دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Huquq Ul Ibad Kaisay Maaf Hon | حقوق العباد کیسے معاف ہوں

book_icon
حقوق العباد کیسے معاف ہوں

مسئلہ : حق العباد بھی کسی طرح معاف ہو سکتا ہے بغیر اس کے معاف کے ، جس کا حق ہے صاف اِرقام (تحریر) فرمائیے ، اور حق العباد کس قدر ہیں ؟بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا ( بیان فرمائیے ، اجر پائیے ) ۔

الجواب

            حق العبد ہر وہ مطالبۂ مالی ہے کہ شرعا ًاس کے ذمہ کسی کے لئے ثابت ہو اور ہر وہ نقصان وآزار (تکلیف) جو بے اجازتِ شرعیہ کسی قول، فعل، تَرْک سے کسی کے دِین، آبرو، جان، جسم، مال یا صرف قلب کو پہنچایا جائے ۔  تو یہ دو قسمیں  ہوئیں ، اول کو دُیُون([1])، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ثانی کو مَظالِم([2])، اور دونوں  کو تَبِعات([3])اور کبھی دُیُون بھی کہتے ہیں   ۔

          ان دونوں  قسم میں  نسبت عُمُوْمْ خُصُوْصْ مِنْ وَجْہٍہے یعنی کہیں  تو دَین پایا جاتا ہے مَظْلِمَہ (ظلم)  نہیں ، جیسے خریدی چیز کی قیمت، مزدور کی اُجرت، عورت کا مہر وغیرہا دُیُون کہ عقود ِجائزہ شرعیّہ (جائز شرعی قول وقرار) سے اس کے ذمہ لازم ہوئے اور اس نے اُن کی ادا میں  کمی وتاخیرِ نارَوَا  نہ بَرْتی  (بے جا تاخیر نہ کی) یہ حق العبد تو اس کی گردن پر ہے مگر کوئی ظُلْم نہیں ۔  اور کہیں  مظلمہ پایا جاتا ہے دَین نہیں  جیسے کسی کو مارا، گالی دی، بُرا کہا، غیبت کی کہ اس کی خبر اسے پہنچی، یہ سب حُقوق العبد وظُلم ہیں  مگر کوئی دَین واجبُ الادا نہیں ، (ان صورتوں  میں  تکلیف تو پہنچائی لیکن اس پرمال دینا لازم نہیں  ہوا) اور کہیں  دَین اور مظلمہ دونوں  ہوتے ہیں  جیسے کسی کا مال چرایا، چھینا، لوٹا، رشوت، سود، جُوئے میں  لیا، یہ سب دُیُون بھی ہیں  اور ظلم بھی([4]) ۔

 



[1]    دُیون دَین کی جمع ہے ۔

  دَین کی تعریف :  ایسی چیز جو کسی کے ذمہ کسی عقد یا فعل کے سبب لازم ہوجائے ’’دَین‘‘ ہے ۔  مثلا :  ادھار خرید وفروخت کی وجہ سے جوچیز ذمہ پر لازم ہو، اسے ’’دَین ‘‘ کہتے ہیں ، ایسے ہی کسی کی چیز کو ہلاک کرنے پر جو ضمان (تاوان) لازم آتا ہے ، اسے بھی ’’دَین‘‘ کہتے ہیں ، اور اسی طر ح کسی سے روپے پیسے قرض لینے کی صورت میں جو چیز ذمہ پر واپس دینا لازم آئے ، اسے بھی ’’ دَین‘‘ کہتے ہیں ۔  (’’القاموس الفقہي‘‘، ص۱۳۳) ۔

[2]    مظالِم مَظْلِمَۃٌ کی جمع ہے جس کے معنی ظلم وستم ونا انصافی کے ہیں ۔

[3]    تَبِعات تَبِعَۃٌ کی جمع ہے جس کا معنی تاوان یا ڈنڈ ہے ۔

[4]    مذکورہ بالامنطقی طرز پر مبنی تفصیل کو عام فہم زبان میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ حقوق العبادکی دو قسمیں ہیں :  

 (۱)  دُیُون (مطالبہ ٔمالی)  ۔

 (۲)  مَظالِم(ظلم وستم ، یعنی :  اجازت ِشرعی کے بغیر کسی کو اپنے کسی قول ، فعل یا کسی نا مناسب حرکت کے ذریعے تکلیف پہچانا)  ۔

