دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Huquq Ul Ibad Kaisay Maaf Hon | حقوق العباد کیسے معاف ہوں

book_icon
حقوق العباد کیسے معاف ہوں

قسمِ اول میں  تمام صُوَرِ عُقُوْدْ ومطالبۂ مالیہ داخل([1])، دوسری میں  قول وفعل وترک کو دِین، آبرو، جان، جسم، مال، قلب  میں  ضرب دینے سے اٹھارہ انواع حاصل، ہر نوع صدہا  صورتوں  کو شامل، تو کیونکر گِنا سکتے ہیں  کہ حقوق العباد کس قدر ہیں ([2])، ہاں ! اُن کا ضابطۂ کلیہ بتا دیا گیا ہے کہ ان دو قسموں  (دَین اور ظُلْم میں ) سے جو اَمر جہاں  پایا جائے اُسے حقُّ العبد جانے ، پھر حق کسی قسم کا ہو جب تک صاحب ِحق مُعاف نہ کرے مُعاف نہیں  ہوتا ۔  حقوق اللہ میں  تو ظاہر کہ اس کے سوا دوسرا معاف کرنے والا کون؟!

{ وَ  مَنْ  یَّغْفِرُ  الذُّنُوْبَ  اِلَّا  اللّٰهُ  ﳑ }([3])

کون گناہ بخشے اللہ کے سوا ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہ معافی کریم غنی قدیر رؤف رحیم کے ہاتھ ہے ۔

والکریم لا یأتي منہ إلاّ الکرم ۔ ( کریم کرم ہی فرماتا ہے ) ۔

          اور حقوق العباد میں  بھی مَلِکِ دَیّان (جزا وسزادینے والے بادشاہ) عزّجلالہٗ نے اپنے دارُ العَدْل  کا یہی ضابطہ (قانون) رکھا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوگا اگرچہ مولیٰ تعالیٰ ہمارا اور ہمارے جان ومال وحقوق سب کا مالک ہے اگر وہ بے ہماری مرضی کے ہمارے حقوق جسے چاہے معاف فرما دے تو بھی عین حق وعدل ہے کہ ہم بھی اسی کے اور ہمارے حق بھی اسی کے مقرر فرمائے ہوئے ، اگر وہ ہمارے خون ومال وعزت وغیرہا کو معصوم ومحترم نہ کرتا تو ہمیں  کوئی کیسا ہی آزار (تکلیف) پہنچاتا نام کو بھی ہمارے حق میں  گرفتار نہ ہوتا ۔  یوہیں  اب اس حُرمت وعِصْمَت کے بعد بھی جسے چاہے ہمارے حقوق چھوڑ دے ہمیں  کیا مجالِ عذر ہے ([4]) مگر اس کریم رحیم جلّ وعَلا کی رحمت کہ ہمارے حقوق کا اختیار ہمارے ہاتھ رکھا ہے بے ہمارے بخشے معاف ہو جانے کی شکل نہ رکھی کہ کوئی ستم رسیدہ (مظلوم) یہ نہ کہے کہ اے مالک میرے ! میں  اپنی داد کو نہ پہنچا (یعنی :  مجھے انصاف نہیں  ملا) ۔

          حدیث میں  ہے حضور پُرنور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :

((الدواوین ثلاثۃ :  فدیوان لا یغفر اللہ منہ شیئًا، ودیوان لا یعبأ اللہ بہ

یعنی دفتر تین ہیں ، ایک دفتر میں  سے اللہ تعالٰی کچھ نہ بخشے گا اور ایک دفتر کی

شیئًا، ودیوان لا یترک اللہ منہ شیئًا، فأمّا الدیوان الذي لا یغفر اللہ منہ شیئًا :  فالإشراک باللہ عزّ وجَلّ، وأمّا الدیوان الذي لا یعبأ اللہ بہ شیئًا :  فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربّہ من صوم یوم ترکہ أو صلاۃ  ترکہا، فإنّ اللہ تعالی یغفر ذلک ویتجاوز إن شائ، وأمّا



[1]    =  (۲) بعض مظلمہ دَین نہیں ہوتے :   مثلاً :   ’ ’کسی کو گالی دینا‘‘کہ اس طرح گالی دینے سے اگرچہ گالی دینے والے کے ذمہ پر کوئی مطالبۂ مالی تو لازم نہیں آیا لیکن دوسرے مسلمان کو اس کے اِس فعل سے تکلیف ضرور پہنچی جوکہ مظلمہ ضرور ہے اگرچہ دَین نہیں ۔

(1) ہر وہ صورت جس میں مال دینا لازم ہو خواہ وہ خرید و فروخت و معاملات کی وجہ سے ہو یاغصب، چوری، رشوت، سود کی وجہ سے ہو یہ سب قسمِ اول یعنی دَین میں داخل ہیں ۔  

[2]    کسی کے دِین، عزت ، جان ، جسم، مال اوردل کو کسی بات یا فعل سے جان بوجھ کر یا انجانے میں تکلیف پہنچانے سے حقوق العباد کی کل اٹھارہ قسمیںبن جاتی ہیں جوکہ دوسری قسم یعنی ظلم کے زمرے میں آتی ہیں پھر اسی طرح ہر ایک کو دوسرے سے ضرب دینے سے حقوق العبا د کی سیکڑوں صورتیں بن جاتی ہیں جن کو شمار بھی نہیں کیاجاسکتا ہے ۔

[3]    پ۴، آل عمران :  ۱۳۵ ۔

[4]    اگراﷲ تعالیٰ ہماری جان ومال ، عزت و آبرو کو قابلِ احترام نہ کرتا توکوئی کیسی ہی ہمیں تکلیف پہنچاتا ہمارے حق میں اس سے پوچھا بھی نہ جاتا ۔ ہمیں یہ عزت و عظمت عطا کرنے کے باوجود بھی اگر ہمارے حقوق دوسروں کو معاف کردے تویہ بھی اس کا عدل وانصاف ہے ہمیں اتنی جرأت کہاں کہ اس کے دربار میں شکوہ کریں ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن