30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعصوني ([1]) ۔
میں نے تمہیں عطافرمادیا اس سے پہلے کہ تم مجھ سے کچھ مانگو، اور میں نے تمہاری درخواست قبول کرلی قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو، اوریقینا تمہاری نافرمانی کرنے سے پہلے میں نے تمہیں معاف کر دیا ۔ (ت)
یوہیں اگر باہم کسی طرح کی شکر رنجی (معمولی سی رنجش) یا کسی بندہ کے حق میں کچھ کمی ہو جیسے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن کے مُشاجرات (اختلافات) کہستکون لأصحابي زلّۃ یغفرھا اللہ تعالی لھم لسابقتھم معي([2]) ۔
عنقریب میرے ساتھیوں سے کچھ لغزشیں ہونگی جنہیں ان کی میرے ساتھ پیش قدمی (صحبت) کے باعث اللہ تعالٰی معاف فرما دیگا ۔ (ت)
تو مولیٰ تعالیٰ وہ حقوق اپنے ذمۂ کرم پر لے کر اَربابِ حقوق کو حکمِ تجاوز (حق والوں کو حق معاف کرنے کا حکم) فرمائے گا اور باہَم صفائی کرا کر آمنے سامنے جنت کے عالیشان تختوں پر بٹھائے گا کہ
{ وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷)}([3])
ترجمۂ کنز الایمان : اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے ، آپس میں بھائی ہیں تختوں پر رو برو بیٹھے ۔
اسی مبارک قوم کے سرور وسردار حضراتِ اہلِ بدر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین جنہیں اِرشاد ہوتا ہے :
اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم([4]) ۔
جو چاہو کرو کہ میں تمہیں بخش چکا ۔
انہیں کے اَکابِر سادات سے حضرت امیر المومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں جن کیلئے بارہا فرمایا گیا :
ما علی عثمٰن ما عمل بعد ہذہ ما علی عثمٰن ما عمل بعد ھذہ([5]) ۔
آج سے عثمان کچھ کرے اُس پر مواخذہ نہیں ، آج سے عثمان کچھ کرے اُس پر مواخذہ نہیں ۔
فقیر غفر اللہ تعالٰی لہٗ کہتا ہے حدیث :
((إذا أحبّ اللہ عبدًا لم یضرہ ذنب))
رواہ الدیلمي في ’’مسند الفردوس‘‘ والإمام القُشیري في ’’رسالتہ‘‘ وابن النجار في ’’تاریخہ‘‘ عن أنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہعن النبي صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ([6]) ۔
جب اللہ تعالی کسی بندے کو دوست رکھے تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا ۔ مُحدِّث دیلمی نے اسے ’’مسند الفردوس‘‘ میں ، امام قشیری نے اپنے ’’رسالہ ‘‘میں اور ابن نجار نے اپنی ’’تاریخ‘‘ میں حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالہ سے اسے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامسے روایت کیا ۔ (ت)
(مذکورہ بالا حدیث) کا عمدہ محمل (بہترین معنی) یہی ہے کہ محبوبانِ خدا، اول تو گناہ کرتے ہی نہیں :
ع إنّ المُحبّ لمن یحبّ مطیع
[1] ’’التفسیر الکبیر‘‘، سورۃ القصص، تحت الآیۃ : ۴۶، ج۸، ص ۶۰۳، بتغیر قلیل ۔
[2] ’’الجامع الصغیر‘‘، حرف التائ، الحدیث : ۳۳۵۶ جزئ۱، ص۲۰۱ ۔
[3] پ۱۴، الحجر : ۴۷ ۔
[4] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب المغازي، باب فضل من شہد بدرا، الحدیث : ۳۹۸۳، ج۳، ص۱۳ ۔
[5] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب المناقب، باب مناقب عثمان بن عفان، الحدیث : ۳۷۲۰، ج۵، ص۳۹۱، ملخصًا ۔
[6] ’’فردوس الأخبار‘‘، ذکر الفصول من أدوات الألف واللام، الحدیث : ۲۲۵۱، ج۱، ص۳۰۸ ۔ و’’الدر المنثور‘‘، البقرۃ، تحت الآیۃ : <