30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدنی حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کا پڑوس نصیب فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
![]()
رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اعلی حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، مولانا الشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن زبردست عالمِ دین، عظیم مفسِّر ومحدِّث ا ورفقیہ بے بدل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین متین کی حفاظت وصیانت، شانِ اُلوہیت کی پاسبانی اور مقامِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگہبانی میں گزار دی، ساتھ ساتھ علومِ دِینیہ ودُنیویہ مثلاً : عقائد وکلام، تفسیر واصولِ تفسیر، حدیث واصولِ حدیث، فقہ و اصولِ فقہ ، معانی وبدیع، نظم ونثر، سائنس وفلسفہ، حساب وجیومیٹری، توقیت وہندسہ، فلکیات ونُجوم، سیاسیات ومعاشیات اور دیگر بے شمار علوم کی خدمت میں اپنے آپ کو مصروف رکھا ان تمام تر علمی اور تحقیقی خدمات پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بے شمار تصانیف شاہد عدل ہیں خصوص بالخصوص ۳۳ جلدوں پر مشتمل ’’فتاوی رضویہ شریف‘‘ اُمتِ مسلمہ کی اِصلاح کے لیے ایک انمول تحفہ ہے جس کی فیض رسانیاں علماء، فضلاء، مشائخِ کرام، مُفتیانِ عظام، پروفیسرز واِسکالرز الغرض ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اشخاص اس لاجواب وبے مثال تصنیف کے توسُّط سے علمی جواہر پارے اپنے دامنوں میں سمیٹ رہے ہیں اسی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اِصلاحِ معاشرہ کے پیشِ نظر لوگوں کو زبان وقلم اوردرس وبیان کے ذریعے حقوق اللہ، حقوق العباد، حقوق الزوجین، حقوق الاولاد اور دیگر حقوق کی ادائیگی کی خوب ترغیب دلائی یہاں تک کہ اپنے فتاوی میں بھی اس کا خوب اہتمام فرمایا اور رسائل بھی لکھے کیو نکہ اِیمان کے بعد دین ودنیا میں بندے کی فوز وفلاح کا مدار حقوق کی ادائیگی پر ہے ، حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور پُرنور شافع یوم النشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
دفتر تین ہیں ، ایک دفتر میں سے اللہ تعالٰی کچھ نہ بخشے گا اور ایک دفتر کی اللہ تعالٰی کو کچھ پروا نہیں اور ایک دفتر میں سے اللہ تعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں اَصلاً معافی کی گنجائش نہیں وہ تو کفر ہے کہ کسی طرح نہ بخشا جائے گا اور وہ دفتر جس کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کچھ پروا نہیں وہ بندے کا گناہ ہے خالص اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں کہ کسی دن کا روزہ ترک کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی ، اللہ تعالٰی چاہے تو اسے معاف کر دے اور در گزر فرمائے ، اور وہ دفتر جس میں سے اللہ تعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم ہے کہ اس میں ضرور بدلہ ہونا ہے ۔ (’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، الحدیث : ۲۶۰۹۰، ج۱۰، ص۸۲) ۔
اسی طرح حقوق میں تَقْصِیْرَات کل بروزِ قیامت سخت خسارے کا باعث ہو سکتی ہیں ۔ دوست احباب، اَعزہ واقربا تو دور کی بات! اگر ماں باپ کا اپنی اولاد پر کچھ حق آتا ہو گا تو یہ اپنے جگر کے ٹکڑے پر لپٹتے ہونگے کہ ہمیں ہمارا حق دے ، وہ کہے گا : میں تمہارا بچہ ہوں ، یعنی شاید رحم کریں ، وہ تمنا کرینگے کاش اور زیادہ ہوتا ۔ حدیث پاک میں آتا ہے :
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے رسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : والدین کا بیٹے پر دَین ہوگا قیامت کے روز والدین بیٹے پرلپٹیں گے توبیٹا کہے گا : میں تمہارا بیٹا ہوں تو والدین کو حق دلایا جائے گا اور تمنَّا کریں گے کاش ہمارا حق اور زائد ہوتا!(’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث : ۱۰۵۲۶، ج۱۰، ص۲۱۹) ۔
بہر حال حقوق العباد کا معاملہ نہایت نازک ترین ہے جن کی ادائیگی کا حکم قرآن وحدیث میں نہایت ہی تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ بندہ کسی بھی طرح کسی دوسرے بندے کے حقوق پامال نہ کرے لیکن سُستی وغفلت کے باعث ان حقوق کی ادائیگی نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی سُستی اور غفلت کے باعث ان حقوق کی ادائیگی مشکل سے مشکل تر ہو تی جا رہی ہے لیکن رحیم وکریم رب عزوجل کے رحم وکرم پر قربان، اسی کی ذات سے اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ جل شانہ ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ۔
چنانچہ ان حقوق کی وقعت واہمیت کے پیش نظر اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مجدِّدِ دین وملت، مولانا الشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے خاص کر حقوق