30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوم : شہید ِصبر یعنی وہ مسلمان سُنّی المذہب صحیح العقیدہ جسے ظالم نے گرفتار کرکے بحالتِ بیکسی ومجبوری قتل کیا، سولی دی، پھانسی دی کہ یہ بوجۂ اَسیری قِتال ومُدَافَعَت پر قادر نہ تھا (یعنی : قیدی ہونے کی وجہ سے دشمن سے لڑنے اور اپنے دفاع کی طاقت نہیں رکھتا تھا) بخلاف شہید ِجہاد کہ مارتا مرتا ہے ۔ اس کی بے کسی وبیدست پائی زیادہ باعثِ رحمتِ اِلہٰی ہوتی ہے کہ حقُّ اللہ وحقُّ العبد کچھ نہیں رہتا ۔ ([1]) إن شاء اللہ تعالی ۔
احادیث : بزار اُم المؤمنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے بسندِ صحیح راوی، رسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
((قتل الصبر لا یمرّ بذنب إلّا محاہ)) ۔ ([2])
قتلِ صبر کسی گناہ پر نہیں گزرتا مگر یہ کہ اُسے مٹادیتا ہے ۔
نیز بزار ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے راوی، رسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
((قتل الرجل صبرًا کفارۃ لما قبلہ من الذنوب)) ۔ ([3])آدمی کا بر وجہِ صبر مارا جانا تمام گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہے ۔
قال المناوي في ’’التیسیر‘‘ : ظاہرہ وإن کان المقتول عاصیًا ومات بلا توبۃ ففیہ ردّ علی الخوارج والمعتزلۃ اہـ ۔ ([4])
ورأیتني کتبتُ علی ھامشہ ما نصّہ : أقول : بل لا محمل لہ سواہ فإنّہ إن لم یکن عاصیًا لم یمرّ القتل بذنب، وإن کان تاب فکذلک؛ فإنّ التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۔
علامہ مناوی نے ’’تیسیر‘‘ میں فرمایا : اس کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ اگر چہ مقتول گنہگار ہو اور بغیر توبہ مرجائے پس اس میں خارجیوں اور معتزلہ کا ردّہے اھ ۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر لکھا جس کی عبارت یہ ہے میں کہتاہوں : بلکہ اس کے علاوہ اس کا اور کوئی محمل نہیں اس لئے کہ اگر مقتول گنہگار نہ ہو تو پھر قتل کا گناہ پر گزر نہ ہوگا ([5]) اور اگر اس نے توبہ کر لی تو پھر بھی یہی حکم ہے اس لئے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے کہ جس کا کوئی گناہ ہی نہیں ۔ (ت)
احادیث مطلق ہیں اور مخصِّص مفقود وحَدِّثْ عَنِ الْبَحْرِ وَلاَ حَرَجَ ([6]) (سمندر کے جُود وسخا کے بارے میں جو چاہو بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں ) اور ہم نے سُنّی المذہب کی تخصیص (قید) اس لئے کی کہ حدیث میں ہے رسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
((لو أنّ صاحب بدعۃ مکذّبًا بالقدر قتل مظلومًا صابرًا محتسبًا بین الرکن والمقام لم ینظر اللہ في شيء من أمرہ حتی یدخلہ جہنم)) ۔
رواہ أبو الفَرَج في ’’العلل‘‘ من طریق کثیر بن سلیم نا أنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہقال : قالرسولُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَ
[1] یعنی : شہید صبر پر بے یار ومددگار، مجبور اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے اللہ تعالٰی کی رحمت ومہربانی زیادہ ہوتی ہے چنانچہ اللہ عزو جل اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کی گئی کوتاہیاں معاف ہو جاتی ہیں ۔
[2] ’’مجمع الزوائد‘‘، کتاب الحدود والدیات، باب کفارات الذنوب بالقتل، الحدیث : ۱۰۶۰۲، ج۶، ص۴۰۸، (عن ’’البزار‘‘) ۔
[3] المرجع السابق، الحدیث : ۱۰۶۰۱، (عن ’’البزار‘‘) ۔
[4] ’’التیسیر‘‘ شرح ’’الجامع الصغیر‘‘، حرف القاف، تحت الحدیث : ۶۰۹۴، ج۴، ص۵۱۵ ۔ و’’فیض القدیر‘‘، حرف القاف، تحت الحدیث : ۶۰۹۴، ج۴، ص۶۶۳ ۔
[5] یعنی اس قتل (شہادت) سے بھی گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ بغیر توبہ کے مر گیا ہو ۔
[6] یعنی : احادیث مبارکہ میں شہید صبر کے بارے میں مطلقاً یہ بیان کیا گیا ہے کہ قتلِ صبر تمام گناہوںکو مٹادیتا ہے خواہ وہ حق اللہ ہو ںیا حق العبد، اور اس میں کسی خاص گنا ہ کے معاف نہ ہو نے کاذکربھی نہیں=