30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں صلح کرائے گا ۔
(حاکم نے ’’مستدرک‘‘ میں ، امام بیہقی نے ’’کتاب البعث والنشور‘‘ میں ، ابو یعلی نے ’’مسند‘‘ اور سعید بن منصور نے اپنی ’’سنن‘‘ میں حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس کو روایت کیا ہے ۔ ت)
اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :
((إذا التقی الخلائق یوم القیامۃ، نادی منادٍ : یا أھل الجمع، تتارکوا المظالم بینکم، وثوابکم عليَّ)) ۔
رواہ الطبراني عن أنس أیضًا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبسند حسن([1]) ۔
جب مخلوق روزِ قیامت بہم (ایک ساتھ) ہوگی ایک منادی رب العزت جل وعلا کی طرف سے ندا کرے گا : اے مجمع والو! آپس کے مظلموں کا تدارُک کر لو (یعنی ایک دوسرے کے حقوق معاف کر دو) اور تمہارا ثواب میرے ذمہ ہے ۔
(امام طبرانی نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے بسند حسن اس کو روایت کیا ہے ۔ ت)
اور ایک حدیث میں ہے حضور والا صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا :
((إن اللہ یجمع الأوّلین والآخرین یوم القیامۃ في صعید واحد، ثم یُنادي مناد من تحت العرش : یا أھل التوحید! إنّ اللہعزوجل قد عفا عنکم، فیقوم النّاسُ فیتعلق بعضھم ببعض في ظلامات، فینادي مُناد : یا أھل التوحید! لیعف بعضکم عن بعض، وعليّ الثوابُ)) ۔
یعنی بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ روزِ قیامت سب اگلوں پچھلوں کو ایک زمین میں جمع فرمائے گا پھر زیرِ عرش سے منادی ندا کرے گا : اے توحید والو! مولیٰ تعالیٰ نے تمہیں اپنے حقوق معاف فرمائے لوگ کھڑے ہو کر آپس کے (دنیاوی) مظلموں میں ایک دوسرے سے لپٹیں گے منادی پکارے گا : اے توحید والو!
رواہ أیضًا عن اُمِّ ھانیٔ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا([2]) ۔
ایک دوسرے کو معاف کردو اور ثواب دینا میرے ذمہ ہے ۔
(اسے بھی طبرانی نے سیِّدہ اُمِّ ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ۔ ت)
یہ دولتِ کُبریٰ ونعمتِ عظمیٰ کہ أَکْرَمُ الْأَکرَمِین جَلَّتْ عَظَمَتُہٗ اپنے محض کرم وفضل سے اس ذلیل رُوسِیَاہ سراپا گناہ کو بھی عطا فرمائے ([3]) ۔
ع کہ مستحق کرامت گنہگار انند
(گنہگار شرف وبزرگی عطا کئے جانے کے لائق ہیں ۔ ت)
اس وقت کی نظر میں اس کا جلیل وعدہ جمیل مژدہ صاف صریح بالتصریح یا کالتصریح تصریح پانچ فرقوں کے لئے وارد ہوا([4]) :
اوّل : حاجی کہ پاک مال، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کرے ، اور اُس میں لڑائی جھگڑے اور عورتوں کے سامنے تذکرۂ جماع
[1] ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ محمد، الحدیث : ۵۱۴۴، ج۴، ص۴۱ ۔
[2] ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ محمد، الحدیث : ۱۳۳۶، ج۱، ص۳۶۶-۳۶۷ ۔
[3] یہ عظیم نعمت اور انمول دولت جو ابھی حدیث پاک میں گزری اللہ تبارک وتعالٰیمجھ خطا کار گنہگار کو بھی عطا فرمائے ۔
[4] اس وقت میری نظر میں پانچ طرح کے لوگ ہیں جن کے لیے حقوق العباد کے معاف ہوجانے کا عظیم وعدہ اور زبر دست خوشخبری وضاحت کے ساتھ حدیث میں وارد ہوئی ہے ۔