، فیتوب اللہ علیہ، وإنّ صاحب الغیبۃ لا یغفر لہ حتی یغفر لہ صاحبہ)) ۔
رواہ ابن أبي الدنیا في’’ذم الغیبۃ‘‘ والطبراني في ’’الأوسط‘‘([1]) عن جابر بن عبد اللہ وأبي سعید الخدري، والبیھقي عنھما وعن أنس رضي اللہ تعالی عنھم ۔
زانی توبہ کرے تو اللہ تعالٰی قبول فرمالے اور غیبت والے کی مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی ہے ۔
(ابن ابی الدنیا نے ’’ذم الغیبۃ‘‘ میں اور امام طبرانی نے ’’الاوسط‘‘میں حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابو سعید خدری سے اور امام بیہقی نے ان دونوں کے علاوہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے بھی اس کی روایت فرمائی ۔ ت)
پھر یہاں معاف کرا لینا سہل (آسان) ہے قیامت کے دن اس کی اُمید مشکل کہ وہاں ہر شخص اپنے اپنے حال میں گرفتار، نیکیوں کا طلبگار، برائیوں سے بیزار ہوگا ۔ پَرائی نیکیاں اپنے ہاتھ آتے اپنی بُرائیاں اس(دوسرے ) کے سَر جاتے کسے بُری معلوم ہوتی ہیں ! یہاں تک کہ حدیث میں آیا ہے کہ ماں باپ کا بیٹے پر کچھ دَین آتا ہو گا اسے روز ِقیامت لپٹیں گے کہ ہمارا دَین دے وہ کہے گا میں تمہارا بچہ ہوں ، یعنی شاید رحم کریں ، وہ تمنا کرینگے کاش اور زیادہ ہوتا! ۔
الطبراني([2]) عن ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہقال : سمعترسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یقول : ((إنّہ یکون للوالدین علی ولدھما دین فإذا کان یوم القیامۃ یتعلقان بہ، فیقول : أنا ولدکما، فَیَوَدَّانِ أو یَتَمَنَّیَانِ لو کان أکثرَ من ذلک)) ۔
’’طبرانی ‘‘ میں ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے کہ والدین کا بیٹے پر دَین ہوگا قیامت کے روز والدین بیٹے پر لپٹیں گے تو بیٹا کہے گا میں تمہارا بیٹا ہوں تو والدین کو حق دلایا جائے گا اور تمنا کریں گے کاش! ہمارا حق اور زائد ہوتا ۔ (ت)
جب ماں باپ کا یہ حال تو اوروں سے امید خام خیال (بیکار)، ہاں ! کریم ورحیم مالک ومَوْلیٰ جل جلالہٗ وتبارَکَ وتعالیٰ جس پر رحم فرمانا چاہے گا تو یوں کرے گا کہ حق والے کو بے بَہا قُصورِ جنت ( جنت کے انمول محلّات) معاوضہ میں عطا فرما کر َعفوِ حق (حق معاف کرنے ) پر راضی کر دے گا ایک کرشمۂ کرم میں دونوں کا بھلا ہوگا نہ اس کی حسنات (نیکیاں ) اُسے دی گئیں نہ اُس کی سیئات (برائیاں ) اِس کے سر رکھی گئیں نہ اُس کا حق ضائع ہونے پایا بلکہ حق سے ہزاروں درجے بہتر ا فضل پایا رحمتِ حق کی بندہ نوازی ظالم ناجی، مظلوم راضی ۔ ([3])
فلِلّٰہِ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضی ۔
پس اللہ تعالٰی ہی کیلئے ہے ایسی حمد وثنا جو بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت ہے جیساکہ ہمارے رب کی پسند اور رِضاہے ۔ (ت)
حدیث میں ہے :
بینارسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جالس إذ رأیناہ ضحک حتی بدت ثنایاہ، فقال لہ عمر : ما أضحکک یا