30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فذکرہ ([1]) ۔
اگر کوئی بدمذہب، تقدیرِ ہر خیر وشر کا منکر، خاص حجر اسود ومقامِ ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکے درمیان محض مظلوم وصابر مارا جائے اور وہ اپنے اس قتل میں ثوابِ اِلٰہی ملنے کی نیت بھی رکھے تاہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی کسی بات پر نظر نہ فرمائے یہاں تک کہ اسے جہنَّم میں داخل کرے ، والعیاذ باللہ تعالٰی ۔
(ابو الفرج نے ’’العلل‘‘ میں کثیر بن سلیم سے اور انہوں نے انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر پوری حدیث کو ذکر کیا ۔ ت)
چہارم : مدیون (قرض دار) جس نے بحاجتِ شرعیہ (شرعی ضرورت کی وجہ سے ) کسی نیک جائز کام کیلئے دَین (قرض) لیا اور اپنی چلتی ادا میں گئی نہ کی (استطاعت کے باوجود جان بوجھ کر ٹال مٹول نہ کی)، نہ کبھی تاخیرِ ناروا، روا رکھی (نہ کبھی بلا وجہ تاخیر کی) بلکہ ہمیشہ سچے دل سے اَدا پر آمادہ اور تا حدِ قدرت (حتی المقدور) اُس کی فکر کرتا رہا پھر بمجبوری ادا نہ ہو سکا اور موت آگئی تو مولیٰ عزوجل اُس کیلئے اس دَین سے درگزر فرمائے گا اور روزِ قیامت اپنے خزانۂ قدرت سے ادا فرما کر دائن (قرض دینے والے ) کو راضی کر دے گا اس کے لئے یہ وعدہ خاص اسی دَین کے واسطے ہے نہ کہ تمام حقوق العباد کیلئے ۔
احادیث : احمد وبخاری وابن ماجہ حضرت ابو ہریرہ اورطبرانی ’’معجم کبیر‘‘ میں بسندِ صحیح حضرت میمون کردی اور حاکم ’’مستدرک ‘‘اور طبرانی ’’کبیر‘‘ میں حضرت ابو امامہ باہلی اور احمد وبزار وطبرانی وابو نعیم بسندِ حسن حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق اور ابن ماجہ وبزار حضرت عبد اللہ بن عمرو اور بیہقی مرسلاً قاسم مولائے حضرت امیر معاویہ (یعنی : حضرت امیر معاویہ کے آزاد کردہ غلام قاسم) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے راوی واللفظ لمیمون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(اور حضرت میمون کردی سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں ) :
قال : قال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : ((من أدان دَینًا ینوي قضاء ہ أدّاہ اللہ عنہ یوم القیامۃ)) ۔ ([2])
یعنیرسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : جو کسی دَین کا معاملہ کرے کہ اُس کے ادا کی نیت رکھتا ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی طرف سے روزِ قیامت ادا فرما ئے گا ۔
حدیثِ ابو اُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لفظ ’’مستدرک‘‘ میں یہ ہیں : حضور اقدس صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں :
((من تداین بدین وفي نفسہ وفاؤہ، ثمّ مات تجاوز اللہ عنہ وأرضی غریمہ بما شاء)) ۔ ([3])
جس نے کوئی معاملۂ دَین کیا اور دل میں ادا کی نیت رکھتا تھا پھر موت آگئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے در گزر فرمائے گا اور دائن کو جس طرح چاہے راضی کردے گا ۔
[1] =ہے لہٰذا ہم نے جویہ کہا ہے کہ شہید صبر کے بھی حقوق اللہ اورحقوق العباد سب معاف ہوجاتے ہیں تواس میں کوئی حرج کی بات نہیں، کیونکہ حدیث مبارکہ میں شہیدِ بحر کے متعلق بھی صراحتا ًیہ بیان کیاگیا ہے کہ اس کے تما م حقوق معاف ہوجاتے ہیں، خواہ وہ حقوق اللہ ہوںیاحقوق العباد، حالانکہ شہیدِ صبر مجبوروبے کس ہونے کی وجہ سے اللہ تعالٰی کی رحمت اور اس کے عفو وکرم کا شہیدِ بحر سے زیادہ مستحق ہوتاہے تو شہیدِ صبرکے بدرجۂ اَولیٰ تمام حقوق معاف ہونے چاہئیں ۔
(1) ’’العلل المتناہیۃ‘‘، باب دخول المبتدع النار، الحدیث : ۲۱۵، ج۱، ص۱۴۷ ۔
[2] ’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث : ۱۰۴۹، ج۲۳، ص۴۳۲ ۔ و’’کنز العمال‘‘، کتاب الدین والسلم، الحدیث : ۱۵۴۲۳، ج۶، ص۹۱ ۔
[3] ’’المستدرک‘‘، کتاب البیوع، باب من تداین بدین إلخ، الحدیث : ۲۲۵۳، ج۲، ص۳۱۹ ۔