30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(بے شک محبت کرنے والا جس سے محبت کرتا ہے اس کا فرمانبردار ومطیع ہوتا ہے ۔ ت)
وھذا ما اختارہ سیّدنا الوالد رضي اللہ تعالی عنہ ۔
اور اسی کو ہمارے والد گرامی (مولانا نقی علی خان) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اختیار فرمایا ۔
اور احیاناً (کبھی کبھار) کوئی تقصیر واقع ہو تو واعظ وزاجر اِلٰہی اُنہیں متنبہ کرتا اور توفیقِ اِنابت دیتا ہے ۔ ([1])
پھر :
((التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ)) ([2]) ۔
(گناہوں سے توبہ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہو جاتا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔ ت)
اس حدیث کا ٹکڑا ہے ۔
وھذا ما مشی علیہ المناوي في ’’التیسیر‘‘ ۔
(یہ وہی ہے جس پر علامہ مناوی نے ’’تیسیر‘‘ میں رَوِش اختیار فرمائی ۔ ت)
اور بالفرض اِرادۂ اِلٰہیہ دوسرے طور پر تجلّیِ شانِ عَفو ومغفرت واِظہارِ مکانِ قبول ومحبوبیت پر نافذ ہوا تو عفو مطلق واِرضائے اہلِ حق سامنے موجود، ضَرَرِ ذَنْب بحمداللہ ہر طرح مَفقُود([3]) ۔
والحمد للّٰہ الکریم الودود، وہذا ما زدتُہ بفضل المحمود ۔
(سب تعریف اس خدا کیلئے جو بزرگ وبرتر معزز اور بندوں کو دو ست رکھنے والا اور ان کا محبوب ہے ۔ یہ وہ ہے جس کا میں نے اللہ تعالٰی سِتودہ صفات (اچھے اوصاف والے ) کے فضل وکرم سے اضافہ کیا ہے ۔ ت)
فقیر غفر اللہ تعالٰی لہٗ کے گمان میں حدیثِ مذکور اُمّ ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا :
ینادي مناد من تحت العرش : یا أہل التوحید، الحدیث ۔ ([4])
(عرش کے نیچے سے ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا اے توحید والو! ، الحدیث ۔ ت )
میں اہلِ توحید سے یہی محبوبانِ خدا مراد ہیں کہ توحید خالص تام کا مل ہرگونہ شرکِ خفی واَخفی سے پاک ومنزہ انہیں کا حصہ ہے ([5]) بخلاف اہلِ دنیا جنہیں عبد الدینار، عبد الدرہم، عبد ِطمع (لالچی)، عبد ِہویٰ (خواہشات کا پیرو)، عبد ِرغب فرمایا گیا ۔
وَقَالَ تَعَالی :
{ اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ }([6])
ترجمۂ کنز الایمان : بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا ۔
[1] اوراگرکبھی کبھار ان نیک بندوں سے حقوق کی ادائیگی میں کچھ کمی واقع ہو بھی جائے تو اللہ تعالٰی کی طرف سے انہیں رجوع کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔
[2] ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، الحدیث : ۴۲۵۰، ج۴، ص۴۹۱ ۔
[3] ایک صورت تو یہ ہے کہ اﷲ رب العزت حقوق کی ادائیگی اپنے ذمۂ کرم پر لے کر صاحبِ حق کو راضی فرمائے گا جبکہ ایک صورت اور بھی ہے کہ اگر اللہ رب العزت کا ارادہ بندوں پر عفو وکرم اور بخشش ومغفرت کے اعتبار سے جوش پر ہوا تو پھر بندے بغیر کسی حساب وکتاب اور باز پرس کے بخش دیئے جائیں گے اور=
[4] =تواور صاحبِ حق بھی بِلا چون وچرا راضی کر دیا جائے گا تو ایسا شخص جس کی طرف اللہ رب العزت کی شانِ کریمی اس قدر مائل ہو اسے گناہ کس طرح نقصان پہنچا سکتا ہے !
(1) ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ أحمد، ج۱، ص۳۶۶، الحدیث : ۱۳۳۶ ۔
[5] اصل اور کامل توحید فقط اَولیائے کاملین ہی کا خاصہ ہے کہ یہ حضرات ہر قسم کے پوشیدہ سے پوشیدہ شرک یعنی ریاکاری وغیرہ سے بھی پاک وصاف ہوتے ہیں ۔
[6] پ ۲۵، الجاثیۃ : ۲۳ ۔