دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Huquq Ul Ibad Kaisay Maaf Hon | حقوق العباد کیسے معاف ہوں

book_icon
حقوق العباد کیسے معاف ہوں

الدیوان الذي لا یترک اللہ منہ شیئًا :  فمظالم العباد بینھم القصاص لا محالۃ)) ۔

رواہ الإمام أحمد في ’’المسند‘‘ والحاکم في ’’المستدرک‘‘ عن أمّ المؤمنین  الصدّیقۃ رضي اللہ  تعالی عنھا ۔ ([1])

اللہ تعالٰی کو کچھ پروا نہیں  اور ایک دفتر میں  سے اللہ تعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں  اصلاً معافی کی جگہ نہیں  وہ تو کفر ہے کہ کسی طرح نہ بخشا جائیگا اور وہ دفتر جس کی اللہ عَزَّ    وَجَلَّ کو کچھ پروا نہیں  وہ بندے کا گناہ ہے خالص اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں  کہ کسی دن کا روزہ ترک کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی اللہ تعالٰی چاہے تو اسے معاف کر دے اور در گزر فرمائے اور وہ دفتر جس میں  سے اللہ تعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں  کا آپس میں  ایک دوسرے پر ظلم ہے کہ اس میں  ضرور بدلہ ہونا ہے ۔

(امام احمد نے ’’مسند‘‘ میں  اور حاکم نے ’’مستدرک‘‘ میں  ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اس کی روایت فرمائی ۔ ت)

            یہاں  تک کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ((لتُؤدُّنَّ الحقوقَ إلی أھلہا یوم القیامۃ، حتی یُقاد للشاۃ الجَلْحَاء من الشاۃ القرناء تَنطِحُہا)) ۔ رواہ الأئمۃ أحمد في ’’المسند‘‘([2])

ومسلم في ’’صحیحہ‘‘ والبخاري في ’’الأدب المفرد‘‘، والترمذي في ’’الجامع‘‘ عن أبي ھریرۃ رضي اللہ تعالی عنہ ۔

بیشک روز قیامت تمہیں  اہل حقوق کو ان کے حق ادا کرنے ہوں  گے یہاں  تک کہ مُنڈی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا کہ اسے سینگ مارے ۔   

(ائمہ کرام نے اس کو روایت کیا مثلاً امام احمد نے ’’مسند ‘‘میں ، امام مسلم نے ’’صحیح مسلم‘‘ میں ، ا مام بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں ، اور امام ترمذی نے ’’جامع ‘‘میں  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ۔  ت)

          ایک روایت میں  فرمایا :  ((حتی الذرۃ من الذرۃ)) ۔  رواہ الإمام أحمد بسند صحیح ۔ ([3])

یہاں  تک کہ چیونٹی سے چیونٹی کا عوض لیا جائیگا  ۔ (اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔  ت)

          پھر وہاں  روپے اشرفیاں  تو ہیں  نہیں  کہ معاوضۂ حق (حق کے بدلے ) میں  دی جائیں ۔  طریقۂ اَدا یہ ہوگا کہ اِس کی نیکیاں  صاحبِ حق کو دی جائیں  گی اگر ادا ہو گیا غنیمت، ورنہ اُس کے گناہ اس پر رکھے جائیں  گے یہاں  تک کہ ترازوئے عدل میںوزن پورا ہو ۔  احادیث ِکثیرہ اس مضمون میں  وارد ، ازاں  جملہ (ان میں  سے ) حدیث ’’صحیح مسلم‘‘ وغیرہ ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے :  

أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :  ((أتدرون من المفلس؟)) قالوا :  المفلس فینا من لا درھمَ لہ ولا متاع فقال :  ((إنّ المفلس من أمّتي، مَن یأتي یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام وزکاۃ، ویأتي  قد شتم ھذا، وقذف ھذا، وأکل مال ہذا، وسفک دم ھذا، وضرب ھذا، فیعطی ھذا من حسناتہ وھذا من حسناتہ، فإن فَنِیَتْ حسناتُہُ قبل أن یقضی ما علیہ، أُخذَ من خطایاھم فطُرِحت علیہ، ثُمّ طُرِح في النار)) ۔  ([4])

یعنی :  حضور اقدس سیّد ِعالم  صلی اللہ تعا لیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :  جانتے ہومفلس کون ہے ؟ صحابہ نے عرض کی :  ہمارے یہاں  تو مفلس وہ ہے جس کے پاس زَر ومال نہ ہو ۔  فرمایا :  میری اُمّت میں  مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے ، زکوٰۃ لے کر آئے اور یوں  آئے کہ اِسے (یعنی کسی دوسرے شخص کو ) گالی دی ، اِسے زنا کی تہمت لگائی، اس کا مال کھایااس کا خون گرایا، اسے مارا تو اس کی نیکیاں  اسے (صاحبِ حق کو) دی گئیں  پھر اگر



[1]    ’’المستدرک‘‘، کتاب الأہوال، باب الدواوین ثلاثۃ، الحدیث :  ۸۷۵۷، ج۵، ص۷۹۴-۷۹۵ ۔   و’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث :  ۲۶۰۹۰، ج۱۰، ص۸۲ ۔

[2]    ’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث :  ۸۰۰۲، ج۳، ص۱۶۳ ۔

[3]    ’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث :  ۸۷۶۴، ج۳، ص۲۸۹ ۔

[4]    ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب البر والصلۃ وآداب، الحدیث :  ۲۵۸۱، ص ۱۳۹۴ ۔ و’’شعب الإیمان‘‘، باب في حشر الناس     إلخ، فصل في القصاص، الحدیث :  ۳۴۴، ج۱، ص۳۰۳ ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن