30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیک وجائز کی قید حدیث ِعبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ظاہر کہ اُس میں ضرورتِ جہاد وضرورت ِتجہیز وتکفینِ مسلمان وضرورتِ نکاح کو ذکر فرمایا بلکہ بخاری ’’تاریخ‘‘ اور ابن ماجہ ’’سنن‘‘ اور حاکم ’’مستدرک‘‘ میں راوی حضور سید ِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
((إنّ اللہ تعالی مع الدائن حتی یقضي دینہ ما لم یکن دینہ فیما یکرہ اللہ)) ۔ ([1])
بیشک اللہ تعالٰی قرضدار کے ساتھ ہے یہاں تک کہ اپنا قرض ادا کرے جب تک کہ اُس کا دَین اللہ تعالٰی کے ناپسند کام میں نہ ہو ۔
بمجبوری رہ جانے کی قید حدیثِ ابن صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ثابت کہ ربّ العزت جَلَّ وَعَلا روزِ قیامت مدیون (قرض دار) سے پوچھے گا : تو نے کاہے میں یہ دَین لیا اور لوگوں کا حق ضائع کیا؟ عرض کرے گا : اے رب میرے ! تو جانتا ہے کہ میرے اپنے کھانے پینے پہننے ضائع کر دینے کے سبب وہ دَین نہ رہ گیا بلکہ
أتی علی یَديّ إمّا حرق وإمّا سرق وإمّا وضیعۃ ۔
آگ لگ گئی یا چوری ہوگئی یا تجارت میں ٹوٹا پڑا، یوں رہ گیا ۔
مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا :
صدق عبدي، فأنا أحقّ من قضی عنک ۔ ([2])
میرا بندہ سچ کہتا ہے سب سے زیادہ میں .4مستحق ہوں کہ تیری طرف سے ادا فرما دوں
پھر مولیٰ سبحانہ وتعالیٰ کوئی چیز منگا کر اُس کے پلّۂ میزان میں رکھ دے گا کہ نیکیاں بُرائیوں پرغالب آجائیں گی اور وہ بندہ رحمتِ الٰہی کے فضل سے داخلِ جنت ہوگا ۔
پنجم : اولیاءے کرام صوفیۂ صِدْق اربابِ معرفت (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سچی معرفت رکھنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک اور پرہیز گار بندے ) قُدِّسَتْ أسرارُہم وَنَفَعَنَا اللہُ بِبَرکاتِہم في الدنیا والآخرۃ (ان کی ذات پاک ہے ، اللہ تعالٰی ہمیں دنیا اور آخرت میں ان کی برکتوں سے فائدہ پہنچائے ۔ ت) کہ بنصِّ قطعیِ قرآن (قرآن پاک کے قطعی حکم کے مطابق) روزِ قیامت ہر خوف وغم سے محفوظ وسلامت ہیں ۔
قَالَ تَعَالی : { اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)} ([3])
اللہ تعالٰی نے ا رشاد فرمایا : سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ (کنز الایمان)
تو اُن میں بعض سے اگر بَتَقاضائے بَشَرِیَّت (انسان ہونے کے ناطے ) بعض حقوقِ اِلٰہیہ میں اپنے منصب ومقام کے لحاظ سے کہ ’’حَسَنَاتُ الأبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْن‘‘([4]) کوئی تقصیر واقع ہو (یعنی ان بزرگوں سے اللہ تَعَالٰی کے حقوق کی ادائیگی میں اگر کچھ کمی واقع ہو جائے ) تو مولیٰ عزوجل اسے وقوع (واقع ہونے ) سے پہلے معاف فرما چکا کہقد أعطیتُکم من قبل أن تسألوني وقد أجبتُکم من قبل أن تدعوني وقد غفرتُ لکم من قبل أن
[1] ’’المستدرک‘‘، کتاب البیوع، باب من تداین بدین إلخ، الحدیث : ۲۲۵۲، ج۲، ص۳۱۹، ملخصًا ۔
[2] ’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، حدیث عبد الرحمن بن أبي بکر، الحدیث : ۱۷۰۸، ج۱، ص۴۲۰ ۔ (1) پ۱۱، یونس : ۶۲ ۔
[3] پ۱۱، یونس : ۶۲.
[4] یعنی : نیکوں کے جو نیک کام ہیں مقربوں کے حق میں گناہ ہیں وہاں ترکِ اَولیٰ کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترکِ اَولیٰ ہرگز گناہ نہیں ۔