                 انسان جن دو طرح کے حقوق میں گرفتار ہوجاتا ہے کبھی ان کا تعلق صرف دُیُون سے ہوتا ہے اور کبھی صرف مظالم سے ، اور کبھی کبھار وہ اپنے قول و فعل سے اس طرح کی حرکت کر بیٹھتا ہے کہ حقوق العباد کی دونوں ہی قسمیں پامال ہو جاتی ہیں  ۔مذکورہ بالا سطور میں اعلیٰ حضرت عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ نے حقوق العباد کی تقسیم دُیُون اور مَظالِم کی صورت میں ارشاد فرمائی اور پھر مزید ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کے مابین عُمُوم خُصُوص مِنْ وَجْہٍ کی نسبت ہے جو کہـ’’علمِ منطق‘‘ کی ایک اصطلاح ہے ۔ اس اصطلاح کی تعریف اورتفصیل جاننے سے پہلے چند ایک ضروری اصطلاحات ملاحظہ فرمالیں : 

            مفہوم :  کسی بھی چیز کا وہ تصور جو ذہن میں حاصل ہو وہ اس چیز کا مفہوم کہلاتا ہے ۔

                مفہوم کی دو قسمیں ہیں :   (۱) کلی   (۲) جزئی

            کلی :   جو تصور ذہن میں حاصل ہواس کا اطلاق اگرکثیر افراد پر ہو تو اسے ’’ کلی‘‘کہتے ہیں ، جیسے :  انسان کہ اسکا اطلاق ہر فرد انسانی پر ہوتا ہے ۔

            جزئی :   جو تصور ذہن میں حاصل ہو اس کا اطلاق اگرکثیر افراد پرنہ ہو بلکہ کسی معین شخص یا بعض معین اشخاص پر ہو تو اسے ’’ جزئی‘‘کہتے ہیں ۔  جیسے :  زید اورمرد کہ’’ زید‘‘ کا اطلاق ایک معین شخص جبکہ’’مرد ‘‘کا اطلاق چند معین اشخاص (جو مرد ہیں اُن) پر ہوتا ہے  ۔

نسبت عموم خصوص من وجہ کی تعریف :  

            چنانچہ نسبت عموم خصوص من وجہ سے مراد وہ نسبت ہے کہ اس نسبت کی وجہ سے دونوں کلیوں (جن دو کلیوں میں یہ پائی جارہی ہے ) کے بعض افراد دوسری کلی کے بعض پر صادق آئیں لیکن دونوں کلیوں میں سے کسی بھی کلی کے تمام افراد دوسری کلی کے تمام پر صادق نہ آتے ہوں ۔  مثلاً دَین اور مظلمہ کو ہی لے لیجیے کہ یہ دونوں باعتبارِ مفہوم کلی ہیں کہ ہر ایک کے باعتبارِ مفہوم کثیر افراد ہیں ۔

                 مثلاً :   دَین ایک کلی ہے جسکے افراد :  خریدی چیز کی قیمت، مزدور کی اجرت، عورت کا مہر وغیرہا ہیں ۔  اور مظلمہ بھی ایک کلی ہے جسکے افراد :   مارنا ، گالی دینا، بُرا کہنا وغیرہاہیں ۔ =

علم منطق کی روشنی میں مادہ ٔاجتماع کی تعبیر بصورتِ مثال :

            بعض دیون مظلمہ ہوتے ہیں جیسے ’’کسی کا مال چرانا‘‘  ۔

                 مذکورہ بالامثال میں دو نوں کلیوں یعنی مظلمہ اور دَین کے بعض افراد بعض کے ساتھ جمع ہوگئے کہ ایک طرف تو مال چُرا کر اپنے ذمہ پر اس مال کی ادائیگی لازم کرلی جو سراسرمطالبۂ مالی ہے اور دَین کے افراد میں سے ہے او ر پھر اپنے اس عمل سے اس دوسرے شخص کو تکلیف پہنچائی جوکہ مظلمہ ہے ۔

            نوٹ :    مذکورہ مثال میں دیون کو لفظِ بعض کے ساتھ ذکر کیا (یعنی بعض دیون مظلمہ ہوتے ہیں)نہ کہ تمام یا اکثر کے لفظ کے ساتھ (یعنی تمام یا اکثردیون مظلمہ ہوتے ہیں) کیونکہ ایسی دو کلیاں جن میں عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہو، ان میں کسی بھی جانب سے ایک کلی کے تمام افراد دوسری کلی کے تمام افراد پر صادق نہیں آسکتے ۔

 علمِ منطق کی روشنی میں مادہ ٔافتراق کی تعبیر بصورت ِمثال  :

(۱) بعض دَین   مظلمہ  نہیں ہوتے :  مثلاًکسی سے جائز شرعی اصول و قوانین کے مطابق کوئی چیز خرید کر اپنے اوپر اس چیز کی قیمت لازم کرلینا ۔ کہ اب اس خریدنے والے پردوسرے شخص کا مال بطور دَین توہے لیکن کوئی ظلم و زیادتی نہیں  ۔ =

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن